نیک اور بد دن

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

یہ بات لوگوں کے معمولات میں سے ہے کہ وہ بعض ایّام کونیک اور بعض کونحس قرار دیتے ہیں ۔اگرچہ اس نیک یامنحوس ہونے کے تعیّن کے بارے میں اختلافات بھی بہت ہیں ،یہاں گفتگو یہ ہے کہ آیایہ عقیدہ اِسلام کے نقطۂ نظر سے قابلِ قبول ہے یانہیں یاپھر کیایہ نظر یہ اسلام سے اخذ کیاگیاہے ؟ بہرکیف یہ نظر یہ عقلی طورپرمحال نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہے زمانے کے اجزاء ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہوں اوران میں فرق مو جود ہو ۔ بعض اجزا میں نحوست کے اثرات ہوں اور بعض میں اس کی ضد کے اثرات ہوں ۔اگر چہ کسی دن کومنحوس اورکسی کونیک ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس عقلی دلیلیں نہیں ہیں ، پس اس قدرہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ممکن ہے لیکن عقلی لحاظ سے دلیلیں ہوں توان کے قبول کرنے میں ہمارے لیے کوئی امر مانع نہیں ہے بلکہ اس کا ماننا ہمارے لیے ضروری ہے ۔
آیاتِ قرآنی میں صِرف دومواقع ایسے ہیں جن میں دِنوں کی نحوست کی طرف اشارہ ہواہے ،ایک توزیربحث آیتوں میں اوردوسرے سورہ حم سجدہ کی آ یت ١٦ میں کہ جہاں اسی قوم ِ عاد کے بارے میں گفتگو ہے ۔وہاں ہمیں یہ ملتا ہے (فَأَرْسَلْنا عَلَیْہِمْ ریحاً صَرْصَراً فی أَیَّامٍ نَحِسات) ہم نے سخت تیز اور سرد آندھی منحوس دنوں میں ان پر مسلّط کی (١) ۔
اس کے برعکس لفظ مبارک کی تعبیر بھی بعض آیاتِ قرآنی میں ہمیں نظر آتی ہے ،چنانچہ شبِ قدر کے بارے میں پروردگار ِ عالم فرماتاہے: ِنَّا أَنْزَلْناہُ فی لَیْلَةِ الْقَدْر ہم نے قرآن کوبابرکت رات میں نازل کیا (دخان۔ ٣) نحس اصل میں جیساکہ ہم نے اس سے پہلے عرض کیا ہے اُفق کی شدید سُرخی کے معنی میں ہے کہ جواُسے ،نحاس یعنی آگ کے اُس شدید شعلے کی شکل میں پیش کرتاہے جودھویں سے خالی ہو ۔پھر اسی مناسبت سے شوم منحوس کے معنی میں استعمال ہواہے ۔اس طرح قرآن اس مسئلہ کے بارے میں اجمالی اشارہ کرنے کے سوااور کچھ نہیں کہتالیکن اِسلامی روایات میں ایّامِ نحس وسعد سے متعلق بہت سی روایات ہم تک پہنچی ہیں ۔اگرچہ ان میں سے بہت سی روایات واحادیث ضعیف ہیں اورپایۂ اعتبارسے ساقط ہیں پھر بھی ان روایات میں ایسی چیزیں موجود ہیں جوقابلِ وثوق ہیں، جیساکہ مذکورہ بالا آ یتوں کی تفسیرمیں مفسّرین نے اس کی تائید کی ہے ۔ محدّثِ اعظم علامہ مجلسی علیہ الرحمتہ نے بھی اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں بحارلا نوار میں نقل کی ہیں (٢) ۔
یہاں مختصر اً جو کچھ کہاجاسکتاہے وہ یہ ہے :(الف) بہت سی روایتوں میں نیک اورمنحوس دن اِن سے متعلق ہونے کی جوان دنوں میں واقع ہوئے ہیں تفسیر کے ذیل میں مذکورہو ئے ہیں ،مثلاً ایک روایت میںحضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی زبانی ہمیں یہ معلوم ہوتاہے کہ ایک شخص نے آپ سے ،بدھ کی جوبدشگونیاں مشہورہیں ،ان کے بارے میں سوال کیا اور پوچھا کہ یہ کونسابُدھ ہے توآپ نے فرمایا:
اٰخراربعاء فی الشھر وھوالمحاق وفیہ قتل قابیل ھابیل اخاہ ... ویوم الاربعاء ارسل اللہ عزوجل الریح علیٰ قوم عاد مہینے کاآخری بدھ کہ جومحاق میں واقع ہو ۔اس دن قابیل نے بھائی اپنے ھابیل کوقتل کیا تھا... اورخدانے اسی بُدھ کوتیزآندھی قومِ عاد کی طرف بھیجی تھی (٣) ۔
اس لیے بہت سے مفسّرین متعدد روایات کی پیروی کرتے ہوئے مہینے کے آخر ی بدھ کومنحوس سمجھتے ہیں اوراسے (ار بعاء لاتدور) وہ بُدھ مانتے ہیں کوجوپلٹ کرنہیں آتا ،بعض دوسرے روایتوں میں ہمیں ملتاہے کہ مہینے کی پہلی تاریخ نیک ہوتی ہے کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام اسی تاریخ کوپیدا ہوئے تھے ۔اسی طرح ٢٦ ویں تاریخ کیونکہ خدانے دریائے نیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے اسی تاریخ کوشگافتہ کیاتھا(٤) ۔
یایہ کہ مہینے کی تیسری تاریخ نحس ہے کیونکہ اس تاریخ کوحضرت آدم علیہ السلام اورحوّا علیہ السلام جنت سے نکالے گئے تھے اورجنّت کالباس ان کے بدن سے اُتار اگیاتھا(٥) یایہ کہ مہینے کی ساتویں تاریخ مُبارک ہے کیونکہ اس تاریخ کوحضرت نوح علیہ السلام اپنی کشتی پرسوار ہوئے (اورانہوں نے غر ق ہونے سے نجات پائی )(٦) ۔
یاپھر یہ کہ نوروز کے سلسلہ میں امام جعفرصادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہماری نظر سے گزرتی ہے ۔آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہے کہ کشی نوح علیہ السلام کوہِ جودی پرآکرٹھہر ی اورجبرئیل پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرنازل ہوئے اور یہی وہ دن بھی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے دوشِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سوار ہوکربتوں کوتوڑ ااور واقعہ غدیر بھی نوروزہی کوواقع ہوا(٧) ۔
روایتوں میں ،اس قسم کی اطلاعات عام ہیں کہ جودنوں کی نحوست اورنیکی کواچھے واقعات اور ناپسند یدہ حوادث سے وابستہ کرتی ہیں ،خصوصاً روزہ عاشورہ کہ جسے بنوا اُمیہ اہلبیت کے مقابلہ میں کامیابہونے کی وجہ سے نیک دن شمارکرتے ہیں ہماری روایتوں میں اس دن کو بابرکت قرار دینے کی شدّت سے مخالفت کی گئی ہے اور یہ کہاگیا ہے کہ اِس دن کو آذوقہ مال کے ذخیرہ وخیرہ کادن قرار نہ دیاجائے بلکہ اس روز اپنے کاروبار کی تعطیل کی جائے اورعملی طورپر بنواُمیہ سے اپنانظام الاوقات مختلف قرار دیں ۔ان روایات کے مجموعہ کی وجہ سے بعض لوگوں نے نیک اوربد ایّام کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ اسلام کامقصد مسلمانوں کواس طرف متوجہ کرنا ہے کہ وہ عملی طورپر خُود کواِن تاریخ واقعات کے ساتھ مربوط رکھیں اورناپسندیدہ حوادث اوران کی بُنیاد رکھنے والے لوگوں سے احتراز کریں ۔ یہ تفسیر ،ممکن ہے کہ ، ان روایتوں کے ایک حصّہ کے بارے میں ٹھیک ہولیکن سب کے بارے میں یقینا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ان سے بعض سے معلوم ہوتاہے کہ پوشیدہ تاثیر بعض دِنوں سے تعلق رکھتی ہے جس سے ہم آگاہ نہیں ہیں ۔
(ب)یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ بعض لوگ نیک وبدایّام کے بارے میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ جس کام کووہ کرناچاہتے ہیں توسب سے پہلے وہ ایّام کے نیک وبد کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور عملی طورپر بہت سے ضروری کاموں سے غافل ہوجاتے ہیں اور کئی سنہرے مواقع ہاتھ سے کھودیتے ہیں،یاپھر یہ کہ بجائے اس کے کہ اپنی اوردوسروں کی شکست وکامیابی کے اسباب وعوامل کی تحقیق کریں اور زندگی کے گراں بہاتجربات سے فائدہ اُٹھائیں ،وہ یہ کرتے ہیں کہ اپنی تمام نا کامیوں کاذمّہ دار کامیابیوں کا سبب ایّام کی نحوست اوران کے سعد ہونے کوسمجھتے ہیں ،یہ ایک طرح کاحقیقت سے فرار ہے اورافراط کاشکار ہوناہے ۔نیز حوادث زندگی کی نامعقول توجیہ ہے ۔اس قسم کے طرزِ عمل سے شدّت کے ساتھ پرہیرکرنا چاہیئے اورعامة النّاس میں جو چیزیں مشہور ہیں ان کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیئے ۔نجومیوں اورفال نکالنے والوں کی پیشن گوئیو ں کوبھی نظر انداز کرناچاہیئے ۔
صرف معتبر حدیث ایک ایسی چیزہے کہ اس کی رُوسے ایسی چیز ہے کہ اس کی رُوسے اگرکوئی حقیقت ثابت ہوتواسے صدقِ دل سے تسلیم کرلینا چاہییٔے اس کے علاوہ دوسرے جتنے عوامل ہیں ان کونظر انداز کرکے زندگی کے کام کرنے چاہئیں اور کاوشِ پیہم سے کام لے کرزندگی کی راہ میں قدم آگے بڑھانا چاہیئے ،خداپر توکّل رکھنا اوراس کے لُطف وکرم سے مددطلب کرناسب سے مقدّم ہے ۔
(ج) دنوں کے نیک وبد کی طرف توجہ کرنا نہ صرف یہ کہ اِنسان کے دل ودماغ کوتاریخی حوادث سے رُوشناس کراتاہے ،بلکہ پروردگار ِ عالم کی ذات والا صفات کے ساتھ توسل کرنے کی توفیق بھی بخشتا ہے ۔نیز اس سے امداد طلبی کادرس دیتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہم ایسی متعدد روایات پڑھتے ہیں کہ و ہ ایّام جن کونحس قرار دیاگیاہے ان میں ہمیں صدقہ دینے ، دُعامانگنے اور پروردگار ِ عالم سے مدد طلب کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہم قرآنِ پاک کی تلاوت کریں، ذاتِ خداپر توکّل رکھیں ۔صرف اسی صُورت میں ہم اپنی جدو جہد میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں،منجملہ دیگر باتوں کے ہم حدیث میں ایک ایسے واقعہ سے باخبر ہوتے ہیں کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے ایک محب منگل کوخدمت ِ امام میں وارد ہوئے تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے تمہیں کل نہیں دیکھا ۔ وہ عرض کرنے لگاکہ میں پیر کوکہیں آناجانا مناسب نہیں سمجھتا ،اس کے جواب میں آپ نے فرمایا:(من احب ان یقیہ اللہ شریوم الاثفین فلیقرأ فی اول رکعة من صلاة الغداة ھل اتٰی علی الانسان ثم قرأ ، ابو الحسن فوقھم اللہ شرذالک الیوم ولقّھم نضرة وسروراً) جوشخص پسند کرتاہے کہ پیر کے شرسے محفوظ ہے تووہ نماز فجر کی پہلی رکعت میں سُورہ ھل اتی علی الانسان کی تلاوت کرے ،پھرامام علیہ السلام نے سُورہ ھل اتی کی اس آ یت کی کہ جودفع شر کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے ،تلاوت فرمائی فو قاھم اللہ شرذالک الیوم... خُدا نیک لوگوں کوقیامت کے دن کے شرسے محفوظ رکھے گا وہ انہیں ظاہر ی مسر تیں اور باطنی خوشخال عطاکرے گا(٨) ۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ چھٹے امام کے اصحاب میں سے ایک شخص نے آپ سے پوچھا کیاکسِی صُورت میں بُدھ جیسے مکروہ اور ناپسندیدہ دن میںسفر کرنامناسب ہے ؟امام نے فرمایا کہ اپنے سفر کاآغاز صدقہ سے کرو اور روانگی کے وقت آ یت الکرسی کی تلاوت کرلو ۔(اورپھر جہاں کہیں جاناچاہتے ہوچلے جاؤ)(٩) ۔
ایک اورحدیث میں ہے کہ دسویں امام علی نقی علیہ السلام کا ایک صحابی کہتاہے کہ میں امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا ،اس حالت میں کہ راستے میں میری اُنگلی زخمی ہوگئی تھی اور اثنائے راہ میں ایک سوار نے میرے قریب سے گزرتے ہوئے میرے کاندھے پرضرب بھی لگائی تھی اور میں ایک ہجوم میں پھنس کررہ گیاتھا جنہوںنے میرے کپڑ پھاڑ دیے تھے تومیں نے اس دن کومخاطب کرکے کہاکہ خدا مجھے تیرے شر سے محفوظ رکھے توکیسا منحوس دن ہے ۔یہ سُن کرامام علیہ السلام نے فرمایا کہ توہم سے عقیدت بھی رکھتاہے ،اورپھر ایسی نامناسب بات زبان پرلاتاہے وہ دن کہ جس کی کوئی ذمّہ داری نہیں ہے تواسے ذمّہ دار قرار دیتاہے ۔وہ شخص بیان کرتا ہے کہ امام علیہ السلام کی بات سُن کرمیں سنبھلا اورمیں نے محسوس کیا کہ میں نے غلطی کی ہے ،میں نے عرض کیا مولا میں خداسے اپنی غلطی کے سلسلہ میں استغفار کرتاہوں اوراس سے اپنی بخشش طلب کرتاہوں ۔
پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: ماذنب الایام حتّٰی صرتم تتثأ مون بھا اذاجو زیتم با عمالکم فیھا دِنوں کاکیاقصور ہے کہ تم انہیں منحوس قرار دیتے ہو حالانکہ صورتِ حال یہ ہے کہ تمہاری اپنی پستی کردار تمہیں گھیرے ہوئے ہوتی ہے اس شخص نے کہا کہ فرزند ِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(
میں ہمیشہ کے لیے خداسے استغفار کرتاہوں اوراس سے توبہ کرتاہوں ۔امام علیہ السلام نے فرمایا :( ماینفعکم ولکن اللہ یعاقبکم بذ مھا علی مالاذم علیھا فیہ اما علمت ان اللہ ھو المثیب والمعاقب ، والمجازی بالاعمال، عاجلا واٰجلا ؟ قلت: بلی یامولای ،قال لاتعدو لاتجعل للایام صنعاً فی حکم اللہ ) یہ چیز تمہارے لیے فائدہ نہیں رکھتی ،خداتمہیں اس چیزکی مذمّت کرنے کے سزادیتاہے کہ جوقابلِ مذمّت نہیں ،کیاتم نہیں جانتے کہ خداہی جزاوسزا دیتاہے ؟ وہ بندوں کواعمال کی جزا وسزااس دنیامیں بھی دینا ہے اوراس جہان میں بھی دے گا ۔پھر فرمایاایسی بات آئندہ زبان پر مت لانااور دنوں کے بارے میں حکمِ خدا کے برخلاف اثرات قرار نہ دینا (١٠) ۔
یہ پُر معنی حدیث اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنوں کی اگرکوئی تاثیر ہے تووہ حکم خداکے مطابق ہے لہذاان کے لیے مستقل تاثیر کاکبھی قائل نہیں ہوناچاہیئے اوراپنے آپ کوپروردگار ِ عالم کے لُطف وکرم سے بے نیاز نہیں سمجھناچاہیئے ،وہ حوادث کہ جوعام طورپر انسان کے غلط افعال واعمال کاکفّارہ ہوتے ہیں انہیں دنوں کی تاثیر سے منسُوب نہیں کرناچاہیئے اوراس طرح خُود کوبری الذمّہ قرار نہیں دیناچاہیئے ۔ممکن ہے کہ امام کا یہ بیان اس باب کی مختلف احادیث کے جمع کرنے کی بہترین راہ ہو ۔
١۔ توجہ کرنی چاہیے کہ "" نحسات"" اس آ یت میں "" ایّام "" کی صفت ہے یعنی ایّام مزبور کی نحوست کے ساتھ توصیف ہوئی ہے جب کہ زیربحث آیات میں (فی یوم نحس مستمر) "" یوم"" کی "" نحس"" کی طرف اضافت ہوئی ہے ،اوروہ وصفی معنی نہیں رکھتا البتہ اُوپر والی آ یت کے قرینہ سے ہمیں کہناچاہیئے کہ یہاں موصوف کی صفت کی طرف اضافت کی وجہ سے ہے ۔
۲۔بحارالانوار جلد ٥٩ کتاب السماء والعالم صفحہ ١تا ٩١ اور کچھ اس کے بعد ۔
٣۔ تفسیر نورالثقلین جلد ٥ صفحہ ١٨٣(حدیث ٢٥) ۔
٤۔ گزشتہ مدرک صفحہ ١٠٥۔
٥۔ تفسیرنورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٥٨۔
٦۔ تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥ صفحہ ٦١۔
٧۔ بحارالانوار ،جلد ٥٩ صفحہ ٩٢۔
٨۔بحارالانوار جلد٥٩ صفحہ ٣٩ حدیث ٧۔
٩۔ وھی مدرک ،صفحہ ٢٨۔
١٠۔ "" تحف العقول"" مطابق نقل بحارالا نوار ،جلد ٥٩ صفحہ ٢(مختصر سی تلخیص کے ساتھ ) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma