ابن تیمیہ اور حدیث مدینة العلم کی تکذیب
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

ابن تیمیہ اور حدیث مدینة العلم کی تکذیب

سوال: کیا حدیث مدینه العلم کی تکذیب میں ابن تیمیہ کا نظریہ معتبر ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: ابن تیمیہ کہتا ہے : و حدیث (انا مدینه العلم و علی بابھا) اضعف و اوھی ، و لھذا انما یعد فی الموضوعات و ان رواہ الترمذی و ذکرہ ابن الجوزی ، و بین ان سایر طرقہ موضوعه ، والکذب یعرف من نفس المتن« (١) ۔ یہ حدیث (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں ) بہت ضعیف اور سست ہے ، لہذا اس کا شمار جعلی احادیثوں میں ہوتا ہے ، اگر چہ اس کو ترمذی نے روایت کی ہے ، لیکن ابن جوزی نے اس کو ذکر کیا ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس کے تمام طُرُق جعلی ہیں اور اس کا جھوٹا ہونا خود اس کے متن سے معلوم ہوجاتا ہے ۔
اس کا جواب یہ ہے : حافظ سیوطی نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے :
قلت : حدیث علی اخرجہ الترمذی و الحاکم ، وحدیث ابن عباس اخرجہ الحاکم والطبرانی ، و حدیث جابر اخرجہ الحاکم .... والحاصل انہ ینتھی بطرقہ الی درجه الحسن المحتج بہ ، و لا یکون ضعیفا فضلا عن ان یکون موضوعا ...(٢) ۔ میں کہتا ہوں : حدیث علی (علیہ السلام) کو ترمذی او رحاکم نے نقل کیا اور حدیث ابن عباس کو حاکم
اور طبرانی نے اور حدیث جابر کو حاکم نے نقل کیا ہے .... اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے تمام طُرُق کے ساتھ درجہ حسن تک پہنچتی ہے اور یہ استدلال کے قابل ہے ، لہذا ضعیف نہیں ہے چہ جاییکہ اس کو جعلی کہا جایے ۔
ابن حجر نے اس حدیث کے متعلق کہا ہے :
و ھذا الحدیث لہ طرق کثیره فی مستدرک الحاکم اقل احوالھا ان یکون للحدیث اصل، فلا ینبغی ان یطلق القول علیہ بالوضع (٣) ۔ مستدرک حاکم میں اس حدیث کے بہت سے طُرُق بیان ہویے ہیں جس کا سب سے کم حال یہ ہے کہ یہ حدیث اصلی ہے ، لہذا اس کے اوپر وضع اور جعل کا نام رکھنا صحیح نہیں ہے (٤) ۔
حوالہ جات:
١۔ منھاج السنة ، جلد ٤، صفحہ ١٣٨ ، مجموع فتاوی ، جلد ٤ ، صفحہ ٤١٠ ۔
٢۔ اللآلی المصنوعة ، جلد ١ و صفحہ ٣٣٤۔
٣۔ لسان المیزان ، جلد ٢ ، صفحہ ١٢٣ ۔
٤۔ علی اصغر رضوانی ، سلفی گری و پاسخ بہ شبھات ، صفحہ ٩٦ ۔
    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

ابن تیمیہ اور حدیث مدینة العلم کی تکذیب

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1588