چاند شق ہوگیا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

پہلی آ یت میں دواہم باتوں کے بارے میں گفتگوہوئی ہے ،ایک توقیامت کاآنا کہ جس کاورُود اس عالمِ فانی کے لیے اپنے ہمراہ ایک عظیم انقلاب لیے ہوئے ہے ،دوسرا عنوان ہے نئی زندگی کی اِبتدائ وہ ایسی دُنیا ہے کہ جس کی عظمت ووُسعت اس دُنیا ئے دَنی میں مقیّد رہنے والوں کے لیے ناقابل فہم وناقابل ِ توصیف ہے ۔
دُوسراواقعہ مُعجزہ شق القمر کاہے جوخُدائے بزرگ وبرتر کی ہرشے پرقُدرت رکھنے کی دلیل بھی ہے اوراس کے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کی نشانی بھی ،قیامت قریب ہوئی اور چاند شق ہوگیا(اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَر) ۔
قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ سُورئہ نجم قربِ قیامت کوبیان کرنے والے جُملوں پرختم ہوا ازفت الٰا زفة یہ سُورہ بھی اسی معنی ومفہوم سے شروع ہو رہاہے ،یہ تاکید ہے اِس بات کی کہ قیامت قریب ہے خواہ یہ قُرب دُنیا کے پیمانے کے اعتبار سے ہزاروں سال ہی کیوں نہ ہو،لیکن اس دُنیا کی مجموعی عمرکی طرف توجہ کرتے ہوئے اوراس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اس دُنیا کی تمام عمر قیامت کے مقابلے میں ایسے ایک لمحہ سے زیادہ نہیں جوجلدی گُزر جائے ، اس سے مقصود یہ ہے کہ اس تعبیر کامفہوم واضح ہوجائے ۔
مفسرین کی ایک جماعت کے قول کے مطابق ان دونوں حادثوں کااکٹھا ذکراس وجہ سے ہے کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ،جوکہ خدا کے آخری پیغمبر ہیں، ان کاظہور اصو لی طورپر خُود قُربِ قیامت کی ایک نشانی ہے ،پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: بعثت انا والساعة کھاتین میرامبعوث ہونا اور قیامت مثل ان دو کے ہے (١) یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دواُنگلیوں کی طرف اشارہ ہے جواُس وقت ایک دُوسرے سے ملی ہوئی تھیں ۔
دُوسری طرف چاند کادوٹکڑے ہونا ستاروں کے نظام کے درہم برہم ہونے کے اِمکان پر خود ایک دلیل ہے اورایک چھوٹا سا نمونہ ہے اِن عظیم حادثات کاجوقُربِ قیامت میں ظہور پذیر ہوں گے کیونکہ تمام ستارے بمع زمین ٹوٹ پُھوٹ جائیں گے اوران کی جگہ ایک نئی دُنیا معرض ِ وجود میں آ جائے گی، ایسی مشہورویات کے مطابق کہ جن کے بارے میں بعض راویوں نے متواتر ہونے کادعویٰ بھی کیاہے مُشرک کین پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اورکہا کہ اگرآپ سچ کہتے ہیں، اورخُدا کے پیغمبرہیں توہم کوچاند کے دوٹکڑے کرکے دکھائیں ،آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما یا : کہ اگر میں یہ کام کرکے دکھادوں توکیاتم ایمان لے آؤ گے اُنہوں نے کہاجی ہاں ۔ وہ چود ھویں کی رات تھی، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بارگاہِ ایزدی میں دُعا کی کہ جوکچھ یہ چاہتے ہیں وہ تو کردے،چاند اچانک دوٹکڑے ہوگیا،رسو ل اللہ ایک ایک شخص کوآواز دیتے تھے اورفرماتے تھے (٢) یہ مُعجزہ دیکھ لو۔
اِس سلسلہ میں چند سوالات ہیں مثلاً یہ کہ یہ کِس طرح ممکن ہے کہ ایک آسمانی کُرّہ شق ہو کردوٹکڑے ہوجائے نیزاس قسم کاحادثہ کُرّئہ زمین اور نظام شمسی کے لیے اپنے اندر کیاتاثیر رکھتاہے،شگافتہ ہوجانے کے بعد چاند کے دونوں ٹکڑوں کے ہلنے کی کیفیّت اور یہ کہ اس قسم کے حادثہ کاہونا کِس طرح ممکن ہے ۔پھر یہ بھی کہ تورایخِ عالم نے اس کاذکر بھی نہ کیا ہو، اِس ضمن میں کچھ یہ اور کچھ ایسے ہی دوسرے سوالات ہیں،اِنشاء اللہ نکات کے ذیل میں ہم یہ سب تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ۔
وہ نکتہ کہ جس کاذکر یہاں ضروری ہے یہ ہے کہ بعض ایسے مفسرین ،کہ جن کی شہرت اچھی نہیں ہے اورجو ہرقسم کے اس عمل کے جوخارقِ عادت ہو سوائے قرآن کے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذ ریعے انجام پانے کے مُنکر ہیں، باوجود اس کے کہ مذکورہ بالا آ یت واضح ہے اوراس عنوان پرعُلمائے اسلام کی کتابوں میں روایات کثرت سے موجود ہیں ،وہ اُلجھن میں گرفتار ہیں کہ اس خارقِ عادت عمل کی کِس طرح توجیہ کریں،وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس موضوع کواس طرح زیربحث لائیں کہ اس واقعہ کے معجزانہ پہلو کی نفی ہوجائے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شق القمر کا واقعہ بطور اعجاز ظہور پذیر ہواہے اوعربعد میں آ نے والی آ یتیں اس امر پر اپنے واضح شواہد لیے ہوئے ہیں،اگرکچھ آ یاتِ قرآنی مُعجزہ کی نفی کرتی ہیں تووہ ایسے معجزات کی طرف اشارہ ہے کہ بہانے بنانے والے افراد جن کامطالبہ کرتے تھے ،وہ نہ تو حق کوقبول کرنے کاارادہ رکھتے تھے اورنہ اس کے انجام پاجانے کے بعد حق کے سامنے سرتسلیم خم کرتے تھے ،وہ معجزات کہ جن کی تحقیق کے لیے مطالبہ ہوتاتھا ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے انجام پاتے تھے ۔اِس امر پر بہت سے شواہد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی تاریخ زندگی میں موجود ہیں ۔
اِس کے بعد قرآن مزید کہتاہے ہٹ دھرم اورکج بحثی کرنے والے مخالفین جب تیری تبلیغ کی صداقت کے بارے میں کوئی معجزہ یانشانی دیکھتے ہیں تو اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ واقعی مُستقل جادوہے (وَ ِنْ یَرَوْا آیَةً یُعْرِضُوا وَ یَقُولُوا سِحْر مُسْتَمِر) ۔مستمر کالفظ اس لیے کہا کہ انہوںنے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سے پے درپے معجزات دیکھے تھے اور شق القمر اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھا ۔وہ ان سب باتوں کومستقلاجادو قرار دیتے تھے اگرچہ یہ تہمت حق توتسلم نہ کرنے کامحض ایک بہانہ تھی ،کچھ مُفسرین نے مستمر کے معنی طاقتور قرار دیے ہیں ۔جیساکہ (حبل مریر)کہاجاتا ہے جس کے معنی مضبُوط رسّی کے ہیں،بعض مُفسرین نے اس کے معنی ناپائیدار کے لیے ہیں لیکن صحیح پہلی تفسیر ہی ہے ۔
بعدوالی آ یت میں ان کے مخالفانہ نکتے اور اس مخالفت کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والی نحوست کی طرف اشارہ کیاگیاہے انہوں نے تکذیب کی اوراپنی ہوائے نفس کی پیروی کی اورہرچیز کی ایک قرار گاہ ہے(وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أَہْواء َہُمْ وَ کُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِر) ۔
پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی مخالفت یاآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دلائل اورمعجزات کی تکذیب اور قیامت کے انکار کاسبب ان کی ہوائے نفس کی پیروی تھی، تعصّب ،ہٹ دھرمی اورنفس پرستی انہیں حق کے سامنے سرتسلیم ِ خم نہیں کرنے دیتی تھی ،دُوسری بات یہ ہے کہ بلاکسِی قید کے مفادات کاحاصل کرنااور ہرقسم کے گناہ میں الودہ ہونا،اس راہ میں حائل تھا کہ وہ دعوتِ حق کوقبول کریں کیونکہ دعوتِ حق کاقبول کرناذمّہ داری عائد کرتاتھا ،جی ہاں ہمیشہ ایساہوتا رہاہے ،اورایساہی ہوتارہے گاکیونکہ حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مفاد پرستی ہی ہوتی ہے ۔
(وکل امرمستقر) ہرچیزکی ایک قرار گاہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرشخص اپنے کیے کی سزاپائے گا ،نیکی کرنے والوں کی نیکی کی قرار گاہ اوربُرائی کرنے والوں کی بُرائی کی قرار گاہ ،اس تفسیر سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اِس جہان میں کوئی چیزختم نہیں ہوتی اور ہرنیکی اوربُرائی باقی رہتی ہے ،یہاں تک انسان اس کی جزا یاسزاپائے ۔
مندرجہ بالاتفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ جھوٹے الزامات حق کے چہرے کوہمیشہ نہیں جُھپاسکتے ،ہرچیز اپنی قرار گاہ کی طرف جاتی ہے ،اور زیادہ دیر نہیں لگتی کہ حق کا خوبصورت اورباطل کا قبیح چہرہ آشکار ہوجاتاہے ، یہ اس دُنیا کی ایک مُستقل روایت ہے ،یہ تفسیریں ایک دُوسرے سے متصادم نہیں ہیں، ہوسکتاہے کہ یہ سب کی سب آیت کے مفہوم میں داخل ہوں ۔
١۔ "" تفسیر فخر رازی"" جلد ٢٩ ،صفحہ ٢٩۔
٢۔ "" مجمع البیان "" اور دُوسری کتب تفاسیر زیر بحث آ یت کے ذیل میں ۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma