توبہ کا واجب ہونا اور اس میں جلدی کرنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

توبہ کا واجب ہونا اور اس میں جلدی کرنا

سوال: کیا توبہ میں جلدی کرنا ضروری ہے ؟
اجمالی جواب:

 تمام علمائے اسلام کا وجوب توبہ پر اتفاق ہے اور قرآن مجید کی آیات میں متعدد بار اس کی طرف اشارہ ہوا ہے ، سورہ تحریم کی آٹھویں آیت میں پڑھتے ہیں : '' یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَى اللّهِ تَوْبَهً نَصُوحاً عَسَى رَبُّکُمْ اَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّیاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّات تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الاَْنهارُ '' ۔

 انبیاء الہی کو جس وقت منحرف امتوں کی ہدایت کے لئے بھیجا جاتا تھا تو ان کا پہلا کام یہ ہوتا تھا کہ وہ توبہ کی دعوت دیتے تھے ، کیونکہ توبہ اور لوح دل کو دھلے بغیر توحید اور فضائل کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

نبی خدا حضرت ہود علیہ السلام کا سب سے پہلا کلام یہ تھا : '' وَ یا قَومِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا اِلَیْهِ '' ۔ اے میری قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو ، پھر اس کی طرف پلٹ آئو اور توبہ کرو! (١) ۔

نبی خدا حضرت صالح علیہ السلام نے بھی اسی بات کو اپنی بنیاد قرار دیا اور کہا : ''............فاستغفروہ ثم توبوا الیہ'' ۔ اس سے بخشش طلب کرو اور خدا کی طرف پلٹ آئو اور توبہ کرو (٢) ۔

حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی اسی منطق کے ساتھ اپنی قوم کو دعوت دی اور کہا : '' وَاستَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا اِلَیْهِ اِنَّ رَبّى رَحیمٌ وَدُودٌ '' ۔  اور اپنے پروردگار سے استغفار کرو اس کے بعد اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ کہ بیشک میرا پروردگار بہت مہربان اور محبت کرنے والا ہے ۔

اسلامی روایات میں بھی فورا توبہ کرنے کے اوپر تاکید ہوئی ہے جیسے :

١  قرآن کریم کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ میں جلدی کرنا واجب اور ضروری ہے جیسا کہ سورہ تحریم کی ٨ ویں آیت میں ملتا ہے : '' یا ایها الذین آمنوا توبوا الى الله توبه نصوحا '' ۔  اسلامی روایات میں بھی توبہ کرنے میں جلدی کرنے کی تاکید ہوئی ہے ، جیسا کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسن مجتبی علیہ السلام سے فرمایا ہے : '' وَاِنْ قارَفْتَ سَیِّئَهً فَعَجِّلْ مَحْوَها بِالتَّوبَهِ '' ۔ اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس کو توبہ کے ذریعہ جلدی سے جلدی محو کردو !

حوالہ جات:


 

١ ۔  سورہ ہود ، آیت ٥٢ ۔

٢ ۔  سورہ ہود ، آیت ٦١ ۔

٣ ۔  سورہ ہود ، آیت ٩٠ ۔

٤ ۔  (4). بحار الأنوار، مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى‏، محقق / مصحح: جمعى از محققان‏، دار إحياء التراث العربي‏، بيروت‏، چاپ دوم، 1403 ق‏، ج74، ص208، باب 8 وصية أمير المؤمنين إلى الحسن بن علي ع... .

(5). بحار الأنوار، مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى‏، محقق / مصحح: جمعى از محققان‏، دار إحياء التراث العربي‏، بيروت‏، چاپ دوم، 1403 ق‏، ج74، ص 104، باب 5 وصية النبي ص إلى عبد الله بن مسعود ... .

(6). مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل‏، نورى، حسين بن محمد تقى‏، محقق / مصحح: مؤسسة آل البيت عليهم السلام‏، مؤسسة آل البيت عليهم السلام‏، قم‏ چاپ اول، 1408 ق‏، ج12، ص 130، 86 باب وجوب التوبة من جميع الذنوب على ترك العود أبدا ... .

(7). مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل‏، ج12، نورى، حسين بن محمد تقى‏، محقق / مصحح: مؤسسة آل البيت عليهم السلام‏، مؤسسة آل البيت عليهم السلام‏، قم‏ چاپ اول، 1408 ق‏، ج12، ص 125، 86 باب وجوب التوبة من جميع الذنوب على ترك العود أبدا... .

٨ ۔  آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی کی کتاب اخلاق در قرآن، جلد ١ ، صفحہ ٢٢٠ سے اقتباس ۔ مدرسہ امام علی بن ابی طالب قم، طبع اول ١٣٧٧ ہجری شمسی۔

تاریخ انتشار: « 1396/06/04 »

منسلک صفحات

توبہ کا واجب ہونا اور اس میں جلدی کرنا

توبہ نصوح

توبہ کرنے والوں کے مراتب

توبہ کو باقی رکھنا

آیات و روایات میں توبہ کے ارکان

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 119