مباھلہ کا واقعه
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

مباھلہ کا واقعه

سوال: پیغمبر اسلام نے کس طرح مباھلہ کیا؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: مباہلہ “ در اصل ” بھل“ کے مادہ سے ہے ، اس کا معنی ہے ”رہا کرنا “ اور کسی کی قید و بندکو ختم کردینا ۔ اسی بناء پر جب کسی جانور کو اس کے حال پر چھوڑ دیں اور اس کے پستان کسی تھیلی میں نہ باندھیں تاکہ اس کا نو زاییدہ بچہ آزادی سے اس کا دودھ پی سکے تو اسے ” باھل “ کہتے ہیں ۔ دعا میں ” ابتھال“ تضرع و زاری اور کام خدا کے سپرد کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔
کبھی کبہار یہ لفظ ہلاکت ، لعنت اورخدا سے دوری کے معنی میں اس لیے استعمال ہوتا ہے کہ بندے کو اس کے حال پر چھوڑدینا منفی نتایج کا حامل ہوتا ہے ۔ یہ تو تھا ” مباہلہ “ کا مفہوم اصل لغت کے لحاظ سے لیکن اس مروج مفہوم کے لحاظ سے جو اوپر والی آیت میں مراد لیا گیا ہے یہ دو اشخاص کے درمیان ایک دوسرے پر نفرین کرنے کو کہتے ہیں اور وہ ببھی اس طرح کہ دو گروہ جو کسی اہم مذہبی مسیلے میں اختلافَ رایے رکھتے ہوں ، ایک جگہ جمع ہو جاییں ، بار گاہ الہٰی میں تضرع کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو رسوا و ذلیل کرے اور اسے سزا و عذاب دے ۔
مندرجہ بالا آیت میں خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ ان واضح دلایل کے بعد بھی کو یی شخص تم سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو اور جھگڑا کرے تو اسے ” مباہلہ کی دعوت دو اور کہو کہ وہ اپنے بچو ں ، عورتوں او ر نفسوں کو لے آیے اور تم بھی اپنے بچوںاور عورتوں اور نفسوں کو بلا وٴ پھر دعا کرو تاکہ خدا جھوٹوں کو رسوا کردے ۔(» (فَمَنْ حَاجَّکَ فیهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ اَبْناءَنا وَ اَبْناءَکُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَکُمْ وَ اَنْفُسَنا وَ اَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّهِ عَلَى الْکاذِبینَ).
اسلامی روایات میں ہے کہ “ مباہلہ “ کی دعوت دی گیی تو نجران کے عیساییوں کے نمایندے پیغمبر اکرم کے پاس آیے اور آپ سے مہلت چاہی تاکہ اس بارے میں سوچ بچار کرلیں اور اس سلسلے میں اپنے بزرگوں سے مشورہ کرلیں ۔ مشورے کی یہ بات ان کی نفساتی حالت کی چغلی کھاتی ہے ۔ بہر حال مشورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیساییوں کے مابین یہ طے پایا کہ اگر محمد شو ر و غل ، مجمع اور داد و فریاد کے ساتھ ” مباہلہ“ کے لیے آییں تو ڈرا نہ جایے اور مباہلہ کرلیا جایے کیونکہ اگر اس طرح آییں تو پھر حقیقت کچھ بھی نہیں جبھی شور وغل کا سہارا لیا جایے اور اگر وہ بہت محدود افراد کے ساتھ آییں بہت قریبی خواص اور چھوٹے بچوں کو لے کر وعدہ گاہ میں پہنچیں تو پھر جالینا چاہییے کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں اور اس صور میںان سے ”مباہلہ “ کرنے سے پرہیز کرنا چاہییے کیونکہ اس صورت میں معاملہ خطر ناک ہے ۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق عیسایی میدان مباہلہ میں پہنچے تو اچانک دیکھا کہ پیغمبر اپنے بیٹے حسین (علیه السلام) کو گود میں لیے حسن (علیه السلام) کا ہاتھ پکڑے اور علی (علیه السلام) و فاطمہ (علیه السلام) کو ہمراہ لیے آپہنچے ہیں اور انہیں فرمارہے ہیںکہ جب میں دعا کرو ، تم آمین کہنا ۔
عیساییوں نے یہ کیفیت دیکھی تو انتہایی پریشان ہویے اور مباہلہ سے رک گیے اور صلح و مصالحت کے لیے تیار ہو گیے اور اہل ذمہ کی حیثیت سے رہنے پر آمادہ ہو گیے ۔
حوالہ جات:
1. تفسیر نمونه، جلد 2، صفحه 671.
    
تاریخ انتشار: « 1392/01/14 »

منسلک صفحات

مباھلہ کی آیت میں صیغہ جمع کا مفرد پر اطلاق

مباھلہ ایک عام حکم

مباھلہ کا واقعه

دلیل حقانیت

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1257