اور اسی طرح قو م عاد کی سرگزشت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
دُوسری قوم کہ جس کی سرگزشت اس سُورہ میں حضرت نوح علیہ السلام کی سرگزشت کے بعد آ ئی ہے ،قوم عاد ہے ۔قرآن کافروں اور مُجرموں کوخبردار اورمتنبہ کرنے کے لیے زیربحث آ یات میں مختصر طورپر اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے : قومِ عاد نے بھی اپنے پیغمبر کی تکذیب کی (کَذَّبَتْ عاد) ۔
ان کے پیغمبرحضرت ہود علیہ السلام تبلیغ پرجتنا زیادہ زور دیتے اورمختلف طریقوں سے انہیں خوابِ غفلت سے چگانے کی کوشش کرتے ان کی کج فہمی اورہٹ دھرمی میں اتناہی اضافہ ہوتا ۔اپنی دولت وثروت کے غرور اورخواہشات میں مستغرق رہنے کی وجہ سے جو اُن میں غفلت گئی تھی اس اس کے باعث وہ سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ سے محروم ہوچکے تھے ۔
آخر کار خدانے انہیں دردناک عذاب کی سزادی ،اس لیے اس آ یت کے آخر میں پروردگارِ عالم اجمالی طورپر فرماتاہے کہ دیکھو میراعذاب اورتخویف کس طرح کے تھے ؟ (فَکَیْفَ کانَ عَذابی وَ نُذُر) ۔
اس کے بعدوالی آ یت میں اس اجمال کی تفصیل پیش کرتے ہوئے مزید کہتاہے کہ:
ہم نے وحشت ناک ،سرد اورتیز آندھی ،ایک ایسے منحوس دن کہ جوبہت طویل تھا ،ان کی طرف بھیجی (ِنَّا أَرْسَلْنا عَلَیْہِمْ ریحاً صَرْصَراً فی یَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ) ۔صرصر کامادہ صر بروز ن شرہے ۔اس کے معنی باندھنے اورمحکم کرنے کے ہیں صرصر کے لفظ میں اس کی تکرار تاکید کے لیے ہے اور چونکہ یہ ہواسرد ،شدید، پُر سوز اور گونج سے بھری تھی ،ا س وجہ سے یہ لفظ اس کے لیے استعمال ہواہے ،نحس اصل میں اس شدید سُرخی کے معنوں میں ہے جوکبھی کبھی اُفق پرنمودار ہوتی ہے اوراس طرح وہ شعلہ ہے جس میں دُھواں نہ ہو، عرب اسے نحاس کہتے ہیں اس کے بعد یہ لفط ہراس منحوس کے لیی استعمال ہواہے جونیک کے مقابل ہو ۔ مستمر یوم کی یا نحس کی صفت ہے ۔پہلی صورت میں اس کامفہوم یہ ہے کہ اس دن کے حوادث اسی طرح طولانی تھے جس طرح کہ سورہ حاقہ کی آ یت ٧ میں مذکور ہیں سات رات اورآٹھ دن یہ عذابِ الہٰی ان پر مسلّط رہا،یہاں تک کہ اس نے سب کوتلپٹ کرکے رکھ دیااور کسی کوزندہ نہ چھوڑا۔
دوسری صورت میں اس کے معنی یہ ہیں کہ اس دن کی صورت برقرار رہی یہاں تک کہ سب کوہلاک کردیا ۔
بعض مفسّرین نے نحس کے معنی گردوغبار سے لبریز کے لیے ہیں ،اس لیے کہ یہ آندھی اس قدرغبار آلودتھی کہ وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے ۔جب یہ آندھی دُور سے ظاہر ہوئی تووہ یہ سمجھے کہ گھنگورگھٹا ان کی طرف آرہی ہے لیکن بہت جلد وہ سمجھ گئے کہ تیز آندھی ہے جوان پرعذاب کی صُورت میں ہلاک کرنے کے لیے وارد ہوئی ہے سورہ احقاف کی آ یت ٢٤ میں آ یاہے فَلَمَّا رَأَوْہُ عارِضاً مُسْتَقْبِلَ أَوْدِیَتِہِمْ قالُوا ہذا عارِض مُمْطِرُنا بَلْ ہُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہِ ریح فیہا عَذاب أَلیم ۔
یہ دونوں تفسیریں ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں اور ہوسکتاہے کہ آ یت کے معنوں میں دونوں مفہوم موجود ہوں ،اس کے بعد اس تیزآندھی کی کیفیّت کے بارے میں پروردگار عالم فرماتاہے کہ لوگوں کوگھُن کھائے ہوئے کھجور کے نتوں کی طرح اُکھاڑ دیااوروہ ان کو ہرطرف پھینکی تھی ( تَنْزِعُ النَّاسَ کَأَنَّہُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِر) منقعر کامادہ قعر ہے ،اس کے معنی میں کسِی چیز کا سب سے نیچے کانقطہ۔اس لیے یہ لفظ جڑ سے اکھاڑ نے کے معنوں میں استعمال ہواہے ۔ یہ مفہوم یاتواس بناپر ہے کہ قوم عاد کے لوگ قوی الجثہ تھے اور سخت جسم رکھتے تھے یایہ کہ انہوں نے تیز آندھی سے بچنے کے لیے زمین میں گڑھے کھود رکھے تھے اور زیرزمین پناہ گاہ ہیں بنارکھی تھیں ،لیکن اس روزآ نے والی آندھی اتنی زور دار اور طاقتور تھی کہ ان کو ان کوپناہ گاہوں سے باہر نکالتی تھی اوراِدھر اُدھر پھینکتی تھی ۔وہ ان کواس زور سے زمین پرپٹختی تھی کہ ان کے سرتن سے جُدا ہوجاتے تھے ۔ اعجاز جمع عجز رجل کے وزن پر عجز کے معنی ہیں کسِی چیز کا نچلایا پچھلا حصّہ۔ان لوگوں کوکھجوروں کے نتوں کے نچلے حصّہ سے تشبیہ اس لیے دی ہے کہ وہ ہوا پہلے ان کے سروں اورہاتھوں کو جُدا کرکے اپنے ساتھ اُڑا کرلے جاتی تھی اوراس کے بعد بدن کے باقی حصّہ کوبے شاخ وبرگ کھجور کے تنے کی طرح چاہے جس طرف پھینک دیتی تھی ۔ یااس وجہ سے کہ ، جیساکہ ہم نے اُوپر اشارہ کیا ہے ،ہوااس قدر تیزتھی کہ وہ ان کوسرکے بل زمین پرگراتی تھی اوران کی گردنوں کوتوڑ کرسروں کوالگ کردیتی تھی ۔
اس کے بعد قرآن تنبیہ کے طورپر کہتاہے : اَب دیکھو کہ میراعذاب اور میری تخویف کِس طرح کی تھی (فَکَیْفَ کانَ عَذابی وَ نُذُر) ۔ہم نے دوسری ایسی قوموں کے ساتھ کہ جنہوںنے تکذیب ،کبروغرور اورگناہ وعصیان کاراستہ اختیار کیاتھا ،اس طرح کاسلوک کیاہے تو تم اپنے بارے میں کیاسوچتے ہوکیونکہ تم بھی تواُنہی کے راستے پرچل رہے ہو پھر اس واقعہ کے آخر میں مزید کہتاہے : ہم نے قرآن کوتذ کیر کے لیے آسان کردیاہے توکیا کوئی ہے کہ جوپند ونصیحت حاصل کرے ۔کیا تم خداکی طرف سے آنے والی تنبیہ وتخویف کے لیے کوئی دیکھنے والی آنکھ رکھتے ہو (وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِر) ۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ : فَکَیْفَ کانَ عَذابی وَ نُذُر کے جملے کی قومِ عاد کے بارے میں تکرار ہوئی ہے یعنی وہ دو مرتبہ استعمال ہواہے،ایک تواس سرگزشت کے بیان کے آغاز میں اورایک مرتبہ اس کے آخر میں، یہ بات غالباً اس لیے ہے کہ اس گروہ پر آنے والا عذاب دوسری قوموں پر آنے والے عذاب کی نسبت زیادہ شدید اوروحشت ناک تھا ،اگرچہ سارے عذاب شدید ہی ہوتے ہیں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma