بری مجلس میں نہ بیٹھو

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 04
ہٹ دھرم منافقین کا انجام تفسیر

سورہ ٴ انعام قرآن حکیم کی مکی سورتوں میں سے ہے کہ اس کی آیت ۶۸ میں صراحت میں سے پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ :
اگر آپ دیکھیں کہ کچھ لوگ قرآنی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں او رناپسند یدہ باتیں کہتے ہیں تو ان سے اعراض کیجئے ۔
یہ بات مسلم ہے کہ یہ حکم نبی کریم سے مخصوص نہیں بلکہ ایک عمومی حکم ہے البتہ اس میں خطاب پیغمبر سے کیا گیا ہے اس کا فلسفہ بھی بالکل واضح ہے کیونکہ یہ ایسے کاموں سے مقابلے کی ایک منفی صورت ہے زیر بحث آیت میں اس اسلامی حکم کی تاکید کی گئی ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ : قرآن میں تمہیں پہلے حکم دیا گیا ہے کہ جب سنو کہ کچھ لوگ آیات قرانی سے کفر کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو اس وقت تک ان کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اس کام سے صرفِ نظر کرکے دوسرا کام شروع نہ کریں (وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتابِ اٴَنْ إِذا سَمِعْتُمْ آیاتِ اللَّہِ یُکْفَرُ بِہا وَ یُسْتَہْزَاٴُ بِہا فَلا تَقْعُدُوا مَعَہُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فی حَدیثٍ غَیْرِہِ ) ۔
اس کے بعد اس کام کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے : اگر تم ایسی مجلس میں شر کت کرو گے تو ان جیسے ہو جاوٴ گے اور تمہارا انجام بھی ان جیسا ہو گا

 ( إِنَّکُمْ إِذاً مِثْلُہُمْ ) ۔
تاکید مزید کے لئے فرمایا گیا ہے : ایسی میٹنگوں میں شر کت روحِ نفاق کی علامت ہے اور خدا منافقین اور کفار کو جہنم میں جمع کردے گا

(إِنَّ اللَّہَ جامِعُ الْمُنافِقینَ وَ الْکافِرینَ فی جَہَنَّمَ جَمیعاً ) ۔
چند اہم نکات
۱۔ مجلس گناہ میں شرکت ارتکابِ گناہ کی مانند ہے اگر چہ شریک ہونے والا خاموش ہی بیٹھا رہے کیونکہ ایسی خاموشی ایک طرح کی رضا مندی اور عملی تائید ہے ۔
۲۔ نہی عن المنکر ”مثبت“ صورت میں ممکن نہ ہوتو کم از کم ”منفی “ صورت میں ہی انجام دینا چاہیئے ا س طرح سے کہ انسان گناہ کے ماحول اور گناہ کی مجلس سے ہی دور ہے ۔
۳۔ جولوگ سکو ت اور ایسی مجالس میں شریک ہوکر عملی طور پر گناہگاروں کی تشویق کا باعث بنتے ہیں ان کی سزا بھی ارتکاب گناہ کرنے والوں کی طرح ہے ۔
۴۔ کفار کے ساتھ اس صورت میں نشست و بر خاست جبکہ وہ آیات ِ خدا وندی کی توہیں نہ کریں اور ان سے کوئی خطرہ بھی نہ ہو ممنوع نہیں ہے کیونکہ” حتی ٰ یخوضوا فی حدیث غیرہ“ کے جملہ سے ظاہر ہو تا ہے کہ یہ کام مباح ہے ۔
۵۔ ایسے گنہ گاروں سے اچھا بر تاوٴ نفاق کی علامت ہے کیونکہ حقیقی مسلمان کسی ایسی مجلس میںہرگز شر کت نہیں کر سکتا کہ ایک حقیقی مسلمان ایسی مجلس میں ہو او ر نہ اعتراض کرے اور نہ اظہار ناپسندیدگی کے لئے محفل کو چھوڑ ے ۔


۱۴۱۔الَّذینَ یَتَرَبَّصُونَ بِکُمْ فَإِنْ کانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّہِ قالُوا اٴَ لَمْ نَکُنْ مَعَکُمْ وَ إِنْ کانَ لِلْکافِرینَ نَصیبٌ قالُوا اٴَ لَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَ نَمْنَعْکُمْ مِنَ الْمُؤْمِنینَ فَاللَّہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ وَ لَنْ یَجْعَلَ اللَّہُ لِلْکافِرینَ عَلَی الْمُؤْمِنینَ سَبیلاً ۔
ترجمہ
منافقین وہ ہیں جو ہمیشہ منتظر رہتے ہیں اور تمہارے نگران رہتے ہیں اگر تو تمہیں فتح و کامیابی نصیب ہو سکے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے (لہٰذاہم افتخار ، اعزاز او رمالِ غنیمت میں تمہارے شریک ہیں ) اور کفار کامیاب ہوجائیں تو انھیں کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ کامیابی میں شریک ہیں ) خدا تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اس نے ہر گز مومنین پر کافروں کے غلبے کی راہ نہیں بنائی ۔

ہٹ دھرم منافقین کا انجام تفسیر
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma