توبہ نصوح

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

توبہ نصوح

سوال: توبہ نصوح سے کیا مراد ہے ؟
اجمالی جواب:  بعض مفسرین نے اس آیت '' یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَى اللّهِ تَوْبَهً نَصُوحاً '' (١) اے ایمان لانے والوں خدا کی بارگاہ میں خالص توبہ کرو ۔ کی تفسیر میں ''نصوح '' کے معنی اس طرح کئے ہیں : توبہ نصوح سے مراد وہ توبہ ہے جس کی لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اس کی طرح توبہ کریں کیونکہ اس کے آثار توبہ کرنے والے میں ظاہر ہوجاتے ہیں ، یا توبہ کرنے والے کو نصیحت کرتے ہیں کہ گناہوں کو بالکل ختم کردے اورکبھی بھی گناہوں کی طرف نہ جائے اور بعض علماء نے اس کو خالص توبہ سے تفسیر کی ہے اور بعض علماء اس کو مادہ نصاحت سے سلائی کے معنی میں سمجھتے ہیں ، کیونکہ گناہوں کی وجہ سے دین اور ایمان کے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو توبہ دوبارہ سے سی دیتی ہے۔یا توبہ کرنے والے کو اولیاء اللہ سے الگ کردیا گیا تھا اور اب دوبارہ اس کو ان میں واپس پلٹا دیا گیا ہے (٢) ۔ (٣) ۔ توبہ نصوح سے مراد وہ توبہ ہے جس کے ذریعہ توبہ کرنے والا گناہوں کو بالکل ختم کردیتا ہے اور ان کی طرف واپس نہیں پلٹتا ۔ بعض علماء اس کو خالص توبہ اور بعض علماء اس کو مادہ نصاحت سے سلائی کے معنی میں سمجھتے ہیں ، کیونکہ گناہوں کی وجہ سے دین اور ایمان کے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو توبہ دوبارہ سے سی دیتی ہے ۔
حوالہ جات:


 

١۔  سورہ تحریم ، آیت ٨ ۔

٢ ۔ بحار الأنوار، مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى‏، محقق/ مصحح: جمعى از محققان‏، دار إحياء التراث العربي‏، بيروت‏، چاپ دوم، 1403 ق‏، ج6، ص 17، باب 20 التوبة و أنواعها و شرائطها ... .

٣ ۔  آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی کی کتاب اخلاق در قرآن، جلد ١ ، صفحہ ٢٤١ سے اقتباس ۔ مدرسہ امام علی بن ابی طالب قم، طبع اول ١٣٧٧ ہجری شمسی۔
تاریخ انتشار: « 1396/06/04 »

منسلک صفحات

توبہ کا واجب ہونا اور اس میں جلدی کرنا

توبہ نصوح

توبہ کرنے والوں کے مراتب

توبہ کو باقی رکھنا

آیات و روایات میں توبہ کے ارکان

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 212