تجربوں کا کردار

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

تجربوں کا کردار

ميرے عزيزوں ! زندگي سوائے تجربہ کے کچھ نہيں ہے، تجربے ہميشہ انسان کي زندگي ميں ا?نے والي غلطيوں کي اصلاح کرتے ہيں ، اور بہترين زندگي گزارنے کے سليقے سکھاتے ہيں ?
تجربے زندگي کے حقايق کو نکھارتے ہيں،انہيں بے نقاب کرتے ہيں، اور ہر قسم کے ابہام کو برطرف کرتے ہيں ?
يہي وجہ ہے بہت سے صاحبان خرد نے اللہ سے دوبارہ زندگي کي خواہش ظاہر کي ہے ?
اگر چہ دوبارہ زندگي کا تصور ايک خواب و خيال سے زيادہ کچھ نہيں ہے ليکن جيسے ہي انسان پختہ ہو تا ہے تودوسري طرف زندگي کي ا?خري منزل ميں پہنچ جاتا ہے ? شاعر کے بقول :
افسوس کہ سوداي من سوختہ ، خام است
تا پختہ شود خامي من عمر تمام است ?

افسوس کہ ہمار ا اساسہ نا پختہ ہے ، اور جب پختگي کي منزل ا?تي ہے تو زندگي تمام ہو جاتي ہے ?
اس لئے ہميں ايک دوسرے راستے کو طے کرنا چاہيے جس کي نشاندہي ہمارے مولا و ا?قا اميرالمومنين ( عليہ السلام ) نے فرمائي ہے، اور دوبارہ زندگي کے مسئلے کو نہايت ہي حسين طريقے سے حل فرماياہے ?اپنے فرزند امام حسن مجتبي (عليہ السلام ) کو وصيت کرتے ہوئے فرماتے ہيں : ” ميرے بيٹے ميں نے دنيا سے چلے جانے والے گزشتہ لوگوں کے حالات کا جائزہ ليا ہے، اور ان کے تجربوں سے فايدہ اٹھايا ہے ، اور اس طرح ان کي ہزاروں سال کي زندگي کو اپني زندگي سے ملحق کر ليا ہے، گويا روز اول بشر سے ا?ج تک ميں نے ان کے ساتھ زندگي گزاري ہے ، اور اس طرح ان کي زندگي کي تلخي ، حلاوت ، کاميابي اور ناکامي کے عوامل سے ا?شنا ہو گيا ہوں“(2) ?
اے ميرے عزيز! ميں تمہيں اس بات کي تاکيد کرتا ہوں کہ تمام تاريخوں ميں خصوصا جو کچھ قرا?ن مجيد ميں انبيا اور ان کي گزشتہ امتوں کے حالات ہيں ، ان کو ہر چيز سے زيادہ اہميت دو?اس لئے کہ اس ميں عظيم حقايق پوشيدہ ہيں ،جو ا للہ کے راستے پر چلنے والوں کے لئے ايک قيمتي سرمايا ہے ?ليکن بہت سے لوگ منحرف اور ضدي ہوتے ہيں ، اور ہرمعاملہ ميں وہ اس بات کے منتظر رہتے ہيں کہ جب تک ہم خود تجربہ نہ کرليںاس کو قبول نہيں کريں گے ?خدا جانے کس دليل کي بنياد پر وہ دوسروں کے تجربوں کو قبول نہيں کرتے ،جبکہ انہوں نے اپني تمام زندگي کے تجربات کو چند سطروں يا صفحوں ميں خلاصہ کر کے ہمارے حوالے کر ديا ہے ?اور دوسري طرف يہ بدنصيب لوگ جو ابھي تک اپني پوري زندگي ميں چند مسئلوں کا بھي تجربہ نہيں کر پائے ،اسي طرح اپني زندگي کو ا?خري مرحلہ ميں پہنچا ديں گے اور دنيا سے نا ا?گاہي کے عالم ميں رخصت ہو جائيں گے !
اے عزيز ! تم ان کا راستہ نہ اپنانا ، بلکہ صاحبان خرد ميں اپنا شمار کرو ، جن کي شان ميں قرا?ن مجيد اعلان کر تا ہے ” لقد کان في قصصھم عبرة لاولي الباب“ گزشتہ لوگوں کے قصوں صاحبان خرد کے لئے عبرت ہيں ?(3)
خصوصا گزشتہ علماء ، صاحبان علم و ادب ، اہل تقوي اور راہيان خدا کے حالات کا مطالعہ کرو ،کہ اس ميں حيرت انگيز حقائق پوشيدہ ہيں ،جس کا ہر حصہ ايک قيمتي گوہر کي مانند ہے،ميں نے ان کے حالات کے مطالعہ سے بہت اہم تجربے حاصل کئے ہيں ?


1? سورہ ا?ل عمران ،آيت ????
2? نہج البلاغہ ، وصيت بہ امام حسن مجتبي (ع) ، نامہ ??? اقتباس کے ساتھ ?
3? سورہ يوسف ، ا?يہ ????

حوالہ جات:
  
    
تاریخ انتشار: « 1399/06/31 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 895