١۔ اس جہان کی تمام چزیں حساب و کتاب کی تابع ہیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

(انَّا کُلَّ شَیْء ٍ خَلَقْناہُ بِقَدَر)کاجُملہ اختصار کے باوجود عالمِ تخلیق کی ایک اہم حقیقت کوبے نقاب کرتاہے ،ایسی حقیقت کہ جوپورے عالم امکان پرحکمران ہے اور وہ ساری کائنات میں ہر چیز کی مقدار کانہایت باریک بینی کے ساتھ تعیّن ہے انسان کاعلم جس قدر ترقی کر رہاہے،وہ باریک بینی پرمبنی اس دقیق تعیّنِ مقدار سے زیادہ طورپر باخبر ہوتا جارہاہے ،تعیّن مقدار کے سلسلہ میں یہ وقت نظر نہ صِرف زمینی موجودات میں کارفر ماہے ، بلکہ آسمان کے عظیم کُرّوں میں بھی جاری وساری ہے ،مثال کے طورپر ہم سُنتے ہیں کہ الیکڑانکی دماغوں کی مددسے سینکڑوں مخصوص ماہرین فن نہایت دقیق علمی حساب لگاکر اس اَمر پرقادر ہوئے ہیں کہ کُرّہ قمر کے اس علاقہ میں اُتریں کہ جہاں وہ چاہتے ہیں ،حالانکہ جن چند دِنوں میں خلائی جہاززمین اور چاند کادرمیانی فاصلہ طے کرنے میں مصروف ہوتاہے توتمام صورتِ حال اُلٹ پلٹ ہوجاتی ہے ۔چاند اپنے گردبھی گُھوم رہاہے اور زمین کے گر دبھی گردش کررہاہے اس طرح اس کی جگہ مکمل طورپر بدل جاتی ہے ۔حتّٰی کہ خلائی جہاز کے ایک مصروف لمحے ہی کے دوران زمین اپنے گرد بھی گردش کرتی ہوئی ہوتی ہے اورسُورج کے گرد بھی گردش میں مصروف ہوتی ہے لیکن چونکہ یہ مختلف قسم کی گردشیں ایسے حساب کے مطابق ہیں کہ جوبہت باریک بینی پرمبنی ہے اور جس میں ذرّہ برابر فرق واقع نہیں ہوتا ،اَب فضا نورو اس قابل ہوچکے ہیں کہ نہایت پیچیدہ حساب کے باوجود وہ اپنے پسندیدہ خطّے میں اُتریں علمِ نجوم کے ماہراس قابل ہوگئے ہں کہ دسیوں سال پہلے مکمّل یانامکمل چاند گہن اورسُورج گہن کے متعلق زمین کے مختلف حِصّوں کے حوالہ سے صحیح طورپر پیشین گوئی کرسکیں ۔یہ تمام باتیں اِس وسیع دنیامیں حساب کی انتہائی باریک بینی پر دلالت کرتی ہیں چھوٹے چھوٹے جانداروں میں ،مثال کے طورپر ننھی چیونٹیوں میں ، ان کے مختلف قسم کے جسموں ، رگوں اورپٹھوں کے بارے میں یہ حساب اِنسان کوحیران کردینے کے قابل ہے ،جس وقت ہم زیادہ چھوٹے موجودات مثلاً مائیکروب ، وائرس اورایمیباتک پہنچتے ہیں توحساب کی عمدگی اورصحت اپنے کمال کوپہنچ جاتی ہے ، یہ وہ مقام ہے کہ جہاں مِلی میٹر کاہزارواں حصّہ بلکہ اس سے چھوٹا حصّہ بھی مکمل طورپر حساب کے ماتحت ہے ،اس سے آگے بڑھ کراگرہم ایٹم کے دائرہ میں داخل ہوں تو پھر ان تمام اندازہ لگانے والے پیمانوں کو خیر باد کہناپڑتاہے ۔اب ھساب کے موضو عات اتنے چھوٹے ہوجاتے ہیں کہ کسی انسان کے دائرہ فکر میں ہیں آتے ، یہ تخمینے صِرف مقدار وں کے بارے میں نہیں ہیں ،ترکیبی کیفیّتیں بھی اندازہ لگانے کے ان پیمانوں کی گرفت میں آ جاتی ہیں ، وہ نظام ،کہ جو رُوحِ انسانی کے تقاضوں اورحجانات ومیلانات پر حاکم ہے ،اس کابھی حساب لگایا جاسکتاہے حتّی کہ انسان کی انفرادی اوراجتماعی خواہشات کاوہ سلسلہ کہ جس میں ذراسی بھی برہمی واقع ہوجائے تواس کی انفرادی واجتماعی زندگی درہم وبرہم ہوجائے اس کوناپنے کے بھی دقیق پیمانے موجود ہیں ،عالم طبعی میں ایسی موجودات ہیں کہ جوایک دوسرے کے لیے مصیبت کاباعث بھی ہیں اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں بھی ڈٹی ہوئی ہیں ۔
شکاری پرند ے چھوٹے پرندوں کے گوشت سے غذاحاصل کرتے ہیں اورحد سے تجاوز نہیں کرتے کہ تمام موجود ذخیرہ ٔ غذا کے لیے نقصان وہ ثابت ہوں ۔نتیجة ً ان کی عمر طویل ہوتی ہے ، یہ شکاری پرندے بہت کم انڈ ے دیتے ہیں ۔ان کی بچّوں کی تعداد بھی کم ہوتی ہے ، یہ صرف خاص حالات میں تنہا زندگی گزارتے ہیں ۔اگراس طویل عمر کے ساتھ ان کے بچّے بھی زیادہ ہوتے تو دُنیا سے تمام چھوٹے پرندوں کی نسلیں ختم ہوکررہ جاتیں ،عالم حیوانات ونباتات میں اس موضوع کادامن بہت وسیع ہے جس کامطالعہ انسان کو (ِنَّا کُلَّ شَیْء ٍ خَلَقْناہُ بِقَدَر)کی گہرائی اوراس کے عمق سے زیادہ رُوشناس کراتا ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma