غلطيوں کا جبران

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

غلطيوں کا جبران

ہماراگلا قدم يہ ہے کہ ہم اس بات کو ياد رکھيں ،کہ سوائے ائمہ معصومين (ع) کے تمام انسان جايز الخطاء ہيں ، اور مختلف قسم کي لغزشوں سے دو چار ہو سکتے ہيں ?
اسي طرح شيطان بھي عظيم گناہ کا شکار ہوا، اس نے حکمت الہي کو سبک ، سجدہ ا?دم کو غير حکيمانہ شمار کيا ، اور اس کے مقابلہ ميںاپني ضد اور نافرماني کو ا?خري مرحلہ تک پہنچا ديا،اگر تعصب اورہٹ دھرمي کا پردا اس کي ا?نکھوں پر نہ پڑا ہوتا اور غرور و تکبر کے مرکب پر سوار نہ ہوتا، تو توبہ اور استغفار کے درازے اس کے لئے کھل گئے ہوتے ?ليکن اس کے غرور اور ضد نے اس کو تنھا توبہ ہي سے نہيں روکا بلکہ تمام گناہگاروں کے گناہ ميں اس کو شريک بنا ديا ، يہ ايسا سنگين بار ہے کہ جس کو برداشت کرنے کي طاقت کسي ميں نہيں ہے!
يہي وجہ ہے کہ ہمارے ا?قا مولي اميرالمومنين علي بن ابي طالب عليہ السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ ميں اس کو”فغدو اللہ امام المتعصبين و سلف المستکبرين “سے ياد فرمايا ہے ?اور ہميں نصيحت فرمائي ہے کہ ہم اس کے حال سے عبرت حاصل کريں کہ کس طرح ہزاروں سال کي عبادت اور بندگي کو ايک لمحہ کے غرور اور ضد نے ختم کر ديا ، اور اس کو فرشتوں کي صف سے نکال کر” اسفل سافلين “کي منز تک پہنچا ديا ?
ہاں ميرے عزيزو! اگر تم سے کوئي خطاء يا گناہ سرزد ہوا ہے تو ہمت و حوصلے کے ساتھ اپنے پروردگار کے حضور اس کا اعتراف کرو، اور صاف صاف کہو کہ پروردگار مجھ سے غلطي ہوئي ہے مجھے معاف اور ميرے عذر کو قبول فرما، مجھے شيطان کے بچھائے ہوئے جال اور ہوائے نفس سے رہائي عنايت فرما، کيونکہ تو ارحم الراحمين اور غفار الذنوب ہے ?
اس طرح تمہارا يہ اعتراف اور دعا تمہارے دل ميں اطمئنان کي کيفيت، اصلاح اور قرب الہي کا راستہ پيدا کريگا ? اس کے بعد ماضي کي اصلاح اور جبران کے بارے ميں کوشش کرو، ياد رکھو يہ عمل انسان کے مقام کو کم نہيں کرتا بلکہ اس کے برعکس اس کي قيمت ميں اضافہ کرتا ہے ?
قرب الہي کا راستہ وہ ہے جہاں تکبر اور مخالفت کا گزر نہيں ہے ، بہت سے لوگوں نے اس راستے پر ا?نے کي کوشش کي، ليکن اخلاقي ذلت ”غرور و تکبر “کي وجہ سے اس راستہ پر نہ ا?سکے، اور گمراہي کي تاريکي ميں سرگرداں ہو گئے ?
تکبر اور مخالفت صرف خود سازي کے راستے ميں رکاوٹ نہيں ہيں ،بلکہ اعلي علمي مقامات ، سياسي اور معاشرتي کاميابي کي راہ ميں بھي مانع ثابت ہوتے ہيں،اس طرح کے لوگ وہم و خيالات کي دنيا ميں زندگي بسر کرتے ہيں اور اسي ميں دنيا سے رخصت ہو جاتے ہيں ! حيرت کي بات يہ ہے کہ يہ لوگ اپني ناکامي اور شکست کے اسباب بيروني زندگي ميں تلاش کرتے ہيں جب کہ بدبختي کے حقيقي اسباب خود ان کے اندر موجودہوتے ہيں ?

حوالہ جات:
  
    
تاریخ انتشار: « 1399/07/06 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 839