مباھلہ ایک عام حکم
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

مباھلہ ایک عام حکم

سوال: کیا مباھلہ ایک عام حکم ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اس میں کویی شک نہیں ہے کہ مباھلہ کی آیت تمام مسلمانوں کو مباھلہ کی دعوت دینے کے لیے ایک عام حکم نہیں ہے بلکہ اس آیت میں مخاطب صرف اور صرف پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں ، لیکن یہ موضوع اس بات سے منع نہیں کرتا کہ مخالفین کے سامنے مباھلہ ایک عام حکم ہوجایے اور ایماندار لوگ جو کہ کامل طور پر تقوی اور خدا کی عبادت کرتے ہیں وہ اپنے استدلال پیش کرتے وقت دشمن کی لجاجت کی وجہ سے ان کو مباھلہ کی دعوت دے سکتے ہیں ۔
اسلامی کتابوں میں جو روایات نقل ہویی ہیں ان سے بھی اس حکم کا عام ہونا سمجھا جاتا ہے : تفسیر نور الثقلین کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر ٣٥١ پر امام صادق (علیہ السلام) سے ایک روایت نقل ہویی ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے :
اگر مخالفین تمہاری حق بات کو قبول نہ کریں تو تم ان کو مباھلہ کی دعوت دو ! ۔
راوی کہتا ہے : میں نے سوال کیا کہ ان سے کس طرح مباھلہ کریں؟
فرمایا : تین دن تک اپنی اخلاقی اصلاح کرو !
میں خیال کرتا ہوں کہ آپ نے فرمایا : روزہ رکھو، غسل کرو اور جس سے مباھلہ کرنا چاہتے ہو اس کے ساتھ صحرا میں جایو ، پھر اپنے داہنے ہاتھ کی انگلیوں کو اس کے داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالو اور تم خود شروع کرو اور کہو : خدایا ! تو ساتوں آسمانوں ا ور ساتوں زمینوں کا پروردگار ہے اور ان کے اندر چھپے ہویے اسرار سے آگاہ ہے ، تم رحمان و رحیم ہے ، اگر میرا مخالف حق کا انکار کرے اور باطل کا دعوی کرے تو آسمان سے اس کے اوپر ایک بلاء نازل فرما اوراس کو دردناک عذاب میں مبتلا کردے !
اور ایک مرتبہ پھر اس دعا کو دہرایے اور کہے :
اگر یہ شخص حق کا انکار کرے اور باطل کا دعوی کرے تو آسمان سے اس کے اوپر ایک بلاء نازل فرما اوراس کو دردناک عذاب میں مبتلا کردے !
پھر فرمایا : کچھ دیر نہیں گزرے گی کہ اس کا نتیجہ ظاہر ہوجایے گا ،خدا کی قسم ! کویی بھی شخص اس طرح سے میرے ساتھ مباھلہ کرنے کو تیار نہیں ہوا (١) ۔ (٢) ۔
حوالہ جات:
١۔ جواهر الکلام»، جلد 5، صفحه 40، دار الکتب الاسلامیة، چاپخانه خورشید؛ «المیزان»، جلد 4، صفحه 410، انتشارات جامعه مدرسین؛ «کافى»، جلد 2، صفحه 513 و 514، دار الکتب الاسلامیة؛ «وسائل الشیعه»، جلد 7، صفحه 134، چاپ آل البیت؛ «بحار الانوار»، جلد 92، صفحه 349؛ «عدّة الداعى»، صفحه 214 و 215، دار الکتاب الاسلامى، 1407 هـ ق؛ «نور الثقلین»، جلد 1، صفحه 351، مؤسسه اسماعیلیان، طبع چهارم، 1412 هـ ق.
٢۔ اقتباس از کتاب: تفسیر نمونه، آيت الله العظمي مکارم شيرازي، دار الکتب الإسلامیه، چاپ چهل و هفتم، ج 2، ص 684.
    
تاریخ انتشار: « 1392/08/06 »

منسلک صفحات

مباھلہ کی آیت میں صیغہ جمع کا مفرد پر اطلاق

مباھلہ ایک عام حکم

مباھلہ کا واقعه

دلیل حقانیت

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 946