١۔ نعمتوں کی شناخت خُدا کی معرفت کازینہ ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
مذکورہ بالانعمتوں (قرآن ،خلقت ِانسان ، تعلیم بیان، زمانہ کا منظم حساب، مختلف درخت اورگھاس کی پیدائش ،آسمان کی تخلیق ، قوانین کی حاکمیّت ، زمین کی خلقت اس کی خصوصیات کے ساتھ ،پھلوں کی تخلیق ،کھجور کی خلقت ،حیوانات کی خلقت ،خوشبودار گھاس اور پھُولوں کی تخلیق) کے بارے میں تھوڑا ساغور وخوض ، ان جز ئیات ،خصوصیات اوراسرار کے ساتھ کہ جوان میں سے ہرایک میں چھُپے ہوئے ہیں ،اس بات کے لیے کافی ہے ، کہ وہ انسان میں احساسِ شکرگزاری پیداکرے اورانہیں نعمتوں کے سرچشمے کی معرفت کرائے ۔
اِس بناپر خداوند متعال اپنے بندوں سے ان نعمتوں کے بیان کے بعد، ایک ایک لُطف وکرم کااقرار لیتاہے اوراس جملے کی آنے والی آیتوں میں بھی دوسری نعمتوں کے ذکر کے بعدتکرار کرتاہے ،اس جملے کواس نے ٣١ بار دُہرا یاہے ،یہ تکرار فصاحت کومجروح نہیں کرتی بلکہ خُود فصاحت کاایک انداز ہے ،یہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسے کوئی باپ اپنے فرائض سے غافل بیٹے کومخاطب کرے کہے :کیا تُو بُھول گیاہے کہ توایک چھوٹا سا کمزور بچّہ تھا ،تیری پرورش کے لیے میں کیسے کیسے خونِ جگر پئے ہیں۔کیا توبُھول گیاہے کہ جب توبیمار تھا تومیں نے بہترین ڈاکٹر اورحکیم تیرے علاج کے لیے مہیّا کیے اورتیرے علاج کے لیے میں نے کونسی زحمتیں نہیں اُٹھا ئیں، کیاتُوبُھول گیاہے کہ جب تُو نے منزل شباب میں قدم رکھا اور تجھے بیوی کی ضرورت ہوئی توتیرے لیے میں نے پاک وپاکیزہ بیوی منتخب کی ،کیا تُوبُھول گیاہے کہ جب تو مکان ،زندگی اور سائل ِ زندگی کی احتیاج رکھتاتھا تومیں نے یہ تمام چیزیں تیرے لیے فراہم کیں توپھر یہ سرکشی ونافرمانی ، بے مروتی وبے وفائی کِس لیے ہے ۔
خداوند منان بھی اپنی انواع واقسام کی نعمتیں اپنے اِن غفلت شعار بندوں کو یاد دلاتاہے اوران نعمتوں کے ہرحصّہ کے ذکر کے بعد ان سے سوال کرتاہے کہ ان میں سے کِن کِن نعمتوں کاتم انکار کر تے ہو پس یہ نافر مانی اور سرکشی کِس بناپر ہے جب کہ میری اطاعت بھی خُود تمہارے تدریجی ارتقااورترقی کی ضمانت ہے اور تمہارے پروردگار کواس سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma