راستہ کي ا?خري رکاوٹ!

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

راستہ کي ا?خري رکاوٹ!

راہ خدا ميں چلنے والوں کے لئے مشکل ترين کام ”اخلاص “ہے، اور اس راہ کي سب سے خطرناک رکاوٹ شرک اور ”ربا“ ہے ?
معروف حديث ہے” ان الشرک اخفي من دبيب النمل علي صفوانة سوداء في ليلة ظلماء“ (1)يہ حديث راہ خدا کے راہيوں کو لرزا ديتي ہے ? اور دوسري حديث ”ھلک العاملون الا العايدون و ھلک العايدون الا العالمون“” و ھلک الصادقون الا المخلصون“” و ان الموقنين لعلي خطر عظيم“ (2) ? يہ حديث عامل علماء کو بھي ہلاک ہونے والوں ميں شمار کر تي ہے ? اور مخلصين کو بھي ايک عظيم خطرے ميں شمار کرتي ہے،انسان کو پريشان اور سوچنے پر مجبور کرديتي ہے ?
ليکن اللہ کي رحمت عام، رحمت خاص اور اس طرح کي ا?يات” انہ لا يياس من روح اللہ الا القوم الکافرون“(3) افسردہ دل ميں اميد کي نئي کرن پيدا کرتي ہے، اور نئي زندگي پيدا کرتي ہے ?
يقينا ”اخلاص“وہ عمل ہے جو انفاق کے ثواب کو ستر گنا زيادہ کر ديتا ہے،اور بابرکت خوشوں ” في کل سنبلة ماة حبة “(4) کو ا?ب اخلاص سے پروان چڑھاتا ہے!
اخلاص کي بارش جب دل کي سرزمين پر برستي ہے تو ” اصابھا وايل فا?تت اکلھا ضعفين “ (5) کے حکم سے ايمان و يقين کے ثمرے کو دوگنا کر ديتا ہے ?
اخلاص کا حاصل کرنا نہايت ہي سخت کام ہے ، اگرچہ اس کا راستہ بالکل واضح ہے؛ ليکن اس کا طے کرنا ايک سخت مرحلہ ہے ?
جس قدر ہماري معرفت صفات جمال ، جلال ، قدرت ، اور علم الھي کے بارے ميں زيادہ ہوگي اتنا ہي ہمارا اخلاص زيادہ ہوجاتا ہے ?
اگر ہم اس بات کو جان ليں کہ عزت و ذلت اس کے ہاتھ ميں ہے اور خيرات کي کنجي اس کے پاس ہے جيسا کہ قرا?ن مجيد اس بات کي تصريح کرتا ہے” قل اللھم مالک الملک توتي الملک من تشاء و تنزع الملک ممن تشاء و تذل من تشاء و تذل من تشاء بيدک الخير انک علي کل شئي قدير“کوئي چيز ايسي نہيں ہے کہ جو اس بات کو ثابت کرے کہ شرک ، رياکاري اور غير کے لئے عمل کرنے کے ذريعے ، کسي دوسرے سے عزت کا مطالبہ کيا جائے ?
جب ہم نے اس بات کو سمجھ ليا کہ اس کي مشيت کے بغير کوئي کام نہيں ہو سکتا ”و ماتشاؤن الا ان يشاء اللہ “ (6) تو دوسرے سے کسي چيز کا مطالبہ کرنا بے معني ہے ?
جب ہم نے اس بات کو جان ليا کہ وہ ہمارے ظاہر و باطن سے ا?گاہ ہے ” يعلم خائنة الاعنين و ما تخفي الصدور“ (7) تو ہميں ہميشہ اپنے نفس کا خيال رکھنا چاہيے ?
اگر ہم نے ان امور کو اپنے تمام وجود کے ساتھ درک کر ليا تو اخلاص کي اس صعب العبور اور خطرناک منزل کو سلامتي کے ساتھ طے کر سکتے ہيں،اس شرط کے ساتھ کہ ہم اپنے مکلمل وجود کو دنيا کے زرق و برق مادي وسوسہ کے مقابلہ ميں خدا کے سپرد کرديں ،اور ہمارے حال و مقال کي زبان پر يہ جاري رہے ” رب لا تکلني الي نفسي طرفة عين ابدا لا اقل من ذلک ولا اکثر “ (8) ميرے معبود ہميں دنيا و ا?خرت ميں ايک لمحے کے لئے بھي اپنے سے جدا نہ کرنا“
اے ميرے عزيز !اپنے ا?پ کو خدا کے حوالے کرنے کے معني يہ نہيں ہيں کہ کوشش اور تلاش کو ترک کرديا جائے اور سستي اور کاہلي اختيار کر لي جائے ، بلکہ تمہارے پاس جس قدر بھي ہمت و تواني ہے اپني اصلاح ميں صرف کرو، اور جو کچھ تمہاري قدرت سے باہر ہے اسے اللہ کے حوالے کردو،اور ہر حال ميں اپنے ا?پ کو اس کے سپرد کردو، اور ظاہر و باطن ميں تمہاري زبان پر يہ جملے رہے:
الھي قو علي خدمتک جوارحي واشدد علي العزيمة جوانحي ، و ھب لي الجد في خشيتک ، والدوافي اتصال بخدمتک“ ”اے ميرے پروردگار! ميرے اعضاء وجوارح کو اپني خدمت کے لئے توان عطاکر ،اور ميرے ارادے کو اس کام کے لئے قوي کر! اور اپنے خوف کے راستے کي راہنمائي فرما ! اور ہميشہ مجھے اپني خدمت ميں مصروف رکھ“! (9)


الھي دلي دہ کہ جاي تو باشد پروردگار ايسا دل عطا کر جس ميں تو رہتا ہو?
پراز عشق ، نور و صفاي تو باشد! جو تيرے عشق ، نور اور پاکيزگي سے بھرا ہو?
دلي فارغ از ھاي و ھوي ھوس ھا ايسا دل عطا کر جو ہوا وہوس سے پاک ہو
کہ مستغني از ما سواي تو باشد اور تيرے علاوہ سب سے بے نياز ہو
دلي پر سوز و گداز محبت ايسا دل جو تيري محبت ميں جلتا ہو اور تيرا بھکاري ہو?
پر از شوق و شور لقاي تو باشد ايسا دل عنايت کر جو تيري ملاقات کے شوق سے بھرا ہو?
الھي بجز تو نخواہم مرادي ميرے پروردگار تيرے علاوہ ميري کوئي مراد نہيں ہے ?
ھمين بس کہ اينم عطاي تو باشد! بس يہي ايک مراد ہے اسے عطا کردے !
الھي مصفا کن اين کعبہ دل پروردگار اس کعبہ دل کو صفا بخش دے
کہ سعيم ھمہ در صفاي تو باشد! ميري تمام کوشش يہ ہي ہے کہ تيري نور کے سائے ميں زندہ رہوں !
بہ ا?ب دو ديدہ دلم شستسو دہ اور ميرے آنسوؤں کے ذريعہ ميرے دل کو پاکيزہ کر !
کہ دائم دلم در ” ھواي تو باشد کہ ہميشہ ميرا دل تيري خواہش کرتا رہے ?
مرا فاني از غير ذاتت بگردان مجھے اپني ذات کے علاوہ کسي اور چيز ميں فنا کردے
کہ باقي دلم در بقاي تو باشد کہ ميرا دل بھي تير ي بقا کے ساتھ باقي رہے!
بہ ” ناصر “ ز صھباي خودجرعہ اي دہ ”ناصر“ کو اپني محبت کے پيالہ سے ايک جرعہ عطا کر
کہ سرمست عشق و ولاي تو باشد ! تاکہ تيرے عشق اور محبت ميں مست ہوجاؤں ?


1? بحار، ج ??، ص ??? ?اور دوسري روايت ميں اس طرح ا?يا ہے ” ان الشرک اخفي من دبيب النمل ، و قال؛ منہ تحويل الخاتم ليذکر الحاجة و شبہ ھذا“ ( بحار ، ج ??، ص ???، ج ??)
2? مستدرک الوسائل ، ج?، ص ?? ، ح ??؛ بحار ، ج??، ص ????
3? سورہ يوسف ، ا?يہ ???
4? سورہ بقرہ، ا?يہ ????
5?سورہ ا?ل عمران، ا?يہ ???
6? سورہ انسان ، ا?يہ ???
7? سورہ غافر ، ا?يہ ???
8? بحار، ج ??، ص ???، ح??
9? دعاء کميل کے فقرے ?

حوالہ جات:
  
    
تاریخ انتشار: « 1399/07/06 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 891