مباھلہ کی آیت میں صیغہ جمع کا مفرد پر اطلاق
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

مباھلہ کی آیت میں صیغہ جمع کا مفرد پر اطلاق

سوال: اگر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مباھلہ کے واقعہ میں فقط حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام)، حسنین (علیہما السلام) اور امام علی (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے کر گیے تو پھر آیت میں عورتوں، بچوں اور نفسوں کے لیے جمع کا لفظ کیوں استعمال ہوا ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: علمایے اسلام کا اجماع، اور وہ بہت سی حدیثیں جو شیعہ اور اہل سنت کی معتبر اور اسلامی کتابوں میں اس حدیث کے شان نزول کو اہل بیت (علیہم السلام) کی شان میں نازل ہونے کو بیان کرتی ہیں ،ان میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اپنے ساتھ علی علیہ السلام، فاطمہ زہرا علیہا السلام اور حسنین علیہما السلام کے علاوہ کسی اور کو نہیں لے گیے اوریہ خود آیت کی تفسیر کے لیے بہترین قرینہ ہے ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کے لیے جو قراین استعمال ہوتے ہیں ان میں سے ایک سنت اور شان نزول ہے ۔
اس بناء پر مذکورہ اعتراض صرف شیعوں پر نہیں ہے بلکہ تمام اسلامی علماء کو اس کا جواب دینا چاہیے ۔
ثانیا : صیغہ جمع کا مفرد یا تثنیہ پر اطلاق ہونا کویی نیی بات نہیں ہے اور قرآن وغیر قرآن اور ادبیات عربی بلکہ غیر عرب میں بھی اس پر بہت سی دلیلیں ہیں ۔
تفصیل کے ساتھ وضاحت :
بہت زیادہ ایسا ہوتا ہے کہ کس قانون کو بیان ، یا کسی عہدنامہ کو تنظیم کرتے وقت حکم عمومی طور پر یا جمع کے صیغہ میں بیان کیا جاتا ہے ،مثلا عہدنامہ میں اس طرح لکھتے ہیں : اس کو جاری کرنے والے ذمہ دار ، دستخط کرنے والے اور ان کے بچے ہیں جبکہ ممکن ہے کہ دونوں طرف سے ان کے صرف ایک یا دو بچے ہوں ، یہ موضوع کبھی بھی جمع کے صیغہ کے ساتھ قانون اور عہدنامہ لکھتے وقت غلط نہیں ہوتا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس کے دو مرحلہ ہیں : قرار داد کا مرحلہ اور اس کو جاری کرنے کا مرحلہ ۔ قرار داد کے مرحلہ میں کبھی الفاظ جمع کی صورت میں ذکر ہوتے ہیں تاکہ تمام مصادیق پرتطبیق کریں ، لیکن جاری کرنے کے مرحلہ میں ممکن ہے کہ مصداق صرف ایک آدمی میں منحصر ہو اور مصداق میں یہ انحصار ، مسیلہ کے عمومی ہونے سے کویی منافات نہیں رکھتا ۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہا جایے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) نے نجران کے نصاری کے ساتھ جو قرار داد کی تھی اس کے مطابق آپ کی ذمہ داری تھی کہ اپنے خاندان کے خاص بچوں ، عورتوں اور تمام ان لوگوں کو جو آپ کی جان کی طرح تھے ، مباھلہ میں لے جاتے ،لیکن دو بچوں ، ایک مرداور ایک عورت کے علاوہ کویی دوسرا مصداق نہیں تھا (غور کریں) ۔
اس کے علاوہ قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر لفظ جمع استعمال ہوا ہے لیکن اس کا مصداق صرف ایک فرد میں منحصر ہے : مثلا اسی سورہ کی ١٧٣ ویں آیت میں بیان ہوا ہے : الَّذینَ قالَ لَہُمُ النَّاسُ ِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ ۔
یہ وہ ایمان والے ہیں کہ جب ان سے بعض لوگوں نے کہاکہ لوگو ں نے تمہارے لیے عظیم لشکر جمع کرلیا ہے لہذا ان سے ڈرو۔
اکثر مفسرین کی رایے کے مطابق یہاں پر :الناس (لوگوں) سے مراد نعیم بن مسعود ہے جس نے مسلمانوں کو مشرکین کی طاقت سے ڈرانے کے لیے ابوسفیان سے کچھ مال لیا تھا (١) ۔
اسی طرح ١٨١ ویں آیت میں ملتا ہے : لَقَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّذینَ قالُوا ِنَّ اللَّہَ فَقیر وَ نَحْنُ أَغْنِیاء۔ اللہ نے ان کی بات کوبھی سن لیا ہے جن کا کہنا ہے کہ خدا فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔لہذا اس نے ہم سے زکات دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔
جب کہ آیت میں الذین سے مراد حُیی بن ا خطب یا فنحاص ہے (٢) ۔
کبھی کبھی مفرد کے لیے لفظ جمع کا استعمال احترام کے لیے بھی ہوتا ہے جس طرح سے ابراہیم علیہ السلام) کے لیے ملتا ہے : اِنَّ ِبْراہیمَ کانَ أُمَّهً قانِتاً لِلَّہِ حَنیفاً وَ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکینَ۔ بیشک ابراہیم علیہ السّلام ایک مستقل امّت اور اللہ کے اطاعت گزار اور باطل سے کترا کر چلنے والے تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے(٣) ۔
یہاں پر لفظ امت جو کہ اسم جمع ہے ایک شخص کے اوپر اطلاق ہوا ہے(٤) ۔
حوالہ جات:
١۔ تفسیر «قرطبى»، ذیل آیه 173 سوره «آل عمران»؛ تفسیر «فخر رازى»، ذیل آیه 173 سوره «آل عمران»؛ تفسیر «آلوسى»، ذیل آیه 173 سوره «آل عمران».
٢۔ تفسیر «طبرى»، جلد 4، صفحه 129، ذیل آیه 181 سوره «آل عمران»؛ تفسیر «قرطبى»، ذیل آیه 181 سوره «آل عمران»؛ تفسیر «ابن کثیر»، جلد 2، صفحه 155، ذیل آیه 188 سوره «آل عمران».
٣۔ سوره نحل، آیه 120.
٤۔ اقتباس از کتاب: تفسیر نمونه، آيت الله العظمي مکارم شيرازي، دار الکتب الإسلامیه، چاپ چهل و هفتم، ج 2، ص 680.
    
تاریخ انتشار: « 1392/08/06 »

منسلک صفحات

مباھلہ کی آیت میں صیغہ جمع کا مفرد پر اطلاق

مباھلہ ایک عام حکم

مباھلہ کا واقعه

دلیل حقانیت

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 2623