دوسروں کے رنگ ميں رنگ جانا ذلت ہے!

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

دوسروں کے رنگ ميں رنگ جانا ذلت ہے!

عزيزو! اکثر ايسا ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کا امتحان ليتا ہے، انسان اسلامي يا غير اسلامي ملک ميں کبھي کچھ ا?زاد قسم کے لوگوں کے درميان پھنس جاتا ہے، جو اس کو اپنے رنگ ميں رنگ لينا چاہتے ہيں،اس موقع پر شيطاني وسوسہ اپنا کام شروع کرتا ہے، اور ان کے رنگ ميں رنگ جانے کے سوا کوئي چارہ باقي نہيں رہ جاتا ، اوروہ لوگ اس کے لئے بے بنياداور بے ہودہ عذر پيش کرتے ہيں ?
اس وقت اخلاقي رشد کا معيار ، شخصيت کا استقلال اورہر انسان ميں ايماني طاقت ان شرائط کي موجودگي ميں ظاہر ہوتي ہے، جو لوگ اس طرح کي خبيث موجوں کے ساتھ حرکت کرتے ہيں ، فساد کے سمندر ميں غرق ہو جاتے ہيں، اور خود کو رسوائي سے بچانے کے لئے غليظ لوگوں کے رنگ ميں رنگ جاتے ہيں، يہ لوگ نہايت ہي پست قسم کے ہيں جنہوں نے انساني جوہر کو چھوڑ کر کم قيمت شئي پر قناعت اختيار کي ہے ?
ليکن اے ميرے عزيز ! تم ايسا ہرگز مت کرنا ،ہميشہ اپني عظمت کو اس طرح کے ماحول ميں ظاہر کرو ، ايمان ، تقوي اور اپني شخصيت کے استقلال کي طاقت کو نماياں کرو ، اور اپنے ا?پ کو يہ تلقين کرتے رہو کہ ” دوسروں کے رنگ ميں رنگ جانا ذلت ہے“!!
انبيا ، اولياء اور ان کے پيروکار وں نے اپنے زمانے ميں غالبا اسي قسم کي مشکل کا سامنا کياہے،ليکن ان کے صبر واستقلال نے نہ صرف ان کو دوسروں کے رنگ ميں رنگ جانے سے بچايا بلکہ انہوں اپنے ارد گرد پورے ماحول کو بدل ڈالا ، اور ان کو اپنے رنگ ميں رنگ ليا!?
برے لوگوں کے رنگ ميں رنگ جانا پست ہمت اور بے ارادہ لوگوں کا کام ہے،ليکن صبر و استقلال کے ساتھ دوسروں کو اپنے ماحول ميںبدلنا ، تحول پيدا کرنااور مثبت انقلاب پيدا کرناقدر ت مند بہادر مومنوں کا کام ہے ?
پہلي قسم کے لوگوں کا راستہ اندھے لوگوں کي تقليد کي مانند ہے ، قرا?ن کي زبان ميں ان کا شعار يہ ہے: ” انا وجدنا ا?بائنا علي امة و انا علي ا?ثارھم مقتدون“ (1) جبکہ دوسرے دستے کا طريقہ کار غور و فکر اور مناسب چيز کا انتخاب ہے، جنکا شعار يہ ہے ” لا تجد قوما يومنون باللہ واليوم الا?خر يوادون من حاد اللہ و رسولہ ولوکانوا ا?بائھم او ابنائھم او عشيرتھم اولئک کتب في قلوبھم الايمان و ايدھم بروح منہ“ (2 )?
يقينا روح القدس ايسے لوگوں کي مدد کے لئے ا?تا ہے، اللہ کے فرشتے ان کي حفاظت کرتے ہيں،ان کو روحاني طور پر تقويت پہنچاتے ہيں،اور ان کو ڈٹ کر مقابلہ کرنے کي ترغيب دلاتے ہيں ?
ہاں اے عزيزو ! اگر تم اس قسم کے حالات سے دوچار ہو جاؤ تو اپنے ا?پ کو خدا کے حوالے کرو، اس کي پاکيزہ ذات پربھروسہ کرو، خباثت کي کثرت سے وحشت زدہ نہ ہو ،اور اس امتحان کوکاميابي کے ساتھ مکمل کرو، تاکہ اس کي برکتوں سے بہرہ مند ہو جاؤ، اور ہميشہ يہ کہتے رہو ”قل لا يستوي الخبيث و الطيب ولو اعجبک کثرة الخبيث فاتقوا اللہ يا اولي الالباب لعلکم تفلحون “: نجس اور پاکيزہ ايک جيسے نہيں ہيں ، چاہے نجاست کي کثرت تم کو تعجب ہي ميں کيوں نہ ڈال دے ، اے صاحبان عقل تقوي الھي اختيار کرو، تاکہ کامياب ہو جاؤ(3)
ميرے جوانوں! اللہ کا يہ امتحان خصوصا ہمارے زمانے ميں زيادہ اہميت رکھتا ہے ?جو لوگ اس امتحان ميں کاميابي حاصل کرتے ہيں وہ فرشتوں کے پروں پر سوار ہوکر ا?سمان کي بلنديوں پر مقام قرب تک پہنچ سکتے ہيں ?


1? زخرف ، ???
2? مجادلہ ، ???
3? مائدہ ، ????

حوالہ جات:
  
    
تاریخ انتشار: « 1399/07/06 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1391