مدت زمان پاسخگویی به هر سوال بین 24 تا 72 ساعت است.

لطفا قبل از 72 ساعت از پیگیری سوال و یا ارسال سوال مجدد خودداری فرمائید.

از طریق بخش پیگیری سوال، سوال خود را پیگیری نمایید.

captcha
انصراف

زمان پاسخگویی به سوالات بین 24 تا 72 ساعت می باشد.

انصراف
چینش بر اساس:حروف الفباجدیدهاپربازدیدها

با اعتماد اشخاص کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنا

بہت سے اشخاص کہ جوحکومت اسلامی کے معتمد ہیں تو بعض اوقات ان کو لوگوںمیںپہچنوانا ضروری ہے، کیا اس کام کی خاطر ان کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا جاسکتا ہے، تاکہ وہ معاشرے کی سطح پر پہچانے جاسکیں؟ اس کام کی حدّشرعی کہاں تک ہے؟

اگر بڑھا چڑھاکر پیش کرنے سے مراد بے جا مبالغہ اور بلاوجہ بزرگ نمائی ہو تو جائز نہیں ہے لیکن اگر اس سے منظور ناشناختہ با ایمان اور گرانقدر شخصیت کو پہچنوانا ہو تو نہ یہ کہ یہ کام اچھا ہی ہے بلکہ ضروری بھی ہے ۔

غلط فکروں کا پھیلانا

کچھ اشخاص ایسے ہیں جن کے افکار واندیشے اکثر فقہائے شیعہ کے نظریات اور اسلامی جمہوریہ پر حاکم فقہ کے مخالف ہیں (جیسے ولایت فقیہ کا نظریہ) کیا ہم اُن نظریات وافکار کو معاشرںے میں منتشر کرسکتے ہیں تاکہ لوگ مختلف اقوال کو سن کر ان میں سے بہترین کا انتخاب کریں؟ جواب کے منفی ہونے کی صورت میں، آیہٴ شریفہ (فَبَشِّر عِبَادِ الَّذِینَ یَستَمِعُون الْقَول فَیَتَّبِعُونَ اٴحْسَنَہ) کی کس طرح تفسیر کریں گے؟

یہ کام اگر بدآموزی کا سبب نہ بنے تو بہت اچھا کام ہے اور عمدتاً یہ مشکل مخالفین کے نظریات کو مناسب طریقے سے بیان کرنے سے حل ہوجاتی ہے، اس طرح کہ ان کے نظریات کو مضر اور مخرّب طریقے سے اور جھوٹ اور تہمت کے ہمراہ بیان نہ کئے جائیں، البتہ توجّہ رکھنا چاہیے کہ مسائل مختلف ہیں؛ کچھ مسائل کو عوام الناس میں بیان کرسکتے ہیں اور کچھ مسائل ایسے ہوتے کہ جن کو فقط حوزہٴ علمیہ، یونیورسٹی اور علمی محافل کی حدود میں رہنا چاہیے؛ کیونکہ اُن مسائل میں تخصصی آگاہی کی ضرورت ہے، یقینا ان دونوں مسائل کا ایک دوسرے سے مشتبہ ہونا معاشرے میں بہت مشکلات کا باعث ہوگا۔

موثق خبروں کی خصوصیات

ایک موثق خبر کی کیا خصوصیتیں ہیں؟

موثق خبر کو چند طریقوں سے پہچان کرسکتے ہیں:۱۔ راوی کے موثق ہونے کے راستے سے یعنی خبر کا نقل کرنے والا بااعتماد شخص ہو۔۲۔ عمومی مقبولیت کے ذریعہ، یعنی اگر راوی مجہول ہو، لیکن لوگوں کے درمیان وہ خبر اتنی مشہور ہو کہ اطمینان کا سبب ہوجائے ۔۳۔ خبر کے مضمون کے ذریعہ، یعنی خبر کا مضمون، اس قدر مستدل اور قرائن کے ساتھ ہو کہ جو اپنی صحت پر خود گواہ ہو۔

ڈیش انٹینا اور سٹالاٴٹ کے مفید پروگراموں سے استفادہ کرنا

لوگوں کیلئے سٹا لائٹ ،ڈش انٹینا کے پروگراموں سے استفادہ کرنا کیسا ہے حالانکہ اس پر بعض اچھے پروگرام بھی آتے ہیں ؟

جواب:۔ان پروگراموں سے استفادہ کرنا جائز نہیں ہے اور اسکے بظاہر اچھے اور بے ضرر پروگرام، فاسد اور برے پروگراموں کی طرف ، جذب کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں، لہذا اس بنا پر مسلمان کو، اسلام دشمنوں کے مسلمانوں کے درمیان گناہ فساد پھیلانے کے حیلہ بہانوں سے غافل نہیں ہونا چاہیےٴ .

دسته‌ها: ڈش انٹینا

خبرنگاران اور ثقافتی حملوں کا مقابلہ

ایک خبر نگار، کس طرح ثقافتی حملوں کا مقابلہ کرسکتا ہے؟

ایک خبر نگار اُن لوگوں کو اطلاع رسانی کے ذریعہ جو لوگ اس کام کے مقابلے کے لئے آمادہ ہیں ایسے ہی معاشرے کی سطح پر اس کو نشر کرنے کے ذریعہ سے خصوصاً معاشرے میں اس چیز کی اطلاع پہنچانے کے ذریعہ کہ اس کام کے کتنے بڑے نقصانات ہیں اور معاشرے پر ان کا کتنا بُرا اثر ہوتا ہے، باواسطہ مدد کرسکتا ہے ۔

دسته‌ها: خبرنگار (صحافی)

اطلاع رسانی میں قرآن کی روشِ بیان سے استفادہ کرنا

اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ قرآن شریف الله کا کلام اور اس کا معجزہ ہے، طبعاً خداوندعالم نے لوگوں سے میل جول بڑھانے کے مختلف طریقے بیان فرمائے ہیں کہ جو قطعاً کامل ترین طریقے ہیں، یہ بیانی طریقے کیا ہیں؟ خبر کے سلسلے میں کس طرح ان سے استفادہ کرسکتے ہیں؟

قران مجید کے فصاحت وبلاغت کے طریقوں کو حاصل کرنے کے لئے اور خبرنگاری میں ان سے استفادہ کرنے کے لئے ”پیام قرآن“ کی آٹھویں جلد کی قرآن مجید، فصاحت وبلاغت کی نظر سے ”معجزہ“ ہونے کی بحث میں صفحہ۸۷ کے بعد دیکھے سکتے ہیں، یا ہماری کتاب ”قرآن وآخرین وپیامبر“ میں مطالعہ کرسکتے ہیں ۔

دسته‌ها: خبرنگار (صحافی)
پایگاه اطلاع رسانی دفتر مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی
سامانه پاسخگویی برخط(آنلاین) به سوالات شرعی و اعتقادی مقلدان حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی
آیین رحمت - معارف اسلامی و پاسخ به شبهات کلامی
انتشارات امام علی علیه السلام
موسسه دارالإعلام لمدرسة اهل البیت (علیهم السلام)
خبرگزاری دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی