معظم لہ کی نظر میں قیام عاشورا کی اخلاقی تعلیمات
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
makarem news

آج کی ڈایری

معظم لہ کی نظر میں قیام عاشورا کی اخلاقی تعلیمات

ان بزرگ افراد کی یادکو باقی رکھنے سے لوگوں میں فداکاری اور ایثار کی روح پروان چڑھتی ہے ۔

makarem news

امام حسین علیہ السلام کے قیام کی عظیم اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس انقلاب کا مختلف طریقوں سے تحلیل و تجزیہ کیا جاسکتا ہے لیکن قیام حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کی اخلاقی تعلیمات میں غور وفکر کے ذریعہ ان کو اسلامی معاشرہ کے لئے نمونہ عمل قرار دینا چاہئے ، یہی وجہ ہے کہ اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے قیام عاشورا کی اخلاقی تعلیمات کو قارئین کے سامنے پیش کررہے ہیں :

مفہوم اخلاق میں غور وفکر

انسان کے روحی اور باطنی تمام صفات کا مجموعہ اخلاق ہے اور بعض دانشوروں کے بقول کبھی کبھی ان اعمال اور کردار کواخلاق کہا جاتا ہے جو انسان کے اندر سے وجود میں آتے ہیں (١) ۔ (٢) ۔

اخلاق گرائی کے آثار و برکات

پہلے مرحلہ میں اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ قوموں اور ملتوں کا اصلی سرمایہ اخلاق ہے اوریہی اجتماعی اہم مشکلات کو حل کرنے کی بنیاد ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اجتماعی صحیح و سالم زندگی کا ستون اخلاق ہے اور سیروسلوک الہی میں انسان کے لئے بہترین وسیلہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ جب تک معاشرہ میں اخلاقی مسائل حل نہیں ہوں گے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا (٣) ۔

ظاہر سی بات ہے کہ قرآن اور روایات میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسل) کی بعثت کا اصلی ہدف''تہذیب نفوس'' ، ''تزکیہ قلوب'' اور ''تکمیل مکارم اخلاق'' بیان ہوا ہے ، اسلام کے راہنمائوں نے اپنی زندگی کا قیمتی حصہ اسی کام سے وقف کردیا تھا (٤) ۔

لہذا یہی وجہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں : اگر انسان کا کردار اس کے کمال کا سبب ہے تو نیک اخلاق اس کو کامل تر اور خوبصورت بنادیتا ہے (٥) ۔ (٦) ۔ یا جس وقت امام علیہ السلام اپنے ان اشعار سے دشمنوں کو شرمندہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں : اگر تمہارے پاس دین نہیں ہے اور تم خدا و قیامت سے نہیں ڈرتے ہو تو کم سے کم آزاد مرد وں کی طرح زندگی بسر کرو اور آزادگی کے طور طریقہ کو فراموش نہ کرو ۔ حقیقت میں آپ پوری دنیا والوں کومخاطب قرار دیتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں یہاں تک کہ اگر کسی دین و مذہب کے قائل نہیں ہو تو اصول انسانیت ، شرافت اور اخلاق کو فراموش نہ کرو (٧) ۔

قیام عاشورا میں اہم اخلاقی تعلیمات

عطوفت اور محبت

اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ اسلام محبت اور عطوفت کا دین ہے اور عملی تبلیغ کی بنیاد پر دشمنی کو جواب محبت سے دیتا ہے (٨) ۔ لہذا اسلام میں محبت ، دوستی اور عطوفت مسلمانوں کا اہم وظیفہ ہے (٩) ۔

واقعہ کربلا میں بھی محبت اور عطوفت کی اخلاقی تعلیمات اصلی ملاک و معیار تھیں ، لہذا اس سوال کو پیش کرنا چاہئے کہ کیا پوری تاریخ میں لاکھوں انسانوں کے احساسات فقط ثواب حاصل کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور ان کو گریہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں ؟ واقعا اگر کوئی عشق و محبت نہ ہو (١٠) اور دل کا مرکز محبت و عشق سے مالا مال نہ ہو تو کیا یہ وعدے عواطف او راحساسات کو ایجاد کرسکتے ہیں ؟ (١١) ۔ (١٢) ۔

اس بنیاد پر کربلا کے واقعات ایسے تھے کہ جس کے اندر ذرہ برابر بھی عطوفت پائی جاتی ہوگی وہ ان واقعات کو سننے کے بعد گریہ و زاری کرے گا (١٣) اور یہ وہی عطوفت و محبت کا رابطہ ہے (١٤) ۔

انقلاب حسینی میں محبت و عطوفت کی تعلیمات کا وسیع نمونہ نو محرم کی شام میں نظر آتا ہے جب دشمنوں نے جنگ کیلئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا تو ا مام علیہ السلام نے اپنے بھائی عباس سلام اللہ علیہ سے فرمایا : '' يا عَبَّاسُ! ارْكَبْ بِنَفْسِي أَنْتَ- يا أَخِي- حَتّى‏ تَلْقاهُمْ فَتَقُولَ لَهُمْ: ما لَكُمْ؟ وَ ما بَدالَكُمْ؟'' ۔ اے عباس ! میری جان تم پر قربان ! جائو اور ان سے پوچھو ! ان کا ہدف کیا ہے اور کیا واقعہ پیش آیا ہے ؟ (١٥) ۔

اسی طرح حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام سے محبت کی طرف اشارہ کیا جاسکتے ہے کہ آپ نے کئی مرتبہ فرمایا : میرے والدین آپ پر قربان ہوجائیں اے اباعبداللہ ! (١٨) ، میری جان آپ پر قربان ! (١٧) ۔

اسی طرح امام حسین علیہ السلام کے اصحاب و انصار کی محبت سے بھری ہوئی باتیں بھی موجود ہیں جن میں عشق و محبت کا ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر موجود ہے ، مثال کے طور پر ''حنظلہ'' ، ا مام علیہ السلام کے جواب میں عرض کرتے ہیں : آپ نے سچ فرمایا ، میں آپ پر قربان ہوجائوں ، آپ بہت بڑے عاقل اور حق کو درک کرنے والے ہیں (١٨) ۔ (١٩) ۔ظہر عاشورا کے وقت ''نافع بن ہلال'' امام علیہ السلام کی خدمت میں آتے ہیں او رعرض کرتے ہیں : یا اباعبداللہ ! میری جان آپ پر قربان ،خدا کی قسم ! میں آپ سے پہلے شہید ہونا چاہتا ہوں (٢٠) ۔

یقینا امام حسین علیہ السلام سے محبت کی معراج کو حضرت ابوالفضل العباس (علیہ السلام) کے وجود میں کامل طور سے مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ آپ جب بھی اپنے زمانہ کے امام کے سامنے حاضر ہوتے تھے تو کہتے تھے : ''فداک روح اخیک یا سیدی '' ! آپ کے بھائی کی جان آپ پر قربان ،اے میرے سید و سردار ! (٢١) ۔

لہذا امام علیہ السلام کے اندر عطوفت اور محبت اس طرح ہے کہ آخری لمحات میںبھی اپنے خاندان کے خیموں پر حملہ کرنے سے منع کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ...  ان لم یکن لکم دین ... فکونوا احرارا ۔ اگر دیندار نہیں ہو تو کم سے کم آزاد مرد رہو (٢٢) ۔

وفاداری

اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ شب عاشور میں جس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا : اب یہ رات آئی ہے ، کھڑے ہوجائواوراس کی تاریکی سے سواری کی طرح استفادہ کرو (اور یہاں سے دور ہوجائو) اور تم میں سے ہر ایک اپنے دوست کا ہاتھ پکڑ کر یا میرے رشتہ داروں کا ہاتھ پکڑ کر یہاں سے دور چلے جائو (٢٣) ، لیکن امام علیہ السلام کے اصحاب نے ایک آواز ہو کر کہا : نہیں ، خدا کی قسم ! ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا ۔

(ہم یہیں پر رہیں گے اور آپ کی رکاب میں شربت شہادت نوش کریں گے (٢٤) ۔

لہذا عباس بن علی نے امام علیہ السلام سے عرض کیا : کس لئے ہم آپ سے دستبردار ہوجائیں ؟ اس لئے کہ آپ کے بعد ہم زندہ رہیں ؟ خدا نہ کرے ایسا دن آئے !! (٢٥) ۔

اسی طرح امام علیہ السلام کے بھائیوں بیٹوں اور بھتیجوں نے اپنی وفاداری کا اعلان کیا ان کے بعد عبداللہ بن جعفر کے بیٹوں نے وفاداری کا اعلان کیا اور مسلم بن عوسجہ کے بعد سعید بن عبداللہ حنفی کھڑے ہوئے اور اپنی وفاداری کو بیان کرتے ہوئے کہا : نہیں ! خدا کی قسم ! ہرگز آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے تاکہ خداوندعالم کو گواہ بنا سکیں کہ ہم نے پیغمبر اکرم (ص) کی غیبت میں ان کے احترام کی رعایت کی ۔ خدا کی قسم ! اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ ہم آپ کی راہ میں قتل کردئیے جائیں گے اور دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور پھر ہمیں جلا کر ہماری راکھ کو ہوا میں اڑا دیا جائے گا اور ستر مرتبہ ایسا ہی کیا جائے تو پھر بھی ہم آپ سے جدا نہیں ہوں گے (٢٦) ۔

امام علیہ السلام کے تمام اصحاب نے اسی طرح کی باتیں بیان کیں اور امام علیہ السلام اس طرح کی وفاداری اور ثابت قدمی سے خوشحال ہوگئے (٢٧) ۔

لہذا یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ کیا حقیقت میں شب عاشورا جیسی رات تاریخ میں موجود ہے جس میں امام علیہ السلام کے اصحاب و انصار اپنی موت کا علم و یقین رکھتے ہوئے بہت ہی افتخار کے ساتھ وفاداری کا اعلان کریں اور اس بات کے لئے تیار رہیں کہ ایک جان نہیں بلکہ اگر ہمیں ہزار جانیں دی جائیں تو بھی ہم آپ پر قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے (٢٨) ۔

قدردانی اور شکر گزاری

یقینا شکر کرنے سے انسانی معاشرہ میں محبت کے رشتے مستحکم اور دلوں کے تعلقات زیادہ ہوجاتے ہیں (٢٩) ۔ جس وقت انسان کے اندر شکر گزاری کی روح پروان چڑھ جاتی ہے تو وہ شکر خالق سے شکر مخلوق تک پہنچ جاتا ہے اور مخلوق کی زحمتوں کے سامنے شکر گزاری،اسلامی معاشرہ کے پروان چڑھنے میں بہت زیادہ موثر ہوتا ہے (٣٠) ۔ شب عاشورا اس دعوی کی بہترین دلیل ہے ، لہذا امام علیہ السلام نے اپنے تمام اصحاب کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا : '' إِنِّي لا أَعْلَمُ أَصْحاباً أَصَحَّ مِنْكُمْ وَ لا أَعْدَلَ وَ لا أَفْضَلَ أَهْلَ بَيْتٍ، فَجَزاكُمُ اللَّهُ عَنِّي خَيْراً '' ۔  میں نے تم جیسے صحیح و سالم اور عادل اصحاب نہیں دیکھے اور میرے جیسا خاندان کسی کا خاندان نہیں ہے ، خداوندعالم تمہیں جزائے خیر عطا کرے (٣١) ۔

اسی طرح امام علیہ السلام نے ان کے حق میں دعا فرمائی اور اپنے تمام اصحاب کو ان کے بلند و بالا مقام کو دکھایا (٣٢) ۔

ایثار اور فداکاری

اولیاء اللہ کی زندگی میں بہترین اور برترین مرتبہ ایثار اور فداکاری کا مرتبہ ہے (٣٣) ۔ لہذا زیارت اربعین (٣٤) میں پڑھتے ہیں '' و بدل مھجتہ فیک'' ۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے دل کا خون تیری راہ میںقربان کردیا (اور ایثار و فداکاری کی انتہاء کردی ) (٣٥) ۔

 

امام حسین علیہ السلام نے شب عاشورا حبیب بن مظاہر کے جواب میں فرمایا : جب صبح ہوگی تو کیا کرو گے ؟ انہوں نے کہا : ہم بنی ہاشم سے پہلے میدان میں جائیں گے اور جب تک خون ہماری رگوں میں ہے اس وقت تک ایک شخص کو بھی قتل نہیں ہونے دیں گے ۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ کہیں، انہوں نے اپنے سید و سردار کو آگے کھڑا کردیا اور اپنی جان قربان کرنے سے دریغ کیا (٣٦) ۔

کیا دنیا کی تاریخ میں ایسی فداکاری اور ایثار کی مثال ملتی ہے ؟ کیا ایمان اور معنویت کے ساتھ اس طرح کا اخلاص، صبر اور شہامت کسی بھی گروہ کے راہنمائوں میں نظر آتا ہے ؟ (٣٧) جی ہاں ! ایثار کے عجیب ترین مناظر یہ ہیں (٣٨) ۔

آخری بات

 ان بزرگ افراد کی یادکو باقی رکھنے سے لوگوں میں فداکاری اور ایثار کی روح پروان چڑھتی ہے ۔ ان صالحین کا ذکر اور اخلاقی فضائل کو بیان کرنا (٣٩) انسانیت کو تقوی اور اخلاق کا درس دیتا ہے (٤٠) کیونکہ خود سازی، تہذیب نفوس اور تربیت اخلاقی کے موثر ترین مرکز سے استفادہ (٤١) کر کے ہر قوم و ملت خصوصا مسلمان ان شہداء سے سبق حاصل کرسکتے ہیں اور خدا کے دین کو باقی رکھنے ، اسلامی امت کی بیداری، روح شہادت طلبی ، شجاعت (٤٢) اور عزت کی موت مرنے میں(٤٣) ان کی اقتداء کی جاسکتی ہے (٤٤) ۔

حوالہ جات:

١ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ١ ، صفحہ ٢٤ ۔

٢ ۔  دائرة المعارف فقہ مقارن ، جلد ٢ ، صفحہ ٣٥٩ ۔

٣ ۔  اخلاق اسلامی در نہج البلاغہ (خطبہ متقین) ، جلد ١ ، صفحہ ٧ ۔

٤ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٨ ۔

٥ ۔  کشف الغمہ ، جلد ٢ ، صفحہ ٢٨ ۔

٦ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٣٦٣ ۔

٧ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٢٢ ۔

٨ ۔  مشکات ہدایت ، صفحہ ١٤٧ ۔

٩ ۔  زندگی در پرتو اخلاق ، صفحہ ١٦٦ ۔

١٠ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٦٨ ۔

١١۔  تفصیل جاننے کے لئے مراجعہ کریں : ''حماسہ حسینی'' ، استاد شہید مرتضی مطہری ، جلد ١ ، فصل دوم ، بحث عوامل تحریف ۔

١٢ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٦٩ ۔

١٣ ۔  احکام عزاداری ، صفحہ ٢٤ ۔

١٤ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣١ ۔

١٥ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٣٨٩ ۔

١٦ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٤٠٢ ۔

١٧ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٨ ۔  مقتل الحسین خوارزمی ، جلد ٢ ، صفحہ ٢٤ ۔ بحارالانوار ، جلد ٤٥ ، صفحہ ٢٣ ۔ مقتل الحسین مقرم ، صفحہ ٢٥١ ۔ موسوعة الامام الحسین علیہ السلام ، صفحہ ٤٥ ۔

١٩ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٤٦٥ ۔

٢٠ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٤٧٢ ۔

٢١ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٤٩٣ ۔

٢٢ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٢١ ۔

٢٣ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٩٢ ۔

٢٤ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٩٣ ۔

٢٥ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٨٦ ۔

٢٦۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٩٨ ۔

٢٧ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٩٧ ۔

٢٨ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٩٨ ۔

٢٩ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ٣ ، صفحہ ٥٩ ۔

٣٠ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٨٣ ۔

٣١ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ٣٩٢ ۔

٣٢ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٩٣ ۔

٣٣ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٨٧ ۔

٣٤ ۔  زیارت اربعین صرف امام حسین علیہ السلام کے لئے وارد ہوئی ہے اور دوسرے تمام معصومین علیہم السلام کے لئے زیارت اربعین نہیں ہے ۔ یہ زیارت بہت ہی مشہور و معروف زیارت ہے اوراس کے راوی مرحوم شیخ طوسی (رحمة اللہ علیہ) ہیں ۔ حدیث کا ابتدائی حصہ بتاتا ہے کہ اس کو دور سے بھی پڑھا جاسکتا ہے اور اس کے آخری حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زیارت کو نزدیک سے بھی پڑھا جاسکتا ہے اور شاید مراد یہ ہو کہ دور اور نزدیک دونوں جگہ سے اس زیارت کو پڑھ سکتے ہیں ۔ تہذیب الاحکام شیخ طوسی ، جلد ٦ ، صفحہ ٥٢ ، حدیث ٣٧ کے مطابق یہ زیارت ،ا مام حسن عسکری علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے ۔

٣٥ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ٧٣ ۔

٣٦ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٤٠٥ ۔

٣٧ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٤٠٨ ۔

٣٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣٩ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٤٩ ۔

٤٠ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٧٥ ۔

٤١ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤٢ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٥٥ ۔

٤٣ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٤٧٥ ۔

تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir

تاریخ انتشار: « 2016/11/17 »

منسلک صفحات

امام حسن عسکری (علیہ السلام) کی مختصر سوانح حیات

معظم لہ کی نظر میں قیام عاشورا کو بیان کرنے کیلئے حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی عظیم رسالت اور ذمہ داری

معظم لہ کے کلام میں قیام عاشورا کے آثار ونتائج

قیام عاشورا میں ''استکبار ستیزی'' کی خصوصیات

معظم لہ کی نظر میں قیام عاشورا کی اخلاقی تعلیمات

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1454