مدت زمان پاسخگویی به هر سوال بین 24 تا 72 ساعت است.

لطفا قبل از 72 ساعت از پیگیری سوال و یا ارسال سوال مجدد خودداری فرمائید.

از طریق بخش پیگیری سوال، سوال خود را پیگیری نمایید.

captcha
انصراف

زمان پاسخگویی به سوالات بین 24 تا 72 ساعت می باشد.

انصراف
چینش بر اساس:حروف الفباجدیدهاپربازدیدها

بہترین اور مطلوبہ عزاداری کا طریقہ

بہترین کیفیت میں امام حسین (ع) کی عزاداری کرنے کے طریقےکے متعلق اپنا با برکت نظریہ بیان فرمائیں ؟

جواب ۔عزاداری کا بہترین شیوہ باشکوہ مجلسیں کرنا امام حسین(ع) کے مقدس مقاصد کا بیان اور کربلا کا تاریخی خاکہ اور اس کے بعض حصوں کی تحلیل کرنا اور سوگواری کے پروگرام (مصائب وغیرہ)اور اسی طرح باشکوہ عزاداری کے ماتمی دستہ اور اسکے ساتھ بیدار کرنے والے اور انسان ساز نوحہ و نعرے بہترن مضامین کے پوسٹر وغیرہ تقسیم کرنا بینر وغیرہ لگانا اور امام حسین کے مقاصد کو واضح کرنے والے جذاب اور جالب توجہ نوحہ اور نعرے اسی طرح کی دوسری چیزیں.

دسته‌ها: عزاداری

عزاداری میں طبل( ڈھو ل تاشہ )بجانا

امام حسین کی عزاداری میں طبل بجانے کا کیا حکم ہے ؟

جواب : حسینی شعائر کی تعظیم ،تقرب (الٰہی )حاصل کرنے کے کاموں میں افضل ہے ہر معقول طریقے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے طبل کا استعمال اگر محاسن فساد کے ساز و طرز کے مناسب نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے

دسته‌ها: عزاداری

عزاداری کے غلط طریقے

آستارا کے مقام پر ایک رسم ہے اور لوگ اس پر مضبوط و محکم عقیدہ رکھتے ہیں ،مسئلہ اس طرح ہے کہ کہ محرم کی نویں تاریخ اور عاشورہ کے دن ایک علم جو تمام علاقہ میں رائج ہے مخسوس لوگوں کے ہاتھوں میں دیتے ہیں کہ شکص عمدار اپنے مخسوص طریقے سے کبھی مردوں اور عورتوں پر حملہ آور ہونے اور بچوں ڈرانے یا لوگو ں کی زبان میں کہا جائے کہ علم کو جوش میں لاتے ہیں اورامام حسین (ع) کی طرف اس کی نسبت دیتے ہیں لوگ علم کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں علم شخس کو اپنے پیچھے لے جاتا ہے جب علم بعض افراد کو زخمی کر دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ زخمی شخص برا آدمی ہے اور اس نے علم کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا لوگوں کے ہاتھوں میں جوش میں لایا جاتا ہے کہ جن کے حالات معلوم ہیں اور کبھی کبھی دیندار اور محترم لوگوں کو زخمی کر دیا جاتا ہے اس سلسلے میں آپ کا نظریہ مطلوب ہے ؟

جواب۔حضرت خامس آل عبا (ع) کی عزاداری کی تقویت کے مہم اسباب میں سے ہے لیکن اس کو اس طرح لیکن اس کو اس طرح کے غلط کاموں میں آلودہ نہیں کرنا چاہئے کہ عزاداری کی اذیت آزار اور آبرو دار شخاص میں ہتک حرمت کا باعث ہو جائے

دسته‌ها: عزاداری

عزاداری اور دوسرے مذہبی امور میں ریاکاری کرنا

شعائر الہی کے برپا کرنے اور عزاداری امام حسین علیہ السلام مین ریا کرنا جایز ہے؟

ریا کاری ہر عبادت میں حرام ہے۔ البتہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور شعائر الہی میں قصد تربت کی نیت کے ساتھ تظاہر کرنا جایز بلکہ بہتر ہے۔ مثلا آشکارا صدقہ دے تا کہ دوسرے لوگوں میں بھی شوق پیدا ہو، جیسا کہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے، مستحب ہے۔

دسته‌ها: عزاداری

پھل دار زنجیر سے ماتم کرنا

سینہ پر بلیڈ سے ماتم کرنا یا بے پھل کی زنجیر سے ماتم کرنا یا پھل دار زنجیر سے ماتم کرنا جو بدن کے زخمی ہو نے اور خون نکلنے کا سببب بنتی ہیان کا کیا حکم ہے ؟

جواب ۔جیسا ہ پہلے بھی اشارہ ہو چکا ہے کہ حضرت سید اشہداء (ع) کی عزاداری کا مسئلہ ہر زمانے میں اور ہر جگہ پر افضل قربات میں سے ہے اور ایسلامی شہامت اور روح ایمانی کی تقویت اور مسلمانوں میں ایثار اور قربانی ،شجاعت کا باعث ہے لیکن عزاداری کی کیفیت ایسی ہونا چاہئے کہ کہ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ بہانہ نہ آجائے جس سے وہ غلط فائدہ اٹھائیں اور عزاداری کے یہ عظیم ،پر شکوہ پروگرام کمزور ہو جائیں ،اسی وجہ سے ایسے کاموں سے پریز کرنا چاہئے جو مذہب کی توہین کا باعث ہوتے هیں

دسته‌ها: عزاداری

ائمہ طاہرین علیہم السلام کے مصائب سے اپنی ذاتی مصیبتوں کا موازنہ کرنا

اگر کوئی شخص یہ کہے: ”میں نے اپنی پوری زندگی میں جو مصیبتیں برداشت کی ہیں مثلاً وہ شہزادی کونین جناب فاطمہ زہرا سلام الله علیہا سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہیں“ لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کے طمانچہ لگنے کی وجہ سے گریہ کروں، اس کی اس بات کا کیا جواب ہے؟

معصومین علیہم السلام کے عظیم مقام ومنزلت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو مصیبتیں ان پر پڑی ہیں، وہ مصائب دوسرے لوگوں کی بہ نسبت بہت زیادہ سخت اور اہم ہیں، اگر ایک عام آدمی کو طمانچہ لگائیں یا ایک بہت بڑے عالم دین اور متقی شخص کو طمانچہ لگایا جائے، کیا یہ مصیبت کے لحاظ سے دونوں برابر ہیں؟

دسته‌ها: عزاداری

عزاداری میں خرافات سے پرہیز

ایسے حالات میں کہ جب اسلام کے دشمن مسلمانوں کومنتشر اور نابود کرنے کی کوشش میں ہیں اور طرح طرح کے بہانوں سے اسلام کو خرافاتی دین اور مسلمانوں کو بے منطق لوگوں کی حیثیت سے رو شناس کرانا چاہتے ہیں ایسے دور میں ایسے بعض اعمال کو انجام دینا جو دین میں موجود نہیں تھے اور بعض علاقوں میں کچھ لوگ اسلام کے شعائر کی تعظیم کے نام پر ان اعمال کے مرتکب ہوتے ہیں جن سے شیعہ مذہب اور عزاداری کی توہین کے اسباب فراہم ہو جاتے ہیں اس سلسلے میں کیا حکم ہے ؟

جواب۔ ان شرائط اور حالات میں لازم ہے کہ اہلبیت کے (ع) کے پیرو اور مکتب حسینی کے عاشق افراد پر ہر اس کام سے پرہیز کرے جو عزاداری کے پروگرام کی سستی یا توہین کا باعث ہوتے ہیں اور ان کے بجاے ایسے پروگرام کی جانب جائیں کہ جن سے حسینی مقاصد کی عظمت پہلے سے زیادہ آشکار ہو جائے اور اگر گذشتہ زمانے کے کچھ بزرگ مجتہدوں نے اپنے زمانے میں بعض دلائل و وجوہات کی بناء پر اس طرح کے بعض کاموں کی اجازت دی تھی وہ ہمارے زمانے میں ہوتے تو یہ مسلم ہے کہ انکا نظریہ دوسرا ہوتا خدا وند عالم ہم سبکو سید الشہداء علیہ السلام کے مکتب کے پیروکاروں اور ان کے جاں نثاروں میں قرار دے

دسته‌ها: عزاداری

عاشورہ کے دن بچّہ کے سر پر قمع لگانے کی نذر ماننا

ایک ماں باپ، نذر مانتے ہیں کہ اگر خداوندعالم ،ان کو بیٹا عطاکرے تو روز عاشورہ اس کے سر پر قمع لگا ئیں گے،یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس قسم کے اعمال شیعہ مذہب اور سید الشہدائ(علیہ السلام) کی عزاداری کے لئے باعث وہن (توہین)اور دشمنان اسلام کے لئے سوء استفادہ کا باعث ہے کیا اس نذر پر عمل کرنا واجب ہے ؟

جواب:یہ نذر صحیح نہیں ہے ،چونکہ نذر میں ، عمل کا بہتر(مستحب)ہونا شرط ہے اور یہ کام ، اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ میں خامس آل عبا (علیہ السلام) کی عزاداری کے تمام ہی مسائل کے بار ے میں سوالات ایجاد کرنے کا بہانہ آجاتاہے ،عزاء سید الشہداء (علیہ السلام) جو قربتہً الی اللہ کاموں میں سب سے افضل ہے ، لہٰذا یہ نذر اشکال نے خالی نہیں ہے ،اور اگر فرض بھی کرلیں کہ یہ عمل بہتر ہے تو دوسرے کے بار ے میں نذر کرنا صحیح نہیں ہے ۔

دسته‌ها: عزاداری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی
سامانه پاسخگویی برخط(آنلاین) به سوالات شرعی و اعتقادی مقلدان حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی
آیین رحمت - معارف اسلامی و پاسخ به شبهات کلامی
انتشارات امام علی علیه السلام
موسسه دارالإعلام لمدرسة اهل البیت (علیهم السلام)
خبرگزاری دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی