عاشورا ، تاریخ کا ایک عظیم واقعہ
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

عاشورا ، تاریخ کا ایک عظیم واقعہ

سوال: کیا عاشورا کو تاریخ کا عظیم واقعہ سمجھا جاسکتا ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: شروع میں عاشورا ایک شجاعت و دلاوری کی صورت میں ظاہر ہوا تھا ، پھراشک و آہ کے ساتھ ایک غم انگیز حادثہ میں تبدیل ہوگیا اور آخری صدیوں میں اس نے پھر اپنے پہلے چہرہ کو حاصل کرلیا یعنی آہ و آنسویوں کے سیلاب کے درمیان مکتب حسینی کے عاشقوں نے اپنی شجاعت و دلیری کو آشکار کردیا اور مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد میں انقلاب برپا کردیا ۔
محتشم کے آہ و اشک سے بھرے اشعار کے ساتھ""ھیھات منا الذله "" اور ""ان الحیاه عقیده و جھاد"" جیسے انقلابی نعرے جو تاریخ کربلا سے لیے گیے تھے ، آسمان میں گونجنے لگے ۔
دربارگاہ قدس کہ جای ملال نیست
سرھای قدسیان ہمہ بر زانوی غم است
جن و ملک بر آدمیان نوحہ می کنند
گویا عزای اشرف اولاد آدم است
خطباء اور شعراء کے افکار میں ایک نیی تبدیلی آگیی اور عزاداری کے ساتھ ساتھ کربلا کی شجاعت اور دلیری کے مختلف پہلو بھی اُجاگر ہوگیے ۔ اس شجاعت اور دلیری نے اسلامی جمہوری ایران کے انقلاب ، حزب اللہ لبنان کے پروگراموں اور عراق کے عاشور اور اربعین میں بہت موثر کردار ادا کیا ہے اور اسلامی ممالک کی فضایوں میں کل ارض کربلا اور کل یوم عاشورا کی آوازوں کو بلند کردیا ۔
جی ہاں ! یقینا عاشورا ایک شجاعت اور دلاوری تھی ، کیونکہ جس روز امام حسین (علیہ السلا) عراق کی نیت سے مکہ کو چھوڑ رہے تھے تو آپ نے فرمایا تھا :
""من کان فینا باذلا مھجتہ و موطنا علی لقاء اللہ نفسہ فلیرحل معنا"" ۔ جو بھی جان نثاری، شہادت اور اللہ سے ملاقات کرنے کے لیے آمادہ ہے وہ میرے ساتھ روانہ ہوجایے (١) ۔
کربلا کے نزدیک اس کی تاکید کرتے ہویے فرمایا :
""الا و ان الدعی ابن الدعی قد ترکنی بین السله والذله ، ھیھات منا الذله "" ۔ ناپاک نسل کے ناپاک بیٹے نے مجھے تلوار یاذلت کو اپنانے کا اختیار دیا ، میں تلواروں کا استقبال کروں گا اور کبھی بھی ذلت کو قبول نہیں کروں گا (٢) ۔
اور امام حسین (علیہ السلام) کے اصحاب نے شب عاشورا اس سند پر دستخط کردییے اور کہا : اگر ستر مرتبہ یا ہزار مرتبہ بھی قتل کردییے جاییں اور پھر زندہ کیے جاییں تو ہم آپ کی مدد کرنے سے باز نہیں آییں گے (٣) ۔
آپ کے شجاع بیٹے حضرت علی اکبر (علیہ السلام) نے کربلا کے راستہ میں اس جملہ ""اذن لا نبالی بالموت"" (٤) ۔ چونکہ ہم حق پر ہیں اس لیے ہمیں شہادت سے کویی ڈر نہیں ہے ، کے ذریعہ اس شجاعت اور دلاوری کی تاکید فرمایی ۔
امام حسین (علیہ السلام) کا ہر ایک صحابی عاشور کے روز مقتل میں دشمن کے سامنے تسلیم نہ ہونے کے رجزکو الفاظ کے قالب میں ڈھال کر پیش کرتا تھا اور اپنے دشمنوں کو تعجب میں ڈالتا تھا ۔
حضرت زینب کبری (علیہا السلام) نے اپنے بھایی کے لاشہ کے نزدیک بیٹھیں اور زمین سے آپ کے خون کو اٹھا کر فرمایا : خدایا ! اس قربانی کو ہم (خاندان پیغمبر ) سے قبول فرما ! (٥) ۔
کربلا کی شیر دل حضرت زینب نے اپنے شجاعانہ خطبہ میں وضاحت کے ساتھ فرمایا : گریہ و زاری کرو ، خدا کی قسم بہت زیادہ گریہ کرو اور کم ہنسو ، کیونکہ تمہارے دامن پر ذلت کا داغ لگ چکا ہے جو کسی بھی پانی سے پاک نہیں ہوسکتا ، تم نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذریت اور مشکلات میں اپنی پناہ گاہ کو قتل کردینے کی کس طرح اجازت دیدی ، وہ تمہارے معاشرہ کے منور چراغ کو خاموش کردیں اور تم خاموش بیٹھے رہو ؟ ! (٦) ۔
بے رحم ،خطرناک اور سفاک شخص ابن زیاد کے جواب میں پوری شجاعت کے ساتھ فرمایا : ""ما رایت الا جمیلا "" ۔ ہم نے کربلا میں بھلایی (شجاعت اور عظمت) کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ، ""ھولاء قوم کتب اللہ علیھم القتل ، فبرزوا الی مضاجعھم ..."" ۔ وہ ایسا گروہ تھا جن کی رگ رگ پر شہادت لکھی ہویی تھی ، وہ اپنی ابدی آرام گاہ کی طرف تیزی کے ساتھ چلے گیے اور تو بہت جلد عدل الہی کی بارگاہ میں ان کے سامنے ظاہر ہوگا (٧) ۔
اور شام میں یزید کے سامنے اپنے دوسرے شجاعانہ خطبہ میں فرمایا : زمانہ کے ناگوار حوادث نے مجھے ایسے حالات میں تیرے ساتھ بات کرنے کو مجبور کردیا ، میں تجھے ایک بہت پست اور ذلیل موجود تصور کرتی ہوں اور تو ہر طرح کی سرزنش اور توبیخ کے لایق ہے .... تو جو کچھ کرسکتا ہو کرلے ،لیکن کبھی بھی ہمارے نورکو خاموش نہیں کرسکتا اور ہمارے آثار کو نابود نہیں کرسکتا ! (٨) ۔
شام اور مدینہ کے نزدیک امام سجاد (علیہ السلام) نے اپنے خطبوں میں فرمایا : ہر کویی تاریخ کے اس عظیم واقعہ کی شجاعت کو بیان کرنے والا ہے ۔
حوالہ جات:
١۔ بحار الانوار ، جلد ٤٤ ، صفحہ ٣٦٧ ۔
٢۔ احتجاج طبرسی ، جلد ٢ ، صفحہ ٢٤ ۔
٣۔ دیکھئے : ناسخ التواریخ ، جلد ٢ ، صفحہ ١٨٠ ۔
٤۔ بحارالانوار ، جلد ٤٤ ،صفحہ ٣٦٧ ۔
٥۔ مقتل الحسین ، مقرم ،صفحہ ٣٠٧ ۔
٦۔ دیکھئے : بحارالانوار ، جلد ٤٥ ،صفحہ ١٠٩ و ١٦٥ ۔
٧۔ گزشتہ حوالہ ، صفحہ ١١٦ ۔
٨۔ دیکھئے : گزشتہ حوالہ ، صفحہ ١٣٣ تا ١٣٥ ۔
    
تاریخ انتشار: « 1392/03/21 »

منسلک صفحات

امام حسین (علیہ السلام) کا اپنی شہادت سے باخبر ہونا

امام حسین (علیہ السلام) اور اسلامی حکومت کو تشکیل دینا

امام حسین (علیہ السلام) کے قیام کا ہدف ، امت کی اصلاح

معاویہ کے زمانہ میں حسینی قیام (ع) کے مقدمات

قیام عاشورا کو دوسرے قیاموں پر ترجیح

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1723