منہ بولا بیٹا بنانے کا نظریہ
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

منہ بولا بیٹا بنانے کا نظریہ

سوال: خدا کے لیے حضرت عیسی (ع) کو منہ بولا بیٹا بنانے کا نظریہ کہاں سے وجود میں آیا ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: یہ نظریہ ٢٦٠ عیسوی میں پولس ساموستایی ، پاتریارک انطاکیہ سے منسوب ہے ،اس نے عیسی (ع) میں لاہوت کا انکار کیا ۔ اس نظریہ کے اعتبار سے حضرت عیسی ، عام آدمی کی طرح تھے جو کہ روح القدس اور مریم (س) کے امتزاج سے حاصل ہوا ہے اور تعمید کے روز ٣٠ سال کی عمر میں خداوند عالم کی طرف سے الہی قدرت حاصل ہویی اور اس کابیٹا کہلایے ۔ اس بناء پر حضرت عیسی (ع) پر لفظ خدا یا فرزند خدا ک اطلاق ، غیر حقیقی ہے (١) ۔ اور خدا میں تعدد کا کویی شایبہ نہیں پایا جاتا ۔ پولس حضرت عیسی (ع) سے حاجت طلب کرنے اور ان کے افتخار پر خوش ہونے کی اجازت نہیں دیتا تھا ،وہ کہتا تھا : صرف خدا کی پرستش کی جایے اور حضرت عیسی کے ذریعہ اس عنوان سے دعاء کی جایے کہ وہ خدا اور انسان کے درمیان واسطہ ہیں ۔ پولس نے پاپ کی مذمت اور اس کو تبعید کیا (٢)۔ عیساییت کی تاریخ لکھنے والے نے ان کے متعلق لکھا ہے : تیسری صدی میں پُل (پولس) نامی شخص انطاکیہ کا اسقف تھا یہ قدرت مند شخص(جو کہ کسی قید و شرط کا پابند نہیں تھا) تعلیم دیتا تھا کہ عیسی کے پاس الوہیت نہیں تھی بلکہ وہ ایک نیک انسان تھے جو کہ عدالت اور سچایی کی وجہ نیز تعمید کے وقت ان کے اندر الہی کلمہ کے حلول کرجانے کی وجہ سے کچھ الہی امور کو انجام دینے کی قدرت ان میں آگیی تھی ، جو تعلیمات پُل کے ذریعہ پیش کی گییں وہ مونارکیانیزم پویا یا منہ بولے بیٹے کے عنوان سے مشہور ہیں (٣) ۔ (٤) ۔
حوالہ جات:
1. لویس غردیة، فلسفة الفکر الدینی بین الاسلام و المسیحیه، ج 2، ص 284؛ پطرس بستانی، دایرة المعارف بستانی، ج 5، ص 704.
2. جُوان. اُ. گریدی، مسیحیت و بدعتها، ص 145.
3. اول کرنر، سرگذشت مسیحیت در طول تاریخ، ص 77.
4. محمد رضا زیبائی نژاد، مسحیت شناسی مقایسه ای، ص 336.
    
تاریخ انتشار: « 1392/10/03 »

منسلک صفحات

منہ بولا بیٹا بنانے کا نظریہ

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 703