اہل سنت کے فقہاء اور متکلمین کابیعت سے متعلق نظریہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

اہل سنت کے فقہاء اور متکلمین کابیعت سے متعلق نظریہ

سوال: بیعت کے ذریعہ خلافت کی مشروعیت سے متعلق اہل سنت کے فقہاء اور متکلمین کاکیا نظریہ ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اہل سنت کے فقہاء اور متکلمین حکومت کو مشروعیت دینے کے اسباب میں سے ایک سبب عام لوگوں یا اہل حل و عقد کی بیعت کو بھی جانتے ہیںاور ان کا خیال ہے کہ خلافت اور زعامت بیعت کے ذریعہ جایز ہوجاتی ہے یہاں پر اہل سنت کے علماء کی رایے کو بیان کرتے ہیں:
۱۔ ابوالحسن علی بن محمد ماوردی(متوفی ۴۵۰ھ)کہتا ہے :
اگر اہل حل و عقد، امام کو معین کرنے کی جستجو کریں اور کسی ایسے شخص کو تلاش کرلیں جس میں امامت کے تمام شرایط بطور اکمل پایے جاتے ہوں اور پھر اس کی بیعت کرلیں تو امامت اس کے لیے ثابت ہوجاتی ہے ، اسی وجہ سے تمام لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس کی بیعت کریں اور اس کی اطاعت کو لازم جانیں(۴)۔
۲۔ قاضی عبدالجبار معتزلی(متوفی ۴۱۵ھ) کہتا ہے :
اگر بعض اہل حد و عقد ، کسی کو امام کے عنوان سے معین کردیں تو وہ لوگوں کا امام ہے اور بقیہ لوگوں پر واجب ہے کہ اس کی امامت کو قبول کرلیں ،اسی وجہ سے امت کے باقی لوگوں کے اس کی بیعت نہ کرنے سے کویی اثر نہیںپڑتا کیونکہ عقد امامت صرف اہل حل و عقد کی بیعت سے کامل ہوجاتا ہے(۱)۔
۳۔ ابن تیمیہ(متوفی ۷۲۸ھ) کہتا ہے :امامت سے مراد صرف قدرت و سلطنت حاصل کرنا ،اگر کسی کی بیعت کرلی جایے تو یہ قدرت و سلطنت اس کیلیے ثابت ہوجاتی ہے اور وہ لوگوں کا امام بن جاتاہے(۲)۔
۴۔ ڈاکٹرمحمد خالدی اردنی کہتا ہے:تمام مسلمانوں پر بیعت واجب ہے اور یہ ہر مسلمان(مرد ،عورت)کا حق ہے کیونکہ صرف بیعت ہی کسی کو حاکم بنانے اورعزل کرنے کا شرعی راستہ ہے ۔ اور چونکہ خلیفہ کو معین کرنا واجب ہے اور یہ کام بغیر بیعت کے کامل نہیں ہوتا لہذا مقدمہ واجب(جو کہ بیعت ہے)بھی واجب ہے(۳)۔
۵۔ ڈاکٹر طہ حسین کہتا ہے :امر خلافت کامل طور سے بیعت(لوگوں کی مرضی)کے اوپر استوار ہے لہذا در حقیقت خلافت ایک ایساعقد ہے جو حاکموں اور لوگوں کے درمیان قایم ہوتا ہے(۴)۔(۵)۔
حوالہ جات:
۱۔ مغنی، قاضی عبدالجبار، ص ۳۰۳، جزء ۲۰، قسم اول۔
۲۔ منھاج السنة، ج۱ ص ۱۴۱۔
۳۔ البعة فی الفکر السیاسی، ص ۳۷۔
۴۔ نظام الحکم فی الشریعة، ظافر قاسمی، ص ۲۷۱۔
۵۔علی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبہات(۱)، ص۱۰۱۔
    
تاریخ انتشار: « 1396/07/01 »

منسلک صفحات

اہل سنت کے فقہاء اور متکلمین کابیعت سے متعلق نظریہ

شوری(کمیٹی)کی مشروعیت پر اہل سنت کے قرآنی دلائل

قرآن اور اکثریت کی رائے کا اعتبار

اجماع کی حجیت پر اہل سنت کی قرآنی دلیلیں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1342