کھانے کے علاوہ دیگر استعمال کے لئے حرام گوشت دریائی جانوروں کا حکم

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

کھانے کے علاوہ دیگر استعمال کے لئے حرام گوشت دریائی جانوروں کا حکم

سوال: جیسا کہ ہمیں اس بات کی اطلاع ہے کہ مجتہدین کرام حفظہم الله کے نظریہ کے مطابق دریائی جانوروں میں سے جن کے کرن ہوتی ہیں ان کا گوشت حلال اور جن کے کرن نہیں ہوتی ان کا گوشت حرام ہے، کیا جن جانوروں کے کرن نہیں ہوتی ان سے ہر طرح کا استفادہ کرنا حرام ہے یا کھانے کے علاوہ دیگر استفادہ کرنا یا غیر مسلم لوگوں کو استعمال کے لئے دینے میں کوئی اشکال نہیں ہے؟ اگرچہ انھیں فروخت کرنے ای دوسری چیز سے بدلنا یا نقد رقم کے عوض یا کسی چیز کے بدلے، اُن سے استفادہ کرنے کے حق کو دوسروں سے مخصوص کرنے کے عنوان سے ہی کیوں نہ ہو، اس مسئلہ میں جنابعالی کا کیا نظریہ ہے؟
جواب دیدیا گیا: اگر اس قسم کے دریائی جانوروں کو ایسے لوگوں کو فروخت کیا جائے جو انھیں حلال سمجھتے ہیں یا کھانے کے علاوہ کسی دوسرے استعمال کے لئے فروخت کریں تب کوئی اشکال نہیں ہے ۔

منسلک صفحات

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 662