٣۔"" شق القمر"" تاریخی اعتبار سے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

ایک اور اعتراض جوبعض بے خبر افراد شق القمر پرکرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگریہ واقعہ شق القمر کااپنی اس اہمیّت کے ساتھ کہ جووہ رکھتا ہے حقیقت پرمبنی ہوتا تو دُنیا کی تاریخوں میں اس کاذکر ملتا جب کہ ایسا نہیں ہوا ۔
یہ واضح کرنے کے لیے کہ اس اعتراض کی حقیقت کیاہے اس مسئلہ کاتجزیہ اوراس کی تحلیل کی جاتی ہے ۔
(الف) یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ چاند ہمیشہ صرف آدھے کُرّئہ ارض سے نظر آ تا ہے اور سارے کُرّے ارض سے بیک وقت نظر نہیں آتا اسی وجہ سے زمین کے آدھے حصّہ کے لوگ تواس حساب سے خارج ہیں یعنی ان کے اس واقعہ کے دیکھنے کاکوئی امکان نہی نہیں ہے ۔
(ب)اس نیم کُرّہ کے جوآدھے لوگ ہیں ان میں، کاسویا ہواہونا ممکن ہے ،چونکہ معاملہ آدھی رات کے بعدکا ہے اس لیے ساری دُنیا کے چھوتھائی افراد اس واقعہ سے باخبر ہوسکتے ہیں ۔
(ج) قابل رویت حصّہ میں بھی عین ممکن ہے کہ آسمان کاکوئی خاص حِصّہ ابرآلود ہو اور چاند کاچہرہ بادلوں میں پوشیدہ ہو ۔
(د) آسمانی حوادث افراد کی توجہ صرف اس صُورت میں اپنی طرف مبذول کرتے ہیں جب بجلیوں کی سی شدید کڑک اپنے اندررکھتے ہوں یامکمل گرہن کی صُورت میں کہ جب چاند بالکل ہی غائب ہوجائے اور وہ بھی ایک طویل وقفہ کے لیے ،یہی وجہ ہے کہ اگر منجمین بے خبر رہتے ہیں ۔صرف وہ لوگ کہ جواجرامِ فلکی یعنی چاند وغیرہ کارصد گا ہوں میں مشاہدہ کرتے رہتے ہیںیاوہ لوگ کہ اتفاق سے جن کی نگاہ آسمان پرپڑجائے توان کے لیے ممکن ہے کہ وہ ایسے واقعہ سے باخبر ہوں اور کچھ اورلوگوں کوبھی باخبر کردیں یہی وجہ ہے کہ چاند کا مختصر وقت کے لیے رُو نما ہونے والا واقعہ جیساکہ ابتدامیں سمجھا جاتا تھا، پُوری دنیا کے لوگوں کی توجہ تو جذب کرنے کاسبب نہیں بن سکتا ۔علی الخصوص اس زمانے کے لوگ کہ جواجرامِ سمجھا جاتاتھا ،پُوری دنیاکے لوگوں کی توجہ تو جذب کرنے کاسبب نہیں بن سکتا ۔ علی الخصوص اس زمانے کے لوگ کہ جواجرامِ سماوی کی اہمیّت کے اصولی طورپر بہت کم قائل تھے ۔
(ھ) علاوہ ازیں تاریخ میں مندرج مطالب اوران کی نشرو اشاعت کے وسائل اس زمانے میں محدُود تھے ،یہاں تک کہ لکھے پڑھے افراد بہت کم تھے اورکتابیں سرف ہاتھ سے لکھی ہوئی ہوتی تھیں ۔اس وقت موجودہ دور کی کیفیّت نہیں تھی کہ اہم واقعات بجلی کی سی سُرعت کے ساتھ ریڈ یو،ٹیلی ویژن اوراخبارات کے ذ ریعے تمام دنیا میں پھیل جاتے ہیں،اِن پہلوؤں کواگرپیش نظر رکھاجائے تواس واقعہ کے غیراسلامی تاریخوں میں مندرج نہ ہونے پرتعجب نہیں کرناچاہیئے اوراس صُورتِ حال کو اس واقعہ کی نفی پر محمول نہیں کرناچاہیئے ۔
٤۔اِس عظیم معجزہ کے وقوع کی تاریخ
راویانِ حدیث اورمفسّرین میں اس بات پر قطعاً کوئی اختلاف نہیں ہے کہ شق القمر کامعجزہ پیغمبراسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت سے پہلے قیام ِ مکّہ کے زمانے میں رُونما ہوا ۔لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ ابتدائے بعثت ِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہواہے(١)جب کہ بعض دوسری روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ قیامِ مکّہ کے آخری دورمیں ہجرت کے قریب ہوااوروہ بھی کچھ حقیقت کے متلاشی افراد کے تقاضے پر ۔ وہ مدینہ میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور انہوںنے عقبہ میں آپ کی بیعت کی (٢) بعض روایات سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ پیغمبراسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے شق القمر کااعجاز دکھانے کی عِلّت یہ تھی کہ جادو او رسحر کے اثرات زمینی امورسے متعلق ہوتے ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ اس بات کااطمینان حاصل کرلیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات جادو نہیں ہیں(٣) ۔
متعصّب اورہٹ دھرم لوگوں کی ایک جماعت نے اس معجزہ کودیکھ کرکہاکہ ہم اسے قبول کریں گے یہاں تک کہ شام اور یمن کے قافلے آن پہنچیں اورہم ان سے سوال کریں کہ کیااُنہوں نے یہ واقعہ دیکھاہے لیکن جب آنے والے مسافروں نے اس واقعہ کی تصدیق کی تب بھی وہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے (٤) ۔
آخری نکتہ کہ جس کاذکریہاں ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے اوربہت سے معجزات کی طرف یہ معجزہ بھی تاریخ اورضعیف روایتوں کے خرافات میں آمیزش کاشکار ہوگیاہے جس کی وجہ سے اس کاچہرہ غور وفکر کرنے والوں کی نظرسے اوجھل ہوگیا ۔مثلاً یہ کہ چاند کے ایک ٹکڑے کازمین پرآناوغیرہ مناسب یہ ہے کہ ایسی خرافات کواس واقعہ سے جُدا رکھنا چاہییٔے تاکہ معجزہ کی اصل حقیقت اس میں ملوّث نہ ہو ۔
١۔"" بحارالا نوار "" جلد ٧١ صفحہ ٣٤٥(حدیث ٨) ۔
٢۔"" بحارالا نوار "" جلد ٧١ صفحہ ٣٥٢(حدیث ١) ۔
٣۔"" بحارالا نوار "" جلد ٧١ صفحہ ٣٥٥(حدیث ١٠) ۔
٤۔ درالمنثورجلد٦،صفحہ ١٣٣۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma