سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

خبروں کو اکھٹا کرنے میں خواتین کی خدمات حاصل کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: کیا خبروں اور رپورٹوںکے جمع کرنے میں خواتین سے استفادہ کرنا جائز ہے؟
جواب دیدیا گیا: اگر عفت کے اصول کی رعایت کی جائے تو خواتین سے استفادہ کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

اطلاع رسانی میں قرآن کی روشِ بیان سے استفادہ کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ قرآن شریف الله کا کلام اور اس کا معجزہ ہے، طبعاً خداوندعالم نے لوگوں سے میل جول بڑھانے کے مختلف طریقے بیان فرمائے ہیں کہ جو قطعاً کامل ترین طریقے ہیں، یہ بیانی طریقے کیا ہیں؟ خبر کے سلسلے میں کس طرح ان سے استفادہ کرسکتے ہیں؟
جواب دیدیا گیا: قران مجید کے فصاحت وبلاغت کے طریقوں کو حاصل کرنے کے لئے اور خبرنگاری میں ان سے استفادہ کرنے کے لئے ”پیام قرآن“ کی آٹھویں جلد کی قرآن مجید، فصاحت وبلاغت کی نظر سے ”معجزہ“ ہونے کی بحث میں صفحہ۸۷ کے بعد دیکھے سکتے ہیں، یا ہماری کتاب ”قرآن وآخرین وپیامبر“ میں مطالعہ کرسکتے ہیں ۔

دوسروں کے کہنے پر ایک خبرنگار کا اعتماد [خبرنگار (صحافی)]

سوال: ایک خبر نگار دوسرروں کی نقل کردہ خبر پر کس حد تک اعتماد کرسکتا ہے؟ اس بات پر توجہ رہے کہ وہ خبر حدّ تواتر کو نہیں پہنچی ہے؟
جواب دیدیا گیا: جب تک کوئی خبر حد تواتر کو نہ پہنچے اور اطمینان بخش قرائن کے ساتھ بھی نہ ہو تو اس کو محتمل خبر کی صورت میں ذکر کرے نہ قطع کی صورت میں ۔

اُن خبروں کے اطمینان کی راہ جن کو خبر نگارنے اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو [خبرنگار (صحافی)]

سوال: جب کبھی خبر نگار نے کسی ماجرے کو ہوتے ہوئے اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو، لیکن اس کی خبر کو نقل کرنا چاہتا ہو تو کتنے شاہدوں کی ضرورت ہے کہ اس خبر کی سچّائی ثابت ہوجائے ۔؟
جواب دیدیا گیا: ایک موٴثق شخص خبر کو نقل کرے تو کافی ہے، لیکن احتیاط یہ ہے کہ مہم خبروں میں ایک شخص پر قناعت نہ کرے ۔

نقلِ خبر میں خواتین کے کہنے پر اعتماد کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: کیا نقل خبر یا حادثہ کے وقوع کی شہادت دینے میں عورت اور مرد کے درمیان فرق ہے؟ کیا یہاں پر بھی محکمہٴ عدالت میں معتبر گواہی کے احکام جاری ہوں گے؟
جواب دیدیا گیا: ان مسائل میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔

خبر کو خلاصہ کرنے امانت کی رعایت کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: بہت سی تقریریں، بیانیے، انٹریوں وغیرہ اتنے طولانی ہوتے ہیں کہ ایک خبر نگار مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کا خلاصہ کرے، خلاصہ کرنے میں مضمون کے درمیان فاصلہ اور کبھی کبھی مفہوم کے بدل جانے کا احتمال پایا جاتا ہے، کیا یہ کام امانت میں خیانت شمار ہوتا ہے؟
جواب دیدیا گیا: مضمون کو بدلنا، جھوٹ بھی اور تہمت بھی شمار ہوگا؛ لیکن تلخیص کرنا یا نقل بمعنی کرنے میں ممانعت نہیں ہے ۔

خبر لینے کے لئے رشوت دینا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: کیا حکومت کے نظام میں مفید ثابت ہونے والی وخبروں کو جمع کرنے میں رشوت دی جاسکتی ہے؟
جواب دیدیا گیا: جب اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو اور خبر کی ضرورت بھی ہو تو کوئی ممانعت نہیں ہے اور اس کو رشوت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

اسلامی نظام کی مصلحت کا خاطر خبرنگار کا جھوٹ بولنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: امام خمینی رحمة الله علیہ فرماتے تھے: ”کبھی کبھی نظام کی حفاظت کے لئے بعض واجبات کو بھی ترک کیا جاسکتا ہے“ کیا یہ موضوع خبر کے سلسلے میں بھی صادق ہے؟ کیا خبر نگار بھی نظام کی حفاظت میں جھوٹ کا سہارا لے سکتا ہے؟
جواب دیدیا گیا: اگر واقعاً کوئی مسئلہ اہم اور مہم کی صورت اختیار کرلے اور جھوٹ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے مانند ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن چونکہ ممکن ہے کہ یہ حکم سوء استفادہ کا ذریعہ بن جائے اور خبرنگار کسی نہ کسی بہانے سے جھوٹی خبروں کو منتشر کریں، لہٰذا حتی الامکان اس کام سے پرہیز کیا جائے ۔

لوگوں کے رازوں کو خبرنگار کا برملا کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: ایک خبر نگار کس حد تک اشخاص کے رازوں کو برملا کرسکتا ہے؟ کیا اس سلسلے میں مرد اور عورت ، مسلم وغیر مسلم کے درمیان فرق ہے؟
جواب دیدیا گیا: کسی بھی مسلمان کے رازوں کو فاش نہیں کیا جاسکتا؛ علاوہ اُن جگہوں کے جہاں اہم مصلحت درکار ہو۔

خبرنگار کا ظالم حکومت کی خبروں کو فاش کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: اگر کوئی حکومت، ظالم ہو تو ایک خبر نگار کس حد تک اس کے رازوں کو فاش کرسکتا ہے؛ اگرچہ وہ اسی حکومت کا شہری ہو؟
جواب دیدیا گیا: اگر اُن خبروں کا نشر کرنا امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور فحشا وفساد سے مقابلہ کا سبب ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

خبر نگار کو خبر کے اندراج کے لئے رشوت دینا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: بیرونی خبرنگاروں اور مصنفوں کو اسلامی نظام حکومت کے نفع میں بیرونی میڈیا میں کوئی مطلب درج کرانے کے لئے رشوت دینے کا کیا حکم ہے؟
جواب دیدیا گیا: اس کا م کو رشوت کا نام نہیں دے سکتے ہیں؛ بلکہ یہ وہ حقّ الزحمہ ہے کہ جو مثبت، مفید اور مشروع کام کے عوض دیا جارہا ہے اور لینے والے اور دینے والے پر کوئی اشکال نہیں ہے ۔

اجنبی عورتوں کی تصویروں سے استفادہ کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: اجنبی عورتوں کی تصویر اور چہرے سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب دیدیا گیا: بے حجاب اور بد حجاب عورتوں کے چہروں سے استفادہ کرنا اسلامی جمہوریہ کی شان نہیں ہے ۔

اسلامی حکومتوں کے مخالفوں پر تہمت لگانا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: بعض اوقات کچھ اشخاص، عوام میں مقبول ہوتے ہیں لیکن وہ شریعت پر عمل نہیں کرتے اور اسلامی نظام حکومت کے لئے مفید ہوتے ہیں کیا لوگوں کو ان سے بیزار کرنے کے لئے تہمت کا سہارا لیا جاسکتا اور اس طرح ان کی اہمیت کو گرایا جاسکتا ہے؟
جواب دیدیا گیا: تہمت، جھوٹ وغیرہ کا سہارا لینا ایک مسلمان اور شریعت پر پائبند پرپائبند خبرنگار کے شایانِ شان نہیں ہے ۔

خبر کے سچّے یا جھوٹے ہونے کی درجہ بندی [خبر]

سوال: کیا خبر کے سچّا یا جھوٹا ہونے کی بھی اقسام ہیں؟
جواب دیدیا گیا: جی ہاں، ممکن ہے کوئی خبر پچاس فیصد یا اس سے کم سچّی ہو، لہٰذا صدق وکذب میں درجہ بندی پائی جاتی ہے ۔

خبروں کا سینسر کرنا [خبر]

سوال: کیا اسلام میں خبر کو سینسر کرنا جائز ہے؟ اگر ہے تو اس کی کیا حدود ہیں؟
جواب دیدیا گیا: ہر طرح کی وہ خبر جو اسلامی معاشرے کے لئے مضر ہو، یا دشمنوں کی بیداری اس سے ان کے لئے سوٴ استفادہ کا سبب ہو، یا مسلمانوں کی صف میں تفرقہ پھیلانے کا باعث ہو، یا مسلمانوں میں وحشت وناامنی ایجاد کرے یا اس کے اور دوسرے نقصانات ہوں، تو ایسی خبروں کو نشر نہیں کرنا چاہیے، ایسے ہی جنگ کے زمانے میں بہت سی خبریں چھپائی جاتی ہیں، اور خطرہ ٹلنے کے بعد نشر کی جاتی ہیں، اسی مطلب کے مانند دیگر موارد میں بھی کاملاً ممکن ہے ۔

خبر کے میدان میں تساہل، تسامح اور مدارا سے کام سے لینا [خبر]

سوال: خبر کے میدان میں، تساہل، تسامح، مدارا وغیرہ کہ کیا معنی ہیں؟
جواب دیدیا گیا: تسامح اور مدارا کے مختلف معنی ہیں، اگر اس سے مراد اسلام کے دشمنوں کے ساتھ میل جول کرنا اور دشمن کو دوست کے لئے نقصان ہنچانے کا موقع فراہم کرنا ہے تو ایسی چیز جائز نہیں ہے؛ لیکن اگر صحیح وسالم گروہ یا دیگر مذاہب کے ساتھ مسالمت آمیز زندگی گذارنا ہو، اس طرح کہ مسلمانوں اور آئین اسلام کو ضرر پہنچانے کا سبب نہ بنے تو جائز ہے ۔

خبر اور گذارش پر تبصرہ کرنے کی حدود [خبر]

سوال: خبروں اور رپورٹوں پر تبصرہ کرنا حوزہٴ علمیہ کی علم تفسیر کے مانند ہے، کیا خبروں اور رپورٹوں کی تبصرے کے لئے کچھ حدودمعیّن کیا جاسکتے ہیں؟ وہ حدود کیا ہیں؟
جواب دیدیا گیا: خبروں پر تبصرے کے لئے معمولاً قرائن وشواہد اور موجودہ حالات اور اسی طرح کے مسائل سے استفادہ کرنا چاہیے، اگر قطعی نتیجے تک پہونچیں تو بطور قطع اس کی قضاوت کی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ عنوان احتمالی کے اوپر تکیہ کرنا چاہیے، تاکہ خلاف واقع کوئی بات نہ کہی جائے ۔

خبر کے سلسلے میں نظام حکومت اور اسلام کے درمیان تعارض [خبر]

سوال: کچھ مواقع ایسے آتے ہیں جن میں ایک خبر ظاہراً اسلام کے خلاف ہو لیکن حقیقت میں وہ اسلامی نظام کے نفع میں ہوتی ہے (اقتصادی وغیرہ خبریں) خبرنگار کو کس خبر کو ترجیح دینا چاہیے؟
جواب دیدیا گیا: اس پر توجہ رکھتے ہوئے کہ نظام، اسلام کی بنیاد پر استوار ہے لہٰذا ایسا تضاد متصوّر نہیں ہے، مگر ان لوگوں کے لئے جن کی یا تو مسائل اسلامی کی طرف توجہ نہیں ہے یا وہ مصالح نظام سے بے خبر ہیں ۔

مصلحت آمیز جھوٹ یا فتنہ انگیز سچ [خبر]

سوال: مصلحت آمیز جھوٹ بہتر ہے یا فتنہ انگیز سچ؟
جواب دیدیا گیا: وہ سچ کہ جو فتنہ پھیلائے یا کوئی مفسدہ ایجاد کرے، اس سے پرہیز کرنا چاہیے؛ چاہے اس کا جھوٹ مصلحت آمیز ہویا بیہودہ اور چونکہ یہ بات اہم اور مہم قاعدہ کے تحت آتی ہے تو جھوٹ کے نقصانات اور فوائد کا آپس میں مقایسہ کرنا چاہیے، قابل ذکر ہے کہ اگر جھوٹ کی جگہ توریہ سے کام لے سکتے ہیں تو توریہ مقدم ہے، توریہ سے مراد وہ بات ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں؛ سننے والا اُس معنی کو سمجھے جو خلاف واقع ہے اور اس پر یقین بھی کرلے اور مصلحت حاصل ہوجائے، لیکن کہنے والا دوسرے معنی کا تصور کرے کہ جو واقع کے مطابق ہے ۔

غیر مسلم اشخاص سے مربوط خبروں کا نشر کرنا [خبر]

سوال: ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ہیں نہ وہ مسلمان ہیں اور نہ ہی انقلاب کو قبول کرتے ہیں، ان کے مسائل، خبریں اور نظریات کو نشر کرنے میں ہمارا کیا وظیفہ ہے؟
جواب دیدیا گیا: جو چیز نظام کی تضعیف یا عام لوگوں کے ذہن کی تشویش کا سبب ہو اس سے پرہیز کیا جائے، اور جو چیز مفید یالا اقل فاقد ضرر ہو، اس کو منتشر کرسکتے ہیں ۔

خبرنگاروں کی خصوصیات [خبر]

سوال: کیا خبر کے ناقلین اور واقعوں کے بیان کرنے والوں کے کچھ شرائط ہیں؟
جواب دیدیا گیا: جی ہاں، ان کے بھی کچھ شرائط ہیں؛ وثاقت، امانت، مہم مطلب کو سمجھنے کے لئے بطور کافی ذہانت، مطالب کو حفظ اورنگہداری کے لئے قوی حافظہ، ان میں سب سے مہم اپنی نظر نہ دینا اور حسنِ نیت اور اخبار کو شخصی سلیقہ سے آلودہ نہ کرنا، ان کی شرائط میں سے ہیں ۔

ایسی خبروں کا نشر کرنا جو مسلمانوں کے عقائد کے سست ہونے کا سبب ہوں [خبر]

سوال: کبھی کبھی بیرونی ممالک سے آئی خبروں کا نقل کرنا مسلمانوں کے عقائد سے مربوط ہوتا ہے، اگر ان کا بیان کرنا ہمارے عقائد کی توہین کا سبب ہو تو کیا ان کا بیان کرنا بہتر ہے یا چھپانا؟ اگر چھپائی جائیں تو کیا ایسے عقائد سے بے خبری کا مفسدہ، زیادہ نہ ہوگا؟
جواب دیدیا گیا: اس طرح کے مسائل میں اہم ومہم کے قانون کی اتباع کی جائے اور کام کی مصلحت اور مفسدہ کو تولا جائے اور جو ان میں مہم ہے اسی پر عمل کیا جائے ۔

بیرونی ممالک کے ذرائع ابلاغ کی خبروں پر تبصرہ کرنا [خبر]

سوال: کیا بیرونی میڈیاکی خبروں کو نشر کرکے اُس کے بعد اپنی نظر کو بیان کرسکتے ہیں؟
جواب دیدیا گیا: خبروں کے اوپر تبصرے کہ جو صحیح استفادہ کا سبب اور سوء استفادہ سے پرہیز ہے، نہ یہ کہ جائز ہو بلکہ کبھی کبھی واجب ہو جاتا ہے ۔

گمان اور آئڈیے کی بنیاد پر خبروں کو نشر کرنا [خبر]

سوال: کیا گمان اور ایڈیے کو خبر اور نظر کے عنوان سے منشتر کرسکتے ہیں؟
جواب دیدیا گیا: جب اس میں یہ قید لگائیں کہ یہ خبر گمان اور احتمال کی صورت میں ہے اور اس پر کوئی مفسدہ بھی مترتب نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

ایسی خبروں کا نشر کرنا جن کا سچا یا جھوٹا ہونا معلوم نہ ہو [خبر]

سوال: ہم نے ایک خبر (سیاسی،، اقتصادی یا ثقافتی)کو نشر کیا لیکن اس کا سچ یا جھوٹ ہونا ہمارے لئے مشخص نہیں تھا، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب دیدیا گیا: اگر کسی خاص ایجنسی کی طرف منسوب ہو اور اس کا جھوٹ ارو سچ اس کے ذمہ ڈالا جالاسکتا ہو نیزاس کا نشر کرنا مفسدہ کا باعث نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

خبریں دینے میں مغربی طرز کو استعمال کرنا [خبر]

سوال: کیا ہم خبریں دینے میں مغربی طرز کو اپنا سکتے ہیں کہ جو مختلف اطلاعات سے لوگوں کے ذہن میں ایک خاص پیغام چھوڑ دیتے ہیں جو حقیقت سے بہت دور ہوتا ہے، جیسے وہ کہتے ہیں: ”ایسا لگتا ہے“ ، ”اس سے آشکار ہوجاتا ہے“ یا اطلاعات کو ایک خاص طریقے سے ملاتے ہیں وغیرہ جملوں کو استعمال کرتے ہیں، اس کی وضاحت اس طرح ہے یہ کہ: ”ایسا لگتا ہے“ سے ایک موضوع کی ایک ہدفدار تصویر کشی کرتے ہیں اور ایک خاص ہدف کے سراغ میں رہتے ہیں، جیسے ”انتہا پسند “ کا کلمہ، کہ جس کو اہل مغرب اسلام کے پائبند افراد کے لئے استعمال کرتے ہیںاور ”اس سے آشکار ہوتا ہے“ کا کلمہ پر اہمیت مورد نظر اطلاعات اولویت بندی میں استعمال کرتے ہیں جس کا ہدف ایک خاص پیغام پہنچانا ہوتا ہے اور اطلاعات کو ایک دوسرے سے ملانے سے ان کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ دوسرے موضوعات کے سوابق کو استعمال کرکے اور ان کو جدید موضعات سے چپکاکر، ایک نئے پیغام اور ایک نئی فکر کو لوگوں کے ذہن پر تھوپ دیں، جیسے دنیا میں کوئی بھی بم منفجر ہو اس کو گذشتہ زمانے کے بم دھماکہ سے جوڑ دیتے ہیں کہ جس میں ایران کو متہم کیا گیا تھا، اس جدید بم دھماکہ کا ایران کے اوپر الزام، اس سابقہ بم دھماکہ کی وجہ سے قطعی ہوجاتا ہے، اور وہ لوگوں کے ذہن میں اس الزام کو قطعی کردیتے ہیں?
جواب دیدیا گیا: اگر یہ کام مشروع اور مثبت ہدف کے لئے انجام دیا جائے تو کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

محرمانہ خبروں کو برملا کرنے کی حد [خبر]

سوال: ایک خبر کے سننے کے لئے لوگ کس حد تک محرم ہیں، ایک خفیہ خبر پھیلانے کی حد کہاں تک ہے؟
جواب دیدیا گیا: ایسی خبر کے انتشارکی حد وہاں تک ہے جہاں تک معاشرے کے لئے ضرر کا سبب نہ ہو۔

جعلی خبروں کو نشر کرنا [خبر]

سوال: ایک جعلی خبر کو کس حد نشر کیا جاسکتا ہے؟ کیا ایسی خبروں کا اسلامی جمہوریہ کے نظام میں کوئی مقام ہے؟ یہاں تک کہ نظام کی یا اشخاص وغیرہ کی مصلحت مدنظر ہو؟
جواب دیدیا گیا: اس طرح کے مسائل میں، نظام اور معاشرے کی مصلحت کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔

خبروں میں مسلمان خواتین کے چہرے سے استفادہ کرنا [خبر]

سوال: مسلمان عورتوں کی تصویر اور چہرے سے اگر وہ محجّبہ ہوں، استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب دیدیا گیا: جو شرائط بیان کئے گئے ہیں اگر ان کے ساتھ ہے تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
کل صفحات : 103