سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

بیرونی ممالک کے ذرائع ابلاغ کی خبروں پر تبصرہ کرنا [خبر]

سوال: کیا بیرونی میڈیاکی خبروں کو نشر کرکے اُس کے بعد اپنی نظر کو بیان کرسکتے ہیں؟
جواب دیدیا گیا: خبروں کے اوپر تبصرے کہ جو صحیح استفادہ کا سبب اور سوء استفادہ سے پرہیز ہے، نہ یہ کہ جائز ہو بلکہ کبھی کبھی واجب ہو جاتا ہے ۔

گمان اور آئڈیے کی بنیاد پر خبروں کو نشر کرنا [خبر]

سوال: کیا گمان اور ایڈیے کو خبر اور نظر کے عنوان سے منشتر کرسکتے ہیں؟
جواب دیدیا گیا: جب اس میں یہ قید لگائیں کہ یہ خبر گمان اور احتمال کی صورت میں ہے اور اس پر کوئی مفسدہ بھی مترتب نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

ایسی خبروں کا نشر کرنا جن کا سچا یا جھوٹا ہونا معلوم نہ ہو [خبر]

سوال: ہم نے ایک خبر (سیاسی،، اقتصادی یا ثقافتی)کو نشر کیا لیکن اس کا سچ یا جھوٹ ہونا ہمارے لئے مشخص نہیں تھا، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب دیدیا گیا: اگر کسی خاص ایجنسی کی طرف منسوب ہو اور اس کا جھوٹ ارو سچ اس کے ذمہ ڈالا جالاسکتا ہو نیزاس کا نشر کرنا مفسدہ کا باعث نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

تفریح کی غرض سے شکار کرنا [مچهلی کا شکار]

سوال: تفریح وفنکاری کے لئے شکار کرنا اور اس کے لئے مربوطہ اداروں سے لائسنس بنوانے کا حکم شرعی کیا ہے؟
جواب دیدیا گیا: جائز نہیں ہے ۔

شکار کی ہوئی مچھلی کے شکم میں مردہ مچھلی کا حکم [مچهلی کا شکار]

سوال: اگر شکار کی ہوئی مچھلی کے شکم میں ایک چھوٹی مری ہوئی مچھلی برامد ہو تو کیا اس پر حلال ہو نے کا حکم لگایا جا ئے گا یا حرام ہونے کا حکم جاری ہوگا ؟
جواب دیدیا گیا: جواب : اشکال سے خالی نہیں ہے ، احتیاط اس سے پرہیز کر نے میں ہے ۔

بجلی کے ذرےعہ مچھلیوں کا شکار [مچهلی کا شکار]

سوال: ابھی کچھ عرصہ پہلے کچھ شکاری بیان کرتے ہیں کہ مچھلیوں کو بجلی کے ذریعہ شکار کیاجاتا ہے ،شکار کی ہوئی مچھلیاں پانی میں مرجاتی ہیں اور مرنے کے بعد تیرتی ہوئی مچھلیوں کو پانی سے باہر نکالتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ اس قسم کی مچھلیو ں کو حلال و حرام ہونے کے اعتبار سے کیا حکم ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب : اشکال ہے مگر یہ کہ پانی سے باہر آکر مر جائیں۔

شیرین پانی کی خرچنگ اور جھینگا مچھلی [مچهلی کا شکار]

سوال: علم جانور شناسی کے ماہرین کہتے ہیں : ایران کے جنوبی دریاؤں میں ایک قسم کی لمبی جھینگا مچھلی جو شاہ میگو کے نام سے ہے اور انزلی بندرگاہ کے تالابوں اور دریا سے مربوط نہروں میں اور بعض دیگر داخلی شیرین پانی میں لمبی جھینگا مچھلی کی ایک شیرین پانی کی جھینگا نامی مچھلی پائی جاتی ہے ، جو اپنی بناوٹ کے لحاظ سے جھینگا مچھلی سے زیادہ شباہت رکھتی ہے ، ظاہری بناوٹ کے لحاظ سے یہ شاہ میگو یا آپ شیرین کی جھینگا نامی مچھلی ، مشہور جھینگا مچھلی جس کا جسم گول اور کشادہ ہوتاہے اور دریاؤ ں یا نہروں کے کنارے رہتی ہے سے بہت زیادہ مختلف ہوتی ہے ، کیا ان کا کھانا حلال ہے؟
جواب دیدیا گیا: جواب:یہاں پرموضوع صادق آنے کیلئے حکم بھی عرف کے تابع ہے ، اگر اس جھینگا کو (سرطان)کہا جاتاہے تو حرام ہے اور اگر اس پر روبیان (جھینگا) کہا صادق آتا ہے تو حلال ہے ، اس موضوع کی تشخیص کے لئے آپ مچھیاروںکی طرف رجوع کر سکتے ہیں ۔

صدف (مچھلی یا پانی کا جانور جو سیپ میں رہتا ہے) کا گوشت [مچهلی کا شکار]

سوال: ونکہ توضیح المسائل میں ''صدف'' کا کوئی نام اور اس کا حکم نظر نہیں آتا اور اس فن کے ماہرین ، رائے دیتے ہیں کہ صدف کے اندرکا گوشت بہترین گوشت ہو تاہے اور ''لحما طریا'' کا بہترین مصداق ہے اور بے شمار خواص اور فوائد کا حامل ہو تاہے اور کبھی کبھی اطبا ء ، بعض مریضوں کے علاج کے لئے یہ گوشت تجویز کرتے ہیں ، برائے مہربانی اس کا حکم ، اختیار، اضطرار اور علاج کی صورتوں میں ، کیاہے بیان فرمائیں؟
جواب دیدیا گیا: جواب: فقط ضرورت کے وقت ، اشکال نہیں ہے۔

جھینگا مچھلی کے حلال ہونے کی شرط [مچهلی کا شکار]

سوال: اربیان(روبیان) کے مسألہ میں جو جھینگا کے نام سے مشہور ہے اور عام طور پر شکار کی جاتی ہے اور کھائی جاتی ہے ، فرماتے ہیں : ''اس پر کرن ہوتی ہیں''کیایہ جھینگا کی تمام قسموں کو شامل ہے ؟ چونکہ جھینگا کی ایک قسم جو شاہ میگو کے نام سے مشہور ہے (اور اس کا انگریزی نام Labister ہے)اور جھینگا مچھلی کے تمام رائج صفات اس میں پائے جاتے ہیں،سوائے اس کے کہ اس کا جثہ بڑا ہوتاہے کیا اربیان(جھینگا) حلال ہے یا جس کا نام بھی جھینگا ہو یا ایک سی صفات ہوں وہ حلال ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب:اربیان(جھینگا) کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے لیکن عام جھینگا کی طرح اس میں کرن ہونی چاہیئے ۔

حرام گوشت دریائی جانوروں کی خرید وفروخت [مچهلی کا شکار]

سوال: وہ دریائی جانور جن کا کھانا حرام ہے ، اگر چہ پانی سے زندہ ہی کیوں نہ پکڑے گئے ہوں ، کیا ان پر مردہ جانور کا حکم جاری ہوگا کیونکہ ان کی خرید و فروخت حرام ہے ؟ (چونکہ ان کا دوسرا استعمال بھی ہے جیسے جانوروں اور پرندوں کی خوراک اور کبھی کبھی صنعتی لحاظ سے بھی استفادہ کیا جاتاہے)۔
جواب دیدیا گیا: جواب: دیگر منافع کے لئے ان کی خرید و فروخت میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

بارود سے شکار کرنا [مچهلی کا شکار]

سوال: اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کچھ لوگ دستی بم یا دیگر بلاسٹ ہونے والے مادّے سے مچھلیوں کا شکار کرتے ہیں ، اس طرح سے کہ بلاسٹ کرنے کے ذریعہ پانی میں موجیں وجود میں آتی ہیں ،اور مچھلیاںپانی کے اوپر آ جاتی ہیں ، س کے بعد ان کو پا نی کے اوپر سے جمع کر لیتے ہیں کیا اس قسم کی مچھلیاں حلال ہیں؟
جواب دیدیا گیا: جواب: اگر مچھلیوں کو زندہ یا نیم جان ، دریا سے پکڑ لی جائیں تو حلال ہیں۔

شکار شدہ جانور کے حلال کرنے کا طریقہ [اسلحه سے شکار]

سوال: جو جانور شکار کے نتیجہ میں جان دیدے وہ کس صورت میں حلال ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب :جب اس جانور تک پہونچنے اور ذبح کرنے کے لئے وقت کافی نہ ہو اور گولی نے اس کے بد ن کو زخمی کر دیا ہو اور اس سے خون نکل گیا ہو اس صورت میں حلال ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ تمام شرائط جیسے شکار کرتے وقت اللہ کا نام لینا، شکار کرنے والے شخص کا مسلمان ہونا ، بھی اس میں موجود ہیں اور اگر اس جانور کو ذبح کرنے کے لئے وقت تھا اور ذبح کرنے میں کوتاہی کرے تو اس صورت میں حرام ہے ۔

تفریح کی غرض سے شکار کرنا [شکار]

سوال: تفریح وفنکاری کے لئے شکار کرنا اور اس کے لئے مربوطہ اداروں سے لائسنس بنوانے کا حکم شرعی کیا ہے؟
جواب دیدیا گیا: جائز نہیں ہے ۔

شکار کئے ہوئے حیوانات کا گوشت کھانا [شکار]

سوال: جیسا کہ حضور کے علم میں ہے کہ حال حاضر میں شکار کرنا ملک کے بعض علاقوں جیسے شمال کے حصّے دریائے جنوب کے مضافات کے علاوہ روزی حاصل کرنے کے لئے نہیں رہ گیا ہے اور تقریباً اکثر جو شکار ہوتے ہیں ان کو مالدار کرنے متمول افراد تفریح، فنکاری اور خوشگذرانی کے طور پر کرتے ہیں، مذکورہ فرض کے تحت وحشی جانوروں کے شکار کرنے کا حکم شرعی کیا ہے؟
جواب دیدیا گیا: اگر زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے یا آمدنی اور کام کی غرض سے قوانین وضوابط کے تحت شکار کیا جائے تو شرعاً جائز ہے لیکن اگر تفریح اور خوشگذرانی کے لئے ہو۔ ہرچند کہ اس کے گوشت کو استعمال کیا جائے ۔ شرعاً حرام ہے، لہٰذا اس طرح کے سفر میں حرام سفر ہونے کی وجہ سے نماز وروزہ قصر نہیں ہوگا ۔

۔ذبح کرنے سے پہلے بجلی کا کرنٹ لگانا [ذبح کے احکام]

سوال: اگر ذبح کرنے سے پہلے جانور کوبجلی کا کرنٹ لگائیں اس طرح کہ ذبح کرنے سے پہلے یا بعد میں ، کوئی حرکت نہ کرے یا تھوڑا سا ہلے جلے ، اس فرض کے ساتھ کہ ہر صورت میں ان جانوروں سے خون نہ نکلے یا خون نکلے ، کیا یہ حلال ہیں یا حرام اور مردار ہیں ، نیز ان کی خرید و فروخت اور ان کی قیمتوں کا کیا حکم ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب: اگر جانور شوک لگنے کے بعد ، زندہ ہو اور اس کو شرعی لحاظ سے ذبح کیا جائے تو اس صورت میں حلال ہے اور اس کے گوشت کو کھانا ، خریدنا اور بیچنا جائز ہے ، لیکن اس کے اندر موجود خون سے پرہیز کریں ۔

ذبح کرنے سے پہلے بے حس کرنے والی دوا کا استعمال [ذبح کے احکام]

سوال: اگرحلال گوشت جانور کو ذبح کرنے سے پہلے ، انجکشن یا کسی دوسری چیز کے ذریعہ ، سست کردیں اس غرض سے کہ وہ درد کا کم احساس کرے کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب: اگر شوک گرنٹ لگنے اور سست ہونے کے بعد وہ جانور زندہ رہے تو کوئی اشکال نہیں ہے ،اور ہر وہ کام کہ جس سے جانور کم سے کم درد برداشت کرے مستحب ہے ۔

کھڑے ہوئے ہونے کی صورت میں جانور کو ذبح کرنا [ذبح کا طریقه]

سوال: ذبح کرنے والے ان کارخانوں میں کہ جہاں بعض گائے ،بھینس یا بعض .... اور بچھڑوں کو لٹا یا جاتاہے ، ان کے عظیم الجثہ اور بھاری وزن ہونے کی وجہ سے ان کو قبلہ رو لٹانا ممکن نہیں ہوتا ، اس صورت میں ،اگر قبلہ رو کھڑا کر کے ، ذبح کیا جائے تو کیا ایسا کرنا کافی ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب: کوئی اشکال نہیں ہے ۔

پرند کے پروں کا کندہ کرنا جدا کرنا [ذبح کا طریقه]

سوال: چڑیا کے سر کو اکھاڑنے کا کیا حکم ہے کیا اس طرح کے کام سے چڑیا حلال ہو جاتی ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب :حرام ہے ۔

مشین سے ذبح کرنا [ذبح کا طریقه]

سوال: کیا دور حاضر کی ذبح کرنے والی مشینوں سے ذبح کرنا جائز ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب :اگر اس میں تمام شرعی شرائط موجو د ہیں تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

فلزی چیزوں سے جانور کا ذبیحہ [ذبح کے شرایط]

سوال: جانور کے ذبح کرنے کے لئے کیا آلہ کا لوہے کا ہونا لازم ہے یا ہر کاٹنے والی دھات کا فی ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب : ہر تیز دھار والی دھات سے جائز ہے ۔

ذبح کرنے والے کا بسم اللہ کہنا [ذبح کے شرایط]

سوال: کیا ذبح کرتے وقت ، ذبح کرنے والے شخص کے بجائے دوسرے شخص کے لئے بسم اللہ کہنا جائز ہے اور کیا ذبح کرنے کے لئے فقط بسم اللہ کا لفظ کا فی ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب: بسم اللہ کا فی ہے اور خود ذبح کرنے والے شخص ہی کو کہنا چاہیے ۔

اسٹیل کے چاقو سے ذبح کرنا [ذبح کے شرایط]

سوال: جانور کے ذبح کرنے کے شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ آلہ لوہے کا ہونا چاہیے ، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ آج کل جو چاقو گھر وں میں ہوتے ہیں و ہ اسٹیل کے ہوتے ہیں اور لوہے کے چاقو ؤ ں کا زمانہ ختم ہو گیا ہے اور لوگ بھی اسی اسٹیل کے چاقوؤ ں سے ذبح کرتے ہیں ، اس کا حکم بیان فرمائیں؟
جواب دیدیا گیا: جواب: کوئی اشکال نہیں ہے ۔

مشین سے ذبح کرتے وقت ایک بار بسم اللہ کہنا [ذبح کے شرایط]

سوال: مرغ ذبح کرنے والے کارخانوں میں عام طور پر ایک دفعہ میں پانچ ہزار مرغہ ایک ساتھ ذبح کیے جاتے ہیں ، کیا ذبح کرتے وقت ، شروع میں ایک بار''بسم اللہ'' کہنا کافی ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب : احتیاط ایسا کرنے میں ہے کہ معمول کے مطابق بسم اللہ دہراتا رہے۔

مشین سے ذبح کرتے وقت بسم اللہ کہنا [ذبح کے شرایط]

سوال: کیا تمام جانوروں کے ذبح کرنے کے لئے ، ذبح کرنے والی مشین چلاتے وقت ایک بار بسم اللہ کہنا کافی ہے یا یہ کہ ہر جانور کے لئے یا جس قدر جانور وں کو مشین فرصت دے(یعنی فاصلہ ہو) اس قدر بسم اللہ کہنا لازم ہے؟
جواب دیدیا گیا: جواب: اگر مشین مستقل چل رہی ہے تو احتیاط یہ ہے کہ اس وقت تک جب تک مشین چل رہی ہو ، ہمیشہ خدا کا نام دہراتا رہے۔ اگر چہ ایک بسم اللہ کے ساتھ چند جانور ذبح ہو جائیں۔

مشین چلانے والے کا بسم اللہ کہنا [ذبح کے شرایط]

سوال: کیا اسی شخص کو بسم اللہ کہنا چاہیے جس نے میشن چلائی ہے اگر چہ و ہ شخص ذبیحہ کے پاس اور اس کے سامنے بھی نہ ہو اور فقط یا اللہ یا اللہ کہے یا یہ کہ دوسرا شخص بھی کہہ سکتاہے ؟ اور وہی کافی ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب : ضروری ہے کہ وہی شخص خدا کا نام لے جس نے مشین چلائی ہے اور یا اللہ کہنا بھی کافی ہے اور ذبح کرنے کے مقام پر حاضر ہونا بھی لازم نہیں ہے ۔

ہیرے کی تیغوں سے ذبح کرنا [ذبح کے شرایط]

سوال: اگرتیزی ، آسانی اور میشن کے چاقوؤں کے کند نہ ہونے کی غرض سے ، ہیروں کے برادے کو مخصوص (چپکانے والے)سیال کے ذریعہ ، چاقوؤں کی دھار پر اس طرح چسپاں کر دیں کہ ذبح کا عمل ہیرے کے ذریعہ انجام پائے ، لوہے یا فولاد کے ذریعہ نہیں، اگر چہ لوہا تقریباً ایک میلی میٹر ہیرے کے پیچھے ہو ، کیا اس اعتبار سے ، ذبیحہ حلال ہے البتہ اس صورت مٰن کہ جب کوئی اضطرار ، مجبوری بھی نہ ہو اور اختیار بھی رکھتاہو؟
جواب دیدیا گیا: جواب: کوئی اشکال نہیں ہے حلال ہے۔

ذبح کرتے وقت قرآن مجید کی آیات کو (ٹیپ ریکارڈ وغیرہ) نشر کرنا [ذبح کے شرایط]

سوال: جانوروں کو ذبح کرتے وقت کیا فقط آیات قرآن اور ذکر خدا کی یاد دہانی کو ، ٹیپ ریکارڈ و غیرہ کے ذریعہ نشر کرنا کافی ہے یا یہ کہ بذات خود ذبح کرنے والے شخص کا خدا کا نام لینا ضروری ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب:احتیاط واجب یہ ہے کہ ذبح کرنے والا شخص کہے

وہ ذبح شدہ جانوار جس کا کامل خون نکلا ہے [ذبح]

سوال: اس ذبیحہ کا کیا حکم ہے جسے مکمل شرعی قوانین کے مطابق ذبح کیا گیا ہو لیکن ذبح کرنے کے بعد اس کو بہت زیادہ گرم یعنی کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دیا گیا ہو کہ جس کی وجہ سے اس کی رگیں بند یا کسی قدر بند ہو گئی ہوں اور اس کے نتیجہ میں اس ذبح شدہ جانور کا خون ، معمول کے مطابق خارج نہ ہو ا ہو ، اس ذبیحہ کے گوشت اور ان رگوں کے متعلق کیاحکم ہے جن میں خون رہ گیا ہو؟
جواب دیدیا گیا: جواب : اس کا گوشت حلال ہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ اس کے اندر کے خون سے پرہیز کیا جائے ۔

کفش داری (جہاں پر جوتے، رکھے جاتے ہیں مثلاً مسجد امام بارگار یا حرم وغیرہ میں مخصوص جگہ) میں رہ جانے والے جوتے [گم شده مال کے احکام]

سوال: امام رضا (علیہ السلام) کے مقدس روضہ پر کبھی کبھی ہزاروں کی تعداد میں ، گمشدہ جوتے جمع ہوجاتے ہیں ،ان جوتوں کا حکم بیان فرمائیں؟
جواب دیدیا گیا: جواب:وہ جوتے جو روضہ کے ان مقامات پر رہ گئے ہیں جہاں زائرین کے جوتوں کی نگہداشت کی جاتی ہے ، ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ عمومی طور پر اعلان کریں اور ان کے مالکوں کی تلاش سے مایوس ہونے کے بعد ان جوتوں کو مستحق اشخاص کو دیدیں یا ان کو فروخت کرکے ان کی قیمت مستحق حضرات کو دیدیں ۔
کل صفحات : 103