مقدمہ:
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
شیعوں کا جواب
پیشگفتار
یہ راستہ وحدت کی طرف نہیں جاتا

ہم جب آج کی دنیا پر ایک اجمالی نظر دوڑاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہر طرف خوفناک طوفان تباہی مچائے ہوئے ہیں ، پردے ہٹ چکے ہیں ، جھوٹی باتیں سچی باتوں کے لباس میں حقوق بشر کا اعلان کررہی ہیں، جمہوریت اور اقوام متحدہ جیسے دعوے پھیکے پڑگئے ہیں ، دنیا کی بڑی طاقتیں ضعیف ملکوں کو اپنے قبضے میں لینے کے لئے خطرناک چالیں چل رہی ہیں اور حدتو یہ ہے کہ وہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنے منحوس اغراض کو بیان بھی کر رہے ہیں ۔
اگرچہ یہ بہت بہترہوا کہ ا ن لوگوں نے اپنے دل کی باتیں اجاگر کردیں اور خوش خیالوں کو ان کے توہمات میں نہ رہنے دیا ۔
لطف پروردگار اور اس کے تفضلات کے بعد ملتوں اور قوموں کی ذاتی طاقت ان کا سہارا بنی ہوئی ہے ۔
ہاں!ہمیں طاقتور بننا ہوگا اس لئے کہ آج کے نظام میں ضعیف ماراجاتا ہے اوراس کا حق ضائع کیاجاتا ہے !
ان حالات میں اگر دنیا کے سارے مسلمان متحد ہوجائیں اور اپنی مادی اور فرہنگی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو وہ ظالموں کے شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔
میں بہت سالوں سے لوگوں کی زبانوں پر مسلمانوں کے اتحاد کی باتیں سن رہا ہوں اور میرے کانوں میں ہفتہ وحدت ،سمینار ، کانفرنسوں کے انعقاد اور وحدت کے نعروں کی آوازیں پہنچ رہی ہیں ۔
اتحاد کے یہ اقدامات اگرچہ سیاسی اور اجتماعی اعتبار سے موثر ہیں اور دشمنوں کو وحشت زدہ کرنے کے لئے بہترین حربہ ہیں لیکن ابھی تک ان میں وہ قدرت نہیں آئی ہے جس کے ذریعہ خوفناک طوفانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاسکے ۔
اس ناتوانی کی چند دلیلیں ہوسکتی ہیں :
١۔ ابھی تک جو کچھ وحدت کی راہ میں انجام دیا گیا ہے وہ کوئی بنیادی کام نہیں تھا اور ابھی تک وحدت کا مسئلہ اسلامی سماج اور اس کے افکار میں پوری طرح رچابسانہیں ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کوایک راستے پرلانے میں کامیابی نصیب ہوئی ہے ۔
٢۔ دشمن بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے درمیان بدبینی ،بدنیتی ، اختلاف اور نفاق کو پھیلانے میں لگا ہواہے جیسا کہ میڈیا کے ذریعہ ملنے والی خبروں سے سمجھ میں آتا ہے کہ انھوں نے اس مسئلہ کے لئے بڑی بڑی رقمیں جمع کررکھی ہے، اس کے علاوہ انھوں نے اپنے اس مقصد کو کامیاب بنانے کے لئے دونوں طرف کے متعصبوں کو اپنا ہتھکنڈہ بنا رکھا ہے :
الف) موثق خبریں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ متعصب وہابیوں نے ایک کروڑ تفرقہ انگیز کتابیں چھاپ کر حاجیوں کے درمیان تقسیم کی ہیں اور اس طرح وہ حج جو مسلمانوں کے اتحاد کا ذریعہ تھا اسے نفاق اور تفرقہ کا وسیلہ بنا دیا ہے ، یہ کوئی پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا ہے بلکہ ہر سال ایسی حرکتیں ان سے ہوتی رہتی ہیں ۔
ب)متعصب وہابی ذاکرین ہرسال حج اور عمرہ کے دوران نفاق اور تفرقہ کو پھیلانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں اور ایران و عربستان کے درمیان نیک روابط ہونے کے باوجود شیعوں کے خلاف اپنے حملات کو سخت کئے جارہے ہیں ۔
ج) سپاہ صحابہ کے حملات ، مظلوم اور بے دفاع لوگوں کا قتل عام اور اس سے بھی بدتر اپنے کئے پر افتخار کرنا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے .
د) متعصب اور کٹر جماعتوں کو ابھارنا جیسا کہ دلائل اور شواہد کے مطابق طالبان کو ابھارنے اور انہیں قدرت تک پہنچانیں میں امریکی حکمرانوں کا ہاتھ رہا ہے ، ان لوگوں نے اس طرح ایک تیر سے دو شکارکرنے کی کوشش کی، ایک طرف سے مسلمانوں کو عقب ماندہ، متعصب ، جاہل اور تمدن سے بچھڑا ہوا ثابت کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف ان کے درمیان اختلافات کو شدیدہوا دی ، اگرچہ غرب کی سیاست کا یہ کھلونا ان کے اختیار سے خارج اور خود ان کے لئے بلائے جان بن گیا اور پھر اس شر کو دور کرنے کے لئے وہ خود اس حرکتکو نابود کرنے پر مجبور ہوگئے ۔
٣۔ بعض مسلمان سیاستمداروں کی کوتاہ فکری اور ا ن کا دنیا کے معمولی منافع کو اسلام کے طولانی اغراض پر مقدم کرنا، اتحاد کے ایجاد کی راہ میں سنگ راہ بنا ہوا ہے ۔
جیسا کہ ایسی مثالیں آج کم نہیں ہیں کہ ایسے ہی مسلمان سیاستمدار دنیا کے معمولی منافع کو محفوظ رکھنے کے لئے اسرائیل سے روابط برقرار کئے ہوئے ہیں اور یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے بلکہ وہ فوجی معاملات میں بھی ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۔
بہر حال اس وقت جو کچھ علماء اسلام کے ہاتھوں میں ہے ، انہیں ایسے اشتباہات کے انجام سے ڈراتے ہوئے ضمناً اس نکتہ کی یاد آوری لازم ہے کہ کوئی اسلامی ملک اور اسلامی انجمن دشمنان اسلامی کی بے رحمانہ سیاست سے بچ نہیں سکتا ، وہ اپنے اسلامی مسائل کو حداکثر واضح و روشن کریں تاکہ اسلامی دشمنوں ا ور دوطرف کے احمق متعصب گروہوں کو تفرقہ اندازی کا موقع نہ مل سکے ۔
اسی وجہ سے میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کتابچہ میں جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہے ، اس میں مسلمانوں کی صفوں کو مضبوط بنانے کی راہوں کو بیان کروں ، اس کتاب میں اس بات کو ثابت کیا گیا ہے کہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان موجودہ اختلافات کی جڑ ان کی معروف کتابوں تک پہنچتی ہے اور ان مسائل میں شیعوں کے جو بھی نظریات ہیں، وہ سب خود اہل سنت کی کتابوں سے ماخوذ ہیں بلکہ ایک روشن بین اہل تسنن کے عالم دین کے بقول: اگر شیعہ چاہیں تو اپنے تمام اصول و فروع کو ہماری کتابوں سے ثابت کرسکتے ہیں ۔
اگر اس کتا ب میں یہ دعویٰ ثابت ہوجائے ( کہ انشاء اللہ اسی کتاب میں ثابت ہوگا ) تو اس کے بعد کسی قسم کی کوئی پریشانی باقی نہیں رہے گی اور کسی کو مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کے خلاف ناروانسبتوں کے دینے کا موقع نہیں ملے گا اور یہ حتمی ہے کہ یہ امر خوش بینی کا باعث اور منصف حضرات کے دلوں سے سوء ظن کے برطرف ہونے کا سبب ہو گا اور ایران جو ایک قدرتمندملک ہے ، ایک قوی مدافع کے عنوان سے ہمیشہ سینہ سپر رہے گا اور اسی طرح دنیا کے چپہ چپہ میں جینے والے شیعہ حضرات ۔
اب آپ ہیں اور ہمارے یہ دلائل دس اہم موضوعات درج ذیل ہیں کہ جن کے متعلق گفتگو کی گئی ہے :
١۔ قرآن ہر قسم کی تحریف سے منزہ ہے
٢۔ تقیہ، کتاب و سنت میں
٣۔ عدالت صحابہ
٤۔ بزرگوں کی قبروں کا احترام
٥۔ نکاح موقت
٦۔ زمین پر سجدہ
٧۔ دونمازوں کو جمع کرنا
٨۔ وضو میں پیروں کا مسح
٩۔ بسم اللہ سورہ حمد کا جزء ہے
١٠۔ اولیاء خد اسے توسل

گفتار مترجم:
آج جس دور میں ہم زندگی گذار رہے ہیں، وہ اختلافات اور جنگ و جدال کے ہنگاموں سے پر ہے ، ہرطرف مختلف بہانوں سے فتنہ و فساد کا بازار گرم ہے ، دین و مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے اسلام کو اپنا ہتھکنڈہ بنا کر نفسانی خواہشات کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں اور بے چارے مستضعف مسلمان ہر طرف سے اسلام کے دشمنوں کا شکار ہورہے ہیں، روزانہ مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے .
جہاں اسلام کے قسم خوردہ دشمن ہر طرف سے مسلمانوں کو کچل رہے ہیں وہیں منافقت کی نقاب اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بے بنیاد عقائد کی بنا پر ایک دوسرے کا خون بہارہے ہیں ، اس فتنہ کی آگ کو بھڑ کانے میں جہاں اسلام کے دشمنوں کاہاتھ ہے وہیں مسلمانوں کا بھی ہاتھ ہے اس لئے کہ مظالم کے سامنے خاموش ہیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں، انہیں نہ اسلام کی فکر ہے اور نہ ہی اپنے ایمان کی ۔
اس وقت مسلمانوں کی تمام بدبختیاں خود ان کی جہالت کی وجہ سے ہیں اس لئے کہ انھوں نے قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی سے منھ پھیر لیا ہے انہیں اپنی خواہشا ت کے مطابق ان کی تفسیر کر لی ہے لہذا جب تک اسلام کے سامنے تسلیم نہیں ہوتے اور معارف اسلامی کو حاصل نہیں کرتے اس وقت تک ان کا یہی حال رہے گا ۔
ایسے حالات میں میں خدا کا نہایت شکر گذار ہوں کہ اس نے توفیقات کی نعمت سے نوازا اور مجھے اتنی توفیق دی کہ تعلیمی مشغولیت کا باوجود ایسی مفید کتاب کے ترجمہ پر کرلیاجو ان شاء اللہ ان لوگوں کے لئے نہایت مددگار ثابت ہوگی جومخالفوں کے درمیان رہتے ہیں اور روزانہ بے بنیاد اعتراضات سے روبرو ہوتے ہیں، بسا اوقات کافی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے جواب نہ دینے کی بنا پر مخالفین اپنے اعتراضات کے بجا ہونے اور مذیب تشیع کے بطلان کی دلیل سمجھتے ہیں ۔
یہ کتاب جہاں سماج میں شائع اعتراضات کے جوابات پر مشتمل ہے وہیں ایسے متقن اور مستدل دلائل پر مشتمل ہے کہ جنہیں پڑھ کر ہر منصف اور عقلمند سوچنے پر مجبور ہوجائے گا اور سیکڑوں مذاہب اور افکار کے درمیان سے حق بات کو حاصل کرلے گا اس لئے کہ حق کو حاصل کرنا ہر انسان کا ذاتی حق ہے اور اس سلسلہ میں شریعت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ شریعت نے عقل و منطق کو ہر چیز سے زیادہ سراہا ہے لہذا قارئین حضرات سے ہماری گذارش ہے کہ وہ ضرور اس کتاب کا پورا مطالعہ کریں تاکہ جہاں ان کے عقائد کے استحکام کا باعث ہے وہیں اپنے مخالفین کے بے بنیاد اعتراضات کا اچھی طرح جواب دے سکتے ہیں ۔
ہم اپنی اس ناچیز زحمت کو کریمہ اہلبیت ، بی بی معصومہ کی بارگاہ میں تقدیم کرتے ہیں جن کی عنایتیں ہم پر ہمیشہ رہی ہیں اور اس کے اجر کو رہبر امت اسلامی امام خمینی کو ہدیہ کرتے ہیں ہم اورامیدوار ہیں کہ اسی طرح ہمیشہ دین اسلام اور اسلامی اغراض و مقاصد کی راہ میں مطلوب عنصر کی حیثیت سے ثابت قدم رہیں ۔
منہال حسین خیرآبادی ،سید ظہیر الحسنین شیرازی
١٧ربیع الاول،١٤٢٩ ھ ق،٢٥مارچ،٢٠٠٨ء
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma