عیسائیت کا (تثلیث کے بغیر )توحیدی نظریہ
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

عیسائیت کا (تثلیث کے بغیر )توحیدی نظریہ

سوال: کیا عیساییوں میں حقیقی توحید کا عقیدہ پہلے سے موجود ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: عیساییوں کا سب سے پرانا فرقہ جن کو ""اَبیون"" کہتے ہیں، موحد شمار ہوتا ہے ۔ وہ حضرت عیسی (ع) کو صرف خدا کا رسول سمجھتے ہیں اور الوہیت کے مقام کوذات اقدس الہی سے منحصر کرتے ہیں ۔ بہت سے قراین موجود ہیں کہ حقیقی عیساییت ، توحید اور خدا کی حقیقی وحدانیت کی بنیاد پر قایم ہے ۔
ابتدایی صدیوں میں بہت سے ایسے خطوط لوگوں کے پاس موجود تھے جن میں حضرت عیسی کو دوسرے پیغمبروں کی طرح پیغمبر اور خدا کو واحد سمجھتے تھے ۔ ان خطوط میں دو عجیب و غریب نکتہ ، جو اب متروک ہوگیے ہیں ،اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں : اول : اکثر وبیشتر خطوط میں حضرت عیسی کو خدا کا رسول اور نبی کے عنوان سے پیش کیا ہے اور خدا،خالق یا رب نہیں بیان کیا ہے ۔ دوسرے عیساییت کے آغاز میں ایسے خطوط پایے جاتے ہیں جن میں لوگوں اورانقلابیوں کی حمایت اور سرمایہ داری، قدرت اور حکومت کی مخالفت موجود تھی (١) ۔
گزشتہ چند صدیوںمیں یورپ میں توحیدی تحریکوں کو زندہ کیا گیا ہے ١٦٠٠ عیسوی میں ایک افراطی پروٹستی مکتب پیدا ہوا جس نے عیساییوں کے صحیح مکتب پر حملہ کیا ،اس مکتب کا نام سوسیانزم تھا ، کیونکہ اس کے موسس کا نام سوسیونوس تھا ۔ سوسینوس کے ماننے والے کتاب مقدس کو قبول کرتے تھے ،لیکن اس میں نقص کے بھی قایل تھے ،ان کو اس میں بہت زیادہ غلطیاں نظر آتی تھیں، یہ لوگ تاکید کرتے تھے کہ جو چیز بھی عقل ، یا معمولی منطق کے مخالف ہو ، یا اخلاقی لحاظ سے بے فایدہ ہو ، اس میں الہی الہام نہیں ہوسکتا ۔ وہ تثلیث کے عقاید کو جو کہ ان کے عقیدہ کے مطابق فلاسفہ یونان کے ناقص عقاید سے متاثر ہونے کی وجہ سے ان کے اعتقاد میں داخل ہوگیا تھا ، مردود سمجھتے تھے ، حضرت عیسی (ع) کی الوہیت کو قبول نہیں کرتے تھے ،لیکن ان کو بہترین انسان سمجھتے تھے (٢) ۔
تثلیث کے خلاف سب سے پہلا کلیسا ١٥٥٦ عیسوی میں لہستان میں تشکیل پایا ۔ خدا کو ایک ماننے والے عیساییوں کی تعداد برطانیہ میں تقریبا ٥٠ ہزار ، امریکہ میں ٧٠ ہزار اور رومانی میں ٧٥ ہزار سے زیادہ ہے (٣) ۔
آدلوف فن ھارناک کا شمار خدا کو ایک ماننے والوں کے عالم مقام علماء میں ہوتا ہے ، ان کی کتاب ""عیساییت کیا ہے"" ، ١٩٠١ ء میں منتشر ہویی جو بہت زیادہ فروخت ہویی ۔ اس کتاب کے کامیاب ہونے کی ایک دلیل یہ تھی کہ انہوں نے عیساییت کو بہت سادہ کردیا تھا ، انہوں نے حضرت عیسی کے معجزات کا انکار کیا اور تاکید کی کہ عیسی (ع) نے یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ عیسی ، خدا کا موعود ہے اور مقام الوہیت رکھتے ہیں ۔ بلکہ بعد میں پولس اور یونانی عقاید باعث بنے کہ سادہ عیساییت ،پیچیدہ الوہیت میں تبدیل ہوجایے جو کہ بعد والے اعتقاد ناموں میں منعکس ہے (٤) ۔ (٥) ۔
حوالہ جات:
1. جلال الدین آشتیانی، تحقیقی در دین مسیح، ص 52.
2. ویلیام هورن، راهنمای الهیات پروتستان، ص 34.
3. اینار مولند، جهان مسیحیت، ص 310 – 315.
4. ویلیام هورن، راهنمای الهیات پروتستان، ص 44.
5. محمد رضا زیبائی نژاد، مسیحیت شناسی مقایسه ای، ص 335 – 336.
    
تاریخ انتشار: « 1392/10/03 »

منسلک صفحات

عیسائیت کا (تثلیث کے بغیر )توحیدی نظریہ

حضرت عیسی(ع) خدا کے بندہ ہیں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 2212