٣۔ خُدا کافرمان صِرف ایک ہی کلمہ ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
ہم جانتے ہیں کہ علّتِ تامہ اور معلول کے درمیان کسِی قسم کازمانی فاصلہ نہیں ہے اس لیے فلاسفہ کی اصطلاح میں علّت سچّے معلول تقدّم کوتقدّمِ رتبی سمجھتے ہیں اور خدا کے ارادے کے بارے میں ایجاد وخلقت کے امر کی نسبت کہ جوعِلّت ِ تامہ کاواضح ترین مصداق ہے ،یا علت ِ تامہ منحصر بہ فرد کامصداق ہے ،یہ معنی زیادہ واضح ہیں ۔اِس لیے اگرآ یہ (و ما امر ناالاواحدة ) ہمارااَمر ایک کلمہ سے زیادہ نہیں ہے کی لفظ کن سے تفسیر کی ہے تویہ تنگی بیان کی وجہ سے ہے کیونکہ لفظ کن بھی مرکب سے کاف ونون کا، اور وہ ایک زمانہ کامحتاج ہے ۔یہاں تک کہ فیکون میں فا جوعام طورپر ایک قسم کے زمانے کوبیان کرتاہے ، وہ بھی بیان کی تنگی کی بناپر ہے ،پھر ( کلمح بالبصر )(۱)(چشم زدن ) کی تشبیہ ،سُورہ نحل کی آ یت ٧٧ میں پروردگار ِ عالم جس وقت امرالہٰی کی قیامت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اوراس کولمح بصر کے ساتھ تشبیہ دیتاہے تومزید کہتاہے کہ (اوھواقرب) چشم زدن سے بھی زیادہ قریب ہے بہرحال زمانہ کے بارے میں یہ گفتگو ہماری روزمرّہ کی تعبیر کے مطابق ہے اور اس وجہ سے ہے کہ قرآن ہم سے ہمار ی زبان میں بات کرتاہے ورنہ خدااور اس کے اوامر زمانہ سے مافوق ہیں ضمنی طورپر واحدة کی تعبیر ہوسکتا ہے کہ اس معنی کی طرف اشارہ ہوکہ ایک ہی فرمان کافی ہے اوراس میں تکرار کی ضرورت نہیں ہے ،یا پھر اس طرف اشارہ ہے کہ اُس کافرمان چھوٹے بڑے ،صغیر وکبیر حتّی کہ تمام پھیلے ہوئے آسمانوں کی خلقت تک میں ذرّہ برابرفرق نہیں کرتا ، بُنیادی طورپر چھوٹا بڑا اور مشکل و آسان ہماری محدُود فکر اورناچیز قوّت کے پیمانوں میں سے ہے ،جہاں قدرتِ لامتناہی کے بارے میں گفتگوہو یہ مفاہیم مکمّل طورپر ختم ہوجاتے ہیں اور سب ایک ہی رنگ اورایک ہی شکل کے نظر آ تے ہیں ، غور کیجئے ۔
یہاں ایک سوال سامنے آتاہے کہ اگراُوپر والے جملے کامفہوم یہ ہے کہ تمام چیزیں آنا ً فاناً وجود میں آ تی ہین تویہ اَمر حوادثِ عالم کے تدریجی ہونے کے مشاہدہ کے ساتھ سازگار نہیں ہے ،اس سوال کاجواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتاہے کہ اس کافرمان ہرجگہ ایک ہی کلمہ ہے جوچشم زدن سے بھی زیادہ سریع ہے ،لیکن فرمان کے مضمون اورموضوع میں فرق ہوتاہے ،اگر جنین (وہ بچّہ جو شکمِ مادر میں ہوتاہے ) کواس نے حکم دیاہے کہ نوماہ کے اندر اپنے دور کی تکمیل کرے توایک لمحہ زیادہ یاکم نہیں ہوگا ،اس کافوراً ہونا اِس طرح ہے کہ ٹھیک اس مُدّت میں اس کی تکمیل ہو اور اگر کُرّئہ زمین کوحکم دیاہے کہ چوبیس گھنٹے کے درمیان ایک مرتبہ اپنے گردگردش کرے توبھی اس کا فرمان تخلّف ناپذیر ہے ،دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے فرمان کے اثرانداز ہونے کے لیے کسِی قسم کے زمانے کی ضرورت نہیں ہے ،یہ فرمان کامضمون وموضوع ہے کہ جوعالم ِ مادّی کے تدریجی ہونے کی وجہ سے اورخاصیّت ِ طبیعت وحرکت کی سُنّت کی طرف توجہ کرتے ہوئے اپنے لیے زمانہ کوقبول کرتاہے ۔
 ۱۔ "" لمح"" (بروزن مسح ) اصل میں بجلی کے کوندنے کے معنی میں ہے ،اس کے علاوہ یہ تیزنگاہ ڈالنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma