قومِ ثمود کا دردناک انجام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

وہ تیسری قوم کہ جس کی زندگی کی داستان ،مختصر طورپر ، درسِ عبرت کے عنوان سے گزشتہ مباحث کے بعداس سُورہ میں پیش ہوئی، قومِ ثمود ہے کہ جو سرزمین حجر میں کہ جوحجاز کے شمال میںواقع ہے ،رہائش پذیر تھے ۔ان کے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام نے انتہائی کوشش کی کہ وہ ہدایت پالیں لیکن ان کی تمام محنت رائیگاں گئی ۔
پروردگار ِ عالم اس سلسلے میں پہلے فرماتاہے کہ قومِ ثمود نے بھی خدائی تنبیہ کی تکذیب کی اوراس کی طرف سے دیے جانے والے خوف کی کوئی پرواہ نہیں کی (کَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُر) ۔اگرچہ بعض مفسرین نے یہاں نذر کوڈرانے والے پیغمبر وں کے معنی میں لیاہے اورقومِ ثمود کے حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب کرنے کوتمام پیغمبروں کی تکذیب قرار دیا ہے ۔وہ اس لیے کہ تمام پیغمبروں کی دعوت تبلیغ ہم آہنگ ہوتی ہے لیکن ظاہر آ یت یہ ہے نذر یہاں انذار کی جمع کے طورپر آ یاہے اوراس سے مُراد تخویف یعنی ڈ راناہے اوریہ قدرتی طورپر ہرپیغمبر کے کلام میں موجود ہے ۔اس کے بعدپروردگار ِ عالم ،ان لوگوں کی طرف سے جوتکذیب کی گئی اس کی علّت کوپیش کرتے ہوئے ،فرماتاہے : انہیں نے کہاکیاہم اپنی نوع کے ایک انسان کی پیروی کریں؟ اگرایساکریں توگمراہی اورجنون میں مبتلا ہوں گے (فَقالُوا أَ بَشَراً مِنَّا واحِداً نَتَّبِعُہُ ِنَّا ِذاً لَفی ضَلالٍ وَ سُعُر) ۔
جی ہاں !کبر وغرور، خُود بینی وخُود پسندی ، ان کے لیے ابنیاء کی دعوتِ فکر کے مقابلہ میں ایک عظیم حجاب تھے ۔انہوں نے کہاصالح علیہ السلام ہم جیساہی ایک شخص ہے کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کی پیروی کریں ،اگرایسا کریں گے توجنون اورگمراہی میں مبتلا ہوں گے ،وہ ہمارے مقابلہ میں کونسا امتیاز رکھتاہے جورہبر بنے اور ہم اس کی پیروی کریں ۔ یہ وہی اعتراض ہے کہ جو گمراہ اُمّتیں زیادہ تراپنے پیغمبروں پرکیاکرتی تھیں کہ وہ ہماری ہی طرح کے افراد ہیں ،لہٰذا خدا کے پیغمبر کس طرح ہوسکتے ہیں ۔ مفسرّین کی ایک جماعت نے واحداً کی تعبیر سے اس طرح اِستفادہ کیاہے کہ صالح علیہ السلام کے دُشمنوں کی مُراد یہ تھی کہ عام شخص ہے ۔زیادہ مال ودولت نہیں رکھتا ۔اس کاکوئی عظیم نام ونسب بھی نہیں ہے ۔بعض نے اس کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ وہ فردِ واحد ہے ۔اس کااپناکوئی گروہ نہیں ہے ۔حالانکہ رہبرکے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایسے گروہ کامالک ہوجس پراسے اختیار حاصل ہو ،وہ اس امتیاز کے ذ ریعے دوسروں کو اپنی طرف بلائے ۔
یہاں ایک تیسری تفسیر بھی ہے ، وہ یہ کہ وہ لوگ واحد عددی پراعتقاد نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کااعتماد واحد نوعی پرتھا ،اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ہماری ہی جنس ونوع کافرد ہے اورنوعِ بشررسالت ِ الہٰی کاعہدہ نہیں سنبھال سکتی ، پیغمبر کوفرشتوں کونوع میں سے ہو نا چاہیئے تھا ،تینوں تفسیروں کوایک جگہ جمع کرناممکن ہے لیکن بہر حال ان کادعویٰ بے بنیاد تھا ۔ سعر بروزن شتر ہے جمع اس کی سعیر ہے ۔مفہوم اس کابھڑ کتی ہوئی آگ ہے ۔اسی لیے پاگل اُونٹنی کو ناقۂ مسعورہ کہتے ہیں ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ قومِ ثمود نے یہ تعبیر اپنے پیغمبرصالح علیہ السلام سے لی ہوکہ جوان سے کہتے تھے کہ اگر تم بُت پرستی سے باز نہ آ ئے اور میری دعوت ِ حق کی پیروی نہ کی تو ضلال وسعر (گمراہی اورجہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ) میں ہوگے ،تووہ جواب میں کہتے : اگرہم اپنے جیسے بشر کی پیروی کریں گتو ضلال وسعر میں ہوں گے ۔بہرحال سعر کاذکر جمع کی شکل میں حقیقتا دوام اورتاکید کے لیے ہے ،خواہ جنون کے معنی میں ہو یاپھڑکتی ہوئی آگ کے معنوں میں ، اس کے بعد وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر بفرض محال وحی الہٰی کسی انسان ہی پرنازل ہوتی ہے توکیا ہمارے درمیان میں اسی کم حیثیّت پروحی نازل ہوئی ہے؟ حالانکہ زیادہ جانے پہچانے مشہور اوردولت مند افراد مِل سکتے تھے (أَ أُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنا ) ۔
حقیقت یہ تھی کہ قوم ثمود کی باتیں مشرکین مکّہ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھیں جوکبھی یہ اعتراض کرتے تھے ، ما لِہذَا الرَّسُولِ یَأْکُلُ الطَّعامَ وَ یَمْشی فِی الْأَسْواقِ لَوْ لا أُنْزِلَ ِلَیْہِ مَلَک فَیَکُونَ مَعَہُ نَذیراً یہ پیغمبرکھانا کیوں کھاتا ہے بازار میں چلتاپھر تاہے ۔فرشتہ کیوں نہیں نازل ہواجواس کے ساتھ مل کرتخویف کافرض انجام دیتا (فرقان ۔٧)کبھی وہ کہتے : لَوْ لا نُزِّلَ ہذَا الْقُرْآنُ عَلی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظیمٍ یہ قرآن مکّہ اور طائف کے کسی بڑے اوردولت مند شخص پرکیوں نہیں نازل ہوا (زخرف ۔٣١)اب بنیاد ِ کلام یہ ہے کہ خداکا رسول کوئی بشر ہی ہو توپھر کوئی تہی دست بے کس اور بے کاربشر ہی کیوں ہی ۔ یہ دل کے اندھے کہ جوگویاپورے دُورِتاریخ میں ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے یعنی اگرکوئی شخص صاحبِ مال ودولت ہوکسِی اُونچے قبیلہ سے تعلق رکھتاہو ،مقام ومنصب کے اعتبار سے بلند ہو اور شہرت بھی رکھتاہوتووہ خداکارسول ہوسکتاہے ،معمولی شخص کس طرح رسول ہو سکتاہے حالانکہ جولوگ ظالم وجابر ہوتے تھے وہ زیادہ ترایسے ہی دولت مند نام نہاد طبقوں سے تعلق رکھتے تھے ۔
اِس تفسیر میں بعض مفسرین نے اس نقطۂ نظر کو بھی تسلیم کیاہے کہ وہ لوگ کہتے تھے کہ کیاوحی صرف اس شخص پرنازل ہوئی ہے ۔ہم سب پر نازل کیوں نہیں ہوئی ۔ ہمارے اور اس کے درمیان کیافرق ہے جیساکہ سُورہ مدثر کی آ یت نمبر٥٢ میں آ یاہے :بَلْ یُریدُ کُلُّ امْرِئٍ مِنْہُمْ أَنْ یُؤْتی صُحُفاً مُنَشَّرَةً بلکہ ان میں سے ہرشخص توقع رکھتاہے کہ اس پر آسمان سے کتابیں نازل ہوں اس کے بعد پروردگار ِ عالم آ یت کے آخرمیں فرماتاہے : انہوں نے اس موضوع کواپنے پیغمبرصالح علیہ السلام کے کذب کی دلیل قر ار دیا اورکہاکہ بہت جھوٹا ،نفس پرست اورمتکبر شخص ہے (بَلْ ہُوَ کَذَّاب أَشِر) وہ اس لیے کہ وہ چاہتاہے کہ ہم پرحکومت کرے اورہرچیز اپنے قبضہ میں رکھے اوراپنی خوشی کے مطابق کام کرے ۔لفظ اشر کامادّہ اشر بروزن قمر ہے جس کے معنی ہیں ایسی خوشحالی جس میں نفس پر ستی شامل ہو،لیکن قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے کل ان کی سمجھ میں آجائے گاکہ کونسا شخص جھوٹا اورنفس پرست ہے ( سَیَعْلَمُونَ غَداً مَنِ الْکَذَّابُ الْأَشِر)وہ وقت کہ جب عذابِ الہٰی نازل ہوگا اوران کی سرکوبی کرے گا اوران کو ایک مُشتِ خاک میں تبدیل کردیگااور موت کے بعد کاعذاب اس پر مستزاد ہوگا تویہ سمجھ لیں گے کہ ان باتوں کاتعلق کِس قسم کے افراد کے ساتھ ہو سکتاہے اوریہ پوشاک کس کے جسم سے مناسبت رکھتی ہے ۔
یہ با ت واضح ہے کہ غداً کل سے مُراد مستقبل قریب ہے اوریہ مفہوم پُر کشش بھی ہے اور لطیف بھی ،ممکن ہے ۔یہاں یہ سوال پیدا ہو کہ جس وقت یہ آیتیں نازل ہوئی تووہ اپنے عذاب کواقعی دیکھ چکے ہوں ، لہٰذا اب اس بات کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ یہ کہاجائے کہ کل وہ سمجھ لیں گے کہ جھوٹا اورنفس پرست کون ہے ۔اس سوال کے دوجواب دیئے جاسکتے ہیں ،پہلا یہ کہ حقیقت میں یہ بات خدانے اپنے پیغمبرصالح علیہ السلام سے کہی تھی اوربعد والے دن کے ساتھ مشروط کرکے کہی گئی تھی اوریہ واضح حقیقت ہے کہ جس دن یہ بات کہی گئی اس دن تک عذاب نازل نہیں ہواتھا ۔
دوسرے یہ کہ کل سے مراد روزِ قیامت ہو کہ جس روز ہر چیز نہایت واضح طورپر سامنے آ ئے گی (پہلی تفسیرزیادہ مناسب اور بعد والی آیتوں کے ساتھ زیادہ سازگار ہے ) یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتاہے کہ مشرکینِ قومِ ثمود نے نزولِ عذاب سے پہلے ہی صالح علیہ السلام کی حقانیّت کوسمجھ لیاتھااور ان کے ناقابلِ تردید معجزہ کودیکھ چکے تھے توپھران سے کیوں کہاجاتا ہے کہ یہ کل سمجھ لیں گے ،اس سوال کاجواب بھی ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے حاصل ہوجاتاہے ،اور وہ یہ کہ کسِی چیز کے جاننے کی کئی صورتیں ہوتی ہیں ۔بعض دفعہ ممکن ہوتاہے کہ مقابل اس کا انکار کردے لیکن بعض اوقات وہ ایسے مرحلے میں پہنچ جاتاہے کہ پھراس کے لیے گنجائش ِ انکار باقی نہیں رہتی اورہرچیز بالکل واضح انداز میں نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہے ۔علم یعنی جاننے سے یہاں سمجھ لینے کی یہی انتہا مراد ہے ،اس کے بعد پروردگار ِ عالم صالح علیہ السلام کے ناقہ کی جوایک معجزہ تھااوران کی صداقت کی سند کے طورپر بھیجاگیا تھا، داستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے : صالح کی طرف ہم نے وحی کی کہ ہم ناقہ کوان کی آزمائش اورامتحان کے لیے بھیجیں گے لہٰذآپ ان کے انجامِ کار کاانتظار کریں اورصبرسے کام لیں ( ِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَہُمْ فَارْتَقِبْہُمْ وَ اصْطَبِر) ناقہ وہی اُونٹنی کہ جوحضرت صالح علیہ السلام کے معجزہ کی حیثیت سے بھیجی گئی تھی ، کوئی عام اُونٹنی نہیں تھی بلکہ معجزنماکیفیتوں کی حامل تھی ،مشہور روایتوں کی رُوسے یہ اُونٹنی پہاڑ کے ایک پتھر سے برآمد ہوئی تھی تاکہ وہ کج فہم اور ہٹ دھرم منکرین کے لیے ایک نمونہ بولتا معجزہ ثابت ہو ۔ فتنہ جیساکہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں ،سونے کی کٹھالی میں ڈال کرآگ پرپگھلا کراس کے گھر ہونے کوثابت کرنے کے لیے ہے ،اوریہ ہرطرح کے امتحان اور آزمائش کے لیے بولاجاتاہے ۔
یہ امر بالکل واضح ہے کہ قومِ ثمود اَب ایک عظیم آزمائش میں ڈالی جانے والی تھی ۔اس لیے بعد والی آ یت میں پروردگار ِ عالم فرماتاہے : ہم نے صالح سے کہاکہ انہیں بتا دے کہ بستی کاپانی ان کے درمیان تقسیم ہوناچاہیئے ۔( ایک دن ناقہ کے لیے اورایک دن بستی والوں کے لیے ) اس طرح ایک فریق کواپنے مقررّہ دن پانی استعمال کرناچاہیئے اوردوسرے کومداخلت نہیں کرنی چاہیئے (وَ نَبِّئْہُمْ أَنَّ الْماء َ قِسْمَة بَیْنَہُمْ کُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَر)(١) ۔
اگر چہ قرآن نے اس سلسلہ میں اس سے زیادہ وضاحت نہیں کی لیکن بہت سے مفسّرین نے کہا کہ صالح علیہ السلام کی اُونٹنی کے پانی پینے کاجودن ہوتاتھا،اس دن وہ ساراپانی پی جاتی تھی ،لیکن بعض دوسرے مفسّرین نے کہا ہے کہ اس کی ہیئت کذائی ایسی تھی کہ جس وقت وہ پانی کے قریب آئی تودوسرے جانور بھاگ جاتے تھے اوراس کے پاس نہیںپھٹکتے تھے ۔ لہٰذااس کے علاوہ اورکوئی چارئہ کار نہیںتھا کہ ایک دن پانی پینے کاحق اس اُونٹنی کودیاجائے اوردوسرے دن ان لوگوں کے اختیارمیں ہو ۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ جیساکہ کچھ مفسرین نے کہاہے ، کہ ان کی آبادی میںپانی بہت کم تھا ۔اگرچہ یہ معنی آ یت ١٤٦ تا ١٤٨ سے مناسبت نہیں رکھتے ، کیونکہ ان آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم ایسی سرزمین میں زندگی بسر کرتی تھی جوباغوں اورچشموں سے پُرتھی ۔بہرکیف اِس سرکش ، ہٹ دھرم اورمفاد پرست قوم نے یہ مضمّم اِرادہ کرلیا کہ ناقہ صالح علیہ السلام کوختم کردیں حالانکہ صالح علیہ السلام انہیں خبر دار کرچکے تھے کہ اگر انہوں نے ناقہ کوکوئی اذیّت پہنچائی توجلد ہی ان پرعذابِ الہٰی نازل ہوجائے گا لیکن انہوںنے اس امر کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اپنے ایک ساتھی کو آوازدی وہ اس کام کے لیے آ یا اور اس نے ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں (فَنادَوْا صاحِبَہُمْ فَتَعاطی فَعَقَر)صاحب سے یہاں مُراد ممکن ہے کہ قوم عاد کاکوئی سردار ہو ،ان لوگوں میں کاایک بہت ہی شریرشخص قدارہ بن سولف تھا(٢) جس کاذکرتاریخ میں ملتاہے ۔ تعاطی کسی چیز کوپکڑ نے یاکسی مقصد کے لیے جدوجہد کرنے کے معنی میں ہے ،نیزاہم اور خطرناک کاموں کے انجام دینے کے لیے بھی بولا جاتاہے ۔جس کام میں زحمت بہت ہو یااس کی کوئی مزدوری مقرر کی گئی ہو ، اس کے لیے بھی بولا جاتاہے ۔ یہ تمام مفاہیم زیربحث آیت میں موجود ہیں اوروُہ اس لیے کہ مذکورہ ناقہ کوقتل کرنے کے لیے اچھی خاص جرأت اورجسارت کی ضرورت تھی ۔اس کام کے لیے مشقت بھی درکار تھی اور حسب ِ قاعدہ انہوں نے اس کام کے لیے اُجرت بھی مقرر کی تھی ۔
عقر کامادہ ہے جوظلم کے وزن پر ہے اوربنیاد اورجڑ کے معنوں میں ہے ۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن یہاں ناقہ کے قتل کوایک فردکی طرف منسُوب کرتاہے جب کہ سُورہ والشمس میںپوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرماتاہے : فعقروھا قومِ ثمود نے ناقہ کومارڈالا یہ اس وجہ سے ہے کہ ناقہ کومارڈالنے والے ایک شخص نے پوری قوم کی رضامندی سے ان سب کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کام کیاتھا اور ہم جانتے ہیں کہ جوشخص کسی دوسرے کے کام سے خوش ہووہ اس میں شریک ہوتاہے (٣) ۔
بعض روایات میں آ یاہے کہ قدارہ نے پہلے شراب پی پھر نشہ کی حالت میں اس نے اس مرقبیح کوسرانجام دیا ۔ ناقہ کے قتل اوراس کی کیفیّت کے بیان بھی مختلف قسم کے ہیں ۔بعض کاقول ہے کہ تلوار سے اس کونچیں کاٹیں ،بعض کاقول ہے کہ پہلے وہ اس کی گھات میں بیٹھا ،پھراس کے تیرمارا، آخر میں اس پرتلوار سے حملہ آ ورہوا ۔بعدوالی آ یت اس سرکش قوم پر آنے والے وحشت ناک عذاب کے ذکرکے لیے ایک تمہید کی حیثیت رکھتی ہے ۔پروردگار عالم فر ماتاہے : اَب دیکھو کہ میراعذاب اورمیری تخویف کِس طرح کی تھی (فَکَیْفَ کانَ عَذابی وَ نُذُرِ) ۔اس کے بعد مزید فرماتاہے: اس کے بعد مزید فرماتاہے : ہم نے ان کی طرف ایک چیخ بھیجی جس کے نتیجہ میں وہ ایسی خشک اور روندی ہوئی گھاس کی طرح ہوگئے کہ جس کوگڈریااپنے جانوروں کے لیے باڑہ میں جمع کرتاہے (ِنَّا أَرْسَلْنا عَلَیْہِمْ صَیْحَةً واحِدَةً فَکانُوا کَہَشیمِ الْمُحْتَظِر) صیحة سے یہاں مُراد ایک عظیم آواز ہے کہ جوآسمان سے اُٹھتی ہے اور ہوسکتاہے کہ ایک وحشت ناک چیخ کی طرف اشارہ ہو کہ جوان کے شہر میں سنائی دی جیساکہ سورہ حم سجدہ کی آ یت ١٣ میں آ یاہے :فَِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُکُمْ صاعِقَةً مِثْلَ صاعِقَةِ عادٍ وَ ثَمُودَ اگر وہ رُوگردانی کریں توان سے کہہ دے کہ میں تمہیں قومِ ثمود وعاد کے صاعقے سے مشابہ صاعقہ سے ڈراتاہوں۔
ھشیم کامادّہ ھشم بروزن خشم ہے یہ کمزور چیز وں کے توڑنے کے معنی میں آ تاہے ۔ یہ اس کتری ہوئی گھاس کے لیے بولاجاتاہے جوگوسفندوں کے مالک گوسفندوں کے لیے کاٹ کررکھتے ہیں ۔ کبھی اس خشک گھاس کو بھی کہاجاتاہے جوجانوروں کے قدموں کے نیچے باڑہ میں روندی جاتی ہے محتظر کامادّہ خطر بروزن مغز ہے ۔اس کے معنی منع کرنے کے ہیں ۔ اسی لیے اس باڑہ کوجوبھیڑ بکریوں وغیرہ کے لیے بنایا جاتاہے اورجوانہیں باہر نکلنے سے روکتاہے اوروحشی جانوروں کے حملے سے بچاتا ہے ، خطیرہ کہتے ہیں اور محتظر بروزن محتسب وہ شخص ہے جوباڑہ کامالک ہو ۔وہ مفہوم کہ جواس آ یت میں قوم ثمود پرنازل ہونے والے عذاب کولیے ہوئے ہے بہت ہی عجیب اورپُرمعنی ہے کیونکہ خداوند تعالیٰ نے اس سرکش قوم کونیست ونابود کرنے کے لیے زمین یاآسمان سے لشکر ی ہرگز روانہ نہیں کیے ۔صِرف ایک آسمانی چیخ سے ، ایک ایسی آواز سے کہ جوکانوں کے پردے پھاڑ دے ،ایک بھاڑ دینے والی عظیم موج سے کہ جس نے اپنے راستے کی ہرچیزکوایک وسیع وعریض چمک کی لپیٹ میں لے لیا ہو، نہیں کُوٹ پیس کررکھ دیا اورختم کرڈالا ۔
ان کے آباد محل اور مکانات گوسفندوں کے باڑوں کی طرح ہوگئے اوران کے بے جان لاشے اس کٹی ہوئی خشک گھاس کی طرح ہوگئے کہ جوبھیڑ بکریوں کے قدموں کے نیچے روندی جاتی ہے ۔
مذکورہ صُورتِ حال گزشتہ لوگوں کے لیے ممکن ہے کہ مشکل ہو لیکن اس زمانے کے لوگوں کے لیے جوکسی چیز کے پھٹنے اوردھما کے سے پیدا ہونے والی ان موجوں کے اثرات سے باخبر ہیں، جو اپنے دائرئہ اثر میں آ نے والی ہرچیز کوپیس کررکھ دیتی ہیں ،نہایت آسانی سے قابلِ فہم ہے ۔ ہاں البتہ عذابِ الہٰی کی گڑاگڑاہٹ کااِنسانوں کے بنائے ہوئے بموں کی گڑگڑا ہٹ پرقیاس نہیں کیاجاسکتا اس حقیقت کے پیش نظر ان لوگوں پراس صاعقہ سے نازل ہونے والی مصیبت کااندازہ لگا یاجاسکتاہے ۔
مذکورہ بالا بحث کوپیش کرنے والی آ یتوں میں سب سے آخری آ یت میں اس دردناک اورعبرت انگیز سرگزشت کے خاتمہ پرپروردگار ِ عالم دوبارہ فرماتاہے کہ:
ہم نے قرآن کونصیحت اورانسانوں کے بیدار کرنے کے لیے آسان کیاہے توکیاکوئی نصیحت حاصل کرنے والاہے ؟(وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِر) ۔
قرآن کے مفاہیم زندہ اورواضح ہیں، اس کے واقعات اور داستانیں زبانِ حال سے گویاہیں اوراس کی تخویف وتہدید دل ہلادینے والی اور بیدارکرنے والی ہے ۔
١۔"" مختصر "" کامادّہ حضورہے ۔ یہ اسم مفعول ہے اور"" شرب"" پانی کے حصّہ یامقررہ وقت کے معنوں میں ہے ۔اس بناء پر "" کل شرب محتضر "" کے معنی یہ ہیں کہ ہرمقرّرہ وقت پرجس کواجازت ہے وہ پانی پئے گا اوردوسرا اس روز نہیں آئے گا اوراُسے مزاحمت کاحق نہیں ہوگا ۔
٢۔ "" قدارہ"" بروزن"" منارہ"" ایک قبیح صُورت بدسیرت اور شوم ترین فرد تھا ۔
٣۔ اس مطلب کی تشریح ہم نے "" پیوندمکتبی "" کے عنوان کے ماتحت جلد ٥ سورئہ ہود کی آ یت ٦٥ کے ذیل میں بیان کی ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma