اسلام میں حج کی اہمیت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
مناسک حج

”حج‘ ‘ اسلام کا اہم ترین رکن اور دینی فریضوں میں عظیم ترین فریضہ ہے ۔
قرآن مجید ایک مختصر اور پر معنی عبارت میں فرماتا ہے - : وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلا۔ اور خدا کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے اگر اس راہ کی استطاعت رکھتے ہوں ۔ اسی آیہ شریفہ کے ذیل میں فرماتے ہیں : ( وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِیٌّ عَنْ الْعَالَمِینَ ) اور جنہوں نے کفر و سرکشی اختیار کی ، بے شک خداوند کریم تمام عالمین سے بے نیاز ہے ۔ (۱)
آیہ شریفہ کے اس جملہ میں” وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ ---“ ( خدا کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے) اس تعبیر کے ساتھ کہ جنہوں نے واجب حج کو چھوڑ دیا، کفر کے مرتکب ہوئے ہیں ، اسلام میں اسکی عظیم ترین اہمیت روشن ہو جاتی ہے ۔
توجہ کی بات یہ ہے کہ سورہ مبارکہ اسراء کی ۷۲ویں آیت کریمہ کے تفسیر میں ( وَمَنْ کَانَ فِی ہَذِہِ اٴَعْمَی فَہُوَ فِی الْآخِرَةِ اٴَعْمَی وَاٴَضَلُّ سَبِیلًا )( ۲) حضرت امام صادق - سے روایت ہوئی ہے کہ اس آیت کا ایک معنی یہ ہے جو اپنے واجب حج میں تاخیر کرے یہاں تک کہ وہ مرجائے ( وہ قیامت کے دن اندھا ہوگا)(۳). اور جو اس دنیا میں اندھا وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکاہوا رہے گا ۔
ایک اور حدیث میں آیا ہے :جو بھی اپنے واجب حج کو کسی عذر کے بغیر ترک کرے وہ قیامت میں یہودی یا نصرانی محشور ہوگا (۴)
چونکہ حضرت امام صادق(علیه السلام) کی حدیث میں پڑھتے ہیں :جو حج اور عمرہ کو بجالاتے ہیں وہ خدا کے مہمان ہیں ۔وہ خدا سے جو چاہتے ہیں وہ انہیں عطا کرتا ہے ۔وہ جو بھی دعا کریں خدا ان کی دعاؤوں کو بھی قبول کرتا ہے اور وہ اگر کسی کی شفاعت کریں ،تو وہ قبول ہوتی ہے ۔ اور اگر اسی راہ میں مرجائیں تو پروردگار ان کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے ۔ (۵)
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ جو پیغمبر اکرم (ص) سے نقل ہوئی ہے: الحج المبرور لیس لہ جزاء الا الجنة ۔ قبول ہوئے حج کی جزاء جنت کے بغیر کچھ اور نہیں ہو سکتی ! (۶)
تیسری حدیث بھی آنحضرت (ص) ہی سے منقول ہے : ( من حج البیت۔۔۔ خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ )جو حج انجام دیتا ہے وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتاہے جیسے اسی دن اپنی ماں سے جنم لیا ہو۔ (۷) یہی سب سے بڑا ہدیہ ، عالیشان افتخار اور بہترین جزا ہے ۔
 


(۱) سورہ آل عمران: آیت ۹۷
(۲) (۳) وسائل الشیعہ،ج ۸، ابواب وجوب الحج ، باب ۶ ، حدیث ۵۔

 

12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma