پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نزدیک امام حسین (علیہ السلام) کی شخصیت
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نزدیک امام حسین (علیہ السلام) کی شخصیت

سوال: امام حسین (علیہ السلام) کی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نزدیک کیا شخصیت تھی ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: امام حسین (علیہ السلام)، اسلامی معاشرہ اوراپنے زمانہ کے مسلمانوں کے درمیان ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے کیونکہ آپ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرزندارجمند تھے اوراسی وجہ سے آپ کو فرزند رسول خدا بھی کہا جاتا تھا یہ دونوں(امام حسن وحسین)پیغمبراکرم کی خاص محبت اور آپ نے جو احادیثیں ان کے متعلق فرماییں ان سب کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں آپ کی ایک خاص اہمیت تھی۔ ہم یہاں پر پیغمبراکرم کے کچھ اقوال جو آپ نے امام حسین سے متعلق ارشاد فرمایے، بیان کریں گے:
١۔ رسول خدا(ص) نے امام حسن و امام حسین کے متعلق یہ مشہور جملہ ارشاد فرمایا:
الحسن والحسین سید شباب اہل الجنه ،حسن وحسین، جوانان جنت کے سردار ہیں٦۔
٢۔ دوسری حدیث میں اس طرح بیان ہوا ہے : کچھ لوگ رسول خدا کے ساتھ ایک مہمانداری میں گیے، آن حضرت ان سب کے آگے آگے چل رہے تھے، راستے میں آپ نے امام حسین علیہ السلام کو دیکھا ، پیغمبراکرم نے چاہا کہ امام حسین کو اپنی آغوش میں لیں لیکن امام حسین ادھر ادھر چلے جاتے تھے ، پیغمبراکرم یہ حالت دیکھ کر مسکرایے ، اس کے بعد آپ کو آغوش میں لے کرپیغمبراکرم نے اپنا ایک ہاتھ امام حسین کے سر پر رکھا اوردوسرا ہاتھ آپ کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر آپ کے ہونٹوں کا بوسہ لیا اور فرمایا:
حسین منی و انامن حسین احب اللہ من احب حسینا، حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو حسین کو دوست رکھے گا خدا اس کو دوست رکھے گا١۔
٣۔ پیغمبراکرم، امام حسن وامام حسین علیہماالسلام کو اپنے کندھوں پر سوار کرتے تھے اور اشعار پڑھ کران سے محبت کا اظہار کرتے تھے٢۔
اور کبھی ایسا ہوتا تھا کہ رسول اکرم منبر پر خطبہ پڑھ رہے ہوتے تھے اور حسن وحسین کو دیکھ کر منبر سے نیچے آجاتے تھے اورسب کے سامنے ان کو گود میں لیتے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے( تاکہ ان دونوں کی عظمت کو لوگوں کو سمجھاییں)٣جب آپ سے سوال کیا جاتھا کہ گھر میں آپ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں تو آپ فرماتے تھے : ""حسن وحسین""ہمیشہ ان دونوں کی خوشبو کو سونگھتے رہتے تھے اور اپنے سینے سے لگایے رکھتے تھے٤۔
حوالہ جات:
١۔ شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں یہ حدیث مختلف تعبیرات کے ساتھ نقل ہوئی ہے جیسے : مسند احمد ، جلد ٣ ، صفحہ ٣، صفحہ ٦٢ ، صفحہ ٦٤ و صفحہ ٦٢ ۔ سنن ترمذی ، جلد ٥، صفحہ ٣٢١ ۔ مستدرک حاکم ، جلد ٣ ، صفحہ ١٦٧ ۔ بحارالانوار ، جلد ٤٣ ، صفحہ ٢١ ، صفحہ ٢٥، ١٢٤ ، ١٩١، ١٩٢ ۔
٢۔ مسند احمد ، جلد ٤، صفحہ ١٧ ، سنن ابن ماجہ ، جلد ١ ، صفحہ ٥١۔ مناقب ابن شہر آشوب ، جلد ٣ ، صفحہ ٢٢٦۔
٣۔ کنز العمال ، جلد ١٣ ، صفحہ ٦٦٤ ، ٦٦٦، ٦٦٧ ۔ بحارالانوار ، جلد ٤٣ ، صفحہ ٢٨٥ تا ٢٨٦ ۔
    
تاریخ انتشار: « 1392/03/21 »

منسلک صفحات

ائمہ (علیہم السلام) کا کربلا کی ترغیب دلانا

ائمہ (علیہم السلام) کی قبروں کی مٹی کو تبرک کے عنوان سے کھانا

امام حسین (علیہ السلام) اور امام حسن (علیہ السلام ) کی حکومت کا زمانہ

امام حسین اور امیر المومنین کی خلافت کا زمانہ

امام حسین (علیہ السلام) اور خلفائے ثلاثہ

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 2612