روایات کی رو سے امامت کی حقیقت
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

روایات کی رو سے امامت کی حقیقت

سوال:
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب:

 

سوال : اسلامی روایات میں امامت کی حقیقت کو کس طرح بیان کیاگیا ہے؟


جواب : قرآن کریم کی آیات میں مراجعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امامت کے لیے ایسے جامع اور کامل معنی بیان ہویے ہیں جن کا شمار دینی اور سیاسی مرجعیت کے امور میں ہوتا ہے، یہاں پر ہم بعض آیات کی طرف اشارہ کریں گے:
۱۔ شیعہ اور اہل سنت کی مشہور حدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے :
”من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میته جاھلیه“
(۱) جو بھی اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مرجایے اس کی موت زمان جاہلیت کی موت ہوگی ۔
یہ تعبیر بہت زیادہ شدید ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت میں لوگ مشرک تھے ،یہاں تک کہ ان کے پاس توحیداور نبوت بھی نہیں تھی ، یہ بات بھی واضح ہے کہ امامت ، ولایت کے معنی میں اصول دین میں سے ہوسکتی ہے اور ان کا نہ پہچاننا جاہلیت کی موت ہوگی ۔
۲۔ سیرہ ابن ہشام میں بیان ہوا ہے : ”بنی عامر بن صعصعہ ، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچیں، آنحضرت (ص) نے ان کو خدا کی طرف دعوت دی اور اپنی نبوت کو ان کے سامنے پیش کیا --- اسی وقت اس جماعت میں سے ایک شخص (بحیرہ بن فراس) نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے عرض کیا : ہمیں یہ بتاو ! اگر ہم تمہارے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرلیں اور خداوند عالم آپ کو آپ کے دشمنوں پر غالب کردے تو کیا آپ کے بعد خلافت میں ہمارا بھی حصہ ہوگا؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: امر خلافت ، خدا کے ہاتھ میں ہے وہ جس کی بھی چاہتا ہے عطا کردیتا ہے ۔
اس وقت بحیرہ نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے عرض کیا : آپ سے دفاع کے لیے ہم اپنی جان تم پر قربان کردیں لیکن جب خداوند عالم تمہیں دشمنوں پر کامیاب کردے تو خلافت ہمارے علاوہ کسی اور کو مل جایے ، لہذا ہمیں تمہارے اسلام کی ضرورت نہیں ہے (۲) ۔
۳۔ امام رضا (علیہ السلام) نے عبدالعزیز بن مسلم سے فرمایا: امت کے درمیان کیا لوگ امامت کے مقام و منزلت کو جانتے ہیں جو امام کو انتخاب کرنے کا اختیار ان کو دیا جایے؟ یقینا امامت کی منزلت بہت بلند، اس کی شان بزرگ، اس کی جگہ اتنی بلند و بالا ہے کہ لوگ اپنی عقلوں کے ذریعہ اس تک نہیں پہنچ سکتے اور اپنی رایے اور اپنے انتخاب کے ذریعہ امام کو منصوب نہیں کرسکتے ۔
یقنا امامت کا مقام ایسا ہے کہ خداوندعالم نے نبوت اور خلت کے بعد تیسرے مرتبہ میں حضرت ابراہیم کو امام بنایا اور ان کو اس فضیلت سے مشرف کیا اور ان کے نام کو بلند کرتے ہویے فرمایا : یقینا میں نے تمہیں لوگوں کا امام بنایا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خوش ہو کر خداوند عالم سے عرض کیا : اور میری اولاد سے بھی؟ تو خدا نے فرمایا: میرا عہدہ اور وعدہ ظالمین تک نہیں پہنچ سکتا ۔
یقینا امامت ، خداوند عالم اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خلافت ہے ،امیر المومین علی (علیہ السلام) کا عہدہ اور حسن و حسین (علیہما السلام) کی میراث ہے یقینا امامت دین کی باگ ڈور اور مسلمانوں کے نظام کا سبب، دنیا کی صلاح اور مومنین کی عزت ہے ، یقینا نماز ، روزہ، حج ، جہاد کا کامل ہونا انہی کے طفیل میں ہے ۔
امام ، چمکتاہوا ماہتاب، روشن چراغ،درخشاں نور، اور شدید تاریکی میں راہنمایی کرنے والا ستارہ ہے ۔
امام ، ہدایت کی طرف راہنمایی اور ہلاکت سے نجات دلانے والا ہے ۔
امام ،گناہوں سے پاک اور عیبوں سے دور ہے ،نظام دین کاسبب، مسلمانوں کی عزت ، منافقین کی نارضگی کاسبب اور کافروں کو ہلاک کرنے والا ہے ۔
پس کون ہے جو امام کو پہچان سکے اورکون ہے جس کے لیے امام کا انتخاب کرنا ممکن ہو؟
ھیھات ! ھیھات ! یہاں پرامام کے فضایل کو بیان کرنے سے عقلیں دنگ اور پریشان ہیں، آنکھوں میں نور نہیں، بزرگ چھوٹے ، حکماء حیران و پریشان، عقلمندوں کی فکریں چھوٹی اورخطیب بیکارہوگیے اور ا ن سب نے اپنے عجز و ناتوانی کا اعتراف کرلیا، کس طرح وہ امام کی حقیقت اور اس کے اوصاف کو بیان کرسکتے ہیں؟
ممکن نہیں ہے کس طرح اور کہا ںسے؟ جب کہ وہ صفت بیان کرنے والوں سے بلند اور آسمان میں ستاروں کی جگہ پر ہے، وہ کہاں اور انسان کاانتخاب کہاں؟وہ کہاں اورانسان کی عقلیں کہاں؟ وہ کہاں اور اس کے جیسا کہاں(۳) ۔ (۴) ۔

_____________________
۱۔ شرح مقاصد، ج۵، ص ۲۳۹۔
۲۔ سیرہ ابن ہشام، ج۲، ص ۳۲۔
۳۔ کافی ج۱، ص ۱۹۸، ۲۰۳۔
۴۔ علی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبھات (۱) ،ص ۳۲۔

حوالہ جات:

    
تاریخ انتشار: « 1396/01/10 »

منسلک صفحات

روایات کی رو سے امامت کی حقیقت

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1614