پانچواں حصہ

پایگاه اطلاع رسانی دفتر مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
مرتب سازی بر اساس
 
عبدالله بن سبا (جلد سوم)
خلاصہ اور خاتمہ
-l سبئیہ ، دوران جاہلیت سے بنی امیہ تک۔
-lسبئیہ ، بنی امیہ کے دوران۔
-lسبئیہ ، سیف بن عمر کے دوران۔
l تاریخ ، ادیان اور عقائد کی کتابوں میں عبداللہ سبا و سبئیہ
-l عبد اللہ بن سبائی کی عبداللہ بن سبا سے تحریف ۔
-lجعل و تحریف کے محرکات ۔
-l گزشتہ مباحث کا خلاصہ ۔
-lاس حصہ کے مآخذ۔
سبیئہ دوران جاہلیت سے بنی امیہ تک
ان السبیئیة مرادفة للقحطانیة و الیمانیة
سبئیہ ، قحطانیہ اور یمانیہ کے ہم معنی تھا اور قبیلہ پر دلالت کرتا تھا
مؤلف
سبئیہ اسلام سے پہلے
سبئیہ ، کافی پرانا اور سابقہ دار لفظ ہے ،جو قبل از اسلام دوران جاہلیت میں عربوں کی زبان پر رائج تھا اور قبیلہ کی نسبت پر دلالت کرتاتھا ، یہ لفظ قحطانیہ کا مترادف اور ہم معنی تھا یہ دونوں لفط سبئیہ و قحطانیہ سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطاان کی نسبت پر دلالت کرتے تھے ، چونکہ ان کے باپ کا نام سبا تھاا س لئے انہیں سبائیہ یا سبئیہ کہتے ہیں اور چونکہ ان کے جد کا نام قحطان تھا اس لئے انہیں قحطانیہ کہتے ہیں چونکہ ان کا اصلی وطن یمن تھا اسلئے انہیں یمانی یا یمنیہ بھی کہتے تھے ۔ نتیجہ کے طور پر تینوں لفظ ایک ہی قسم کے قبائل پر دلالت کرتے ہیں انکے مقابلہ میں عدنانیہ ، نزاریہ، ومضریہ تھے مضر بن نزار بن عدنان کے قبائل سے منسوب تھے ---اسماعیل ابن ابراہیم کی اولاد میں سے تھے--- اور اسی پر دلالت کرتے ہیں ۔
ان دونوں قبیلے دوسرے قبائل سے بھی عہد و پیمان قائم کرتے تھے اور انھیں وہ اپنا ہم پیمان کہتے تھے اس طرح سبئیہ ، قحطانیہ اور یمانیہ ،کا نام نہ صرف سبا بن یشجب پر بلکہ ان کے ہم پیمان قبائل جیسے قبیلہٴ ربیعہ پر بھی استعمال ہوتا تھا ، اسی طرح ” عدنانیہ “ مضریہ اور نزاریہ بھی مضر بن نزار قبائل اور ان کے ہم پیمانوں کے لئے استعمال ہوتا تھا ۔
سبئیہ ، اسلام کے بعد
اسلام کی پیدائش کے بعد ان دونوں قبیلوں کا، ایک ایک خاندان مدینہ میں جمع ہوگیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قیادت و زعامت میں پہلا اسلامی معاشرہ تشکیل پایا ۔ سبائی یا قحطانی جو پہلے سے یمن سے آکر مدینہ میںساکن ہوئے تھے ، انھیں انصار کہا جاتا تھا ۔ عدنانی بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مدینہ ہجرت کے بعد مکہ اور دوسرے علاقوں سے مدینہ آئے تھے اور انھیں ” مہاجر “ کہا جاتاتھا ، بعض اوقات ان دو گروہوں کے درمیان اختلافات اور جھگڑے بھی واقع ہوتے تھے ۔
پہلاجھگڑا اور اختلاف جو اسلام میں ان دو گروہوں یعنی قحطانی کہ جو قبائل سبائیہ سے تھے اور عدنانی ، یا دوسرے لفظوںمیںمہاجر و انصار کے درمیان واقع ہوا جنگ بنی المصطلق میں ” مریسیع “ کے پانی پر تھا ۔ مہاجرین اور انصار کے ایک ایک کارگذار کے مابینپانی کھینچنے پر اختلاف اور جھگڑا ہوگیا تو مہاجرین کے کار گزار نے بلند آواز میں کہا: یا للمھاجرین ! اے گروہ مہاجر مدد کرو ! اور انصار کے کارگذارنے بھی آواز بلندکی : یا للانصار ! اے گروہ انصار! میری نصرت کرو ! اس طرح انصار اور مہاجر کے دو گروہ آپ میں نبرد آزما ہوئے اور نزدیک تھاکہ ایک بڑا فتنہکھڑا ہو جائے اس موقع پر منافقین کے سردار عبداللہ بن ابیہ اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے اختلافات کو ہوا دینے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکساتے ہوئے بولا : اگر ہم مدینہ لوٹیں گے تو صاحبان اقتدار یعنی ” انصار “ ذلیلوں یعنی مہاجرین کو ذلت و خواری کے ساتھ مدینہ سے نکال باہر کریں گے۱رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر کوچ کرنے کا حکم دیا ۔ اور سب کو آگے بڑھادیایہاں تک کہ نمازکا وقت آگیا نماز پڑھنے کے بعد بھی رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے روانہ ہونے کا حکم دیا رات کے آخری حصہ تک چلتے رہے ۔ اس کے بعد جب پڑاؤ ڈالا تو تھکاوٹ کی وجہ سے سب سو گئے صبح ہونے پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روانہ ہونے کا حکم دیا ۔ اسی طرح چلتے رہے لھذا آنحضرت نے انھیں اس فتنہ کو پھر سے زندہ کرنے کی ہرگز فرصت نہیںدی یہاں تک یہ لوگ مدینہ پہنچ گئے اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حکمت عملی سے یہ فتنہ ختم ہوگیا۔
۱۔ یہ داستان سورہ منافقین یوں آئی ہے:
<یقولون لئن رجعنا الی المدینہ لیخرجن الاعز منہا الاذل >۔ سورہٴ منافقین ۶۳ /۸)
ان دو گروہوں کا دوسرا تصادم سقیفہ بنی ساعدہ میں واقع ہوا جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم
نے رحلت فرمائی انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے تا کہ سعد بن عبادہ انصاری سبائی کو پیغمبر کے خلیفہ اور مسلمانوں کے قائد کے طورپر منتخب کریں مہاجرین نے بھی اپنے آپ کو سقیفہ پہنچادیاا ور ان
کے مقابلہ میں محاذ آرائی کی اور ابوبکر کی خلافت کو پیش کیا ،وہ اس نبرد اور جھگڑے میں ان پر غالب ہوئے اور ابوبکر کو مسند خلافت پر بٹھادیا اور خلافت کو قریش میںثابت کردیا اور ۔ اس طرح ایک قریشی حکومت کی داغ بیل ڈال دی اس تاریخ کے بعد انصار کو حکومت اور تمام سیاسی و اجتماعی امور سے محروم کرکے یا بہت کم اور استثنائی مواقع کے علاوہ نہ انھیںجنگوںمیں سپہ سالاری کے عہدہ پر فائز کرتے تھے اور نہ کسی صوبے کا گورنر حتی کسی شہر کے ڈپٹی کمشنر کا عہدہ بھی انہیں نہیں سونپتے تھے ۱
خلافتعثمان کے دوران
مسلمانوں کے حالات میں اسی طرح حوادث پیدا ہوتے گئے اور زمانہ اسی طرح آگے بڑھتا گیا ، یہاں تک کہ عثمان کا زمانہ آگیا۔ اس زمانہ میں کام اور حکومت کے حالات بالکل دگرگوں ہوگئے قریش کی حکومت اور اقتدار بدل کر خاندان بنی امیہ میں منحصر ہوگئی ۔ اموی خاندان کے اراکین اور ان کے ہم پیمان قبائل نے تمام کلیدی عہدوں پر قبضہ جمالیا۔ یہ لوگ مصر، شام ، کوفہ ، بصرہ ، مکہ ، مدینہ اور یمن کے علاوہ اسلامی ممالک کے وسیع علاقوں کے گورنر اور حکمراں بن گئے اور اس طرح ان شہروں
----------------------
۱۔ چنانچہ ابو بکر ، عمر اور عثمان کے دوران امراء اور سپہ سالاروں کے بارے میں تحقیق کرنے سے یہ حقیقت واضح اور روشن ہوتی ہے۔
اور اسلامی مراکز میں مطلق العنان اور غیر مشروط حکمرانی اور فرمانروائی پر فائز ہوئے ۔خاندان اموی کی طرف سے مسلمانوں کے حالات پر مسلط ہونے کے بعد اذیت و آزار اور ظلم و بربریت کا آغازہو ااور اسلامی شہروں اور تمام نقاط میںقساوت بے رحمی کا برتاؤ کرنے لگے ۔ مسلمانوں کے مال و جان پر حد سے زیادہ تجاوز ہونے لگا ۔ ظلم و خیانت اورغنڈہ گردی انتہا کو پہنچ گئی یہاںتک کہ بنی امیہ کے خود سراور ظالم گورنروں اور فرمانرواؤں کے ظلم و ستم نے مسلمانون کے ناک میں دم کر دیا اس موقع پر قریش کی نامور شخصیتوں ،جیسے ام المؤمنین عائشہ ، طلحہ ، زبیر ، عمرو عاص اور دوسرے لوگوں نے عوام کی رہبری اور قیادت کی باگ ڈور سنبھالی اور بنی امیہ کے خلاف بغاوت کی ، اور تمام اطراف سے مدینہ کی طرف لوگآنے لگے آخرکاراموی خلیفہ عثمان کو مدینہ میں ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا عثمان کے قتل ہونے کے نتیجہ میں ، بنی امیہ کے درمیان ---جوکہ خود قریش تھے -- قریش کے دوسرے خاندانوں کے ساتھ سخت اختلافات پیدا ہوگیا ، اس طرح مسلمانوں پر قریش کا تسلط کم ہوا ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد پہلی بار مسلمان اپنے اختیارات کے مالک بنے اور حکومت کی باگ ڈور قریش سے چھیننے میں کامیاب ہوئے ۔ یہ وہ وقت تھا کہ مسلمانوں نے کسی رکاوٹ کے بغیر ایک دل اور ایک زبان ہوکر علی علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور پوری دلچسپی اور محبت سے انھیںمسلمانوں پر حکومت کرنے کیلئے منتخب کیا۔ انتہائی اصرار کے ساتھ متفقہ طور پر ان کی بیعت کی اور حکومت کی باگ ڈور انکے لائق اور باصلاحیت ہاتھوں میں سونپ دی۔
علی علیہ السلام نے اپنی حکومت کو اسلامی قوانین کی بنیادوں پر استوار کیا۔ عام مسلمانوں میں برادری نیز مساوات اوربرابری کے منشور کا اعلان ہوا، ان پر عدل و انصاف کی حکومت کی ، بیت المال کو ان کے درمیان یکسان اور مساوی طور پر تقسیم کیا۔ انصار کے لائق اور شائستہ افراد کو -- جنہیں گزشتہ حکومتوں میں محروم کیاگیا تھا--- اہم عہدوں پر فائز کیا اور انہیں مختلف شہروں اور اسلامی مراکز میں گورنروں اور حکمرانوں کے طور پرمنصوب کیا ۔ مثلا : عثمان بن حنیف کو بصرہ میں ، اس کے بھائی سہل کو مدینہ میں ،قیس بن سعد بن عبادہ کو مصر میں ، شام کی طرف مسافرت کے دوران کوفہ میں اپنی جگہ پر ابو مسعود انصاری کو اور مالک اشر سبئی کو جزیرة اور اس کے اطراف میں بعنوان حکمراں اور گورنر منتخب فرمایا۱
حکومت کی اس روش سے”علی علیہ السلام“ نے قریش کی گزشتہ حکومتوں کی تمام اجارہ داری کو منسوخ کرکے رکھ دیا۔
یہی وجہ تھے کہ قریش نے علی علیہ السلام کی سیاست کو پسند نہیں کیا اور ان کے خلاف ایک وسیع پیمانہ پر بغاوت کا سلسلہ شروع کردیا یہاں تک کہ جنگِ جمل و صفین کو برپا کیا ، اسی لئے علی علیہ السلام ہمیشہ قریش سے شکایت کرتے تھے اور ان کے بارے میں ان کا دل شکوہ شکایتوں سے بھرا ہواتھا حضرت کبھی قریش کے بارے میں شکوؤں کو زبان پر جاری فرماتے تھے اور ان کی عادلانہ روش کے مقابلہ میں قریش کے سخت رد عمل پر صراحت کے ساتھ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرتے تھے:
--------------
۱۔ابن اثیر اپنی تاریخ میں جلد۳ صفحہ نمبر۳۳۴امیر المؤمنین کے گورنر کے عنوان کے ذیل میں کہتا ہے: مدینہ میں علی(ع) کا گورنر ابوایوب انصاری اور بعض مورخین کے عقیدہ کے مطابق سہل بن حنیف تھا۔
ایک ایسا درد مند ،جس کے زبان کھولنے سے در و دیوار ماتم کریں
نہج البلاغہ میں آیا ہے کہ علی علیہ السلام قریش کی شکایت کرتے ہوئے فرماتے تھے :
” خداوندا! میں قریش اور اُن کے شریک جرم افراد کے خلاف تیری بارگاہ میں شکایت کرتا ہوں کیوں کہ انہوں نے قطع رحم کیا ہے اور ہماری بزرگی اور مقام و منزلت کو حقیر بنایا ہے حکومت کے معاملہ میں جو مجھ سے مخصوص تھی میرے خلاف بغاوت کی اور بالاتفاق ہمیں اُس سے محروم کیا اور مجھ سے کہا کہ ہوشیا رہوجاؤ ! حق یہ ہے کہ اسے لے لو اور حق یہ ہے کہ اسے چھوڑ دو ۔ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ میرے حق کے حدود کو معین کریں ۔ تجھے قریش سے کیا کام؟ خدا کی قسم جس طرح میں ا ن کے کفر کے دوران ان سے لڑتا تھا آج بھی --چونکہ انہوںنے فتنہ و فساد کو اپنایا ہے-- ان سے جنگ کروں گا اس دن میںہی تھا جس نے ان سے جنگ کی اور آج بھی میںہی ہوں جو ان سے جنگ کررہا ہوں ۔
اپنے بھائی عقیل کے نام ایک خط کے ضمن میںلکھا ہے :
قریش کو ، ان کے حملوں اور گمراہی کی راہ میں اور وادی شقاوت و سرکشی میں ان کے نمود و نام کو چھوڑدو ،انھیں حیرت وپریشانی کی وادی میں چھوڑ دو ! قریش نے میرے خلاف جنگ کرنے میں ا تفاق کیا ہے اسی طرح کہ اس سے پہلے پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے میں شریک جرم ہوئے تھے ۔ قریش مجھ پر کئے ظلم جس کی سزا وہ ضرور پائیں گے قریش نے ہمارے ساتھ قطع رحم کیا ہے حکومت کے میرے پیدائشی حق کو مجھ سے چھین لیا ہے ۔
سبئیہ علیں کے دوران
علی علیہ السلام کے زمانے کی تاریخ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے--- جس کا ایک اجمالی خاکہ ان صفحات میں پیش کیا گیا --- وہ یہ ہے کہ : عدنانی قریش نے پیغمبر صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم کے بعد علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے دشمنی اور مخالفت مول لی اور ان کے خلاف متحد ہوکر اسلامی حکومت سے انھیں الگ کردیا جب حضرت لوگوں کی حمایت سے خلافت پر پہنچے تو اس وقت بھی وہی قریش تھے جنہوں نے ان کے خلاف فتنے او ر بغاوتیں کیں لیکن تمام حساس اور نازک مواقع پر قبائل سبئیہ --- کہ وہی قحطانی قبائل ہیں -- کے تمام دوست و مجاہدین ان کی رکاب میں تھے۔ خاص کر قبائل سبائی کے سرکردہ اشخاص ، جیسے : مالک اشتر ہمدانی سبئی ۱ عبدا للہ بدیل خزاعی سبئی ، حجر بن عدی کندی سبئی ،قیس بن سعد بن عبادہٴ سبئی انصاری اور قبائل سبئیہ کے بعض دیگر سردار جو علی علیہ السلام کے یار و غمخوار تھے ،
----------------
۱۔ ابن خلدوں اپنی تاریخ ۲/ ۲۶ میں لکھتا ہے : جس دن اسلام کاظہور ہوا قبیلہٴ ہمدان کے افراد اسلامی ممالک میں پھیل گئے اور ان میں ایک گروہ یمن میں رہا صحابہ کے درمیان اختلاف او رکشمکش پیدا ہونے کے بعد قبیلہ ہمدان شیعہ ا ور علی علیہ السلام کے دوستدار تھے یہاں تک علی علیہا لسلام نے ان کے بارے میں یہ شعر کہا ہے :
ولو کنت بوا باً لابواب جنة لقلت لھمدانی ادخلی بسلام
یعنی اگر میں بہشت کا چوکیدار ہوں گا تو قبیلہ ہمدانی کے افراد سے کہوں گا کہ سلامت کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ۔)
ان کے محکم اور ثابت قدم طرفداروں کے گروہ کو تشکیل دیتے تھے ۱ لیکن جنگ صفین اور حکمیت اشعری کی روداد کے بعد اہل کوفہ و بصرہ کے عربوں نے جنکی اکثریت علی کے ماننے والوں کی تھی ، علی علیہ السلام کو حکمیت کے نتیجہ کو قبول کرنے پر کافر سے تعبیر کیا اور اس سبب سے اپنے آپ کو بھی کافرجانا اور کہا: ہم نے توبہ کیا اورکفر سے پھر اسلام کی طرف لوٹے ، اس کے بعد انہوں نے تمام مسلمانوں حتی خود علی علیہ السلام کی بھی تکفیر کی انکے اور تمام مسلمانوں کے خلاف بغاوت کرکے ان پر تلوار کھینچی۔اس طرح اسلام میں ایک گروہ کی ریاست و قیادت کی ” عبداللہ بن وھب سبائی “ نے ذمّہ داری لی تھی انہوں نے نہروان میں امام سے جنگ کی ، عبداللہ بن وھب سبائی اس جنگ میں قتل کیا گیا ، اس کے بعد انہیں خوارج میں سے ایک شخص کے ہاتھوں امیر المؤمنین علیہ السلام محراب عبادت میں شہید ہوئے، علی ”علیہ السلام“ کی شہادت کے بعد تاریخ کا صفحہ پلٹ گیا اور قبائل سئبیہ میں ایک دوسر ی حالت پیدا ہوگئی جس کی اگلی فصل میں وضاحت کی جائے گی ۔
--------------
۱۔ معاویہ شام میں سکونت کرنے والے قبائل سبئیہ کے بعض گروہ کو عثمان کی خونخواہی کے بہانہ سے باقی قبائل سبئیہ سے جدا کرنے میں کامیاب ہوا اور خاص کر انہیں اپنی طرف مائل کردیا یہ گروہ اس زمانہ سے خلفائے بنی مروان تک وقت کے حکام کے پاس خاص حیثیت کے مالک ہوا کرتے تھے لیکن اس دوران کے بعد قبائل قحطانی و عدنانیوں کے درمیان عمومی سطح پر شدیداختلافات رونما ہواجس کے نتیجہ میں مروانی ، اموی حکومت گر گئی اور بنی عباسیوںنے حکومت کی باگ ڈو ر پر قبضہ کیا کتاب صفین تالیف نصر بن مزاحم ، مقدمہ سوم کتاب ” ۱۵۰ جعلی اصحاب “ ملاحظہ ہوں

”سبئیہ“ ،بنی امیہ کے دوران
اشتدت الخصومة بینھا فی اخریات العھد الاموی
بنی امیہ کی حکومت کے اواخر میںقبائل عدنان کی، قبائل سبائی سے خصومت انتہا کو پہنچی تھی ۔
مولف
امیر المومنین کی شہادت کے بعد قریش نے گزشتہ کی نسبت زیادہ چوکس انداز میں ا سلامی ممالک اور مسلمانوں کی رھبری کی باگ ڈور دوبارہ اپنے ہاتھ میں لی انصاراور سبئیوں کو تمام امور سے بے دخل کیا ان کے ساتھ بے رحمانہ اور انتہائی سنگدلی سے برتاوٴ کیا بنی امیہ کے منہ بولے بیٹے یعنی زیاد بن ابیہ ، اس کے بعد اسکے بیٹے ابن زیاد کے ذریعہ شہر کوفہ کے تمام علاقے اور اطراف میں قبائل سبئیہ کے بزرگان ، ہر شیعہ علی علیہ السلام کہ جو غالباً سبئیہ سے تھے کو پکڑپکڑ کر انتہائی بے دردی سے قتل کیا جاتاتھا ، پھانسی پر لٹکایا جاتاتھا زندہ دفنایا جاتا تھا، اور ان کے گھروں کو ویران کیا جاتا تھا ! اور․․․․
ان مظلوم اور ستم دیدہ مسلمانوں نے حسین ابن علی علیہ السلام کے یہاں پناہ لی ! ان سے مدد طلب کی اور بنی امیہ عدنانی ظالمانہ حکومت کے پنجوں سے اسلام و مسلمانوں کو نجات دلانے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے اس حالت میں ا بن زیاد--- خاندان امیہ کے منہ بولے بیٹے کافرزند ---فریب کاری اور دھوکہ سے کوفہ میں داخل ہوا اور حالات پر کنٹرول حاصل کیا ۔ امام حسین علیہ السلام کے نمائندہ اور سفیر مسلم ابن عقیل کو گرفتار کرکے قبائل سبئیہ کے سردار ہانی بن عروہ کے ہمراہ قتل کر دیا اس کے بعد قبائل عدنان کے سرداروں او بزرگوں جیسے عمر سعد قرشی ، شبث بن ربعی تمیمی ، شمر بن ذی الجوشن اور دیگر عدنانی ظالموں کو اپنے گرد جمع کیا اور ایک بڑی فوج تشکیل دی۔ کوفہ کے تمام جنگجوؤں کو مختلف راہوں سے قرشی خلافت کی فوج سے ملحق کیا وہ بھی اس طرح سے کہ کسی میں ان کی نصرت کی جرات نہ ہو سکے اور تاب مقاومت باقی نہ رہے تا کہ زیاد بن ابیہ کی علنی طور پر مخالفت نہ کر سکے اور امام حسین علیہ السلام کے انقلاب کو تقویت بخشنے کیلئے کوشش و فعالیت نہ کرسکے نتیجہ کے طور پر قرشی خلافت نے خاندان پیغمبر” صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ کو کربلا میں اپنے اصحاب سمیت خون میں غلطان کرکے ان کے بے سر اجساد کو میدان میں برہنہ چھوڑنے میں کامیاب ہوئے ۔
پہاں پر قبائل عدنان کی قبائل قحطان سبئی پر کامیابی عروج کو پہنچی۔
سبئیہ قیام مختار میں
کربلا کے جانکاہ حادثہ اور یزید بن معاویہ کی ہلاکت کے بعد کوفیوں کے دل بیدار ہوئے چونکہ امام حسین علیہ السلام کی نصرت کرنے میں انہوںنے سخت کوتاہی کرکے کنارہ کشی کی تھی ، اس لئے انہوں نے ذہنی طور پر احساس ندامت و پشیمانی محسوس کی اور ان میں سے ” توابین “ نام کی ایک فوج تشکیل پائی اس فوج نے ابن زیاد کی فوج سے جنگ کی یہاں تک سب شہید کئے گئے اس کے بعد سبائی قبائل مختار ثقفی کے گرد جمع ہوئے اور حسین ابن علی علیہ السلام کی خونخواہی کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ان کی کمانڈ ابراہیم بن اشتر سبئی کررہے تھے ایک عظیم اور نسبتاًقوی فوج وجود میں آگئی ابتداء میں انہوںنے عمربن سعد عدنانی ،شمر بن ذی الجوشن ضبابی اور قبائل عدنان کے بہت سے دوسرے افراد جن کا امام حسین علیہ السلام کے قتل میں مؤثر اقدام تھا کو قتل کیا ، ان کے مقابلہ میں قبائل عدنان کے افراد مصعب بن زبیر عدنانی کے گرد جمع ہوئے اور قبائل سبئی اور حسین علیہ السلام کے خونخواہوں سے مقابلہ کیلئے آمادہ ہوگئے ان سے ایک سخت جنگ کی ا ور ان پر غالب آگئے اور امام حسین علیہ السلام کے خونخواہوں کی رہبری کرنے والے مختار کو قتل کیا ۔
ان تمام کشمکش اورنزاعی مدت میں کوفہ و بصرہ پر زیاد بن ابیہ کی حکومت جس میں ایران بھی ان کی حکومت کے زیر اثرتھا تمام مشرقی اسلامی ممالک سے خلفائے بنی امیہ کی آخر ( ۱۳۲ ھء ہے) تک خلافت قرشی عدنانی اپنے مخالفوں سے ---جو خاندان پیغمبر صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم کے ددستداران و شیعہ تھے --- دو اسلحہ سے جنگ لڑتے تھے جیساکہ تمام جنگوںمیں یہ رسم ہے کہ گرم اسلحہ کے علاوہ سردا سلحہ یعنی پروپیگنڈااور افترا پردازی سے بھی استفادہ کرتے تھے اس نفسیاتی جنگ میں دربارِخلافت سے وابستہ تمام شعراء، مقررین، قلم کار ، محدثین ، اور دانشور تمام شیعوں ، بالخصوص سبائیہ قبائل کے خلاف منظم ہوگئے تھے دربار سے وابستہ یہ لوگ اس نفسیاتی جنگ میں مختارکے خلاف کہتے تھے: ”مختار “ نے وحی اور نبوت کا دعویٰ کیا ہے ‘ اس پروپیگنڈا پر اتنا زور لگایا گیا کہ یہ افتراء اس درجہ مشہورہوا کہ نسل در نسل نقل ہوتا رہا اور رواج پا گیا یہاں تک کہ بات زبان سے گزر کر سرکار ی کتابوں اور دیگراسناد میں درج ہو گئی اورمختار کے خلاف اس نفسیاتی جنگ نے اس کے حامیوں اور طرفداروں کو بھی اپنی لپیٹ میںلے لیا ، جو اکثر سبئی تھے ۱
سبئیہ بنی امیہ کے آخری ایام میں
عدنانی او رسبئی قبائل کے در میان یہ کشمکش اورٹکراؤ شروع شروع میں مدینہ اور کوفہ تک محدود تھا ، بعد میں یہ وسیع پیمانے پر پھیل کر تمام جگہوں تک پہنچ گیا ، یہاں تک تمام شہروں اور علاقوں میں ا ن دو قبیلوں کے درمیان اختلاف اور کشمکش پیدا ہوگئی اس راہ میں کافی خون بہائے گئے انسان مارے گئے موافقین کے حق میں اور مخالفین کی مذمت میں شعر و قصیدے کہے گئے یہ عداوت و دشمنی اور نفرت و بیزاری بنی امیہ کی حکومت کے آخری ایام میں شدید صورت اختیار کر کے عروج تک پہنچی گئی تھی۔
--------------
۱۔ چنانچہ گزشتہ فصل میں شبث بن ربعی کی سعد بن حنفی کے ساتھ روایت میں بیان ہوا کہ مختار سے پہلے لفظ ” سئبہ “ سرزنش اور قبائل کی تعبیر میں ا ستعمال ہوتا تھا ا س عنوان سے کہ وہ علی کے شیعہ تھے جیساکہ داستان حجر میں ا سکی وضاحت کی گئی لیکن مختار کی بغاوت کے بعد دشمن کی زبان پر ” سبئیہ “ قبائل یمانیہ کے ان افراد کو کہتے تھے جو قبائل عدنانی سے جنگ و پیکارکر کرتے تھے اور مختار ثقفی پر ایمان رکھتے تھے اس نام گزاری میں بھی اشارہ اس کی طر ف تھا کہ مختار نے نبوت کا دعوی کیا ہے اور ان افرد نے اس کی دعوت کو قبول کیا ہے اور اس پر ایمان لایا ہے لیکن مختار اور اس کے پیرؤں کے بارے میں یہ بات بھی ا فتراء اور بہتان کے علاوہ کچھ نہیں تھی ۔)
”سبئیہ “ ، سیف بن عمر کے دوران
حرّف سیف کلمة السبئیة
جب سیف کا زمانہ آیا تولفظ ” سبئیہ “ کو تحریف کرکے اس کے اصلی معنی سے ایک دوسرے معنی میں تبدیل کردیا ۔
مؤلف
بنی ا میہ کے دورکے آخری ایام میں عدنانیوں اور قحطانیوں کے اختلافات عروج پر پہنچ چکے تھے۔ دونوں طرف کے ادیب اور شعراء اپنے قبائل کی مدح میں ا ور دشمنی کی مذمت وسرزنش میں شعر و قصیدہ لکھتے تھے اسی زمانے میں کوفہ میںسیف بن عمر تمیمی پیدا ہوا ۔ اس نے تاریخ اسلام میں دو بڑی کتابیں ” الرد و الفتوح “ اور ” الجمل و مسیر علی و عائشہ “ لکھیں ۔ اس نے ان دونوں کتابوں کو گوناگوں تحریفات ، جعلیات ، توہمات پرمشتمل روایتوں سے بھر دیا ۔ اس نے دسیوں بلکہ سیکڑوں شعراء احادیث، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے راوی ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب ، تابعین اسلامی جنگوں ،کے سورما اور فاتح اور بہت سے دیگر افراد کو اپنے ذہن سے جعل کیا جن کا دنیا میں در حقیقت کہیں وجود ہی نہیںتھا ۔ اس کے بعد ان میں سے ہر ایک کی نام گزاری کرکے خاص عنوان دیا ، ان کے نام پر داستانیں ، تاریخی وقائع ، کثیر روایتیں، اشعاراورا حادیث جعل کیں ۔ ا ن تمام چیزوں کو اسنے جعل کئے ہوئے نام و نشان اور خصوصیات کے ساتھ اپنی مذکورہ دو کتابو ں میں درج کیا ۔
دوسرا خطرناک کام جو سیف نے ان دو کتابوںمیں انجام دیا وہ یہ تھا کہ اس نے تمام خوبیوں فضائل ، مجاہدتوں اور نیکیوں کو قبائل عدنان کے نام پر درج کیا اور تمام عیوب ، نواقص ، برائیاں ، اور مفاسد کو قبائل قحطان و سبئی سے نسبت دیدی انکے بارے میں جتنا ممکن ہوسکا دوسروں کی عیوب و نواقص کو بھی جعل کیا اہم ترین مطلب جو اس نے ان کی مذمت او رسرزنش میں جعل کیاوہی ’ ’افسانہ سبئیہ “ تھا کہ اس افسانہ میں ” سبئیہ “ کو ایک یہودی اور سیاہ فام کنیز کے بیٹے عبداللہ بن سباکے پیرو کے طور پر پہچنوایا ہے اسی طرح اس نے لفط ”سبئیہ “ کو اپنے اصلی مفہوم ---کہ قبیلہ کی نسبت کے طو پر قبائل سبائی اور ان کے ہم پیمانوں کی سرزنش کے عنوان سے استعمال ہوتا تھا ---سے تحریف کرکے ایک مذہبی مفہوم میں تبدیل کیا اور کہا: سبئیہ ایک منحرف مذہبی گروہ ہے جوگمنام اور منحرف یمانی الاصل یہودی عبدالله بن سبا کے پیرو و معتقد ہیں ، اس کے بعد عصر عثمان اور امیر المؤمنین کے دور کے تمام جرم و جنایات کو ان کے سر پر تھونپ کر کہتا ہے کہ:اسی فرقہ سبئیہ کے افراد تھے ۔جو ہمیشہ حکومتوںسے عداوت اور مخالفت کرتے تھے ۔
ان کے بارے میں طعنہ زنی اور عیب جوئی کرتے تھے لوگوں کوان کے خلاف اکساتے تھے ، یہاں تک ان پر یہ تہمت بھی لگائی ہے کہ انہوں نے متحد ہوکر مسلمانوں کے خلیفہ عثمان کو مدینہ میںقتل کیا اور عبد لله بن سبا سے منسوب اسی سبیئہ گروہ کو جنگ جمل کے شعلے بھڑکانے کا بھی ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
سیف نے اپنے اس بیان سے قبائل عدنان کے بزرگوں اور سرداروں جن میں سے خود بھی ایک تھاکو ہر جرم ، خطا اور لغزش سے پاک و منزہ قرار دیا ہے اور سبئیہ کو جنگ جمل اور اس میں ہوئی برادر کشی کا ذمہ دار قرار دیا ہے سیف نے اپنی باتوں سے ان تمام فتنوں کو ایجاد کرنے والے ، جسے: مروان ، سعید ، ولید، معاویہ ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ،طلحہ ، زبیر ، عائشہ اور قبائل عدنان کے دسیوں دیگر افرادکو بے گناہ ثابت کیا ہے ، جنہوں نے علی علیہ السلام کی عدل و انصاف پر مبنی اور تفریق سے عاری حکومت کے خلاف جنگ جمل بھڑکائی ۔ اس طرح تمام جرائم و گناہ و ظلم و بربریت کو گروہ سبئیہ کے سر تھونپا ہے ۔ سیف نے اپنے کام میں اپنے وقت کے تمام ادیبوں اور مؤلفین خواہ وہ عدنانی ہوں یا قحطانی ، پر سبقت حاصل کی ہے کیونکہ ان میں ہر ایک ادیب یا شاعر تھا جس نے اپنے قبیلہ کی مدح میں یا اپنے مد مقابل قبیلہ کی مذمت میں کچھ لکھا یاکہا ہوگا لیکن سیف نے دسیوں شاعراور ادیب جعل کئے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے قبیلہ کی مدح اور اپنے مد مقابل کی مذمت میں سخن آفرینی کی ہے۔
ان سب چیزوں سے اہم تر یہ کہ سیف اپنے افسانوں کو حقیقی رنگ و روپ دینے میں کامیاب ہوا،اس نے اپنے جعل کئے ہوئے شاعروں کے نام پر کہے اشعار اوراپنے جعل کئے ہوئے جعلی اصحاب کے نام فتح و معجزہ اور حدیث گڑھ کر ان کو تاریخی حوادث اور اشخاص کی صورت میں پیش کیا ہے ، اور اس طرح اپنے تمام افسانوں کو دوسری صدی ہجری سے آج تک مسلمانوں میں تاریخ لکھنے کے نام پر بے مثال رواج دیا اس نے اپنے تمام چھوٹے بڑے افسانوں کیلئے روایتوں کے مانند سند مآخذ جعل کرکے اپنے جعلی راویوں سے روایت نقل کی ہے ۔
سیف کی سبقت حاصل کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ لفظ سبیئہ کو قبیلہ کی نسبت اور قبائل یمانی اور ان کے ہم پیمانوں کی سرزنش کے معنی و مفہوم سے ایک نئے مذہبی معنی میں تحریف کرنا اور خوارج کے سردار عبداللہ بن وہب سبائی و عبدالله بن سبا یہودی میں تبدیل کرکے اسے سبائیوں کے نئے مذہبی فرقہ ” سبئیہ “ کا بانی بتانےمیں کامیاب ہوا ہے !!
حقیقت میں سیف نے افسانہ ” سبئیہ ‘ کو تاریخ کے عنوان سے جعل کیا ہے ، ایک موذی شخص کو اس افسانہ کا ہیرو بنایا ہے اور اس کا نام عبداللہ بن سبا رکھا ہے اس کے بعد اس کو چالاکی او رخاص مہارت سے تاریخ کے بازار میں پیش کیا ہے پھریہ افسانہ تاریخ لکھنے والوں کے مزاج کے مطابق قابل قبول قرار پایا ہے اس وجہ سے ” افسانہٴ سبئیہ “ نے خلاف توقع اشاعت اورشہرت پائی اس افسانہ کے خیالی ہیرو عبداللہ سبا نے بھی کافی شہرت حاصل کی جس کے نتیجہ میں عبداللہ بن وھب فراموشی کا شکار ہوگیاجبکہ علی علیہ السلام کے دوران لفط سبئی اسی عبداللہ بن وھب سبائی سے منسوب تھا کہ جو فرقہٴ خوارج کا رئیس تھا سیف کے افسانہ کو اشاعت ملنے کے بعد یہ لفظ اپنے اصلی معنی سے تحریف ہوکر ایک تازہ پیدا شدہ مذہبی فرقہ میں ا ستعمال ہوا ہے جس کا بانی بقول سیف عبدا للہ سبا نامی ایک یہودی تھا ،اس جدید معنی میں اس لفظ نے شہرت پائی، اورعبد اللہ بن وھب سبائی بھی عبداللہ سبائی یہودی میں تبدیل ہوگےا اس تاریخ کے بعد رفتہ رفتہ لفط ” سبئیہ “ کا قبیلہ سے نسبت کے طورپر استعمال ہونا متروک ہوگےا،
خاص طورپر عراق کے شہروں اور عراق کے گرد و نواح شہروں اور افسانہٴ عبداللہ بن سبا اور فرقہ سبائیہ کی پیدائش کی جگہمیں اس کا اصلی معنی میں استعمال مکمل طور پر فراموشی کی نظرہوگیا یہاں تک کہ ہم نے اپنے مطالعات میں اس کے بعد کسی کو نہیںدیکھا جو ان شہروں میں سبا بن یشجب سبئی سے منسوب ہواہو لیکن یمن، مصر اور اندلس میں دوسری اور تیسری صدی ہجری میں کبھی یہ لفط اسی اصلی معنی میں استعمال ہوتا تھا ، بعض افراد جو فرقہٴ ” سبئیہ “‘ کے بانی عبداللہ بن سبا سے اصلا کوئی ربط نہیں رکھتے تھے سبا بن یشجب اور قبیلہ قحطان سے منسوب ہونے کے سبب سبئیہ کہے جاتے تھے صحاح کی کتابوں کے مولفین نے بھی حدیث میں ان سبئی افراد کوبعنوان حدیث کے قابل اعتماد راویوں کے طورپر ذکر کیا ہے لیکن بعد میں ان شہروں میں بھی زمانہ کے گزرنے کے ساتھ سبئیہ کا استعمال بعنوان قبیلہ بالکل نابود ہوگیا اور اس طرح اس لفظ نے تمام شہروں اور اقطاع عالم میں ایک مذہبی فرقہکے نام سے شہر ت پائی ہم اگلی فصل میں اسی کی وضاحت کریں گے ۔
تاریخ ، ادیان اور عقائد کی کتابوں میںعبدالله بن سبا
ھم الذین یقولون ان علیّاً فی السحاب وان الرعد صوتہ و البرق سوطہ
گروہ سبائیہ معتقد ہیں کہ علی” علیہ السلام “بادلوں میں ہےں اور رعد ان کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے
علمائے ادیان و عقائد
تاریخ میں عبداللہ سباکی متضاد تصویریں
سیف نے افسانہ عبداللہ سبا وسبئیہ کو جعل کرکے اپنی کتابوں میں تاریخی حوادث کے طور پر ثبت کیا ہے ، اس کے بعد طبری اور دوسرے مورخین نے اس کی دو کتابوں سے اس افسانہ اور سیف کے دوسرے افسانوں کو نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے خاص کر افسانہٴ سبئیہ کو مسلمانوں میں پہلے سے زیادہ منتشر کیا اس افسانہ کے منتشر ہونے کے بعد لفظ ” سبئیہ “ تمام نقاط میں اور تمام لوگوں کی زبانوں پر عبداللہ بن سبا کے ماننے والوں کیلئے استعمال ہوا اور اس معنی میں خصوصیت پیدا کر گیا اس کے بعدا س کااپنے اصلی معنی میں ---کہ قبیلہ قحطان اور سبا بن یشجب سے منسوب ہونا --- استعمال متروک ہوگیا ہے۔
لیکن بعد میں سبئی کا مفہوم اس معنی سے بھی تغیر پیدا کرگیا اور اس میں ا یک تبدیلی آگئی اور یہ لفظ مختلف صورتیں اختیار کرگیا اس کا جعل کرنے والا بھی متعدد قیافوں اور عنوانوں سے ظاہر ہوا ، مثلاً : دوسری صدی ہجر ی کے اوائل میںسیف کی نظر میں ” سبئی “ اس کو کہا جاتا تھا جو علی علیہ السلام کی وصایت کا معتقد ہو لیکن تیسری صدی کے اواخر میں ’ سبئی “ اس کو کہتے تھے جو علی علیہ السلام کی الوہیت کا معتقد ہو اسی طرح عبداللہ بن سبا سیف کی نظر اور اسکے زمانے میں وہی ابن سودا تھالیکن پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں عبداللہ بن سبا ، ابن سودا کے علاوہ کسی اور شخصیت کی حیثیت سےپہچاناگیا بلکہ یہ الگ الگ دو افراد پہچانے گئے کہ ہر ایک اپنی خاص شخصیت کا مالک تھا اور وہ افکار و عقائد بھی ایک دوسرے سے جدا رکھتے تھے کلی طور پر جو مطالب پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں عبداللہ سبا کے بارے میں ذکر ہوئے ہیں ان سے یوں استفادہ کیا جاسکتا ہے عبداللہ سبا چنداشخاص تھے، اور ہر ایک کےلئے اپنی مخصوص داستان تھی:
اول: عبداللہ بن وھب سبائی جو علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے زمانے میں زندگی کرتا تھا وہ خوارج گروہ کا سردار تھا لیکن علماء کی ایک مخصوص تعداد کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا ۔
دوم: وہ عبداللہ بن سبا جو ابن سودا کے نام سے مشہور تھا سیف کے کہنے کے مطابق یہ عبد اللہ سبا فرقہ ” سبائیہ “ کا بانی کہ جو علی علیہ السلام کی رجعت اور وصایت کا معتقد تھا اس نے اکثر اسلامی ممالک اور شہروںمیں فتنے اور بغاوتیں برپا کی ہیں ، لوگوں کو گورنروں اور حکمرانوں کے خلاف اکساتا تھا نتیجہ کے طورپر سبائی مختلف شہروںسے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پر جمع ہونے کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ عثمان کو قتل کر ڈالا یہ وہی تھے جنہوں نے جنگ جمل کی آگ بھڑکا ئی اور مسلمانوں میں ایک زبردست قتل عام کرایا ۔
سوم : عبداللہ سبائی ، غالی ، انتہا پسند تیسرا عبداللہ سبا ہے وہ فرقہٴ سبئیہ کا بانی تھا جو علی علیہ السلام کے بارے میں غلو کرکے انکی الوہیت کا قائل ہوا تھا ۔
پہلا عبداللہ سبائی حقیقت میں وجود رکھتا تھا اور علی ابن ابیطالب کے زمانہ میں زندگی بسر کرتا تھا اپنے حقیقی روپ میں کم و بیش تاریخ کی کتابوں میں درج ہو اہے دوسرا عبدللہ بن سبا وہ ہے جسے بنی امیہ کی حکومت کے اواخر میں سیف کے طاقتور ہاتھوں سے جعل کیا گیا ہے اس کی زندگی کے بارے میں روایتیں اسی صورت میں تاریخ کی کتابوں میں ہیں جیسے سیف نے اسے جعل کیاہے ۔
لیکن تیسرا عبداللہ بن سبا ، جو تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوا ہے اس کے بارے میں روایتیں دن بہ دن وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی ہیں اور اسکے بارے میں مختلف داستانیں و مطالب مفصل طورپر نقل کئے گئے ہیں کہ تاریخ ، رجال او رمخصوصاً ادیان و عقائد کی کتابیں ان سے بھری پڑی ہیں ۔
ایک مختصر بحث و تحقیق کے پیش نظر شاید اس روداد کی علت اور راز یہ ہو کہ عبداللہ بن وھب سبائی یا پہلا عبداللہ چونکہ حقیقت میں وجود رکھتا تھا اس کے بارے میں سر گزشت اور روایتیں جس طرح موجود تھیں اسی طرح تاریخ میں آگئی ہیں اور اسی مقدار کے ساتھ اختتام کو پہنچی ہیں لیکن دوسرا عبداللہ بن سبا ، چونکہ اس کو خلق کرنے والا سیف بن عمر ہے اس لئے اس نے اس افسانہ کو حسب پسند اپنے خیال میں تجسم کرکے جعل کیا ہے اس کے بعد اسے اپنی کتاب میں درج کیا ہے اور بعد والے مؤرخین نے بھی اسی جعل کردہ افسانہ کو اس سے نقل کرکے اپنی کتابوںمیں درج کیاہے اس لحاظ سے ان دو عبد اللہ بن سبا کے بارے میں اخبار رو روایتوں میں زمانہ اور صدیاں گزرنے کے باوجو دکوئی خاص فرق نہیں آیا ہے ۔
لیکن ، تیسرا عبداللہ سبا چونکہ مؤرخین اور ادیان و عقائد کے علماء نے اس کے بارے میں روایتوں اور داستانوں کو عام لوگوں اور گلی کوچوں سے لیا ہے اور عام لوگوں کی جعلیات میں بھی ہر زمانے میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ اس لئے تیسرے عبداللہ بن سبا کے افسانہ میں زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ وسعت پیدا ہوکر تغیرات آگئے ہیں تیسری صدی ہجری کے آواخر سے نویںصدی ہجری تک کتابوں میں عبداللہ بن سبا کی شناخت یوں کرائی گئی ہے ؛
الف ) عبداللہ سبا وہی ہے جو علی علیہ السلام کی خلافت کیلئے بیعت کے اختتام پر حضرت کی تقریر کے بعد اٹھا اور بولا: ” یاعلی ! تم کائنات کے خالق ہو اور رزق پانے والوں کو رزق دینے والے ہو !“ امام علیہ السلام اس کے اس بیان سے بے چین ہوئے اور اسے مدینہ سے مدائن جلا وطن کیا اس کے بعد ان کے حکم کے مطابق ان کے ’ سبئیہ “ نامی گیارہ ماننے والوں کو گرفتار کرکے آگ میںجلادیا ، ان گیارہ افراد کی قبریں اسی سرزمین صحرا میں معروف ہیں ۔
ب) عبداللہ بن سبا ، وہی ہے جس نے امام علی علیہ السلام کے بارے میں غلو کیا ہے اور انہیںپناہ خدا تصور کیا، لوگوں کو اپنے اس باطل عقیدہ کی طرف دعوت دی ،ایک گروہ نے اس کی اس دعوت کو قبول کیا ،علی علیہ السلام نے بھی اس گروہ میں سے بعض افراد کو آگ کے دو گڑھوں میں ڈال کرجلا دیا یہاں پر بعض شعراء نے کہاہے :
لترم بی الحوادث حیث شاءَ ت

اذا لم ترم فی الحضرتین
یعنی : حوادث روزگار ہمیں جس خطرناک عذاب میں ڈال دےں،ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے مگر ہمیں علی علیہ السلام آگ کے ان دو گڑھوں میں نہ ڈالےں ۔
علی علیہ السلام نے جب ابن سبا کے اس غلو و انحراف کا مشاہدہ کیا تو اسے مدائن میں جلاوطن کردیا وہ علی علیہ السلام کی رحلت کی خبر سننے تک مدائن میں تھا ،اس خبر کو سننے کے بعد اس نے کہا: علی علیہ السلام نہیں مرے ہےں ، جو مرگیا ہے وہ علی علیہ السلام نہیں تھے بلکہ شیطان تھا ، جو علی علیہ السلام کے روپ میں ظاہر ہوا تھا کیوں کہ علی علیہ السلام نہیں مرےں گے بلکہ انھوںنے عیسیٰ کے مانند آسمانوں کی طرف پرواز کی ہے اور ایک دن زمین پر اترکر دشمنوں سے انتقام لیں گے!
ج) عبداللہ سبا وہی ہے جس نے کہا: علی خدا ہےں اور میں ان کا پیغمبر ہوں علی علیہ السلام نے اسے گرفتار کرکے جیل میںڈال دیا ۔ عبداللہ بن سبا تین دن رات تک اسی زندان میںرہا ،اس مدت کے دوران اس سے درخواست کرتے تھے کہ توبہ کرے اور اپنے باطل عقیدہ کو چھوڑدے ،لیکن اس نے توبہ نہیں کی ،علی علیہ السلام نے اسے جلادیا اس روداد کے بارے میں علی نے یہ شعرپڑھا :
لما رایت الامر منکرا اوقدت ناری و دعوت قنبراً
” جب میںنے ناشائستہ عمل دیکھا، اپنی آگ کو شعلہ ور کرکے قنبر کو بلایا “
د) عبداللہ بن سبا وہی تھا جب امام علی بن ابیطالب علیہ السلام نے اسکے سامنے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے تو اس نے امام پر اعتراض کیا اورکہا؛ کیا خدائے تعالیٰ ہر جگہ پر نہیں ہے؟!! کیوں دعا کے وقت اپنے ہاتھ کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہو ؟
ھ ) عبداللہ بن سبا وہی ہے جو اپنے ماننے والوں کے ہمراہ امام کی خدمت میں آ کر کہنے لگا: اے علی علیہ السلام تم خدا ہو ! علی علیہ السلام نے بھی ان کی کفر آمیز باتوں کے جرم میں ان سب کو آگ میں جلادیا ،ان کو ایک ایک کرکے آگ میں ڈالتے وقت وہ کہتے تھے :اب ہمیں یقین ہوگیا کہ علی علیہ السلام ہی خدا ہےں ، کیونکہ خدا کے علاوہ کوئی اور کسی کو آگ سے معذّب نہیں کرتا ہے !
ز) عبداللہ بن سبا پہلا شخص تھا جس نے ابوبکر، عمر، عثمان، اورپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام اصحاب کی مذمت و سرزنش کی اور ان سے بیزاری کی ، مسیب بن نجیہ نے اسے گرفتار کیا اور گھسیٹتے ہوئے امام کے پاس لے آیا ،حضرت نے پہلے ابو بکر و عمر کی ثنا خوانی کی اور ان کااحترام کیا، اس کے بعد فرمایا: جو بھی مجھے ان سے برتروافضل جانے گا میں اس پر افتراء کی حد جاری کروں گا ، اس کے بعد اسے مدائن جلا وطن کردیا۔
ح) عبداللہ بن سبا ، وہی تھا کہ علی کو مرنے کے بعد بھی زندہ جانتا تھا جب وہ مدائن میں جلاوطنی کے دن گزاررہاتھااور اس سے علی علیہ السلام کی رحلت کی خبر دی گئی ،تو اس نے اس خبر کو قبول نہیں کیا جس نے یہ خبر دی تھی اسے کہا: اے دشمن خدا ! خدا کی قسم تو جھوٹ بول رہاہے ،اگر علی علیہ السلام کے سر کی کھوپڑی بھی میرے سامنے لاؤ گے اور ستر عادل مومن گواہی دیں گے کہ علی علیہ السلام وفات کرگئے ہیں پھر بھی میں تیری بات کی تصدیق نہیں کروں گا کیونکہ میں جانتاہوں کہ علی ابن ابیطالب علیہ السلام نہیں مریں گے اور نہ قتل کئے جائیں گے یہاں تک کہ پوری دنیا پر حکمرانی کریں گے،اس کے بعد عبداللہ بن سبا اسی دن اپنے ساتھیوں کے ہمرا ہ مدائن سے کوفہ کی طرف روانہ ہوگیا وہ علی کے گھر کے دروازے پر پہنچے دوروازہ پر کھڑے ہو کر جس طرح کسی زندہ انسان سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہتے ہیں علی علیہ السلام سے اجازت طلب کی ،امام کے خاندان والوں نے ان کی رحلت کی خبر دی ، انہوںنے علی کی وفات کو قبول نہیں کیا اورا مام کی رحلت کے بارے میں امام کے اہل بیت علیہم السلام کی بات کو ماننے سے انکار کیا اور اسے جھوٹ کہا:
یہ تھاان مطالب کا ایک خلاصہ جو تیسرے عبداللہ سبا کے بارے میں کہے گئے ہیں اور اسکی زندگی کے حالات اورعقیدہ کے طور پر کتابوںمیں ثبت ہوکر رائج ہوئے ہیں اسی کے بارے میںمزید کہا گیا ہے: عبداللہ بن سبا وہی ابن سودا ہے یعنی ایک سیاہ فام کنیز کا بیٹا ، اس کے باوجود معروف یہ ہے ابن سبااور ابن السوداء دوا فراد اور الگ الگ دوشخصیتیں ہیں ۔
اور کہا گیا ہے کہ : دوسرا عبداللہ بن سباحیر ہ کے یہودیوں میں سے تھا ، اس نے علی علیہ السلام اور اس کی اولاد کے بارے میں تاٴویلات کرکے مسلمانوں کے دین کو فاسد و منحرف کرنا چاہا تا کہ مسلمان علی علیہ السلام اور ان کے فرزندوں کے بارے میں وہی اعتقاد پیدا کریں جو عیسائی حضرات عیسیٰ کے بارے میں رکھتے ہیں اس کے علاوہ وہ کوفہ کے لوگوں پرریاست اور سرپرستی کرنا چاہتا تھا ۔ اس لئے اس نے کوفہ کے لوگوںمیں افواہ پھیلائی کہ توریت میں آیا ہے ” ہر پیغمبر کا ایک وصی ہے اور علی علیہ السلام بھی محمد خاتم النبیین صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم کے وصی ہیں “ لوگوں نے یہ بات اس سے سن کر علی علیہ السلام کو پہنچا دی کہ ابن سوداء آپ کے دوستدا روں اور چاہنے والوں میں سے ہے ، علی( علیہ السلام )نے اس کا کافی احترام کرتے اور اسے اپنے منبر کے نیچے بٹھاتے تھے لیکن جس دن علی علیہ السلام کے بارے میں عبداللہ کا غلو ظاہر ہواا ور حضرت تک پہنچا تو حضرت نے اس کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن چونکہ حضرت اس کے ماننے والوں کے فساد و بغاوت سے ڈر گئے اس لئے اس کے قتل سے منصرف ہوئے اور عبداللہ بن سبا کو مدائن جلاوطن کیا جب اس نے مدائن میں گروہ رافضہ سبیئہ کو کفر و بے دینی میں شدیدترین اور منحرف ترین افراد پایا تووہ ان کے ساتھ جاملا ۔
گروہ سبئیہ جن کا بانی یہی تیسرا عبداللہ سبا تھا،کہتے تھے:
علی علیہ السلام بادلوں میں ہے ، رعد اس کی آواز اور برق اس کا تازیانہ ہے اور جب بھی رعد کی آواز ان کے کانوں تک پہنچتی ہے اس کے مقابلے میں کھڑے ہوکر تعظیم و احترام کے ساتھ کہتے ہیں:
السلام علیک یا امیر المؤمنین
یہ گروہ سبئیہ وہی ہیں جو کہتے ہیں : امام علی ابن ابیطالب وہی مہدی موعود ہیں کہ دنیا اس کے انتظار میں ہے
وہ تناسخ کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں : ائمہ اہل بیت علیہم السلام خداکا جزء ہیں ۔
وہ کہتے ہیں : ’ خدا کے ایک جز ء نے علی علیہ السلام میں حلول کیا ہے “
وہ کہتے ہیں : ” ہمارے ہاتھ میں جو قرآن ہے وہ حقیقی قرآن کے نو حصوں میں سے ایک حصہ ہے کہ اس کا پورا علم علی علیہ السلام کے پاس ہے۔
وہ ” ناووسیہ “ سے متحد ہیں اور کہتے ہیں : جعفر بن محمد علیہما السلام تمام تعالیم اور احکام دین کے عالم ہیں۔
انہوں نے ہی مختار کو نبوت کا دعویٰ کرنے پر مجبور کیا ۔
یہ وہی فرقہ ” طیارہ “ ہے جو کہ کہتے ہیں : ان کی موت ان کی روح کا عالم بالا کی طرف پرواز کے علاوہ کچھ نہیں ہے ،مزید کہتے ہیں : روح القدس عیسیٰ سے محمد میں منتقل ہوا ہے اور محمد سے علی میں اور ان سے حسن و حسین علیہما السلام میں اور ان سے دیگر ائمہ میںجو ان کی اولاد ہیں ۔
وہ اسی عمر ابن حرث کندی کے اصحاب ہیں جس نے اپنے ماننے والوں کو دن رات کے اندر سترہ (۱۷) نمازیں واجب کیں کہ ہر نمازپندرہ رکعت کی تھی یہ گروہ اعتقاد رکھتاتھاکہ علی نہیں مرے ہیں بلکہ اپنی ُمخلوق سے ناراض ہو کرکے ان سے غائب ہوگئے ہیں اور ایک دن ظہور کریں گے وہ ، وہی خشبیہفرقہ ہے جو مختار کا ماننے والا ہے ۔
وہ ، وہی گروہ ممطورہ ہیں ۔
اسی طرح وہ دوسرے دسیوں گروہ ہیں ․․․!جو تیسرے عبداللہ بن سبا کے پیرو گروہ ” سبئیہ“ کے بارے میںنقل ہوئے ہیں ۔
ہم نے جعل کئے گئے فرقہ سبائی کے بارے میں ان بیہودگیوں ، بہتانوں ، ملاوٹوں اور تحریفات کو دیکھا ۔ اگلی فصلوں میں ان کے بانی عبدللہ سبائی پر بحث و تحقیق کریں گے ۔
جعل و تحریف کے محرکات
انھا کانت تدمغ ائمة اھل البیت فی جمیع العصور
یہ جعلیات اور افسانے تمام زمانوں میں شیعوں کو نقصان پہنچانے اور انھیں کچلنے کیلئے تھے ۔
مؤلف
اگر ہم تمدن اسلامی کے بعض مواقع کے بارے میں ایجاد کی گئی تحریفات اور تغیرات پر دقیق بحث و تحقیق کریں گے تو ہمیںمعلوم ہوگا کہ ان تحریفا ت میں سے بعض مؤلفین کی غلطیوں کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں ان غلطیوں سے دوچار ہونے والے افراد ، انکی اشاعت کرنے میں شاید سیاسی محرک یا خاندانی تعصب یا مذہبی تعصب کار فرما نہیں تھا ۔
لیکن افسانہ عبداللہ بن سبا اور سبئیہ کے جعل و نشر میں عام طور پر ملوث افراد اور خصوصی طورپر وقت کی حکومتیں مختلف عزائم اور محرکات رکھتی تھےں ، کیونکہ :
۱) افسانہ عبد اللہ بن سبا ، اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہونے والے اعتراضات اور تنقیدوں پر پردہ پوشی کرتاہے اور انہیں ان اعتراضات سے پاک ، منزہ اور مبرا کرتا ہے یہ ایک بہت نازک اور سیاسی مطلب ہے جو تمام ادوار میںلوگوں کے مختلف طبقات اور صاحب قدرت اور حکومتوں کا پسندیدہ تھا ۔
۲۔ یہ افسانہ اسلام کی ابتدائی صدیوں کے تمام تاریخی مظالم ، عیوب ، خطاؤں اور گناہوں کو قبائل قحطان کی گردن پر ڈالتا ہے اور اس کے مقابلہ میں تمام فضائل و تاریخی کارناموں کو قبائل عدنان سے نسبت دیتا ہے چونکہ خاندان عباسی کے اواخر تک حکومتیں قبیلہ قریش اور عدنانیوں میں رہی ہیں ،یہ لوگ قحطانیوں اور سبائیوں سے عداوت اور شدید مخالفت رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اس افسانہ کی اشاعت اور ترویج میں جو ان حکومتوں کے حق میں اور ان کے دشمنوں کے نقصانات میں تھا ۔ تمام قدرت اور پوری طاقت کے ساتھ ہر ممکن کوشش کی ۔
۳۔ ان سب سے اہم یہ کہ یہ افسانہ خلفاء کی حکومت کے مخالفوں ---جو خاندان عصمت کے شیعہ تھے ----پر کفر و الحاد د کا الزام لگا کر انہیں دین و مذہب سے خارج کرتا ہے کیونکہ یہ لوگ خلفای عثمانی کے دور تک تمام ادوار میں حتی آج تک وقت کی حکومتوں کے مخالف تھے ۔ خود یہی افسانہ ہے جس نے گزشتہ زمانہ میں وقت کی حکومتوں کیلئے شیعوں پر حملہ کرنے کا راستہ ہموار کیا ہے اور شیعوں پر ہم قسم کے دباؤ ، مشکلات ، اور دشواریاں ایجاد کرنے کیلئے حکومتوں کیلئے قوی سہار ااور مضبوط دستا ویز کا کام کیاہوا ہے بالکل واضح ہے کہ وقت کی حکومت اس قسم کی فرصت سے فائدہ اٹھانے کی پوری پوری کوشش کرتی اور اس قسم کے وسیلہ کی تائید و تثبیت کرنے کیلے پوری طاقت اور قدرت کو بروئے کار لائی ہے۔
خود یہی محرک اور اس کے علاوہ دوسرے محرکات تھے جس نے اس افسانہ کو وجودبخشانیز اس کو اشاعت اورشہرت دی اور اس سلسلے میں علماء و محققین پر بحث و تحقیق کے دروازے مسدودکردئیے یہاں تک خداوند عالم نے اس پر بحث و تحقیق کرنے کی توفیق ہمیں عنایت فرمائی ولله الحمد و المنة
سیف کی دوسری تحریفات اور جعلیات
سیف کی جعلیات و تحریفات صرف افسانہ عبداللہ بن سبا تک ہی محدود نہیں تھیں بلکہ اس سے پہلے اشارہ کئے گئے محرکات کے علاوہ اپنے الحاد اور زندقہ کے محرکات کے پیش نظر بھی فراوان افسانے جعل کئے ہیں اور ان افسانو ں کیلئے سورما بھی خلق کئے ہیں جن کی تحقیق کیلئے ہم نے کئی کتابیں جیسے : ”خمسون و ماٴة صحابی مختلق “یعنی ”ایک سو پچاس جعلی اصحاب“ ” رواة مختلقون “ یعنی ”جعلی راوی “ اور ” عبداللہ بن سبا‘ ‘تالیف کی ان کتابوں میں ضمنی طو رپر ان سوالات کا جواب بھی آیا ہے کہ :
یہ تاریخ اسلام میں یہ تحریفات ، تبدیلیاں اور جعلیات کیوں اور کیسے وجود میں آئے ہیں ؟!
تاریخ اور حدیث کے علماء نے اس کے مقابلہ میں کیوں بالکل خاموشی اختیار کی ہے اور گزشتہ کئی صدیوں کے دوران اس سلسلہ میں کسی قسم کی تحقیق اورجانچ پڑتال نہیں کی گئی ہے ؟!اس کے علاوہ ہم نے کتاب ” عبد اللہ بن سبا“ ۱ کی فصل ” تحریف و تبدیل “ میں اس بات کی طرف اشارہ
کیا ہے کہ سیف بن عمر نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے قاتل عبدالرحمان ابن ملجم کے نام کو کیسے خالد بن ملجم میں تحریف کرکے اسے علی علیہ السلام کے بارے میںغلو کرنے والے فرقہ ” سبئیہ “ کی ایک بزرگ شخصیت دکھا یا ہے اس کے علاوہ پیغمبر صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی ” خزیمة بن ثابت انصاری “ کو کیسے دو اشخاص : ایک ” ذو الشہادتین “ کے نام سے اور دوسرے کو ”غیر ذو الشہادتین “کے نام سے پیش کیا ہے اسی طرح ” سماک بن خرشہ انصاری “ کو دو اشخاص دکھائے ہیں ایک معروف بہ ابو دجانہ اور دوسرا غیر ابودجانہ ، اور عبداللہ بن سباکو بھی دو اشخاص دکھانے میں کامیاب ہوا ہے ایک ابن وھب سبائی جو علی علیہ السلام کی خلافت کے دوران گروہ خوارج کا سردار تھا اور دوسرا ابن سبا جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا اوراس نے کسی ماں سے جنم ہی نہیں لیا تھا بلکہ یہ سیف کے ذہن کی پیدا وار تھا اس لحاظ سے تاریخ اسلام میں جعل ، تحریف او رتخلیق سیف کی باضابطہ ہنر مندی اور معمول کے مطابق پیشہ تھا اور اس میں کسی قسم کے چون و چرا اور تعجب و حیرت کی بالکل گنجائش نہیں ہے پھر بھی ان تحریفات و جعلیات کے مقابلہ میں علماء کی خاموشی تازہ نہیں تھی اور افسانہٴ عبداللہ بن سبا سے ہی مخصوص نہیں تھی کہ جو ایک فرد محقق کیلئے بُعد اور ناقابل قبول اور ناقابل حل دکھائی دے ۔
--------------------------
۱۔ اس کتاب کی جلد دوم فارسی ترجمہ ۱۹۲ و ۲۰۴ ملاحظہ ہو۔
پانچ جعلی اصحاب
یاددہانی کے طور پر سیف کے سورماؤں کو تخلیق کرنے کے کارنامے اور ان کارناموں کے نمونے پیش کرنے کے لئے یہا ںپر مناسب ہے درج ذیل پانچ افسانوی اصحاب کی طرف اشارہ کریں۔
۱۔ قعقاع بن عمر و بن مالک تمیمی اسیدی: سیف نے اسے ایک زبردست اور الہام شدہ شاعر، پیغمبر کا صحابی اور لشکر اسلام کے کمانڈر کی حیثیت سے پہچنوایا ہے سنی اور شیعہ علماء نے بھی اس کی زندگی کے حالات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ہم نے بھی اپنی کتاب” ۱۵۰ جعلی اصحاب “ میں ۱۴۰ صفحات پر اس کے افسانہ پر بحث و تحقیق کی ہے ۔
۲۔ عاصم بن عمر و، قعقاع کا بھائی
۳۔ نافع بن سود بن قطبة بن مالک تمیمی اسیدی ،قعقاع کا چچیرا بھائی ۔
۴۔زیاد بن حنظلہ تمیمی
۵۔ طاہر بن ابی ہالہ خدیجہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی بیوی کا بیٹا ۔
اس قسم کے افسانوی افراد بہت زیاد ہیں جنہیں سیف نے اپنے تصوراور خیال میںخلق کیاہے ا ور انہیں بعنوان : راوی ،شاعر ،صحابی یا جنگی سورما وغیرہ کی صورت میں پیش کیاہے ۔ اسلامی تمدن کی حسب ذیل شیعہ و سنی کتابوں میں ان کا ذکر آیا ہے :
اہل سنت علماء کی کتابیں
۱۔ سیف بن عمر تمیمی ( وفات تقریباً ۱۷۰ ھء) نے اپنی دو کتابوں :”الجمل ‘’ اور ”الفتوح “ میں۔
۲۔ طبری ( وفات ۳۱۰ ھء) نے اپنی ”تاریخ“ میں ۔
۳۔ بغوی ( وفات ۳۱۷ھء) نے اپنی” معجم الصحابہ“ میں
۴۔ رازی ( وفات ۳۲۷ ھء) نے اپنی ”الجرح و التعدیل “میں
۵۔ ابن سکن ( وفات ۳۵۳ھف) نے اپنی ”حروف الصحابہ“ میں ۔
۶۔ اصفہانی ( وفات ۳۵۶ھء) نے اپنی ”اغانی “میں
۷۔ مرزبانی (وفات ۳۷۴ھء) نے اپنی ” معجم الشعراء “ میں
۸۔ دار قطنی ( وفات ۳۸۵ھء) نے اپنی کتاب ” المؤتلف و المختلف “ میں
۹۔ ابو نعیم ( وفات ۴۳۰ ھء) نے اپنی ”تاریخ اصفہان“ میں
۱۰ ۔ ابن عبد البر (وفات ۴۳۰ ھء) نے اپنی” استیعاب“ میں۔
۱۱۔ابن ماکولا ( وفات ۴۷۵ ھء) نے ”الاکمال “میں ۔
۱۲۔ ابن بدرون ( وفات ۵۶۰ھء) نے” شرح قصیدہ ابن عبدون“ میں
۱۳۔ ابن عساکر ( وفات ۵۷۱ھء) نے اپنی ”تاریخ دمشق “میں
۱۴۔ حموی وفات ( ۶۲۶ئھ) نے ” معجم البلدان “میں ۔
۱۶۔ ابن اثیر (وفات ۶۳۰ئھ ) نے ”الکامل التاریخ“ میں
۱۷ ۔ابن اثیر (وفات ۶۳۰ئھ ) نے ”اسد الغابہ“ میں ۔
۱۸۔ ذہبی ( وفات ۷۴۸ئة نے ”النبلاء“ میں ۔
۱۹۔ ذہبی ( وفات ۷۴۸ئة نے ”تجرید الاسماء الصحابہ“ میں
۲۰۔ ابن کثیر ( وفات ۷۷۰ ھء) اپنی” تاریخ “میں
۲۰۔ ابن خلدون (وفات ۸۰۸ئھ) نے اپنی” تاریخ“ میں
۲۱۔ حمیری ( وفات ۸۲۶ھء) نے اپنی” روض المعطار“ میں ۔ اس کتاب کی تاریخ تالیف ۸۲۶ئھ ہے۔
۲۲۔ ابن حجر ( ۸۵۲ئھ) نے اپنی ”اصابہ“ میں ۔
۲۳۔ ابن بدان ( وفات ۱۳۴۶ئھ) نے اپنی” تہذیب تاریخ ابن عساکر“ میں ۔
شیعہ علماء کی کتابیں
بعض شیعہ علماء ۱ اور مؤرخین نے اہل سنت کی کتابو ںپر اعتماد کی وجہ سے ان ہی افسانوی افراد کے نام
-----------------
۱۔ علمائے شیعہ نے فقہ کے علاوہ تمام موضوعات جیسے : تفسیر ، سیرت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، رجال اور تاریخ میں علمائے سنی سے کثرت سے نقل کیا ہے ۔
اور ان کی رواتیوں اور داستانوں ۱ کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ، جیسے :
۱۔ نصر بن مزاحم ( وفات ۲۱۲ ھء) اس کے اپنی کتابوں میں درج کئے بعض مطالب میں سے بعض کو اپنی کتاب ” وقعة الصفین “ میں نقل کیا ہے ۔
۲۔ شیخ طوسی ( وفات ۴۶۰ ) نے اپنی ” رجال میں ۔
۳۔ قہبائی نے ” مجمع الرجال “ میں ۱۰۱۶ ئھ ُمیں ا س کی تالیف سے فارغ ہو اہے ۔
۴۔ اردبیلی ( وفات ۱۱۰۱ھء) نے ” جامع الرواة میں۔
۵۔ مامقانی ( وفات ۱۳۵۲ئھ) نے ” تنقیح المقال “میں ۔
۶۔ سید عبدالحسین شر ف ا لدین ( ۱۳۷۷ھء) نے ”الفصول المہمة“میں
۷۔ تستری ”معاصر قاموس الرجال“ میں
نتیجہ
اس بحث و گفتگو سے جو نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ : تاریخ اسلام میں پیدا ہوئے یہ تمام جعلیات ، تحریفات اور اختلافات علماء ، اور مؤلفیں کیلئے پوشیدہ اور ناشناختہ رہے ہیں اسلئے انہوں نے تحقیق و تجسس کے بغیر ان جعلی افراد اور ان کی جھوٹی افسانوی داستانوں اور روایتوں کواپنی کتابوں میں درج کیا ہے اوریہی امر اس بات کی علامت ہے کہ عبداللہ بن سبا کا افسانہ بھی مؤرخین اور مؤلفین
اور علم رجال و ادیان کے علماء سے پوشیدہ اور غیر معروف رہ گیا ہے ۔
-------------------
۱۔ مصنف کی کتاب ” ایک سو پچاس جعلی اصحاب “ اس افسانوی صحابی کے حالات ملاحظہ ہوں ۔

عبد اللہ سبائی کی عبداللہ بن سبا سے تحریف
لیس غریبا من سیف ھذا الدس و التحریف و الاختلاق
سیف جیسے شخص سے اس قسم کی ملاوٹ ، تحریف اور جعل بعید اور تعجب آور نہیں ہے ۔
مؤلف
ہم نے گزشتہ فصل میں کہا کہ اسلامی لغات میں عبداللہ بن سبا تین مختلف چہروں ،قیافوں اور شخصیات میں پایا جاتاہے اور ہر قیافہ وشخصیت کیلئے مخصوص روایتیں اور داستانیں نقل کی گئی ہیں خاص کر تیسرے عبداللہ سبا کیلئے بڑی مفصل روایتیں اور داستانیں درج کی گئی ہیں ۔
مذکورہ تین عبداللہ بن سبا میں سے صرف پہلا عبداللہ بن وھب سبائی وجود رکھتا تھا باقی افسانہ کے علاوہ کچھ نہیں تھے ۔
عبداللہ بن وھب سبائی جو حقیقت میں وجود رکھتا تھا کی داستان کا خلاصہ یوں ہے :
وہ علی علیہ السلام کے زمانے میں زندگی بسرکرتا تھا اور پہلے حضرت کے طرفداروں میں سے تھا لیکن اس نے جنگ صفین میں حَکَمیت کے بارے میںعلی علیہ السلام پر اعتراض کیا اور اس کے بعد اس کی علی سے عداوت اور مخالفت شروع ہوگئی ا س کے ہم فکر علی کے بعض مخالفین اس سے جا ملے اور اجتماعی طور پر حضرت علی علیہ السلام کے خلاف بغاوت کی اور جنگ نہروان کو وجود میں لانے کا سبب بنا عبداللہ اس جنگ میں مارا گیا بعد کے ادوار میں ابن عبداللہ بن وھب سبائی ایک مرموز اور افسانوی یہودی عبدالله بن سبائی میں تبدیل ہواا ور ” سبئیہ نامی “ ایک جدید مذہبی فرقہ کے بانی کے طور پر پہچانا گیا ۔
یہ عبداللہ سباء دوم تحریف شدہ افسانوی بھی پہلے سیف کے وسط سے وصایت علی علیہ السلام کے معتقد فرقہ ” سبئیہ “ کا بانی معرفی کیا گیا اس کے بعد زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی زبانوں پر افواہوں کے ذریعہ تغیرات اور تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے ’ سبیئہ “ نام ایک فرقہ غالی ---جو علی علیہ السلام کی الوہیت کا قائل تھا-- کے بانی کے طور پرنمایاں ہوا س کے بارے میں روایتوں اور داستانوں میں بھی دن بہ د ن وسعت پیدا ہوتی گئی اور ا س طرح فرقہ سبئیہ کا افسانہ وجود میں اگیا۔
کئی ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے ان افسانوں کےلئے اسناد و مآخذ جعل کئے جیساکہ ہم نے گزشتہ فصلوںمیںمشاہدہ کیا کہ افسانہ نسناس کیلئے کس طرح محکم اور مضبوط اسناد جعل کئے گئے تھے۔
اگر سوال کیا جائے کہ : یہ سب تحریف اور جعل و افسانے کیسے انجام پائے ہیں اور گزشتہ کئی صدیوں کے دوران اکثر علماء و مؤرخین سے پوشیدہ رہے ہیں ! اس کا جواب یہ ہے کہ تاریخ اسلام میں مسئلہ تحریف لفظ عبداللہ یا ”سبئیہ “ سے مخصوص نہیں ہے کہ جدید اور ناقابل یقین ہو اور بعید نظر آئے، بلکہ تاریخ اسلام میں اس قسم کی تحریفات اورتغیرات کثرت سے ملتے ہیں ،یہاں تک کہ بعض علماء نے اس سلسلہ میں مستقل کتابیں لکھی ہیں کہ ہم یہاں پر اپنی بات کے شاہد کے طور پر اس فہرست کے چند نمونے درج کرتے ہیں:
۱۔ ابو احمد عسکری ( وفات ۳۸۲ ھء) نے شرح ما یقع فیہ التصحیف و التحریف ۱ نام کی ایک کتاب لکھی ہے ۔
ابو احمد عسکری اس کتاب کے مقدمہ میں کہتا ہے : میں اس کتاب میں ایسے الفاط اور کلمات کا ذکر کرتا ہوں جن میںمشابہت لفظی کی وجہ سے ان کے معنی میں تحریف و تغیرات ہوئے ہیں ۔
مزید کہتا ہے : میںنے اس سے پہلے تحریف شدہ الفاظ کے بارے میں جن کا تشخیص دینا مشکل تھا ایک بڑی اور جامع کتاب تالیف کی تا کہ اسسلسلہ میں علمائے حدیث کی مشکلات حل ہوجائیں ۔ اس کتاب میں راویوں، اصحاب ، تابعین ، اور دیگر افراد کے نام جن میں اشتباہ اور تحریف واقع ہوئی ہے ذکر کئے ہیں لیکن اس کے بعد علما ء نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ جن تحریفات کے بارے میں حدیث کے علماء کو احتیاج ہے انکو ان تحریفات سے جدا کردوں جن کی ادب اور تاریخ کے علماء کو احتیاج ہے میں نے ا ن کی درخواست قبول کرتے ہوئے ان دو حصوں کو جدا کیاا ور ہر حصہ کو ایک مستقل کتاب کی صورت میں تالیف کرکے دو الگ کتابیں آمادہ کیں ۔ ان میں سے ایک میں حدیث کے راویوں کے ناموں میں تحریف درج ہے اور دوسرے میں ادیبوں اور مؤرخین کی ضرورت کے مطابق تحریف شدہ نام ہیں ۔
ابو احمد عسکری نے اس کتاب میں بزرگ علماء جیسے: خلیل ، جاحظ، اور سجستانی ، کی غلطیوں کے بارے میں ایک مستقل باب لکھا ہے اس طرح انساب میں ہوئی غلطیوں کو ایک الگ باب میں ذکر کیا ہے۔
--------------------
۱۔یعنی جس میں تحریف و تغیر واقع ہو ا ہے اس کی تشریح۔ اس کتاب کا ایک نسخہ تحقیق عبدا لعزیز احمد ،طبع مصطفی ، ۳۸۳ ھء مؤلف کے پاس موجود ہے ۔
ابو احمد عسکری کے علاو دوسرے دانشوروں نے بھی اس موضوع پر کتابیں تالیف کی ہیں : جیسے:
۱۔ ابن حبیب ( وفات ۲۴۵ھء) نے قبائل و انساب کے بارے میں مشابہ ناموں پر ایک کتاب لکھی ہے ۔
۲۔ ابن ترکمان ( وفات ۷۴۹ ھء ) نے بھی قبائل و انساب کے ناموں کے بارے میں ایک کتاب تالیف کی ہے ۔
۳۔ آمدی ( وفات ۳۷۰ ھء) نے شعراء کے مشابہ ناموں پر ایک کتاب لکھی ہے ۔
۴۔ دار قطنی ( وفات ۳۸۵ ھء) حدیث کے راویوں کے مشابہ ناموں کے بارے میں کتاب لکھی ہے ۔
۵۔ ابن الفرضی ( وفات ۴۰۳ ھء)
۶۔ عبدا لغنی ( وفات ۴۰۹ھء)
۷۔ابن طحان الخضرمی ( وفات۴۱۴ ھء)
مذکورہ تین دانشوروں نے مشابہ نام ، القاب ،اور کنیت کے بارے میں یہ کتابیں لکھی ہیں ۔
۷۔ ابن ماکولا ( وفات ۴۷۸ ئھ )نے ” اکمال “ نامی کتاب مشابہ نام ، القاب اور کنیت کے بارے میں لکھی ہے یہ معروف اور جامع تریں کتاب ہے ۱
اسی طرح ایک دوسرے سے مشابہ نسبتوں کے بارے میں بعض علماء اور مؤلفین نے چندکتابیں تالیف کی ہیں کہ ا نمیں سے چند اشخاص کے نام حسب ذیل ہیں :
مالینی ( وفات ۴۱۲ھء)
زمخشری ( وفات ۵۴۸ھء)
حازمی ( وفات ۵۸۴ھء)
ابن باطیش ( وفات ۶۴۰ھء)
فرضی ( وفات ۷۰۰ئھ)
ذہبی ( وفات ۷۳۸ھء)
ابن حجر ( وفات ۸۵۲ھ)
-----------------
۱۔ اس کتاب کی چھ جلدیں طبع حیدر آباد سال ۱۳۸۱ ئمؤلف کے کتابخانہ میںموجود ہیں کہ حرف ”ع“ تک پہنچتا ہے ضرور چند جلدیں اور بھی ہوں گی ٌ۔
ان علماء کے بعد ، دوسرے مؤلفین نے جو کچھ گزشتہ علماء سے چھوٹ گیا تھا اور ان کی کتابوںمیں نہیں آیا تھایا ان کتابوںمیں کوئی غلطی رہ گئی تھی۔ ان کے بارے میں مستقل کتابیں تتمہ اور ضمیمہ کے طورپرلکھی ہیں چنانچہ مندرجہ ذیل اشخاص نے عبد الغنی کی کتاب پر تتمہ لکھا ھے ۔
مستغفری ( وفات ۴۳۶ ئھ) ” الزیادات “
خطیب ( وفات ۴۶۳ھء) ”الموتنف“
ابن نقطہ -( وفات ۶۲۹ھء نے بھی ” مستدرک “ نامی ایک کتاب کو ابن ماکولا کی ” اکمال “ پر تتمہ کے طور پر لکھا ہے ۔
ابن نقطہ کی کتاب پر بھی درج ذیل مؤلفین نے ضمیمے لکھے ہیں ۔
حافظ منصور ( وفت ۶۷۷ھء)
ابن صابونی (وفات ۶۸۰ئھ)
مغلطای ( وفات ۷۶۲ھء)
ابن ناصر الدین ( وفات ۸۴۲ ئھ) نے بھی ایک کتاب بنام ’ الاعلام بما فی مشتبہ الذھبی من الاوھام “ ذہبی کی کتاب پر ضمیمہ لکھا ہے ۔
لیکن مذکورہ دانشوروں ، مؤلفین اور علماء کے علاوہ ہر دوسرے مؤلفین ۱ اور علماء جو مشابہ نام ،
--------------------
۱۔ مانند خطیب کہ اس نے اس سلسلے میں ” موضح اوھام الجمع وا لتفریق‘ نامی ایک کتاب تالیف کی ہے اس کا تین جلدوں پر مشتمل ایک نسخہ مؤلف کے پاس موجود ہے اور مانند ناصر الدین کہ اس نے ” مشتبہ ذھبی “ نام کی ایک کتاب تالیف کی ہے دوسرے علماء نے بھی اس موضوع پر کتابیںلکھی ہیں اس قسم کی کتابوں کی بیشتر اطلاع حاصل کرنے کیلئے ” مصحح اکمال “ طبع حیدر آباد کے مقدمہ کی طرف رجوع کیا جائے ۔
الفاظ ، اور تحریفات کے بارے میں کوشش و تلاش اور تحقیق انجام دی ہے اس کے باوجو داسلامی لغات میں فراوان تحریف شدہ الفاظ و نامو ں کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ ان تمام دانشوروں سے چھوٹ گئے ہیں اگر ان کی جمع آوری کی جائے تو ایک بڑی اور ضخیم کتاب تشکیل پائے گی اس سلسلہ میں کیا خوب کہا گیا ہے : کم ترک الاول للآخر ، گزشتگان نے نہ جانے کتنے کام انجام نہیں دئے ہیں انہیں مستقبل میں آنے والوں کیلئے چھوڑا ہے تاکہ وہ انجام دیں ۔
گزشتہ مباحث کا خلاصہ
تاریخ میں لفظ ” سبیہ “ کا ایک سرسری جایزہ
جو کچھ ہم نے گزشتہ صفحات اورفصلوں میں ابن سباا ور سبئیہ کے افسانہ کے بارے میں بیان کیا اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے : زمان جاہلیت سے دوران حکومت بنی امیہ تک لفظ ” سبئیہ “ سبا بن یشجب و قبیلہٴ قحطان سے منسوب افراد پر دلالت کرتا تھا ان افراد میں سے ایک ” عبداللہ بن وھب سبائی “ تھا جو فرقہ خوارج کا سردار تھا ۔
لیکن قبائل عدناں اور قحطان کے درمیان مدینہ وکوفہ میں اختلاف و عداوت پیدا ہونے کے بعد ، قبائل عدنان نے اس لفظ کے معنی کو تبدیل کرکے اسے قحطانیوں کی سرزنش کے طور پر استعمال کیا اور اسے قبیلہ کی نسبت کے معنی سے قبائل قحطان اور ان کے طرفداروں کی بد گوئی اور سرزنش کے معنی میں تبدیل کیا یہ استعمال اور معنی میں تغیر بنی امیہ کی حکومت کے دوران کوفہ میں انجام پایا ۔
لیکن جب اسکے بعد سیف کا زمانہ آیا ، اور اس نے شدید خاندانی تعصب ، کفر اور زندقہ کے محرکات کے پیش نظر افسانہٴ سبئیہ کو جعل کیااور اس افسانہ میں لفظ سبیہ کو قبیلہ کی نسبت کے معنی یا سرزنش کے معنی سے تبدیل کرکے ایک جدید مذہبی فرقہ کے معنی میں تحریف کیا اور اس مذہب کے بانی کو بھی عبداللہ سبایمانی نام کے ایک شخص سے پہچنوایا ۔
فرقہٴ سبئیہ کے بانی کے نام ” عبداللہ سبا “ کو بھی سیف نے ایک خوارج کے گروہ کے سرپرست ” عبداللہ بن وھب “ کے نام سے لے کر اس میں اس طرح تحریف کی ہے جیسا کہ بلاذری ، اشعری ، اورمقریزی کے بیانات سے اس کا اشارہ ملتا ہے ۔
یا یہ کہ اس نے ایک افسانہ جعل کیاہے اور اپنے افسانہ کیلئے ایک ہیرو خلق کیا ہے اور اس ہیرو کیلئے بلا واسطہ ” عبداللہ بن سبا‘ ‘ نام رکھا ہے بغیر ا سکے کہ اس نام کو کسی اور نام سے لیا یا اقتباس کیاہو۔
بہر صورت ” عبداللہ “ کے سلسلہ میں علی علیہ والسلام و عثمان کے زمانے میں زندگی کرنے والے عبداللہ بن وھب سبائی کے علاوہ کوئی اور حقیقت نہیں ہے ۔
سیف کے افسانہ سبئیہ نے دوسری صدی ہجری اور تیسری صدی ہجری کے اوائل میں عراق کے شہروں ، جیسے : کوفہ ۱ بصرہ، بغداد اور اس کے اطراف میں شہرت پائی ۔ ان شہروں میں اسی افسانہ کے شہرت پانے کے بعد لفظ ” سبیئہ “ کا اصلی معنی ---وہی قبیلہ قحطان وسبئی کا انتساب تھا
---فراموش کیا گیا اور خاص طور پر خود سیف کے اپنے خیالات میں جعل کئے گئے اسی جدید مذہبی فرقہ
---------------------
۱۔ ابی مخنف عالم کوفی ( وفات ۱۵۷ھء) کے یہاں ہم نے افسانہ ٴ سبئیہ کے بارے میں سیف کی روایتوں میں سے ایک روایت پائی کہ اس کی مزید وضاحت کیلئے ” کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب “ کی جلد اول کے مقدمہ کی طرف کی رجوع کیا جائے
کے معنی میں استعمال ہوا۔ لیکن اسی زمانہ جب لفظ ”سبئیہ “ کوفہ اور بصرے میں اس کے جدید معنی میں
منتشر ہوا تھا، یمن، مصر اور اندلس میں اپنے اصلی اورپہلے معنی -- قبیلہٴ قحطان کے انتساب ---میں استعمال ہوتا تھا --- اس لحاظ سے دوسری صدی ہجری اور تیسری صدی ہجری کے اوائل میں لفط ” سبئیہ“ دو مختلف اور الگ الگ معنی پر دلالت کرتا تھا اسلام کے مشرقی ممالک اور شہروںمیں جدید مذہبی فرقہ کے معنی میں اور دوسرے شہروں اور ممالک میںقبیلہ کی نسبت میں ا ستعمال ہوتاتھا ۔
اس کے بعد افسانہ ” سبئیہ “ زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی زبانوں اور افواہوں کی شکل اختیار کر گیا اور گلی کوچوں کے لوگوں کے خرافات اوربیہودگیوں سے مخلوط و ممزوج ہوگیا اس طرح اس میں وسیع پیمانے پر تغیرات اور تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس کے نتیجہ میں وہی معنی مذہبی فرقہ بھی ایک خرافات پر مشتمل معنی میں تبدیل ہوگیا اور ان لوگوں کے بارے میں ا ستعمال ہونے لگا جو علی علیہ السلام کے بارے میں غلو کرکے ان کی الوہیت کے قائل تھے ۔
اس طرح افسانہ سبئی لفظ ” سبئیہ “ کے اپنے اصلی اور ابتدائی معنی یعنی قبیلہ کینسبت میں اسلامی معاشرے کے تمام ممالک اور شہروں میں منتشر ہونے کے بعد مکمل طورپر فراموشی کی نذرہو گیا اور اسی جدید مذہبی فرقہ کے معنی سے مخصوص ہو کر صرف ان افرادکے بارے میں استعمال ہونے لگا جوعلی علیہ السلام کی وصایت یاا لوہیت کے قائل ہیں ۔
تاریخ میں لفظ ” عبداللہ سبا“ کے نشیب و فراز
” عبد اللہ سبا “ چنانچہ گزشتہ صفحات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ابتداء میں اس لفظ سے علی علیہ السلام کے زمانے میںز ندگی کرنے والے اور خوارج کا سردار مقصود تھا سیف کے افسانہ سازی اور افسانہ ” سبئیہ“ کی اشاعت کے بعد ” عبدلله بن وھب “ سبائی فراموش ہوگیا اور لفظ ” عبد اللہ سبا“ یمن سے آئے ہوئے ایک گمنام ، افسانوی اور یہودی شخص کے بارے میں استعمال ہونے لگا اسی کی روایتوں کے مطابق یہ شخص علی علیہ السلام کی وصایت کا قائل تھا،لیکن زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ افسانہ سبئیہ گوناگوں نشیب و فراز سے دوچار ہواا ور اس افسانہ کے سورما عبداللہ بن سبا نے بھی قدرتی طورپر توہماتی اوراحساساتی روپ اختیار کر گیا اور علی علیہ السلام کی الوہیت کے معتقد فرقہٴ ” سبئیہ “ کو جعل کرنے والے ایک خطرناک غالی اور انتہا پسند شخص کیلئے استعمال ہونے لگا ۔
یہ تغیر اور تبدیلیاں کبھی بعض روایات کے معنی کو سمجھنے میں اشتباہ کا سبب بنتی ہیں مثلاً: عبدالله اوراس کے بارے میں روایتیں اور تاریخی روداد اور معصومین علی علیہ السلام کی احادیث بعض اوقات لفظی غلطیوں کی وجہ سے سیف کے جعل کردہ ” عبداللہ سبا “ دوم کے بارے میں تاویل و تطبیق ہوا ہے اورا س طرح تاریخی وقائع و مطالب اور معصومین علیہم السلام کی بعض احادیث میں ممزوج ہوکر تاریخ و حدیث میں قہری تحریف رونما ہوئی ہے مؤرخین کی عدم دقت و تحقیق نہ کرنے کی وجہ سے یہ اشتباہ و تحریف جبری کا سلسلہ، صدیوں تک رہاہے اور نتیجہ کے طور پر اس تحریف نے رفتہ رفتہ تاریخ میں جڑ پکڑ کر حقیقت کا روپ اختیار کرلیا ہے یہ اشتباہ اور تحریف فقط ’ عبداللہ سبا “ اور ” سبئیہ “سے مخصوس نہیں ہے بلکہ اسلامی لغات میں ا یسے ہزاروں دوسرے الفاظ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے ہیں اور علماء نے بھی ان کے بارے میں کتابیں لکھ کر ان پرتحقیق کی ہے لیکن اسکے باوجو دایسے دوسرے تحریف شدہ الفاظ کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے جن کے بارے میں غفلت ہوئی ہے اور وہ ان علماء کے قلم سے چھوٹ کر ان کی کتابوں میں درج نہیںہوئے ہیں نہ ہی ان پر تحقیق کی گئی ہے ۔
دونوں تحریف ہیں ، لیکن یہ کہاں اور وہ کہاں؟
سیف کی تحریفات بھی صرف ان ہی دو لفظوں ’ ’ عبداللہ بن سبا“ اور ” سبئیہ‘ تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس نے تاریخ اسلام میں بہت سے الفاظ میں تحریف و تبدیلی کی ہے چنانچہ ہم نے اسکے بہت حصوں کو اپنی تالیفات میں ذکر کیا ہے سیف کے علاوہ بھی بعض دوسرے افراد نے اسلامی لغت میں کچھ تحریفات ایجاد کی ہیں ۱ لیکن سیف کی تحریفات اور جعلیات دوسروں کی تحریفات و جعلیات سے کافی فرق رکھتی ہیں اس طرح کہ شاید دوسرے ایک لفظ با مطلب کو غلطی سے یا نادانستہ طور پر تحریف
-------------------
۱۔ ابن جوزی اپنی کتاب ” موضوعات “ ( ۱/ ۳۷۔۳۸ میں کہتا ہے : ابن ابی العوجا ملحد ، حماد بن سلمہ کا منہ بولا بیٹا اور تربیت یافتہ تھا ۔ وہ جھوٹی احادیث گڑھ لیتا تھا ۔ انہیں چالاکی سے اور چوری چھپے حماد کی کتاب میں وارد کرتا تھا جب کوفہ کے گورنر محمد بن سلیمان نے اسے گرفتار کیا اور حکم دیاکہ اس کا سر قلم کیا جائے اورجب اسے اپنی موت کے بارے میں یقین پیدا ہوا تو صراحت سے کہا: خداکی قسم میں نے چار ہزار حدیث خود جعل کی ہیں اور انہیں آپ کے صحیح احادیث میں ملا دیا ہے ۔
اس کے بعدابن جوزی اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے : ان زندیقوں کا کام یہ تھا کہ وہ روایات کو گڑھتے تھے اور انہیں علمائے حدیث کی کتابوں میںدرج کرتے تھے علماء بھی اس خیال سے کہ یہ احادیث ان کی اپنی ہیں ان سب کو اپنی روایتوں کے ضمن میں نقل کرتے تھے ۔
کریں یا ایک حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئےتبدیل کردیں ، لیکن سیف ہمیشہ عمداً اور خاص محرک و مقصد کے پیش نظر تحریف اور جعل کا کام انجام دیتا ہے اس خطرناک عمل سے اس کا مقصد ا س صحیح تاریخ کو آلودہ کرکے اس کی بنیادوں کوکھوکھلاو متزلزل کرنا ہے ۔ اس میں اس کا محر ک زندیق ہونا اور شدید خاندانی تعصب ہے دوسرا تفاوت یہ ہے کہ: وہ خلفاء ، قدرتمندوں کے نفع میں اورعام لوگوں کی پسند کے مطابق تاریخ اسلام میںتحریف اور جعل انجام دیتاہے ۔ اس طرح وہ تمام ادوار میں اپنے افسانوں اور جھوٹ کو رونق بخشنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ اسی رویہ کو اختیار کرنے کی وجہ سے :
اولاً: سیف کی روایتوں نے صاحبان اقتدار اور وقت کی حکومتوںمیںرونق بازار اور سرگرم طرفدارپیدا کئے اور لوگوںمیں یہ روایتیںمورد استقبال قرار پاکر رواج اور اشاعت پاگئی ہیں ۔
ثانیاً : سبئیہ کے بارے میں سیف کے جعلیات علماء اور دانشوروں سے پوشیدہ اور ناشناختہ رہے ہیں اس طرح اس کے دوسرے جعلیات اور خیالی افسانے ،سیکڑوں اصحاب اور حدیث کے راوی شعراء بھی ان علماء کی نظر میں حقیقت اور صحیح صورت میں رونما ہوئے ہیں ۔
ابن سبا اور سبئیہ کے بارے میں شیعوں کی روایتیں
عبداللہ بن سبا اور سبئیہ کے نام پر جو روایتیں و مطالب اہل سنت کی کتابوں میں ائی ہیں ، ان کے بارے میں جس طرح گزشتہ صفحات میں بیان ہو ا ، پہلے سیف نے انہیں جعل کیا ہے پھر افواہ کی صورت میں لوگوں میں پھیل گئی ہیں ان علماء اور مؤرخین نے بھی انہیں سیف اور لوگوں کی افواہوں سے لے کر اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
لیکن جو روایتیں اس بارے میںشیعوں کے ائمہ اہل بیت” علیہم السلام “ سے ہم تک پہنچی ہیں اس سلسلے میںہم پہلے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم پر دقیق علمی بحث و تحقیق کے بعد ثابت ہوا ہے کہ تاریخ اسلام میں قطعی طور پر کوئی شخص بنام عبداللہ بن سبا اور گروہ و فرقہ بنام ” سبئیہ “ حقیقت میں وجودنہیں رکھتا تھا ایک یا دو روایتوں میں کسی غیر موجود کے بارے میںنام آنے سے اسے موجودکانام نہیںدیا جا سکتا ہے اور ایکغیر موجود کو وجود نہیں بخش سکتا ہے اس بنا پر جو بھی روایت ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے نام پر عبداللہ سبا کے بارے میں شیعی کتابوں میں ائی ہے ، اگر اس روایت میں ذکر ہوئے مطالب عبداللہ بن وھب سبائی ---تاریخ اسلام میںجس کا وجود تھا اور امام علی علیہ السلام کے زمانہ میں زندگی بسر کرتا تھا--- سے تطبیق کرتے ہیں تو ایسے مطالب کے صحیح اور حقیقی ہونا کا احتمال ہے ، جیسے : ابن سبا کا امیر المومنین کا آسمان کی طرف دعا کیلئے ہاتھ اٹھانے پر اعتراض کی روایت یا عبداللہ بن سباکو مسیب کے ذریعہ علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے حضور لانے کی روائداد یا اس روایت کے مانند کہ جس کہ بارے میں کہا جاتا ہے کہ علی ابن ابیطالب عبداللہ بن سبا کی طرف سے مشکل میں تھے ۔
اس قسم کی روایتیں جو عبداللہ بن وھب سبائی کی زندگی اور روش سے تطبیق کرتی ہیں سب صحیح اور حقیقی ہوسکتی ہیں۔
لیکن ہر وہ روایت جو عبداللہ بن وھب کی زندگی اور روش سے تطبیق کرتی ہے وہ صحیح اور حقیقی نہیں ہوسکتی اور وہ جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ اسے گمنام ہاتھوں نے جعل کرکے ائمہ اہل بیت سے جھوٹی نسبت دیدی ہے ، شیعہ کتابوں میں انہیں درج کیا گیا ہے تا کہ انہیں بیشتر اشاعت مل سکے اور عوامی سطح پر قابل قبول قرار پائیں لیکن ” عبدللہ بن سبا ‘ نامی شخص یا قعقاع اورا سی کے خلق کئے گئے دوسرے افراد کبھی صحیح نہیںہوسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ’ سبئیہ“ کے بارے میں روایتوں کی شناخت کیلئے جو کلی قواعدا ور معیار ہمارے ہاتھ آیا ہے وہ یہ ہے کہ ان روایتوں میں سے جو بھی راوی قبیلہ قحطان ---جنہیں سبئیہ بھی کہتے ہے---سے تطبیق کرے اس میںصحیح اور واقعی ہونے کا امکان موجود ہے ورنہ صحیح نہیں ہوسکتی ہے کیوں کہ قحطان کے علاوہ اسلام میں سبئیہ نام کا کوئی فرقہ وجود نہیں رکھتا تھا تاکہ اس سے مربوط مطالب اور روایتیں صحیح ہوسکیں ۔
ان تمام تحقیقات اور جانچ پڑتال کے بعد کہ ہم نے حقائق کو جھوٹ اور کذب سے جداکرنے میں جو تلاش اور کوشش کی ہے اگر پھر بھی کوئی شخص ابن سبا ، سبئیہ اور سیف کی دوسری جعلیات و تحریفات کے بارے میںجنہیں ہم نے اپنی اس کتاب میںذکر کیا ہے ، اسے قبول کرنا پسند نہ کرے اور اس کے تمام منحرف انگیز اور خرافات پر مشتمل افسانوں پر ایمان لانا چاہے تو اس کی مثال ان بوڑھی عورتوں کی جیسی ہے جو خرافات پر مشتمل افسانوں پر اعتقاد رکھتی ہیں ۔
یہاں پر ہم سیف کے اپنے ذہن میںجعل کئے گئے عبداللہ بن سبا و سبئیہ اور دوسرے افسانوی سورماؤں اور افسانوں کے بارے میں اپنی بات کاخاتمہ کرتے ہیں اور بار گاہ الٰہی سے دست بہ دعا ہیں کہ علماء کو یہ توفیق عنایت فرمائے تا کہ وہ اسلامی حقائق کو افسانوی اور خرافات سے جلد از جلد جدا کریں ۔
والله ولی التوفیق وھو حسبناو نعم الوکیل
اس حصہ کے مآخذ
۱۔ خمسون و مائة صحابی مختلق ، تیسرا مقدمہ ، طبع بغداد
۲۔ عبداللہ بن سبا ، جلد اول ، حصہ سقیفہ
۳۔ نقش عائشہ جلد دوم ، عائشہ در دوران علی علیہ السلام
۴۔ تاریخ ابن اثیر : ۲/ ۵۲۔۱۵۳۱ ، حکومت علی کے دوران وقائع
۵۔ وقعة صفین : نصر بن مزاحم ۱۲
۶۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر : ۱۶۷
۷۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۳۳
۸۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۳۶
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma