مولی کے معنی کو معین کرنے والے متصل قرینے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

مولی کے معنی کو معین کرنے والے متصل قرینے

سوال: کیا خود حدیث غدیر میں ایسے قراین موجود ہیں جو لفظ مولی کے صحیح معنی پر دلالت کرتے ہیں؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اہل تحقیق کیلیے لفظ مولی کے معنی ”اولی“ کو قبول کرنے کے علاوہ کویی چارہ نہیں ہے اور بالفرض اگر ہم قبول کرلیں کہ لفظ مولی مشترک لفظی ہے اور یہ معنی ، لفظ مولی کے معانی میں سے ایک ہے تو ہم کہتے ہیں : حدیث میں متصل اور منفصل قرینے موجود ہیں جو دوسرے معانی کی نفی کرتے ہیں ، یہاں پر ہم ان قرینوں کو بیان کریں گے :
پہلا قرینہ : حدیث کے شروع میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : ”الست اولی بکم من انفسکم“ ۔ کیا میں تم پر تم سے زیادہ سزاوار نہیں ہوں، یعنی کیا میں تم پر ولایت مطلقہ نہیں رکھتا؟ یا اسی کی طرح دوسرے الفاظ جو اس معنی پر دلالت کرتے ہیں ،اس کے بعد آنحضرت (ص) نے اس حدیث کو اپنی پہلی بات سے متصل کرتے ہویے فرمایا : ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ“ ۔ جس کا میں مولی ہوں اس کے یہ علی مولی ہیں۔ اس مقدمہ کو بہت سے شیعہ اور اہل سنت علماء نے نقل کیا ہے :
اہل سنت کے ایمہ اور حفاظ جنہوں نے اس کو نقل کیا ہے ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ احمد بن حنبل، ۲۔ ابن ماجہ ، ۳۔ نسایی ، ۴۔ طبری، ۵۔ ترمذی ، ۶۔ سیوطی۔
یہ مقدمہ اس حدیث کا صحیح اور مسلم الثبوت حصہ ہے جس کو قبول کرنے کے علاوہ کویی چارہ نہیں ہے اور اگر پیغمبر خدا نے اس کلام کے علاوہ کسی اور کلام کا ارادہ کیا ہوتا تو یقینا ان کا کلام (جب کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ان کلام ہر طرح کی لغزش سے دور ہے) خراب ہوجاتا اور اس میں کویی بلاغت باقی نہیں رہتی ، جب کہ آنحضرت (ص) ”افصح البلغاء “ اور ”ابلغ من نطق بالضاد“ (تمام بلیغ انسانوں سے فصیح تر اور تمام ضاد کا تلفظ کرنے والوں سے بلیغ ) ہیں۔ پس ہماراعقیدہ ہے کہ پیغمبر اکرم کے کلام کے تمام اجزاء چونکہ منبع وحی سے آپ کی زبان پر جاری ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اور ہمارے لیے کویی چارہ نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں مقدمہ کے معنی ذی المقدمہ سے متحد اور یکساں ہیں ( اور چونکہ پیغمبر اکرم (ص) کے کلام کے آغاز میں مولا کے معنی اولی بہ شی ہیں لہذا بعد والے کلام میں بھی یہی معنی مراد ہیں) ۔
اور تذکره المطالب میں سبط بن جوزی حنفی کاقول کامل طور سے واضح ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے لفظ مولی کے لیے دس معنی بیان کیے ہیں اور دسویں معنی ”اولی“ ذکرکیے ہیں اورکہا ہے :
حدیث سے مراد مخصوص اطاعت ہے اس بناء پر دسویں معنی جو کہ ”اولی“ کے معنی میں ہے ، معین ہوتے ہیں اور حدیث کے معنی یہ ہیں : میں جس پر اس سے زیادہ سزاوار ہوں یہ علی بھی اس پر اس سے زیادہ سزاوار ہیں۔
دوسرا قرینہ : حدیث کے آخر میں فرمایا ہے : ”اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ “ ۔خدایا اس سے محبت کر جو علی سے محبت کرے اور اس سے دشمنی کر جو علی سے دشمنی کرے ۔ بعض دوسری حدیث میں یہ جملہ اس طرح بھی ذکر ہوا ہے : ”وانصر من نصرہ و اخذل من خذلہ“ ۔ اس کی مدد کرنے والے کی مدد اور اس کو ذلیل و خوار کرنے والے کو ذلیل وخوار کر۔ ہم نے اس سے پہلے اس کے راویوں کو ذکر کیا تھا ۔

تیسرا قرینہ :
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا قول : ”یا ایھا الناس بم تشھدون ؟ قالوا : نشھد ان لا الہ الا اللہ ۔ قال : ثم مہ ؟ قالوا : و ان محمدا عبدہ و رسولہ ۔قال : فمن ولیکم ؟ قالوا : اللہ و رسولہ مولانا “۔ اے لوگو ! تم کس چیز کی شہادت دیتے ہو ؟ انہوں نے کہا : لاالہ الا اللہ کی شہادت دیتے ہیں ۔ فرمایا اس کے بعد کس چیز کی گواہی دیتے ہو ، انہوں نے کہا : محمد ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ پھرآپ نے فرمایا : تمہارا ولی کون ہے ؟ انہوں نے کہا : خدا اور اس کا رسول ہمارا مولی ہے ۔ اس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ علی (علیہ السلام) کے بازو پر رکھا اوران کو بلند کرکے فرمایا : ”من یکن اللہ و رسولہ مولاہ فان ھذا مولاہ “۔ جس کا خدا اور اس کا رسول مولی ہے اس کا یہ علی مولی ہے ۔ اس عبارت کو جریر نے نقل کیا ہے (۷) ۔
ولایت کا توحید اور رسالت کی شہادت کے ساتھ بیان ہونے اور اس کے بعد خدا اور رسول کی ولایت مطلقہ کو ذکر کرنے میں کویی اور بات ممکن ہی نہیں ہے مگر یہ کہ امامت کے معنی لوگوں کی جانوں پر ولایت کے ملازم ہو (جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ، مومنین سے زیادہ ان پر حق رکھتے ہیں : ”النبی اولی بالمومنین من انفسھم“۔ علی (علیہ السلام) بھی مومنین پر ان سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔

چوتھا قرینہ
اس حدیث کے بعد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول : ”اللہ اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمه و رضا الرب برسالتی والولایه لعلی بن ابی طالب “۔ دین کے کامل ہونے،نعمتوں کی تکمیل ، پیغام رسانی سے خدا کی خشنودی ، میری رسالت اور علی کی ولایت پر اللہ اکبر۔
آپ کی نظر میں ایسی امامت کے علاوہ جو تمام کاموں کو ختم کرنے والی ، دین کی نشر واشاعت کو مکمل ،رسالت کی بنیادوں کو ثابت و محکم ،دین کو کامل ، نعمتوں کو تمام اور خدا کو خوش کرنے والی ہو ، اور کون امامت ہوسکتی ہے ، پس اس صورت میں جو ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے والا ہو اور لوگوں پر ان سے زیادہ حق رکھتا ہو وہ امام ہے ۔

پانچواں قرینہ
ولایت کو بیان کرنے سے پہلے آنحضرت (ص) کا قول : ”کانی دعیت فاجبت“۔ گویا مجھے بلایا جارہا ہے اورمیں نے قبول کرلیا ہے ۔ ، یا ”انہ یوشک ان ادعی فاجیب“۔ نزدیک ہے کہ مجھے بلایا جایے اور میں اس کو قبول کرلوں۔ یا ”الا و انی اوشک ان افارقکم“ ۔ آگاہ ہوجاو کہ نزدیک ہے میں تم سے جدا ہوجاوں۔ یا ”یوشک ان یاتی رسول ربی فاجیب“۔ نزدیک ہے کہ خدا کا فرستادہ آیے اور میں اس کی دعوت کو قبول کرلوں۔ اس قول کو حفاظ حدیث نے بہت مرتبہ ذکر کیا ہے (۸) ۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا یہ قول ہمیں بتاتا ہے کہ پیغمبر اکرم کی تبلیغ کا کویی اہم کام باقی رہ گیا تھا جس کی وجہ سے آنحضرت (ص) پریشان تھے کہ شاید اس کو پہنچانے سے پہلے موت آجایے (اور اس کی تبلیغ کا وقت نہ ملے) اوررسالت ناتمام رہ جایے ۔
مسلم کے نقل کے مطابق (۹) ان پریشانیوں اوراہتمام کے بعد امیرالمومنین کی ولایت اور آپ کی پاک و پاکیزہ عترت کی ولایت کے علاوہ اور کسی چیز کو ابلاغ نہیں کیا ۔ اور کیا یہ مہم امر جو کہ اس ولایت پر منطبق ہے ،امامت کے اس معنی کے علاوہ کسی اور چیز پر دلالت کرتا ہے جو کہ بہت سی صحاح کی کتابوں میں بیان ہویی ہے ؟! کیااس ولایت کامالک لوگوں پر ان سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟!

چھٹا قرینہ : علی (علیہ السلام) کی ولایت کو بیان کرنے کے بعد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا یہ کلام : ” ھنیونی ہنیونی ان اللہ تعالی خصنی بالنبوه و خص اھل بیتی بالامامه“ (۱۰) ۔ مجھے مبارک باد دو، مجھے مبارکباد دو، کیونکہ خدایے تعالی نے مجھے نبوت اور میرے اہل بیت کو امامت عطاء کی ہے ۔
یہ عبارت واضح طور پر بتارہی ہے کہ امامت ، اہل بیت سے مخصوص ہے اور سب سے پہلے امام حضرت علی (علیہ السلام) ہیں جن کو اس وقت امام بنایا گیا ۔ نیز مبارکباد دینا، بیعت کرانا، اورمحفل قایم کرنا جو تین دن تک چلتی رہی (جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے )(۱۱) ، خلافت و ولایت کے علاوہ کسی اور معنی سے سازگار نہیں ہے اور اسی وجہ سے شیخین (یعنی ابوبکر اور عمر) نے جس وقت امیرالمومنین علی (علیہ السلام) سے ملاقات کی تو آپ کو مبارکبادی دی اور یہ بات پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کلام میں لفظ ”مولی“ کے معنی کو بیان کررہی ہے ، پس جو بھی مولی کی صفت سے آراستہ ہے وہ شخص لوگوں پر ان سے زیادہ حق رکھتا ہے ۔
ساتواں قرینہ : ولایت کو بیان کرنے کے بعد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا یہ کلام : ”فلیبلغ الشاھد الغایب“۔ جو لوگ حاضر ہیں وہ غایبین تک یہ بات پہنچا دیں، یہ روایت پہلے بیان ہوچکی ہے (۱۲) ۔
کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) محبت و موالات اور مدد جیسے امور کو جو کہ لوکوں کے درمیان پہلے سے رایج ہیں اور کتاب و سنت کے ذریعہ سب کچھ پہلے سے واضح ہوچکا ہے، اس طرح سے ابلاغ کریں گے کہ جو لوگ موجود نہیں ہیں ان تک بھی یہ بات پہنچا دینا اور اس قدر اس بات کے لیے اہتمام کیا ا ور اس کام کی اس قدر تاکید کی ؟ میںنہیں سمجھتا کہ آپ کی ہلکی سے ہلکی رایے بھی اس راستہ کو قبول کرے ، کیونکہ بے شک آپ کہیں گے : یقینا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سامنے اہم مسیلہ تھا جس کو بیان کرنے کا موقع نہیں سمجھ رہے تھے اور جو لوگ اس اجتماع میں موجود تھے وہ اس سے آگاہ نہیں تھے اور یہ اہم مسیلہ ، امامت کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا جس کے ذریعہ دین کامل، نعمت تمام اور پروردگار عالم کی خشنودی حاصل ہوگیی۔
اور اس مجمع میں موجود لوگوں نے بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کلام سے اس کے علاوہ کویی دوسرا مطلب اخذ نہیں کیا اور اس اجتماع میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے کویی دوسرا کلام بھی نہیں سنا ، تاکہ یہ کہا جایے کہ آنحضرت (ص) نے اس کا حکم دیا ہے اور یہ معنی صرف اولی کے معنی سے مناسبت رکھتا ہے ۔
آٹھواں قرینہ : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ابوسعید خدری اور جابر (۱۳) کی روایت کی بنیاد پر ولایت کا پیغام بیان کرنے کے بعد فرمایا : ”اللہ اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمه و رضا الرب برسالتی والولایه لعلی بن ابی طالب بعدی “۔ دین کے کامل ہونے،نعمتوں کی تکمیل ، پیغام رسانی سے خدا کی خشنودی ، میری رسالت اور علی کی ولایت پر اللہ اکبر۔اور وہب (۱۴) کے لفظ میں آیا ہے : ”انہ ولیکم بعدی“ ۔ یقینا وہ میرے بعد تمہارے ولی ہیں ۔ اور حضرت علی (علیہ السلام) نے جو پیغمبر سے روایت کی ہے جو کہ پہلے گذر گیی ہے(۱۵) ، اس میں بیان ہوا ہے ”ولی کل مومن بعدی“ ، میرے بعد تمام مومنین کے ولی ہیں ۔
نیز ترمذی ، ا حمد ، نسایی، ابن ابی شیبہ ، طبری اور دوسرے حفاظ نے صحیح سند کے ساتھ اس کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل کیا ہے (۱۶) : ” ان علیا منی و انا منہ و ھو ولی کل مومن بعدی“۔ یقینا علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں، دوسری روایت میں ذکر ہوا ہے : ”ھو ولیکم بعدی“۔ وہ میرے بعد تمہارے ولی ہیں۔
ابونعیم نے ”حلیه الاولیاء “ (۱۷) میں ا وردوسرے علماء (۱۸) نے صحیح سند کے ساتھ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل کیا ہے : ” من سرہ ان یحیی حیاتی، و یموت مماتی، و یسکن جنه عدن غرسھا ربی ، فلیوال علیا من بعدی، و لیقتد بالایمه من بعدی، فانھم عترتی خلقوا من طینتی “ ۔ جو بھی چاہتا ہے کہ میری طرح زندگی بسر کرے اور میری طرح دنیا سے جایے اور جنت عدن جس کو پروردگار نے خود بنایا ہے ، زندگی بسر کرے ، وہ میرے بعد علی کو دوست رکھے اور ان کے بعد آنے والے اماموں کی اقتداء کرے ،کیونکہ یہ میری عترت ہیں اور میری طینت سے خلق ہویے ہیں۔
یقینا یہ تعبیرات ہمیں بتاتی ہیں کہ امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کی ثابت شدہ ولایت ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت پر مترتب ہے اور صاحب رسالت کے مقام (ان دونوں کے درمیان مراتب کے فرق کا خیال رکھتے ہویے ،اولویت اور اولیت کے اعتبار سے)کے برابر ہے ۔ لفظ ”بعدی“ سے چاہے زمانہ کی دور مراد ہو اورچاہے مرتبہ کی دوری مراد ہو ۔ اس لحاظ سے ممکن نہیں ہے کہ اس صورت میں لفظ مولی سے لوگوں کے تمام کاموں میں اولویت کے علاوہ دوسرے معنی سمجھے جاییں، کیونکہ اگر لفظ مولی سے محبت و مدد کے معنی مراد لیے جاییں تو اس (لفظ بعدی کی) قید سے حدیث کے معنی بدل جاییں گے اورحضرت علی (علیہ السلام) کے افتخار کے بجایے عیب شمار ہوں گے (کیونکہ حدیث کے معنی اس طرح ہوجاییںگے میرے بعد ان سے محبت کرنا اور ان کی مدد کرنا،میری حیات میں محبت و مدد نہ کرنا) ۔
نواں قرینہ : ولایت کو ابلاغ کرنے کے بعد پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا یہ کلام : ”اللھم انت شھید علیھم انی قد بلغت و نصحت “ ۔ خدایا تو خود ان لوگوں پر گواہ ہے کہ میں نے تیرے حکم کو پہنچا دیا اور ضروری سفارش بھی کردی ۔ امت کی تبلیغ اور سفارش پر خدا کو گواہ بنانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو مسیلہ آج بیان کیا ہے وہ نیا مسیلہ ہے جس کو آج تک نہیں پہنچایا تھا ، اس کے علاوہ مولی کے تمام معانی پر جیسے محبت اور مدد کرنا جو کہ لوگوں کے درمیان رایج تھے ، شاہد اور گواہ بنانے کی کویی ضرورت نہیں تھی ، مگر یہ کہ حضرت علی (علیہ السلام) کے متعلق شاہد اور گواہ بنانا اسی صورت میں ٹھیک ہے جس کو ہم نے بیان کیا ہے ۔
دسواں قرینہ : مذکورہ حدیث(۱۹) کو بیان کرنے سے پہلے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا یہ کلام : ”ان اللہ ارسلنی برساله ضاق بھا صدری و ظننت ان الناس مکذبی فاوعدنی لا بلغھا او لیعذبنی“ ۔ یقینا خداوند عالم نے مجھے ایسا پیغام پہنچانے کے لیے مامور کیا جس سے میرا سینہ تنگ ہوگیا تھا (اورمیں اس کی سنگینی کا بوجھ احساس کررہا تھا) اور میںگمان کرتاتھا (سمجھتا تھا ) کہ لوگ مجھے جھٹلاییںگے اور خدا نے مجھے ڈرایا کہ یا میں اس کو پہنچاوں ورنہ مجھ پر عذاب کیا جایے گا ۔
ان الفاظ کے ساتھ بھی یہ حدیث وارد ہویی ہے (۲۰) ۔ ”ان اللہ بعثنی برساله ، فضقت بھا ذرعا (۲۱) و عرفت ان الناس مکذبی، فوعدنی لابلغن او لیعذبنی“ ۔ خداوند عالم نے مجھے ایسے پیغام کو پہنچانے کا حکم دیا جس کو انجام دینے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی (میرا سینہ تنگ ہوگیا اور مجھے کویی راستہ نظر نہیں آیا) اورمیں سمجھ گیا کہ لوگ مجھے جھٹلاییں گے ، پس خداوند عالم نے مجھے ڈرایا کہ یا اس پیغام کو پہنچا دو یا پھر عذاب کے لیے تیار ہوجاو۔
نیز ان الفاظ کے ساتھ بھی یہ حدیث وارد ہویی ہے (۲۲) : ”انی راجعت ربی خشیه طعن اھل النفاق و مکذبیھم فاوعدنی لا بلغھا او لیعذبنی “ ۔ یقینا میں نے اپنے پروردگار کی طرف مراجعہ کیااس ڈر کی وجہ سے اہل نفاق میں میری تکذیب نہ کریں ،پس خداوند عالم نے مجھے ڈرایا، کہ یا اس کی تبلیغ کروں ا وراسے لوگوں تک پہنچاوں یا پھر عذاب کیلیے تیار ہوجاوں۔
یہ تمام عبارتیں ایک بہت بڑی خبر کو پہنچا رہی ہیں جس کے اعلان کرنے میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) منافقین کی خیانت اورتکذیب سے ڈر رہے تھے اور اس بات سے ڈرر ہے تھے کہ وہ کہیں گے : یہ اپنے چچا زاد بھایی کی طرفداری کررہے ہیں اور یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ مقام ،امیرالمومنین علی (علیہ السلام) سے مخصوص تھی اور محبت و مدد کرنے سے متعلق نہیں ہے جس میں تمام مسلمان حضرت علی (علیہ السلام) کے ساتھ اس میں شریک ہیں اور یہ ”اولی بہ امر ہونے اوران کے ساتھ رہنے کے معنی میں نہیں ہے (۲۳) ۔
حوالہ جات:
۱۔ تذکرة الخواصّ: 20 (ص 32).
۲۔ در ص 84 ـ 85 همین کتاب.
۳۔ آیت میں (أم یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى ما آتاهُم اللهُ مِنْ فَضْلِهِ); یہ کہ لوگ اس چیز سے حسد کرتے تھے جس کو خداوند عالم نے ان کے لئے عطا کیا تھا (سورہ نساء، آیت ۵۴) ۔ ابن مغازلى نے مناقب (ص267، ح 314)، و ابن أبى الحدید نے شرح نهج البلاغه 2: 236 (7/220، خطبه 108)، وحضرمى شافعى نے الرشفة: 27 میں نقل کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی (علیہ السلام) اور اس علم کے متعلق جو آپ سے مخصوص ہے نازل ہوئی ہے ۔
۴۔ اس عبارت ”فیقلبون علیہ ظھر المجن“ کے متن میں استعمال ہوئی ہے جو کہ اس شخص کے لئے ضرب المثل ہے جو اپنے دوست کے ساتھ محبت اور رعایت کرے اور پھر اس کے مقابلے میں کھڑا ہوجائے اور اس سے دشمنی کرے ۔ ”مجن“ کے معنی ڈھال کے ہیں اور اس محاورہ کی وضاحت یہ ہے : جب لشکر ، دشمن سے مقابلہ کرتا ہے تو سپر کو دشمن کی طرف اوراس کی پشت کو اپنے لشکر کی طرف کرلیتا ہے ،لہذا اگر کوئی خیانت کرے اوردشمن سے ملحق ہوجائے تو اس کی ڈھال کی حالت برعکس ہوجاتی ہے یعنی ڈھال کو اپنی فوج اور طاقت کی طرف اور ڈھال کی پشت کو دشمن کی طرف قرار دیتا ہے ۔
امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کی ایک حدیث میں ابن عباس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ”انی اشرکتک فی امانتی و لم یکن رجل من اھلی اوثق منک فی نفسی ، فلما رایت الزمان قد کلب ، والعدو قر حرب، قلبت لابن عمک ظھرالمجن“۔ مراجعہ کریں : النهایة، ابن اثیر 1: 308; مجمع البحرین، طریحى 4: 174; شرح نهج البلاغة، ابن أبی الحدید 16/167 ـ 169).
5 ـ (مسند احمد 1/109).
6 ـ (کنز العمّال 11/630، ح 33072).
7 ـ جریر، عبدالله بن جابر بجلى، متوفّاى (51، 54). حدیث او در مجمع الزاوئد، حافظ هیثمى 9: 106 به نقل از المعجم الکبیر طبرانى (2/375، ح2505 )موجود است.
8 ـ نگاه کن: ص 42 از همین کتاب. و ر.ک: اُسد الغابة، ابن أثیر 6: 136، شماره 5940; البدایة و النهایة، ابن کثیر 5: 209; و7: 348 (5/231، حوادث سال 10 هـ; 7/385، حوادث سال 40 ه); مسند أحمد (5/501، ح 18838); المعجم الکبیر، طبرانى (5/166، ح 4971).
9 ـ صحیح مسلم (5/25، ح 36، کتاب فضائل صحابه).
10 ـ حافظ ابو سعید خرکوشى نیشابورى، متوفّاى (407)، در کتاب خود «شرف المصطفى» آن را نقل کرده است.
11 ـ ر.ک: ص 78 همین کتاب.
12 ـ ر.ک: ص 61 همین کتاب.
13 ـ ر. ک: کتاب ما نزل من القرآن فی علیّ(علیه السلام)، حافظ أبونعیم اصفهانى، متوفّاى (430) (ص 56); و مناقب خوارزمى، متوفّاى (568): 80 (ص 135، ح 152).
14 ـ ر. ک: المعجم الکبیر، طبرانى (22/135).
15 ـ ر. ک: ص 58 همین کتاب.
16 ـ ر. ک: سنن ترمذى (5/590، ح 3712); مسند احمد (6/489، ح 22503); المستدرک على الصحیحین (3/144،ح 4652); السنن الکبرى (5/45، ح 8146، کتاب المناقب); وخصائص أمیر المؤمنین7 (ص 109، ح 89); مصنَّف ابن أبی شیبه (12/79، ح 12170).
17 ـ حلیة الأولیاء 1: 86.
18 ـ المستدرک على الصحیحین (3/139، ح 4642).
19 ـ ر.ک: ص 57 همین کتاب.
20 ـ الدرّ المنثور 2: 298 (3/116).
۲۱۔ یہ عبارت اصل میں اس طرح ہے : ”ضاق ذرعی بہ“ ۔ پھر لفظ ”ذرعی“ کو فاعلیت سے منقول کیا گیا ہے اور تمیز کے بناء پر یہ منصوب ہے ،جیسے : ”طبت بہ نفسا“۔ خدا وند عالم نے قرآن کریم میں فرمایا ہے : ”ولما جائت رسلنا لوطا سیء بھم و ضاق بھم ذرعا“ ۔ سورہ ھود ،آیت ۷۷) ۔ ”ذرع“ کے معنی مشہور عضو کے ہیں۔ (انگلیوں کے سرے سے کہنی تک) اور چونکہ ذراع سے اندازہ کیا جاتا ہے اور خوداسی پیمانہ (آدھے مٹر)کو ”ذرع“ کہتے ہیں ۔ اور”ضاق بالامر ذرعا“ کی عبارت کنایہ ہے تفسیرالمیزان 10/337; مرآة العقول 6/199; شرح اُصول کافى، ملاّ صالح مازندرانى7/354).
22 ـ فرائد السمطین (1/312، ح 250); و کتاب سلیم بن قیس (2/636، ح 11).
23- شفیعی مازندرانی / گزیده اى جامع از الغدیر، ص 113.

    
تاریخ انتشار: « 1396/07/01 »

منسلک صفحات

مولی کے معنی کو معین کرنے والے متصل قرینے

ابوبکر اور عمر کا مبارکباد دینا

امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کو مبارکباد دینا

اسلامی اعیاد میں سے ایک عید ،عید غدیر ہے

غدیرخم پر زیادہ توجہ

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 3363