مادي اور دنيوي چيزوں کي حيثيت اس سے کہيں زيادہ کم ہے جو ہم سوچتے ہيں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

مادي اور دنيوي چيزوں کي حيثيت اس سے کہيں زيادہ کم ہے جو ہم سوچتے ہيں

مادي اور دنيوي چيزوں کي حيثيت اس سے کہيں زيادہ کم ہے جو ہم سوچتے ہيں
ميرے عزيزو! ميں نے اپني اس چھوٹي سي عمر ميں زندگي کے تلخ و شيرين ذائقہ کو چکھا ہے اور اس کے فراز و نشيب کو ديکھا ہے اور اس کي عزت، ذلت، فقر اور اميري ، سختي اور آساني کا تجربہ کيا ہے تو ميں نے اپني تمام تر قوت کے ساتھ قرآن کي اس حقيقت کو درک کيا ہے
” وما الحيواة الدنيا الا متاع الغرور“(?) جي ہاں دنيا غرور و فريب کا سامان ہے اور جو ہم سوچتے ہيں اس کہيں زيادہ خالي اور بے اہميت ہے ، شاعر نے کيا خوب کہا ہے :
زندگي نقطہ مرموزي نيست
غير تبديل شب و روزي نيست
تلخ و شوري کہ بہ نام عمر است
راستي آش دہن سوزي نيست!
ابدي زندگي کا عقيدہ صرف دوسري دنيا ميں ہے جو اس زندگي کو مفہوم بخشتي ہے اور اگر وہ نہ ہوتي تو اس دنيا کي زندگي کے کوئي معني نہ ہوتے اورنہ کوئي ہدف ہوتا!
ميں نے اپني عمر ميں کوئي قيمتي چيز نہيں پائي سوائے اس کے کہ وہ انسان کي معنوي اہميت پر ختم ہوتي ہے ، اس دنيا کي تمام قيمت و اہميت ايک سراب کي طرح ہے ، انسان خواب غفلت ميں ہے ، يہ تمام تصاوير و نقوش پاني کے اوپر بنے ہوئے ہيںاور انسان اپني زندگي ميں ہميشہ رنج و غم اور مشکلات ميں گھرا رہتا ہے?
کل جو بچے تھے وہ آج جوان ہيں، اور جو آج جوان ہيں وہ کل بوڑھے ہوجائيں گے اور جو آج بورھے ہيں وہ کل کو زمين کے بستر پر آرام کررہے ہوں گے جيسا کہ کبھي وہ اس دنيا ميں تھے ہي نہيں?
جب کبھي کسي بزرگ عالم ، يا کسي شخصيت کے گھر کے پاس سے گزرتا ہوں جو کل ايک اہم شخصيت کے مالک تھے تو مجھے خيال آتا ہے کہ ايک دن اس گھر ميں کس قدر آمد ورفت تھي ، کتنا شور وغل اور کس کس کي آنکھيں اس دروازے سے وابستہ تھيں ليکن آج اس کے اوپر فراموشي کے گردو غبار پڑے ہوئے ہيں اور خاموش و ساکت ہيں ? کبھي مجھے مولي علي عليہ السلام کا وہ متنبہ کرنے والا کلام ياد آتا ہے جو آپ نے نہج البلاغہ ميں ارشاد فرمايا ہے :
فکانھم لم يکونوا للدينا عمارا و کان الاخرة لم تزل لھم دارا? گويا کہ کوئي بھي اس دنيا ميں نہيں رہتا تھا اور آخرت ان کيلئے ہميشہ کا گھر ہے(?)?
بہت سے دوستوں کو ديکھتا ہو ں کہ وہ کمر جھکائے ہوئے عصا کے سہارے جارہے ہيں چند قدم چلتے ہيں اور رک جاتے ہيں تاکہ سانس لے کر چند قدم اور چل سکيں اسي اثناء ميں مجھے ان کي جواني کا زمانہ ياد آجاتا ہے ، يہ کيا قد و قامت کے مالک تھے؟ کيا جوش و جذبہ ؟ شادماني و نشاط؟ کيسي ہنسي اور کيسے قہقہ؟ ليکن آج غم و رنج کاغبار ان کے چہرے پر پڑا ہوا ہے اور اس طرح رنجيدہ ہيں جيسے خوشحالي کي گلي سے اب ان کا گذر نہيں ہوگا?
يہاں پہنچ کر ميں پرور دگار کے بيدار کرنے والا کلام کو اپنے تمام وجود کے ساتھ محسوس کرتا ہوں
”وما ھذہ الحيواة الدنيا الا لھو و لعب(?)? اور مطمئن ہوجاتا ہوں دوسرے لوگ بھي ميري عمر تک پہنچيں گے تو اس مطلب کو سمجھيں گے?
ان تمام باتوں کے باوجود يہ مال و مقام اور جاہ وجلال کس کے لئے ہے؟ يہ تمام مال و دولت کي جمع آوري کس کے لئے ہے؟ اور يہ غفلت کہاں سے وجود ميں آتي ہے؟
ميں کچھ ايسے خاندانوں کو پہچانتا ہوں کہ جو کل سب کے سب ايک جگہ جمع تھے اور ان کے پاس بہت منصب و مقام تھے، آج وہ سب لوگ منتشر ہوگئے، ايک امريکا ميں زندگي بسر کررہا ہے دوسرا يوروپ ميںاور کوئي کہيں اوربوڑھے ماں باپ گھر ميں يکا و تنہا رہ گئے ہيں اور کبھي ماہ و سال گذر جاتے ہيں کہ نہ بچوں کي ان کو کوئي خبر ہوتي ہے اور نہ ان بچوں کو ان کي? اس وقت مجھے امام عليہ السلام کا پر نور کلام ياد آجاتا ہے :
ان شيئا ھذا آخرہ لحقيق ان يزھد في اولہ، جس چيز کي انتہاء يہ ہو اس کے لئے بہتر يہ ہے کہ اس کے شروع ميں کوئي حرص و لالچ نہ رکھا جائے(?)?
کبھي کبھي مردوں کي زيارت کيلئے خصوصا جہاں پر علماء و فضلاء کے مقبرہ بنے ہوئے ہيں وہاں گيااور ميں نے ديکھا کہ عجب ! بہت سے پرانے دوست اور عزيز وہاں آرام کر رہے ہيں ، ان کي تصويريں کامل طور سے آشنا ہيں تو گذشتہ تاريخ ميں چلا جاتا ہوں کہ کہيں ايسا نہ ہو کہ ميں بھي انہي کے درميان ميں ہوں اور خيال کر رہا ہوں کہ زندہ ہوں اور اس با صفا شاعر کے شعر کو ياد کرتا ہوں:
ہر کہ باشي و بہ ہر جا برسي
آخرين منزل ہستي اين است!

?? آل عمران، ????
?? نہج البلاغہ، خطبہ ????
?? عنکبوت، ???
?? بحار الانوار، ج ??، ص ???، ح ???
حوالہ جات:
  
    
تاریخ انتشار: « 1399/07/06 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 898