قومِ نوح علیہ السلام کا ماجرا درسِ عبرت تھا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
قرآن کی سُنّت یہ ہے کہ کفّار ومجرمین کوخوف دلانے کے بعد گزشتہ قوموں کی سر گزشت اور ان کی عبرتناک عاقبت کوتفصیل کے ساتھ بیان کرتاہے تاکہ انہیں سمجھائے کہ اگرتم اپنے غلط راستے پرچلتے رہے توتمہارا انجام بھی ویساہی ہوگا ۔ اس سُورہ میں بھی ان مباحث کے بعد کہ جوگزشتہ آیتوں مں مذکور ہوئے مختصر اورپُرمعنی اشارے گزشتہ اقوام میں سے پانچ قوموں کے متعلق موجود ہیں کہ جن میں سے پہلی قوم ،قومِ نوح علیہ السلام تھی۔ پروردگارعالم فرماتاہے : ان سے پہلے قومِ نوح نے اپنے پیغمبر کی تکذیب کی (کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ ) ۔جی ہاں !انہوں نے ہمارے بندے نوح علیہ السلام کی تکذیب کی اورکہا کہ یہ شخص دیوانہ ہے اوراس کے بعد طرح طرح کی ایذارسانیوں کے ذریعے اسے اپنی پیغام رسانی جاری رکھنے سے منع کیا (کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَکَذَّبُوا عَبْدَنا وَ قالُوا مَجْنُون وَ ازْدُجِر) ۔
کبھی اس سے کہتے کہ اگرتواپنے کام سے بازنہ آ یا توہم تجھے سنگسار کردیں گے ۔
قالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ یا نُوحُ لَتَکُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومین (شعرا ۔ ١١٦) ۔
اور کبھی اس کا گلا اس طرح دباتے کہ وہ بے ہوش کرزمین پرگر پڑتالیکن جب ہوش میں آتا تو کہتا:
اللھم اغفرلی لقومی فانھم لایعلمون(١) ۔
خلاصہ یہ کہ جس طرح ان سے ہو سکاانہوں نے اسے ایذا پہنچائی لیکن وہ تبلیغ سے دستبر دار نہ ہُوا ۔قابلِ توجہ یہ ہے کہ اس آ یت میں تکذیب کاذکر دومرتبہ ہواہے ۔بظاہر اس بناپر کہ پہلی مرتبہ اجمالی شکل میں ہے اوردوسری مرتبہ تفصیل کے ساتھ عبدنا ہمارابندہ سے اس طر ف اشارہ ہے کہ یہ مغرور وسرکش قوم نوح کی نہیں بلکہ ہماری مدِّ مقابل تھی (وازدجر ) کاجملہ اصل میں زجر سے ہے ۔اس کے معنی دُور کرنے کے ہیں اور بلند آواز سے کسی کودھتکارنے کے ہیں ،لیکن یہ لفظ ہرایسے عقل کے لیے بولا جاتاہے جس کاروکنا مقصود ہو ۔قابل توجہ یہ امر ہے کہ زیربحث آ یت میں قالوا فعل معلوم کی شکل میں ا یاہے اور(ازدجر) فعل مجہول کی شکل میں، شاید اس وجہ سے کہ ان کے اعمال نوح علیہ السلام کے زجرتوبیخ کے مقابلے میں اتنے زیادہ نامناسب تھے کہ پروردگار عالم اِن میں سے کسی گروہ کانام تک لینا گوارا نہیں کرتا ۔
اس کے بعد فرماتاہے : جس وقت نوح علیہ السلام ان کی ہدایت سے کُلّی طورپر مایوس ہوگئے تواُنہوں نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کی پروردگار ! یہ باغی اورمُجرم گروہ مجھ پرغالب آگیاہے ،پروردگار !ان سے میرا انتقام لے (فَدَعا رَبَّہُ أَنِّی مَغْلُوب فَانْتَصِر) ۔انہوں نے دلیل،حجت اوربُرھان کے ذریعہ مجھ پر غلبہ حاصل نہیں کیابلکہ ظلم ، تکذیب ،انکار اورمختلف قسم کے دباؤ کے ذریعہ مُجھ پر غلبہ حاصل کیاہے ،تو اَب یہ قوم باقی رہنے کے قابل نہیں ہے ،لہٰذا ان سے میرا انتقام لے اور مجھے ان کے مقابلے میں کامیابی عطافرما(٢)جی ہاں! یہ عظیم پیغمبر جب تک ان کے ہدایت پانے کی اُمید رکھتاتھا اس وقت تک خدا سے دعاکرتا رہاکہ انہیں بخش دے لیکن جب بالکل مایوس ہوگیا توپھراس نے ان پر تفرین کی اوران کے حق میں بددعاکی ۔
اس کے بعد ان کے عذاب کی کیفیّت کی طرف صاف ور دل ہلادینے والااشارہ کرتے ہوئے ارشاد فر ماتاہے ہم نے نوح کی اس درخواست کے بعد آسمان کے دوازے کھول دیے پھر شدید اور مسلسل بارش ہونے لگی (فَفَتَحْنا أَبْوابَ السَّماء ِ بِماء ٍ مُنْہَمِر) ۔
آسمان کے دروازوں کوکھول دینے کے الفاظ بہت ہی خوبصورت ہیں کہ جوشدید بارش کے وقت استعمال کیے جاتے ہیں جیساکہ ہم اُردو میں بھی کہتے ہیں گویاآسمان کے دروازے کُھل گئے اور جتنا پانی تھاسب برس گیا منھمرکامادّہ ھمر بروزن صبر ہے اس کے معنی شدّت سے آنسو ؤں کابہنا یانی کابرسنا ہے ۔یہ لفظ جانورکے تھن کودُودھ کے آخری قطرہ تک دوہنے کے لیے استعمال کیا جاتاہے ۔ تعجب اس امر پرہے کہ مفسّرین کے بعد اقوال میں آ یاہے کہ وہ برسوں سے خشک سالی کاشکار تھے اوربارش کے اِنتظار میں تھے یہاں تک کہ اچانک بارش ہونے لگی مگرزندہ کرنے والی بارش نہیں بلکہ جان سے ماردینے والی(٣) ۔
نہ صرف یہ کہ آسمان سے زیادہ پانی پرسنے لگابلکہ زمین سے بھی اُبلنے لگا جیساکہ آیت میں آ یاہے : اورہم نے زمین کوشگافتہ کیااوراس سے زیادہ چشمے نکالے (وَ فَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُیُونا)(٤) ۔
اور یہ دونو ں پانی اتنی مقدار میں کہ جس قدر مطلوب تھے آپس میں مِل گئے اوراس نے ساری زمین کوگھیر لیا فَالْتَقَی الْماء ُ عَلی أَمْرٍ قَدْ قُدِر بعض مفسّرین نے قد قدر کے لفظ کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ یہ دونوں پورے طورپر ایک دوسرے کی مقدار کے برابر تھے لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ۔
خلاصہ کلام یہ کہ ساری زمین سے پانی اُبلنے لگا، چشمے نکل آئے ،آسمان سے پانی برسنے لگا،یہ دونوں اپس میں مِل گئے اور انہوں نے ایک عظیم سمندر اور طوفان تشکیل دیا ۔یہاں قرآن نے طوفان کے مسئلہ کوچھوڑ دیا، کیونکہ جوکچھ کہناتھا وہ گزشتہ جملوں میں کہا جاچکا تھا،اَب نوح علیہ السلام کی کشتی ٔ نجات کی طرف توجہ کرتے ہوئے فر ماتاہے : ہم نے نوح علیہ السلام کوایک سواری پرکہ جو تختوں اورمیخوں سے بنائی گئی تھی سوارکیا (وَ حَمَلْناہُ عَلی ذاتِ أَلْواحٍ وَ دُسُر) وسر جمع ہے وسار کی کتاب کے وزن پرجیساکہ راغب مفردات میں کہتاہے کہ دسر کے معنی کسی کوغصّہ سے دھتکار نے کے ہیں اور چونکہ میخ ان شدید چوٹوں کی وجہ سے کہ جواس پرپڑتی ہیں ،لکڑی وغیرہ میں گھُس جاتی ہے اس لیے اسے وسارکہتے ہیں ۔بعض مفسّرین نے اس لفظ کے معنی طناب یعنی رسّی کے لیے ہیں ،وہ اس سے کشتی کے باد بان کی رسّیوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔لیکن پہلے معنی علی الخصوص الواح کی مناسبت سے زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں ۔بہرحال یہاں قرآن کی تعبیر جاذبِ توجہ اورپُر معنی ہے پروردگار ِ عالم فرماتاہے کہ اس عظیم مجسّم طوفان کے درمیان کہ جوہر چیزکو نگل گیاتھا ، ہم نے حضرت نوح علیہ السلام اوران کے اصحاب کی نجات کافرمان مُٹھی بھرمیخوں اورلکڑی کے تختوں کے سپرد کردیااورانہوںنے یہ ذمّہ داری عُمدہ طریقہ سے پوری کی اوریہ قُدرت کاعظیم مظاہرہ تھا،ممکن ہے کہ یہ قرآنی تعبیر اِس زمانے کی ترقی یافتہ صُورت رکھنے والی کشتیوں کے مقابلے میں اُس زمانے کی ان سادہ کشتیوں کی طرف اشاارہ کے طورپر ہوجن میں خصوصی طورپر بیٹھنے کی جگہیں تھیں اور نہ ان کی خاص صورتیں تھیں ۔
پھر بھی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کافی بڑی تھی اور تاریخ کے بیان کے مطابق اس کی تعمیر کے سلسلہ میں نوح علیہ السلام نے برسوں محنت اور مشقّت کی تھی تاکہ مختلف جانوروں کاایک ایک جورااس میں سماسکے ۔اس کے بعدخدا اپنی خاص عنایت کے ساتھ نوح علیہ السلام کی کشتیٔ نجات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ کشتی ہمارے (علم) کی نظروں کے سامنے موجوں کے سینے کوچیزتی ہوئی ہمارے مشاہدہ اورحفاظت کے ماتحت اپنے سفر کوجاری رکھے رہی (تَجْری بِأَعْیُنِنا) ۔ باعیننا کی تعبیر ( ہماری آنکھوں کے سامنے ) ایک لطیف اشارہ ہے کسی چیز کی طرف ،خصوصی توجہ اور اس کی مکمل نگرانی کی طرف ،ایساہی سورہ ھُود کی آ یت ٣٧ میں بھی ہم اسی موضوع کے ایک اورحصہ میں پاتے ہیں ۔
واصنع الفلک باعیننا ووحینا ہم نے اس پروحی کی کہ ہماری نظروں کے سامنے اورہماری وحی کے مطابق کشتی بنا بعض مفسرین نے اس کا یہ مفہوم لیاہے کہ یہ ان انسانوں کی طرف اشارہ ہے کہ جوکشتی پرسوار تھے (٥) ۔
اس وجہ سے تجری باعینناکے جملے کے معنی میں ہیں کہ وہ کشتی ہمارے مخلص بندوں کوساتھ لیے ہوئے ہے لیکن قرآن کی دوسری آیتوں میں اس تعبیر کے دوسرے موارد پیش نظر رکھتے ہو ئے پہلی تفسیرصحیح نظرآ تی ہے ۔
ایک یہ احتمال بھی تجویز کیاگیاہے کہ باعیننا ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے کہ جوکشتی نوح کے سلسلہ میں ہدایات آئی تھیں، ان میں دخل رکھتے تھے ،لیکن یہ تفسیر بھی اس دلیل کی بناپر کہ جوہم نے اُوپر بیان کی ضعیف ہے ۔
اس کے بعد پروردگار ِ عالم فرماتاہے : یہ تمام سزاتھی ان لوگوں کے لیے کہ جنہوںنے نوح علیہ السلام کی تکذیب کی اور کافرہوئے ( جَزاء ً لِمَنْ کانَ کُفِر)(٦) ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام بھی دوسرے انبیاء کی طرح خدا کی بڑی مہربانیوں اورنعمتو ں میں سے ایک تھے جن کی بے خبراور جاہل افراد نے تکذیب کی اورکافر ٹھہرے (٧) ۔
اس کے بعد اس عظیم واقعہ سے نتیجہ اَخذ کرتے ہوئے فرماتاہے : ہم نے اس واقعہ کودرسِ عبرت اوراُمّتوں کے درمیان نشانی کے طورپر باقی رکھاہے توکیاکوئی نصیحت حاصل کرنے والاہے (وَ لَقَدْ تَرَکْناہا آیَةً فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ ) ۔
حقیقت ِ حال یہ ہے کہ وہ تمام باتیں جواہم تھیں اس واقعہ کے ذیل میں بیان کردی گئی ہیں اورایک بیدار مغز انسان کوجوکچھ سمجھنا چاہییٔے وہ اس واقعہ سے سمجھ سکتاہے ۔اس تفسیر کے مطابق کہ جوقبل وبعد کی آیتوں سے مطابقت رکھتی ہے ترکناھا کی ضمیر واقعہ طوفان ، سرگزشت نوح اوران کی مخالفت سے تعلق رکھتی ہے لیکن بعض مفسّرین اسے کشتی نوح علیہ السلام کی طرف اشارہ قراردیتے ہیں کیونکہ یہ کشتی ایک مُدّت تک عام لوگوں کے دمیان باقی رہی تھی لیکن بعض اور جس شخص کی نظر اس پر پڑتی تھی اس کی نظروں کے سامنے طوفانِ نوح علیہ السلام کاتمام واقعہ مجسّم ہوجاتاتھا اگرہم اس روایت کوتسلیم کرلیں کہ اس کشتی کے بچے ہو ئے تختے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ تک باقی تھے اوراس بات کو پیش ِ نظر رکھیں کہ بعض افراد کایہ دعویٰ تھاکہ ان کے زمانے میں اس کشتی کے بقیہ حصّے کوہ قفقازوارارات میں دیکھے گئے ہیں توپھریہ احتمال پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ ایک اشارہ دونوں جانب ہو یعنی واقعہ نوح بھی ایک نشانی تھا اور لوگوں کے درمیان رہنے والی کشتی بھی ایک نشانی تھی (٨) ۔
پروردگار ِ عالم بعدوالی آ یت میں ایک تہدید آمیز اورپُر معنی سوال کے عنوان کے ماتحت ان کافروں کے متعلق کہ جوزمانۂ نوح کے کافروں والے راستے پرچل رہے ہیں فرماتاہے: اب بتاؤ کہ میراعذاب اورتخویف دلانے والے امورِ کس طرح کے تھے (فَکَیْفَ کانَ عَذابی وَ نُذُرِ) ۔کیا وہ حقیقت تھے یامحض ایک افسانہ ؟
اِس مبحث سے متعلق آخری آ یت میں اِس حقیقت پرزور دیاگیاہے کہ:
ہم نے قرآن کوذکر کے لیے آسان کیاہے ۔ کیاکوئی ہے کہ جونصیحت حاصل کرے (وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِر) ۔
بلاشک وشبہ اس قرآن میں کسِی قسم کااُلجھا ؤ نہیں ہے تاثیر کی تمام شرائط اس میں جمع ہیں ۔اس کے الفاظ شیریں اورپُرکشش ہیں ۔ اس کی تعبیریں زندہ اورپُرمعنی ہیں ۔اس کے خوف اوربشارتیں واضح اورصریح ہیں ۔ اس کی داستانیں حقیقت پرمبنی ہیں ۔ اس کے دلائل مضبُوط ومستحکم ہیں ۔اس کی منطق فصیح وبلیغ ومتین ہے ۔خلاصہ یہ کہ جوکچھ کسی کلام کوپُر تاثیر بنانے کے لیے ضروری ہے وہ اس میں موجود ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی آمادگی رکھنے والادل اس کی طرف جُھکے گا تووہ اس میں کشش محسُوس کرے گا ۔
اِسلام کی طویل تاریخ میں قرآن کی اس عمیق تاثیر کے بارے میں کہ جوتوجہ رکھنے والے دلوں میں موجودتھی اوراس امر (تاثیر ) کی واضح شاہد تھی ،عجیب وغریب شواہد ملتے ہیں لیکن اس کاکیا کیاجائے کہ اگرکسی تخم کاجوہر ِ حیات ہی مردہ ہو چکاہو تواسے اگر بہترین زمین میں بھی بو دین اور بہترین باغبانوں کی زیرنگرانی اس کی آبِ کوثرسے آبیاری کریں تب بھی وہ نشوونمانہیں پائے گا اوراِس سے پُھول اورسبزہ پیدانہیں ہوگا ۔
١۔"" تفسیرکشاف"" "" ابو الفتوح رازی"" درذیل آ یات زیربحث ۔
٢۔ "" انتصر"" کے معنی مددطلب کرنے کے ہیں،جیساکہ سورئہ شوریٰ کی ؤ یت ٤١ میں آ یاہے لیکن یہاں انتقام کے معنی میں ہیں ۔ ایساانتقام جو عدل وحکمت پرمبنی ہو ۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ تقدیر عبارت میں "" انتصرلی"" تھا ۔
٣۔ "" رُوح المعانی"" زیربحث آ یات کے ذیل میں ۔
٤۔ "" عیوناً"" ہوسکتا ہے کہ الارض کیل یے تمیز ہو اور تقدیر عبارت میں ( وَ فَجَّرْنَا عیون الْأَرْض)ہو ۔ اس کے بعد "" عیون"" جوکہ مفعول ہے جُدا ہوا اورتمیز کی شکل میں ا یا ہے تاکہ مبالغہ اوراہمیّت کوبتائے یعنی ساری زمین چشمے میں بدل گئی تھی ۔
٥۔ "" اعین"" جمع ہے "" عین"" کی جس کے ایک معنی آنکھ اوردوسرے معنی انسان کے ہیں ،اس کے علاوہ اور بھی معنی ہیں ۔
٦۔توجہ کرنی چاہییٔے کہ یہاں"" کفر"" فعل مجہول کی شکل میں ہے جوکہ حضرت نوح علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے جن کی نسبت وہ لوگ کافرہوئے تھے نہ کہ فعل معلوم ہے اور کفّار کی طرف اشارہ ہے ۔
٧۔اگرآ یت میں کسی چیز کامقدّر نہ مانا جائے توکفر کانائب فاعل حضرت نوح کی ذات ہوگی کہ جووہ نعمت تھے کہ جس کا کفران پراگر کہیں تقدیر میں کفر بہ تھا توحضرت نوح علیہ السلام اوران کی تعلیمات پرعدمِ اطمینان کی طرف اشارہ ہوگا ۔
٨۔قومِ نوح علیہ السلام کے بارے میں ہم تفصیل مباحث سورہ ھُود کی آ یت ٢٥ تا٤٩ (جلد ٥ تفسیرنمونہ ) میں تحریر کرچکے ہیں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma