غدیرخم پر زیادہ توجہ
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

غدیرخم پر زیادہ توجہ

سوال:
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب:

سوال : غدیر خم کی ابدیت کا راز
جواب : حدیث غدیر کے مشہور ہونے پر خداوند عالم کی عنایت بہت زیادہ تھی ،خداوند عالم نے تمام راویوں کی زبانوںسے اس واقعہ کو نقل کرادیا،تاکہ اس کے دین کے حامی امام علی (علیہ السلام) کے لیے یہ بہترین حجت قرار پایے ۔
اسی وجہ سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے حج اکبر سے پلٹتے وقت حاجیوں کی اکثریت کی وجہ سے ایسے حالات جمع ہوگیے کہ خداوند عالم نے اس امر کی تبلیغ کو یقینی قرار دیا اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بھی اس کو انجام دینے میں جلدی کی ،اسلامی ممالک کے لوگوں نے فوج در فوج پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا احاطہ کرلیا اور جو آگے چلے گیے تھے ان کو پیچھے بلایا اور جو پیچھے رہ گیے تھے ان کا انتظار کیا اوراس حدیث کو سب کے سامنے پیش کیا(۱)، اور حکم دیا کہ جو یہاں پر موجود ہیں وہ ان لوگوں سے بتاییں جواس حدیث کو نہیں سن سکے، تاکہ اس جمعیت کے تمام لوگ اس حدیث کے راوی بن جاییں ۔
خداوند عالم نے اسی مقدار پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس سلسلہ میں ایک آیت بھی نازل فرمایی تاکہ روزانہ صبح و شام جب بھی اس آیت کی تلاوت کی جایے تو لوگوں کو اس واقعہ کی یادتازہ ہوجایے اور وہ اپنی ہدایت کے راستہ کو تلاش کرلیں ۔
اسی طرح پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بھی اس واقعہ کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اس سال مناسک حج کو بجالانے کے لیے تمام لوگوں کو دعوت دی اور سب فوج در فوج آپ سے ملحق ہوگیے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اس سفر کے آخر میں نباء عظیم کو لوگوں تک پہنچانا ہے ۔
ایسی عظیم خبر جس کے ذریعہ جس کے ذریعہ دین کامل ہوا، جس کے ذریعہ اس دین کی ملت، دوسرے مذاہب پر آقایی اور سروری کرتی اور اس دین کا حکم مغرب اور مشرق میں جاری ہوتا، اگر یہ قوم اپنی بھلایی کو سمجھ جاتی اور چشم بصیرت کے ساتھ راہ ہدایت پر گامزن ہوجاتی(۲) ۔
اسی ہدف اور مقصد کو باقی رکھنے کے لیے ایمہ (علیہم السلام) ہمیشہ اس واقعہ کو بیان کرتے تھے ، امام علی (علیہ السلام) نے اپنی امت پر اس حدیث سے استدلال کیا اور آپ اپنی زندگی میں ہمیشہ اس واقعہ سے استدلال کرتے رہے اور ہر جلسہ اور ہر اجتماع میں ان اصحاب سے استدلال کرتے تھے جنہوں نے اس حدیث کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سنا تھا ۔
یہ سب اس لیے تھا کہ واقعہ غدیر صدیاں گزرنے کے بعد بھی صحیح و سالم باقی رہے ۔
اسی وجہ سے ایمہ (علیہم السلام) نے اپنے شیعوں کو حکم دیاکہ غدیر کے روز عید مناوں اور ایک دوسرے کو مبارک باداور بشارت دوتاکہ ہر سال اس اہم واقعہ کی یاد تازہ ہوتی رہے ۔
شیعہ حضرات بھی غدیر کے روز حضرت علی (علیہ السلام) کے روضہ کے پاس دنیا کے دور و نزدیک علاقوں سے لوگوں کو بلاتے ہیں اور جشن و مسرت قایم کرتے ہیں تاکہ یہ واقعہ سب کے اذہان میں ہمیشہ زندہ رہے ۔
اس روز ایمہ اطہار (علیہم السلام) سے منقول طولانی زیارت پڑھتے ہیں(۳) جس میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی اور خلافت سے متعلق کتاب و سنت سے بہترین دلیلی پیش کی گیی ہیں اور مفصل طریقہ سے غدیر کی روایت کو بیان کیا ہے اور غدیر کے روز بھی بہت سے اعمال جیسے نماز اور روزہ وارد ہوا ہے اور بہت سی دعاییں جو غدیر خم کی یاد میں پڑھی جاتی ہیں اور تمام شیعہ ،شہروں ،دیہاتوں اور تمام مراکز میں ان اعمال کو بجا لاتے ہیں ۔
شیعوں کی حدیثی، تفسیری،تاریخی، اورکلامی کتابیں اس واقعہ کے اثبات میں لبریز ہیں اور اس پر دلیلیں اور استدلال پیش کیے ہیں ۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ حدیث غدیر کے اثبات ، اس پر اعتماد اوراس کے صحیح ومتواتر(۴) ہونے پر اعتراف کرنے میں اہل سنت بھی شیعوں سے پیچھے نہیں ہیں، مگر وہ افراد جو راستہ سے منحرف ہوگیے ہیں اور انہوں نے بغیر تحقیق کیے آنکھیں بند کرکے اس کے معنی کو منحرف سمت میں موڑ دییے ہیں اور ان کی فکر و نظر ، تمام علمایے اسلام کی نظر نہیں ہے، یہ ان کا ذاتی مسیلہ ہے(۵) ۔


۱۔ نسایی نے حدیث غدیر کے طُرُق میں سے ایک طریق سے اپنی خصایص(ج۲۱، ص ۹۶، ح ۷۹) میںزید بن ارقم سے اور سنن الکبری (ج۵، ص ۱۳۰، ح ۸۴۶۴) میں نقل کیا ہے کہ ابوالطفیل نے کہا: کیا اس حدیث کو رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سنا ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں، اس خطبہ میں کویی اور نہیں تھا ، لیکن میں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس حدیث کو اپنے دونوں کانوں سے سنا ہے ۔
ذہبی نے اس حدیث کی تایید کی ہے ،جیسا کہ تاریخ ابن کثیر شامی ، ج ۵، ص ۲۰۸۔ ج ۵، ص ۲۲۸ میں بیان ہوا ہے ۔ اور مناقب خوارزمی کے صفحہ ۹۴ پر حدیث غدیر نقل ہویی ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بلند ترین آواز کے ساتھ اس حدیث کو ارشاد فرمایا ۔
ابن جوزی نے مناقب میں اس کو لکھا ہے : ایک لاکھ بیس ہزار افراد جن میں اصحاب، بادیہ نشین عرب، اور مکہ و مدینہ کے اطراف میں رہنے والے افراد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور یہ سب کے سب حجه الوداع کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اس قول کو ان سے سنا ہے ۔
۲۔ مسند احمد ، ج ۱، ص ۱۰۹و ۱۷۵، ح ۸۶۱میں زید بن یثع سے انہوں نے علی (علیہ السلام) سے اور انہوں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل کیا ہے : ” و ان تومروا علیا (ولا اراکم فاعلین) تحدوہ ھادیا مھدیا ، یاخذکم الطریق المستقیم“۔ اگر علی (علیہ السلام) کو اپنا امیر بنا لو(میں دیکھ رہاہوں کہ تم ایسا نہیں کروگے)تو ان کو ہادی اور مہدی پاو گے جو تمہیں راہ مستقیم کی ہدایت کریں گے ۔
ابوداود کی روایت میں بیان ہوا ہے : ”ان تستخلفوہ (علیا) (ولن تفعلوا ذلک) یسلک بکم الطریق ، و تجدوہ ھادیا مھدیا“ ۔ اگر علی (علیہ السلام) کو اپنا امیر بنالو(کہ یقینا تم ایسا نہیں کرو گے) تو وہ تمہیں راہ راست پر گامزن کردیں گے، اور تم ان کو ہدایت گر اور ہدایت شدہ پاو گے ۔
دوسری تعبیر میں بیان ہوا ہے : ”وان تومروا علیا (ولا اراکم فاعلین) تجدوہ ھادیا مھدیا،یاخذکم الطریق المستقیم“ ۔ اگر علی (علیہ السلام) کو اپنا امیر بنالو(کہ یقینا تم ایسا نہیں کرو گے) تو وہ تمہیں راہ راست پر گامزن کردیں گے، اور تم ان کو ہدایت گر اور ہدایت شدہ پاو گے ۔
۳۔ مراجعہ کریں: بحار الانوار، ج ۹۷، ص ۳۵۹، ح ۶۔
۴۔ احمد بن حنبل نے ۴۰ طُرق سے ابن جریر طبری نے ستر طُرق سے ، جزری مقری نے اسی طُرق سے ، ابن عقدہ نے ایک سو پانچ طُرق سے ابوسعید سجستانی نے ایک سو بیس طُرق سے ، ابوبکر جعابی نے ایک سو پچیس طُرق سے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔ اس کے علاوہ امیر محمد یمنی جو کہ بارہویں صدی میں غدیر کے شاعر ہیں ، کی کتاب تعلیق ہدایه العقول کے صفحہ ۳۰ پر بیان ہوا ہے کہ یہ حدیث ایک سو پچاس طُرق سے نقل ہویی ہے ۔
۵۔ گزیدہ ای جامع از الغدیر، ص ۴۵۔.

 

حوالہ جات:

    
تاریخ انتشار: « 1396/04/07 »

منسلک صفحات

مولی کے معنی کو معین کرنے والے متصل قرینے

ابوبکر اور عمر کا مبارکباد دینا

امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کو مبارکباد دینا

اسلامی اعیاد میں سے ایک عید ،عید غدیر ہے

غدیرخم پر زیادہ توجہ

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1313