مرنے کے بعد دوباہ زندہ ہونے کی کیفیت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

مرنے کے بعد دوباہ زندہ ہونے کی کیفیت

سوال: سوال : مرنے کے بعد دوباہ زندہ ہونے کی کیفیت کیا هے؟
اجمالی جواب: اس سؤال کا جواب سوره «بقره» کی آیت نمبر ۲۶۰ میں ذکر ہوا ہے ، بہت سے مفسرین اور موٴرخین نے اس آیت کے ذیل میں یہ واقعہ لکھا ہے :
تفصیلی جواب: اس سوال کا جواب سوره «بقره» کی آیت نمبر ۲۶۰ میں ذکر ہوا ہے ، بہت سے مفسرین اور موٴرخین نے اس آیت کے ذیل میں یہ واقعہ لکھا ہے :
ایک دن حضرت ابراہیم دریا کے کنارے سے گزر رہے تھے ۔ آپ نے ایک مردار دریا کے کنارے پڑا ہو ا دیکھا ۔اس کا کچھ حصہ دریا کے اند ر اورتکچھ حصہ دریا کے باہرتھا۔دریا اور خشکی کے جا نور دونو ں طرف سے اسے کھارہے تھے بلکہ کھاتے کھاتے ایک دوسر ے سے لڑنے لگتے تھے ۔اس منظر نے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو ایک ایسے مسیلے کی فکر میں ڈال دیا جس کی کیفیت سب تفصیل سے جا ننا چاہتے ہیں اور وہ ہے موت کے بعد مردوں کے زندہ ہو کی کیفیت ۔ابراہیم (علیه السلام) سوچنے لگے کہ ا گرایسا ہی انسانی جسم کے ساتھ ہو اور انسا ن کا بدن جانوروں کے بدن کا جزبن جایے تو قیامت میں اٹھنے کا معاملہ کیسے عمل میں آیے گا جب کہ وہا ں انسا ن کواسی بدن کے ساتھ اٹھنا ہے ۔
۔واذ قال ابراہیم رب ارنی کیف تحی الموتی
حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے کہا : خدایا !مجھے دکھا کہ تو مردو ں کو کیسے زندہ کرے گا ۔اللہ تعالی نے فرما یا کیاتم اس بات پرایمان نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہا:ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتاہوںایمان کو تسلی ہوجایے ۔ قال اولم توٴمن  قال بلی ولٰکن لیطمین قلبی، قال فخذ اربعهمن الطیر فصر ھن الیک ثم اجعل علی کل جبل منھن جزءََ اثم ادعھن یا تینک سعیا ط واعلم ان اللہ علی عزیز حکیم .
خداتعالی نے حکم دیا: چارپرندے لے لواور ان کا گوشت ایک دوسرے سے ملا دو ۔پھر اس سارے گوشت کے کیی حصے کردو اور ہر حصہ ایک پہاڑپر رکھ دو ۔اس کے بعد ان پرندوں کو پکارو تاکہ میدان حشر کا منظر دیکھ سکو،انہوں نے ایسا ہی کیا توانتہایی حیرت کے ساتھ دیکھا پرندوں کے اجزاء مختلف مقامات سے جمع ہو کر ان کے پاس آگیے ہیں اور ان کی ایک نیی زندگی کا آغاز ہو گیاہے ۔
۱۔چارپرندے۔اس میں شک نہیں مذکورہ چارپرندے مختلف انواع میں سے تھے کیونکہ اس کے بغیر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا مقصد پورا نہیں ہو تا تھا ۔ا س کے لیے ضروری تھا کہ ہر ایک کے اجزاء اس کے اصلی بدن میں واپس آییں اور یہ مختلف انواع ہو نے کی صورت میں ہی ظاہر ہو سکتا ہے ۔مشہور روایات کے مطابق وہ چار پرندے مور ،مرغ ،کبوتراور کواتھے جو کیی پہلووٴں سے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں .
بعض ا ن پرندوں کو انسانوں کی مختلف صفات اور جذبات کا مظہر سمجھتے ہیں .
مور : خود نمایی ،زیبایش اور تکبر کا مظہر ہے .
مرغ : شدید جنسی میلانات کا مظہر ہے.
کبوتر : لہوولعب اور کھیل کود کا مظہر ہے
کوا : لمبی چوڑی آرزووٴں اور تمناوٴں کا مظہر ہے.
۲۔ پہاڑوں کی تعداد ؛جن پہاڑوں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پرندوں کے اجزاء رکھے تھے ان کی تعداد کی صراحت قرآن حکیم میں نہیں ہے لیکن روایا ت اہل بیت (علیه السلام) میں یہ تعداد دس بتایی گیی ہے ۔اسی لیے بعض روایا ت میں آیا ہے کہ کویی شخص وصیت کرجا یے کہ اس کے مال کا ایک جزء فلاںسلسلے میں خرچ کرنا اور اس کی مقد ار معین نہ کی جا یے تو مال کا دسواں حصہ دیناکافی ہے (۱).
حوالہ جات:
1. تفسیر نمونه، جلد 2، صفحه 353.
تاریخ انتشار: « 1394/03/08 »

منسلک صفحات

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 4420