حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کے نظریہ کے مطابق امام جواد (علیہ السلام) کی تعلیمات میں غور وفکر

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
makarem news

آج کی ڈایری

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کے نظریہ کے مطابق امام جواد (علیہ السلام) کی تعلیمات میں غور وفکر

اجتماعی مشکلات کی وجہ سے انسانی معاشرہ کی مطلوبہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے لیکن اس سلسلہ میں ملک کے اجتماعی مسائل کے جامع منشور کے عنوان سے  امام جواد علیہ السلام کی اہم حکمت عملی بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے ، خاص طور سے آسانی شادیاں منعقد کرنے کیلئے راہ گشا ہیں ۔لہذا امام جواد علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر آپ کے اخلاقی، دینی، اجتماعی اور سیاسی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

makarem news

قرآن کریم کی اہمیت ، امت اسلامی کے اقتدار میں بنیادی خصوصیت

یقینا اسلامی معاشرہ میں کلام الہی کو جاری کرنے اور بعض ظواہر اسلامی پر اکتفاء نہ کرکے امت اسلامی کے حقیقی اقتدار کو واپس پلٹایا جاسکتا ہے ، اسی وجہ سے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس سلسلہ میں امام جواد علیہ السلام کی ایک اہم اوربنیادی روایت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : امام جواد علیہ السلام کی اس روایت کو یہاں بیان کرنا مناسب ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ جو قوم ، قرآن کریم پر توجہ نہیں دیتی ، خداوندعالم اس قوم سے قرآن کو لے لیتا ہے اور دشمنوں کو ان کے اوپر مسلط کردیتا ہے ۔

امام علیہ السلام فرماتے ہیں :  وَ كُلُّ امَّة قَد رَفَعَ الله عنهم علمَ الكتابِ حين نَبَذوه و ولّاهم عَدُوّهم حين تَوَلّوه و كان نَبْذُهم الكتاب انْ اقاموا حروفَه و حَرّفوا حدودهَ فهم يَرونُه و لا يرعَونه و الجهّال يُعْجِبُهم حفظُهم للرواية و العلماء يحزُنُهم تركُهُم للرعاية (١) ۔

خداوندعالم نے ہر قوم سے علم قرآن کو اس وقت اٹھا لیا جب انہوں نے خود قرآن کریم کو چھوڑ دیا اور خداوندعالم نے ہر قوم پر اس وقت دشمنوں کو مسلط کیا  جب انہوں نے خود دشمنوں کے تسلط میں رہنے کو پسند کرلیا ، وہ قرآن کریم کو اس طرح چھوڑتے تھے کہ اس کے حروف و کلمات کو حفظ کرلیتے تھے اور اس کے حدود و احکام میں تحریف کرتے تھے ، وہ قرآن کو روایت کرتے تھے لیکن اس کی مراعات نہیں کرتے تھے ، نادان لوگ ، حفظ قرآن کریم کو روایت کرنے کیلئے ترجیح دیتے تھے اور قرآن کی رعایت نہ ہونے کی وجہ سے علماء محزون اور غمگین ہوتے تھے ۔

 

اسلامی ظاہر گرائی کے ذریعہ امامت کی تحریف

روایت امام جواد علیہ السلام کی تشریح کرتے ہوئے معظم لہ فرماتے ہیں : اس روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے امت اسلامی کی حرکت قہقرائی اور ان کا واپس پلٹنا کامل طور پر واضح ہے اور یہ روایت کس قدر آج کے زمانہ پر صادق آتی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ممالک جیسے سعودی عرب اور مصر میں قرآن کریم کے الفاظ کو اس طرح حفظ کرتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی قرآن کو حفظ کرلیتے ہیں ، لیکن اس کے احکام کی رعایت نہیں کرتے اور احکام کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے سچے علماء غمگین ہیں اور خودن دل پی رہے ہیں اور آنسوئوں بھری آنکھوں اور خون بھرے ہوئے دل کے ساتھ اس منظر کو دیکھ رہے ہیں اوروہ کچھ نہیں کرسکتے ، قرآن کریم کی خوبصورت اور اچھی تجوید کی طرف توجہ کی جاتی ہے لیکن اس کی تفسیر اور احکام کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اور یہ وہ منصوبہ تھا جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد امامت کو اس کی اصلی جگہ سے ہٹانے کے لئے انجام دیا گیا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے ، یہ وہ غلط سیاست تھی جو پیغمبر اکرم (ص) کے بعد شروع ہوئی کہ قرآن کی تلاوت کی جائے لیکن اس کی تفسیر نہ کی جائے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ سب کو ہوش آجائے اور تمام درد و رنج کو دور کرنے ، خصوصا اختلاف اور نفاق کو دور کرنے کیلئے قرآن کی طرف آجائیں کیونکہ وہ بہت ہی محکم رسی ہے جس کو پکڑنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ( و اعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقوا (٢) ۔ (٣) ۔

 

اجتماعی مشکلات سے مقابلہ کرنے میں نعمت ازدواج ایک اہم حکمت عملی

ہم ایسے زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں جس میں اجتماعی مشکلات کی وجہ سے انسانی معاشرہ کی مطلوبہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے لیکن اس سلسلہ میں ملک کے اجتماعی مسائل کے جامع منشور کے عنوان سے امام جواد علیہ السلام کی اہم حکمت عملی بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے ، خاص طور سے آسان شادیاں منعقد کرنے کیلئے راہ گشا ہوسکتی ہیں ۔لہذا امام جواد علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر آپ کے اخلاقی، دینی، اجتماعی اور سیاسی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے پہلے مرحلہ میں اس روایت کی کامل تشریح بیان کی ہے اور اجتماعی مشکلات سے مقابلہ کرنے کیلئے عملی راہ حل بیان کرتے ہوئے فرمایا :

عملی نقطہ نظر سے ''شہوت پرستی'' کے علاج کے لئے مختلف طریقے موجود ہیں ، جیسے :

١۔  شہوت کے گرداب سے نجات حاصل کرنے کیلئے بہترین عملی راستہ یہ ہے کہ انسان صحیح طریقہ سے جنسی خواہشات کو پورا کرے، کیونکہ انسان کے اندر موجود جنسی خواہشات اگر صحیح راستہ سے پوری ہوجائیں تو کبھی بھی نقصان دہ اور مخرب نہیں ہوں گی ، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ان خواہشات کو کبھی بھی ختم نہیں کرنا چاہئے ،بلکہ ان سے صحیح اور بہترین طریقوں میں استفادہ کرنا چاہئے ،ورنہ ممکن ہے کہ یہ ویران گری کے سیلاب میں تبدیل ہوجائے (٤) ۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نہ صرف صحیح اور سالم تفریحات کو جائز قرار دیا ہے بلکہ اس کی تشویق بھی کی ہے ۔ امام جواد علیہ السلام نے اپنی بیوی کے عقد کے متعلق جو مشہور خطبہ دیا ہے وہ اس دعوی پر بہترین دلیل ہے ، امام علیہ السلام نے اس خطبہ میں فرمایا ہے : '' امّا بَعْدُ فَقَدْ كَانَ مِنْ فَضْلِ اللّهِ عَلَى الْانَامِ انْ اغْناهُم بِالْحَلالِ عَنِ الْحَرامِ '' (٥) ۔ بندوں پر خداوندعالم کی ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو حلال کے ذریعہ حرام سے بے نیاز کیا ہے (٦) ۔

لہذا امام جواد علیہ السلام کی ان اہم تعلیمات میں غور وفکر کرنے سے معاشرہ کی دوسری بنیادی مشکلات کو حل کیا جاسکتا ہے ، معظم لہ فرماتے ہیں کہ پہلے طریقہ کے علاوہ مذکورہ طریقہ کوبھی ایک راستہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔

٢ ۔  شہوت پرستی سے نجات حاصل کرنے کا ایک راستہ یہ ہے کہ بہترین زندگی بسر کرنے کیلئے منظم و مرتب پروگرام بنایا جائے ، کیونکہ اگر انسان کے پاس اپنے تمام اوقات کے لئے پروگرام ہوں گے (چاہے ان اوقات میں سے کچھ اوقات تفریح اور ورزش کے لئے ہی کیوں نہ مختص ہوں ) تو پھر کبھی بھی انسان کو شہوت آلود پروگراموں کی طرف غور کرنے کا وقت نہیں ملے گا ۔

٣ ۔  آلودگی کے اسباب کو ختم کرنے کیلئے ایک راستہ آلودگیوں کا علاج یا ان سے بچنے کا پروگرام مرتب کرنا ہے کیونکہ آلودہ ماحول میں شہوتوں سے آلودہ ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے ، یعنی اگر کوئی ماحول ،شہوت سے آلودہ ہو اور اس کے اسباب سب کے اختیار میں ہوں اور وہاں پر آزادی بھی پائی جاتی ہو تو ان آلودگیوں سے نجات حاصل کرنابہت دشوار کام ہے ، خاص طور سے جوانوں اور ان لوگوںکے لئے جن کے زندگی بہت ہی نیچی سطح کی ہے اور دینی معلومات ان کے پاس نہیں ہے ۔

٤ ۔  معاشرہ کے افراد کی معنوی اور انسانی شخصیت کواُجاگر کرنابھی شہوتوں میںآلودہ ہونے سے بچنے کیلئے بہترین راستہ ہے ،کیونکہ انسان جس وقت اپنی شخصیت کی اہمیت سے آگاہ ہوجاتا ہے اور سمجھ جاتا ہے کہ وہ زمین کے اوپر خدا کا جانشین ہے تو آسانی سے اپنے آپ کو شہوت میں مبتلا نہیں کرتا ۔

آخری نکتہ یہ ہے کہ فقط شہوتوں سے مقابلہ کے مسئلہ ہی میں نہیںبلکہ تمام اخلاقی مفاسد سے مقابلہ کرنے کیلئے عملی طور پر مقابلہ کرنے کو اہمیت دینا چاہئے یعنی انسان جس قدر بھی غلط عادتوں سے مقابلہ کرنے کیلئے اٹھے گا اور اس کے برخلاف حرکت کرے گا اسی قدر وہ غلط عادتیں کم اور ضعیف ہوجائیں گی اور پھر یہ لڑائی موجودہ صورت سے ایک حالت میں اور حالت سے عادت میںاور عادت سے ملکہ میں تبدیل ہوجائے گی اوراس کے مقابلہ میں ایک دوسری خُلق و خو پیدا ہوجائے گی ، مثلا اگر بخیل انسان،بذل و بخشش کرنے لگے تو اس کے اندر موجودبخل کی آگ آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگ جائے گی ۔

اگر شہوت پرست بھی اپنی شہوتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قیام کریں تو آہستہ آہستہ شہوت کنٹرول ہوجائیگی اوراس کی جگہ عفت اختیار کرلے گی (٩) ۔

 

عملی انتظار

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے انتظار فرج اور قلبی و لفظی انتظار پر عملی انتظار کو مقدم کرنے اور عدالت کو جاری کرنے میں اس کے ارتباط کے متعلق امام جواد علیہ السلام کے ایک دوسرے اہم فرمان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :

عملی انتظار بہت اہم ہے ، قلبی اور لفظی انتظار آسان ہے اور اکثر و بیشتر یہ انتظار کیا بھی جاتا ہے ، جو شخص ایسا انتظار کرتا ہے اس کو تیار ہوجانا چاہئے اوردوسروں کو بھی تیار کرنا چاہئے ، اس کو چاہئے کہ ایمان، اعمال اور عقیدہ کے لحاظ سے آمادہ ہوجائے اور دوسروں کو بھی آمادہ کرے (١٠) ۔

معظم لہ نے امام جواد علیہ السلام کی تعلیمات میں نظری انتظار کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ) کے متعلق عبدالعظیم حسنی نے امام جواد علیہ السلام سے ایک حدیث نقل کی ہے : '' قال: دَخَلْتُ عَلَى سَيِّدِي مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع وَ أَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنِ الْقَائِمِ أَ هُوَ الْمَهْدِيُّ أَوْ غَيْرُهُ فَابْتَدَأَنِي فَقَالَ لِي يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ الْقَائِمَ مِنَّا هُوَ الْمَهْدِيُّ الَّذِي يَجِبُ أَنْ يُنْتَظَرَ فِي غَيْبَتِهِ وَ يُطَاعَ فِي ظُهُورِهِ وَ هُوَ الثَّالِثُ مِنْ وُلْدِي وَ الَّذِي بَعَثَ مُحَمَّداً ص بِالنُّبُوَّةِ وَ خَصَّنَا بِالْإِمَامَةِ إِنَّهُ لَوْ لَمْ‏ يَبْقَ‏ مِنَ‏ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَخْرُجَ فِيهِ فَيَمْلَأَ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً وَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَيُصْلِحُ لَهُ أَمْرَهُ فِي لَيْلَةٍ كَمَا أَصْلَحَ أَمْرَ كَلِيمِهِ مُوسَى ع إِذْ ذَهَبَ لِيَقْتَبِسَ لِأَهْلِهِ نَاراً فَرَجَعَ وَ هُوَ رَسُولٌ نَبِيٌّ'' (١١) ۔

عبدالعظیم حسنی کہتے ہیں : میں امام جواد علیہ السلام کے پاس گیا اور میں آپ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ قیام کرنے والے حضرت مہدی (عج) ہیں یا کوئی دوسرا شخص ہے ، لہذا میرے سوال کرنے سے پہلے انہوں نے جواب دیا کہ حضرت مہدی علیہ السلام خود قیام کریں گے،اس کے بعد آپ نے فرمایا : ان کی غیبت میں انتظار کرنا واجب ہے اور ان کی موجودگی میں ان کی اطاعت واجب ہے ،وہ میری تیسری نسل میں ہوں گے ۔

شیعی تعلیمات میں افضل ترین عمل انتظار فرج

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے انتظار کے سلسلہ میں اس اہم اور بنیادی روایت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : امام محمد تقی علیہ السلام نے اس حدیث میں فرمایا :  اس خدا کی قسم جس نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو نبوت اور ہمیں امامت کے لئے مبعوث کیا ہے ، اگر پوری دنیا کے ختم ہونے میںایک دن باقی رہ جائے تو خداوندعالم اس دن کو اس قدر بڑا کردے گا کہ حضرت مہدی پردہ غیبت سے باہر آئیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی ۔ خدا وندعالم دنیا کو اسی طرح ختم نہیں ہونے دے گااوراس میں عدالت کو جاری کرکے رہے گا ۔ اسی حدیث میں امام جواد علیہ السلام نے فرمایا : خداوندعالم ایک رات میں آپ کے ظہور کو فراہم کردے گا ۔ خداوندعالم جس وقت ارادہ کرتا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ اس کے مقدمات بھی فراہم کرے ۔ جس طرح حضرت موسی (علیہ السلام) کے کاموں کو ایک رات میں فراہم کردیا تھا ، حضرت موسی علیہ السلام آگ لینے کیلئے گئے تھے اور اسی وقت ایک رات میں مقام نبوت پر پہنچ گئے (١٢) ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی فرماتے ہیں : آخر میں امام جواد علیہ السلام نے عبدالعظیم حسنی سے فرمایا : ''افضل اعمال شیعتنا انتظار الفرج '' (١٣) ۔ ہمارے شیعوں کا افضل ترین کام انتظار فرج ہے ۔ انتظار فرج تین طرح کا ہوتا ہے ، انتظار قلبی، انتظار لفظی اور انتظار عملی ۔

پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم دل میں امام علیہ السلام کا انتظار کرتے ہیں اور ان کے نہ آنے کی وجہ سے بیقرار ہیں ۔

انتظار لفظی یہ ہے کہ امام علیہ السلام کے ظہور کے لئے دعاء کرتے ہیں،لیکن عملی انتظار یہ ہے کہ ہم امام کے ظہور کیلئے خارج میں تیار ہو رہے ہیں ۔ انتظار عملی بہت اہم ہے ۔ انتظار قلبی اور لفظی آسان ہے اور اکثر و بیشتر سبھی یہ انتظار کررہے ہیں لہذا جو بھی ایسا انتظار کررہا ہے ، اس کو آمادہ ہوجانا چاہئے اور دوسروں کو بھی آمادہ کرنا چاہئے ، اس کو چاہئے کہ ایمان، اعمال اور عقیدہ کے لحاظ سے آمادہ ہوجائے اور دوسروں کو بھی آمادہ کرے ، شیعوں کے افضل ترین اعمال ، عملی انتظار ہے (١٤) ۔

ہوائے نفس سے مقابلہ کرنے کے آثار و برکات

امام جواد علیہ السلام کی سیرت میں ہمیں جس بات کی تعلیم دی گئی ہے وہ ہوائے نفس سے مقابلہ کرنا اور تقوی الہی اختیار کرنا ہے ، اسی وجہ سے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے آپ کی تعلیمات میں اہم اوربنیادی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : مرحوم علامہ مجلسی ،امام جواد علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں : '': قَالَ لِلْجَوَادِ (علیه السلام) رَجُلٌ أَوْصِنِی قَالَ وَ تَقْبَلُ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَوَسَّدِ الصَّبْرَ وَ اعْتَنِقِ الْفَقْرَ وَ ارْفَضِ الشَّهَوَاتِ وَ خَالِفِ الْهَوَى وَ اعْلَمْ أَنَّکَ لَنْ تَخْلُوَ مِنْ عَیْنِ اللَّهِ فَانْظُرْ کَیْفَ تَکُون '' (١٥) ۔ایک شخص نے امام جواد علیہ السلام سے عرض کیا : مجھے کوئی نصیحت فرمائیے ، امام علیہ السلام نے فرمایا : تم میری نصیحت قبول کرو گے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ۔ فرمایا : صبر کرو ، فقراء کی مدد کرو ، شہوات کو چھوڑ دو اور اپنی ہوا و ہوس کو کنٹرول کرو اور یہ بات جان لو کہ تم خدا کے سامنے ہو اور غور کرو کہ تمہیں اس کے سامنے کیسے رہنا چاہئے ۔

اطاعت اور معصیت پر صبر

معظم لہ نے ہوائے نفس سے مقابلہ کرنے کے آثار وبرکات کو بیان کرتے ہوئے صبر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : یہ بات واضح ہے کہ دنیا و آخرت کی سعادت ،امام جواد علیہ السلام کے ان چند جملوں میں موجود ہے ، اطاعت پر صبر یعنی مشکلات اطاعت کو برداشت کرنا اور صبر معصیت یعنی ترک معصیت کی مشکلات کو برداشت کرنا اور مصیبت پر صبر کے معنی یہ ہیں کہ مشکلات کے سامنے زانوی ادب تہہ نہ کرنا اور گریہ وزاری نہ کرنا ۔ زندگی کے ساتھ ہمیشہ مشکلات ہیں اور مشکلات سے جدا ہونا ممکن نہیں ہے (١٦) ۔

سعادت دنیوی اور اخروی کو حاصل کرنے کیلئے تقوی اختیار کرنا

معظم لہ نے اس روایت کے دوسرے حصہ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا : امام جواد علیہ السلام کے فرمان کا دوسرا حصہ مسئلہ فقر سے مخصوص ہے جس میں سادہ زندگی بسر کرنے کو کہا گیا ہے ۔ سادہ زندگی یعنی انسان کی زندگی کے تمام پہلو جیسے سفر، عقد ، شادی، گھر، گھر کا سامان سب کا سب سادہ ہو ۔

اس کے بعد امام علیہ السلام شہوت اور ہوائے نفس کے مسئلہ کو بیان کرتے ہیںکہ انسان کو چاہئے کہ وہ شہوات کو چھوڑ دے کیونکہ حقیقت میں شہوت کی پیروی کرنے والے شیطان کے ہاتھوں میں بازیچہ ہیں اور ان کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے ۔ لیکن اس کے مقابلہ میں ہوائے نفس کی مخالفت ،انسان کو شیطان کے لشکر سے باہر نکال دیتی ہے اور مادی و اخروی دنیا میں سعادت کا سبب بن جاتی ہے ، اس کے علاوہ قرآن کریم بھی سورہ نازعات میں بہشت کا راستہ ہوائے نفس کو ترک کرنے میں بیان کرتا ہے : ''وَ أَمَّا مَنْ خافَ مَقامَ رَبِّہِ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوی . فَانَّ الْجَنَّةَ ہِیَ الْمَأْوی'' (١٧) ۔ اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے ، تو جنّت اس کا ٹھکانا اور مرکز ہے(١٨) ۔

آخری بات

اگر چہ امام جواد علیہ السلام ٢٥ سال کی عمر میں اپنی بیوی کے ہاتھوں شہید ہوئے ، لیکن آپ نے اپنی عمر کے کم ہونے کے باوجود بہت سے مسائل کو واضح کیا ہے (١٩) ۔ یہاں تک کہ علمائے اہل سنت نے بھی آپ کے علم و تقوی اور دینی خصوصیات کو اپنی تاریخی اسناد میں بیان کیا ہے ، اس دعوی کی وضاحت میں کہنا چاہئے کہ امام جواد علیہ السلام نے اپنی مختصر سی عمر میں جہاں تک ان کے زمانہ کے حاکموں نے اجازت دی ، آپ نے مکتب اہلبیت(علیہم السلام) کی ترویج میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اور کبھی کبھی خلفاء کی فقہی مشکلات کو دور کرتے تھے اور کبھی کبھی مناظرات میں اہم فقہی مسائل بیان کرتے تھے (٢٠) ۔ اہل سنت کے بزرگ علماء نے آپ کی عظمت اور علم و دانش کے متعلق اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے ، ابن حجر ہیتمی لکھتے ہیں : مامون نے ان کو اپنا داماد بنایا ،کیونکہ آپ علم و تقوی اور زہد و بخشش میں تمام علماء سے افضل تھے (٢١) ۔ سبط بن جوزی لکھتے ہیں : آپ علم و تقوی اور زہد و بخشش میں اپنے والدکے طور طریقہ پر چلتے تھے (٢٢) (٢٣) ۔

لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم ہمیشہ امام جواد علیہ السلام کے اقوال سے استفادہ کریں اور کوشش کریں کہ ہمیشہ ان کے نقش قدم پر چلتے رہیں (٢٤) ۔

تنظیم و ترتیب اور تحقیق :  آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت

دفتر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) www.makarem.ir

حوالہ جات :

١ ۔  بحار الانوار ، جلد ٧٨ ، صفحہ ٣٥٨ ۔ طبع قدیم ( مواعظ امام جواد (علیہ السلام) ۔ فروع کافی ، جلد ٨ ،صفحہ ٥٣ ۔ میزان الحکمة ، جلد ٨ ، صفحہ ٨٥ ۔

٢ ۔  سورہ آل عمران ، آیت ١٠٣ ۔

٣ ۔  اخلاق اسلامی در نہج البلاغہ (خطبہ متقین) ، جلد ١ ، صفحہ ٤٨٢ ۔

٤ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ٢ ، صفحہ ٣٠١ ۔

٥ ۔  بحارالانوار ، جلد ٥٠ ، صفحہ ٧٦ ۔

٦ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ٢ ، صفحہ٣٠٢ ۔

٧ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ٢ ، صفحہ٣٠٢ ۔

٨ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ٢ ، صفحہ٣٠٣ ۔

٩ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ٢ ، صفحہ٣٠٣ ۔

١٠ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٠ /٢/ ١٣٩٤) ۔

١١ ۔  بحارالانوار ، علامہ مجلسی ،جلد ٥١ ، صفحہ ١٥٦ ۔ کمال الدین و تمام ، شیخ صدوق ، جلد ٢ ، صفحہ ٣٧٧ ۔ کفایة الاثر فی النص علی الائمة الاثنی عشر ، علی بن محمد خزاز قمی، صفحہ ٢٨٠ ۔

١٢ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٠ /٢/ ١٣٩٤) ۔

١٣ ۔  بحارالانوار ، علامہ مجلسی ،جلد ٥١ ، صفحہ ١٥٦ ۔ کمال الدین و تمام ، شیخ صدوق ، جلد ٢ ، صفحہ ٣٧٧ ۔ کفایة الاثر فی النص علی الائمة الاثنی عشر ، علی بن محمد خزاز قمی، صفحہ ٢٨٠ ۔

١٤ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٠ /٢/ ١٣٩٤) ۔

١٥ ۔  بحار الانوار ، جلد ٧٥ ،صفحہ ٣٥٨ ۔

١٦ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢ /٧/١٣٩٣) ۔

١٧ ۔  سورہ نازعات ، آیت ٤١ ۔ ٤٠ ۔

١٨ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢ /٧/١٣٩٣) ۔

١٩ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢ /٧/١٣٩٣) ۔

٢٠ ۔  مامون عباسی کے زمانہ کے مشہور عالم یحیی بن اکثم کے ساتھ امام جواد علیہ السلام کے مناظرات سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے مراجعہ کریں : بحار الانوار ، جلد ٥٠ ، صفحہ ٧٨ ۔ ٧٥ ۔ اسی طرح معتصم عباسی کی مجلس میں اس زمانہ کے تمام فقہاء کے سامنے چور کا ہاتھ کاٹنے کے متعلق امام علیہ السلام کا فتوی آپ کے علم و دانش کی واضح دلیل ہے (مراجعہ کریں : وسائل الشیعہ ، جلد ١٨ ، صفحہ ٤٩٠ ، ابواب حد السرقة ) ۔

٢١ ۔  الصواعق المحرقہ ، صفحہ ٢٠٥ ۔

٢٢ ۔  تذکرة الخواص ، صفحہ ٣٥٩ ۔

٢٣ ۔  دائرة المعارف فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ ١٠٤ ۔

٢٤ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٩ /٢/ ١٣٩٤) ۔


تاریخ انتشار: « 2016/9/1 »

منسلک صفحات

#ایثار و فداکاری قائم و دائم ہے ....

مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں حضرت آیة اللہ ا لعظمی مکارم شیرازی کے دفتر کا افتتاح

بیرونی ممالک میں رہنے والوں کے لئے رقوم شرعیہ کو ادا کرنے کا طریقہ

کئی مہینوں کی تحقیق اور جستجو کے بعد کتاب ''''دہشت گردی کی جائے پیدائش'''' ٨٠ سے زیادہ دستاویزات اور تجزیہ و تحلیل کے ساتھ منظر عام پر آگئی ہے ۔

معظم لہ کی نظر میں انقلاب عاشورا کو احیاء کرنے میں امام سجاد علیہ السلام کی سیاسی سیرت

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 2673