١۔ شق القمر ،پیغمبر(ص) اسلام کاایک عظیم مُعجزہ :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
اگر چہ بعض کوتاہ نظر مفسّرین کااس بات پراصرار ہے کہ اس معجزہ کی اس طرح توجیہ کریں کہ اس کی خارق العادت حیثیّت باقی نہ رہے ، ان کاکہنا ہے کہ مندرجہ بالا آ یات آئندہ اورمُستقبل کے بارے میں خبر دیتی ہے ، قیامت کی شرائط سے متعلق ہے اوراس سے پہلے کے حوادث میں سے ہے ،لیکن ایسی متعدد قرآنی آیات موجودہیں جواس کے معجزہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں،منجملہ ان کی ایک بات یہ بھی ہے کہ اس مُعجزہ کابیان ماضی کے صیغے میں کیاگیا ہے جوبتا تا ہے کہ شق القمر واقع ہوچکاہے جیساکہ آخری پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مبعوث ہونے کی وجہ سے قربِ قیامت کی تصدیق ہوچکی ہے ۔علاوہ ازیں اگر گفتگو معجزے کے بارے میں نہ ہو توپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سحرِ نسبت،جوبعدوالی آ یت میں آ ئی ہے ،کوئی مناسبت نہیں رکھتی اوراس طرح (وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أَہْواء َہُمْ)کاجملہ ان کی تکذیب کی خبر دیتاہے ،وہ بھی کوئی مناسبت ِ کلام نہیں رکھتا ۔
قطع نظراس سے کُتبِ اسلامی میں اس معجزے کے وقوع کے بارے میں بہت سی روایات بھی موجود ہیں جو حدِّ تواتر وشہرت تک پہنچی ہوئی ہیں اوراس وجہ سے قابلِ انکارنہیں ہیں،ہم فخرالدین رازی اور طبرسی اہل سُنّت اوراہل تشیع کے دو معروف مخسرین کی گفتگو کاحوالہ دیتے ہیں،فخرالدین رازی کاکہناہے کہ زیادہ ترمفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ اس آ یت سے مُراد یہ ہے کہ چاند کے دوٹکڑے ہوگئے تھے اورصحیح روایتیں بھی اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں، اس کاوقوع ایسانہیں کہ اس کے ماننے میں کسی قسم کے شک یاتردّد کودخل ہو، پھرپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس کی خبردی ہے ،اس بناپر اسے قبول کرناچاہیئے ،باقی رہی عدم فرق والتیام کی داستان (مطابق عقیدئہ ابطال شدہ بطلیموس)تووہ بے بُنیاد ہے اوراس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ دلائل عقلیہ سے ثابت ہے کہ افلاک میں سے کسی چیز کاٹوٹنا اورپھر جڑجاناممکن ہے ،مرحوم طبرسی مجمع البیان میں رقم طراز ہیں کہ مفسرین اس آ یت کوزمانۂ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں رُو نما ہونے والے معجزئہ شق القمر سمجھتے ہیں،اس کے بعدان چندمخالفین کے بے اعتنائی کے ساتھ نام لیتے ہیں ،وہ نام یہ ہیں عطا ، حسن اور بلخی ۔
بعض افراد نے نقل کیاہے کہ حذیفۂ یمانی جومشہور صحابی تھے اُنہوں نے شق القمر کاواقعہ مسجدمدائن میں ایک کثیر جماعت کے سامنے بیان کیا،وہاں ان پرکسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے حاضرین ایسے تھے جنہوںنے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا زمانہ دیکھاتھا(اس حدیث کو دُرّ ِ منثور اور قرطبی نے اس آ یت کے عنوان کے ماتحت پیش کیاہے ) ۔
آ یت میںجس مفہوم کے قرائن موجود ہیں ،جوروایات اس سلسلہ ہیں اورجو مفسّرین کے اقوال ہیں، ان سب سے قطع نظر کرتے ہوئے بھی شق القمر کاواقعہ قابلِ انکارنہیں ہے ۔یہاں چند سوالات ذہن میں اُبھر تے ہیںجن کے جواب ہم پیش کرتے ہیں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma