کیاتم گزشتہ اقوام سے افضل وبرتر ہو؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
اِس سلسلہ ٔ کلام میں پانچویں اورآخری جس قوم کی طرف اشارہ ہوتاہے وہ قوم فرعون ہے لیکن چونکہ اس قوم کی سرگزشت قرآن کی مختلف سُورتوں میں تفصیلی طورپر آئی ہے لہٰذا یہاں صرف ایک مختصر لیکن جچا تُلا اشارہ ان کی عبرت انگیز داستان کی طرف ہواہے ۔ پروردگار ِ عالم ارشاد فرماتاہے : ہماری تنبیہیں یکے بعد دیگرے آلِ فرعون کی طرف آئیں (وَ لَقَدْ جاء َ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُر) ۔
آل فرعون سے مُراد صِرف فرعون کاخاندان اوراس سے وابستہ افراد نہیں ہیں بلکہ یہ لفظ ان کے تمام پیروکاروں پرحاوی ہے ۔لفظ آل عموماً اہل بیت اورخاندان کے معنی میں استعمال ہوتاہے لیکن بعض اوقات ،جیساکہ ہم نے کہاہے ، ایک وسیع معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ،قرینہ کلام بتاتاہے کہ یہاں یہ لفظ اسی وسیع معنی میں استعمال ہواہے نذر (بروزن کتب) نذیر کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ڈرانے والا ۔یہ ڈ رانے والا خواہ کوئی انسان ہویاحادثہ کہ جوانسانوں کوخبردار کرے ،انہیں ان کے انجامِ کار سے ڈرائے اوربچنے کی تلقین کرے ۔
پہلی صُورت میں ممکن ہے کہ اُوپر والی آ یت کااشارہ مُوسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی طرف ہو، دوسری صُورت میں ممکن ہے کہ حضرت مُوسی علیہ السلام کے نومعجزوں کی طرف اشارہ ہو، بعدوالی آ یت بتاتی ہے کہ یہاں دوسرے معنی مناسب ہیں( ١) ۔
خداکے ان دوعظیم پیغمبروں کے مقابلے میں اوران کی تہدید وتنبیہ کے مقابلے میں آلِ فرعون کاجوردّ عمل ہے ،اس پر سے پردہ اٹھا تے ہوئے بعد والی آ یت میں پروردگار ِ عالم فرماتاہے :
اُنہوں نے ہماری سب آیات کی تکذیب کی (کَذَّبُوا بِآیاتِنا کُلِّہا) جی ہاں !ان خُود پسند مغرور اورظالم وجابر لوگوں نے بلا استثناء خداکی تمام آیتوں کی تکذیب کی ،ان کی جُھوٹ سحر یا اتفاقی حوادث بتایا ۔
لفظ آیات ایک وسیع مفہوم رکھتاہے جوعقلی ونقلی دلائل کے ساتھ معجزات پربھی حاوی ہے لیکن سُورہ اسراکی آ یت ١٠١ کے قرینہ سے ولقد اٰتینا موسیٰ تسع اٰیات بیّنات ہم نے موسیٰ کونوواضح معجزات عطاکیے معلوم ہوتاہے کہ یہاں اِنہی نومعجزات کی طرف اشارہ ہے(٢) ۔
اگر انسان حقیقت کامتلاشی ہوتوان معجزوں میں سے کسی ایک کا پہلے سے خوف محسُوس کرتے ہوئے دیکھنا اوراس کے بعد خدا کے پیغمبر کی دُعا کے وسیلے سے مصیبت کابرطرف ہوجانا اس کے لیے کافی ہے لیکن جس وقت انسان بالکل ہی ہٹ دھرم بن جائے توپھرآسمان وزمین سرسے پاتک آیت خدابن جائیں توبھی مؤثر نہیں ہوسکتے ۔ صرف عذابِ الہٰی کوآکر ایسے پُر غرور دماغوں کوکُچلنا چاہیئے ،چنانچہ زیربحث آیت کے ذیل میں ہمیں ملتاہے کہ ہم نے ان کی گرفت کی اورانہیں سزادی ،گرفت اس کی کہ جوکبھی مغلوب نہیں ہوتا اور مقتدر وتوانا ہے ( فَأَخَذْناہُمْ أَخْذَ عَزیزٍ مُقْتَدِرٍ) ۔
اخذ پکرنے اورگرفت کرنے کے معنی میں ہے ۔چونکہ مُجرم کوسزادینے کے لیے پہلے اُسے شکنجے میں جکڑلیتے ہیں لہذا یہ لفظ سزاوعذاب کے کنائے کے طور پر آاستعمال ہوتاہے ،جومفہوم اس واقعہ کے ذیل میں آ یاہے وہ تمام سرگزشتوں میں اپنی نظیرنہیں رکھتا ، وہ اس وجہ سے کہ فرعون اپنی طاقت اورقوّت پرسب سے زیادہ فخر ومباہات کرتے تھے اوران کی اس قوّت و طاقت کی ہرجگہ شہرت تھی ۔ پروردگار ِ عالم فرماتاہے : کہ ہم نے ان کی گرفت کی ،اور گرفت بھی خُوب مضبُوط ،تاکہ سب پرواضح ہوجائے کہ یہ عارضی اورمختصر سی طاقت خُدا کی عزّت وقُدرت کے مقابلہ میں بالکل کھوکھلی ہے اوراس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔باعث ِ تعجّب یہ ہے کہ وہی دریائے نیل جوان کی طاقت و ثروت اورآبادی وتہذیب کاسرچشمہ تھا،ان کی بربادی پرمامور ہوا ،اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ نہایت معمولی موجودات ٹڈی دل ،جوئیں اورمینڈک ان پرمُسلط ہوئے اور انہوں نے انہیں اتناتنگ کیاکہ لاچار کرکے رکھ دیا ۔گزشتہ قوموں کے واقعات اورسرکش ومجرم اُمتوں پرنازل ہونے والے عذاب کوبیان کرنے کے بعداس سے اگلی آیت میں پروردگار ِ عالم فرماتاہے : کہاتمہارے کفّار گزشتہ کافروں سے بہتر ہیں یاتمہارے لیے آسمانی کتابوں میں امان نامہ نازل ہوچکاہے (أَ کُفَّارُکُمْ خَیْر مِنْ أُولئِکُمْ أَمْ لَکُمْ بَراء َة فِی الزُّبُرِ)(٣) ۔
قومِ فرعون ونوح اورلوط وثمود اورتمہارے درمیان فرق کیاہے ۔اگروہ کفر، سرکشی ،ظلم اورگناہ کی وجہ سے طوفانوں ، زلزلوں اورصاعتوں میں گرفتار ہوئے توپھر کونسی دلیل ہے جس کی بناء پر تم ایسے مصائب کاشکار نہیں ہوسکتے ۔کیا تم ان سے بہتر ہو؟ یاپھر یہ کہ تمہارا طغیان اورعناد وکفر ان کے طغیان وعناد اورکُفر سے کمتر ہے ۔ حالانکہ ایسانہیں ہے ۔ توپھر کسِ طرح خُود کوعذابِ الہٰی سے محفوظ سمجھتے ہو مگراس صورت میں کہ امان نامہ تمہارے لیے آسمانی کُتب میں نازل ہوا ہو ،یقینا یہ دعویٰ جُھوٹا ہے اوراس پر تم کسِی قسم کی دلیل نہیں رکھتے ۔ یایہ کہ وہ کہتے ہیں:کہ ہم متحد ،متفق اور طاقتورجماعت ہیں اورہم اپنے مخالفوں سے انتقام لیں گے اوران پرکامیابی حاصل کریں گے (أَمْ یَقُولُونَ نَحْنُ جَمیع مُنْتَصِر)(٤) ۔
جمع مجموعکے معنوں میں ہے ۔یہاں اس سے مُراد ایسی جماعت ہے کہ جن کاکوئی مطلوبہ مقصد ہو اور وہ عمل کی صلاحیّت رکھتی ہو منتصرکامفہوم انہی معانی کی تاکید کے لیے ہے کیونکہ اس کامادّہ انتصار ہے جس کے معنی میں اِنتقام لینے کے اور کامیاب ہونے کے ہیں ،قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آ یت خطاب کی شکل میں تھی لیکن زیربحث آ یت اور آگے آنے والی آ یات غائب کی صُورت میں کفّار سے گفتگو کرتی ہیں اوریہ ان کی ایک قسم کی تحقیر ہے یعنی وہ اس قابل نہیں ہیں کہ اس سے زیادہ خطابِ الہٰی کے مستحق ہوں،بہرحال اگروہ اس قسم کی قدرت کادعویٰ کریں تووہ بھی بے بُنیادہے ۔وہ اس لیے کہ آلِ فرعون اورقوم عاد وثمود اور انہی جیسے اور گروہ ،جوان سے زیادہ قوی تھے، عذابِ الہٰی کے عظیم طوفان کے مقابلے میں پرکاہ کی طرح کمترین مقاومت بھی اپنی طرف سے نہیں دِکھا سکے چہ جائیکہ یہ چھوٹاساگروہ کہ جس کے پاس کچھ بھی نہیں ۔
اِس کے بعدایک قاطع اور دوٹوک پیشین گوئی کے عنوان سے ان کی باتوں کوردّ کرتے ہوئے پروردگار ِ عالم مزید فرماتاہے: وہ جان لیں کہ عنقریب ان کی جماعت شکست کھاکربھاگ کھڑی ہوگی ( سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّونَ الدُّبُرَ)(٥) ۔
جاذبِ توجہ یہ امر ہے کہ سیھزم کامادہ ھزم بروزن جزم ہے ۔اِس کے معنی ہیں کسی خشک جسم کواِتنا دبانا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے،یہاں اسی مناسبت سے لشکر کے تِتّر بِتّر اور درہم وبرہم ہونے کے معنی میں اِستعمال ہواہے ۔
یہ تعبیر ممکن ہے اس نکتہ کی طرف اشارہ ہوکہ وہ بظاہر متحد ومربوط ہیں لیکن چونکہ ایسے موجودات کی طرح ہیں جوخشک ہوتے ہیں، لہٰذا وہ قوی دباؤ کے مقابلے میں درہم وبرہم ہوجائیں گے ،برخلاف مومنین کے کہ وہ اپنے اندر ایسی قوّت رکھتے ہیں ،کہ جس میں مرکزیت بھی ہو دبر کے معنی پشت کے ہیں یہ قُبل کی ضِد ہے جس کے معنی اگلے حصّہ کے ہیں ۔ یہ لفظ یہاں مکمّل طورپر میدانِ جنگ میں پُشت دکھانے کے مفہوم میں ہے ۔ یہ پیشن گوئی میدانِ بدر میں اور دوسری جنگوں میں حر ف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی اور کفار کامضبُوط اور طاقتور گروہ میدانِ جنگ سے ہز میت خوردہ ہوکربھاگ کھڑاہوا ،زیربحث موضوع کے متعلق آخری آ یت میں پروردگارِ عالم فرماتاہے : صرف دُنیا ہی میں شکست وناکامی ان کاحصّہ نہیں ہے کہ بلکہ قیامت ان کی وعدہ گاہ ہے اور روزِ محشر کی سزائیں زیادہ سخت اورہولناک ہیں (بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُہُمْ وَ السَّاعَةُ أَدْہی وَ أَمَر) ۔
اِس اعتبار سے انہیں اس دنیامیں بھی شکست کی تلخی کامزہ چکھنے کے لیے تیّار رہناچاہیئے اورآخرت میں ان کے لیے زیادہ تلخ اوروحشت ناک شکست ہے ادھیٰ کامادّہ دھو اور دھائ ہے اس کے معنی ایسی بڑی مصیبت اور عظیم حادثہ کے ہیں کہ جس سے چھٹکاراممکن نہ ہو ۔ یہ لفظ کبھی انتہائی ہُشیاری کے معنی میں بھی آتاہے لیکن زیربحث آیت میں اس کے پہلے معنی ہیں ۔ جی ہاں ! وہ قیامت میں ایسی صُورتِ حال سے دوچار ہوں گے کہ ان کے لیے کوئی راہ فرار نہیں ہوگی ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma