حجاب اعظم

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حجاب اعظم

ہم ترين حجاب جو انسان اور خدا کي اصل ملاقات (لقاء اللہ)ميں مانع ہے کيا ہے؟
يقينا خود خواہي(خود غرضي)، خود پسندي اور خود خيالي کے حجاب سے بدتر حجاب نہيں ہے ، کچھ بزرگان اخلاق کے بقول خدا کي راہ ميں سب سے بڑا مانع ”انانيت“ ہے اور لقاء اللہ تک پہنچنے کيلئے سب سے پہلے انانيت کو ختم کرنا ہوگا ، ليکن يہ کوئي آسان کام نہيں ہے کيونکہ اس کے ايک معني اپنے آپ سے جدا ہونے کے ہيں ?
تو خود ، حجاب خودي، حافظ از ميان بر خيز!
ليکن يہ کام تمرين ، خودسازي ، خدا سے مدد طلب کرنے اور اولياء اللہ سے توسل کرنے سے آسان ہو جاتا ہے ? جي ہاں جب تک غير خدا کي محبت و عشق دل سے پاک و صاف نہيں ہوجاتا اس وقت تک اس کا عشق و محبت رشد و نمو نہيں کرتا?
ايک ولي اللہ کے حالات ميں بيان ہو ا ہے کہ وہ اپني جواني کے زمانے ميں بہت بڑے پہلوان تھے ، ايک دن کسي نے ان کو يہ مشورہ ديا کہ يہاں کا جو معروف و مشہور اور سب سے پرانا پہلوان ہے اس سے کشتي لڑو?
جس وقت کشتي کے لئے لوگوں کے سامنے ميدان تيار ہوگيا اور دو بڑے پہلوان کشتي کے لئے تيار ہوگئے تو ايک عورت جس کے بارے ميں بعد ميں معلوم ہوا کہ وہ اس پرانے پہلوان کي ماں تھي اس عورت نے اس پہلوان کے کان ميں آکر کہا : اے جوان تمہارے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ تم کشتي کو جيت لے جاؤ گے ، ليکن تمہاري کشتي جيت لينے کي وجہ سے ہماري جو عزت ہے وہ خاک ميں مل جائے گي اور ہماري روزي ختم ہوجائے گي?
يہ جوان پہلوان يہ بات سن کر ”انانيت اور نام و مقام کو ٹھوکر مارنے کي کشمکش ميں مبتلا ہوگيا اور بالآخر اس نے ارادہ کر ہي ليا اور جب کشتي ايک حساس موڑ پر پہنچي تو اس نے اپنے آپ کو ڈھيلا چھوڑ ديا تاکہ اس کا مد مقابل اس کو مات ديدے اور دوسروں کي نظروں ميں ذليل نہ ہو?
اب خود اس کي زباني ملاحظہ فرمائيں:
جس وقت ميري کمر خاک سے ملي تو اچانک ميري آنکھوں کے سامنے سے پردے ہٹ گئے اور خدا کا جلوہ ميرے دل ميں ظاہر ہونے لگا اور جس چيز کو مجھے دل کي آنکھوں سے ديکھنا چاہئے تھا وہ ميں نے ديکھ ليا?
جي ہاں اس بت کو توڑنے کے بعد توحيد کے آثار نماياں ہوجاتے ہيں?

حوالہ جات:
  
    
تاریخ انتشار: « 1399/07/06 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 811