٢۔ زندگی میں نظم وحِساب کامسئلہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
ہمارے جسم میں بیس سے زیادہ دھاتیں اوردھاتوں سے مشابہت رکھنے والی چیزیں استعمال ہوئی ہیں جن میں سے ہرایک معیّن کیفیّت ومقدار میں ہے ،اورجس وقت ان کی معیّن ومقررہ مقدار وکیفیّت میں تھوڑی سی بھی تبدیلی واقع ہو توہماری سلامتی خطرہ میںپڑ جاتی ہے مثلاً گرمی کے موسم میں جب انسان کوزیادہ پسینہ آتاہے تووہ گرمی کی شِدّت کا شکار ہو جاتا ہے اوربغیر اس کے کہ کوئی اوربیماری اسے لاحق ہویہ ممکن ہوجاتاہے کہ اس کی موت واقع ہوجائے ،حالانکہ اس بیماری کاسبب اوراس کی علّت ِ ایک بہت ہی آسان اور سادہ مسئلہ ہے یعنی پانی اورخُون کے نمک کی کمی ، اور اس کاعلاج زیادہ پانی پینے اورنمک کھانے کے اورکچھ نہیں ہے ،اِسے ہمارے بدن کی عمار ت میں نظم وحساب کاایک سادہ سانمونہ سمجھئے ،بعض اوقات مخلوقات کے ڈھانچے کے بارے میں جونتائج اخذ کیے جاتے ہیں وہ بہت ہی عجیب وپُر لُطف ہوتے ہیں ،مثال کے طورپر سیل یاایٹم جواس قدرمختصر ہیں کہ ان کاہزار واںحصّہ اورکبھی ایک مِلین ملی میٹر یاملی گرام ہی اس کاسب کچھ ہوتاہے ،انتہایہ ہے کہ ماہرین مجبُور ہیں کہ ان کے دقیق اورباریک حسابات کے سلسلہ میں الیکٹرانکی دماغوں سے اِستفادہ کریں، یہ تونظام تکوین ہے اجتماعی حالات میں بھی قانونِ عدالت سے انحراف بہت دفعہ ایساہوتاہے کہ پُوری قوم کو ہلاکت کی راہ پر ڈال دیتاہے ،قرآن مجید نے چودہ سوسال پہلے ان مفاہیم کے حوالے سے جومندرجہ بالاآ یات میں ہم تک پہنچے ہیں ، اس حقیقت کو بے نقاب کیاہے اور(وَ السَّماء َ رَفَعَہا وَ وَضَعَ الْمیزانَ،أَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمیزان) کے جملوں میں اس نے کہنے کی تمام باتیں کہہ ڈالی ہیں اور شرعی قوانین کی نافرمانی اوران سے انحراف ورُوگردانی کواحکامِ تکوینی سے سرکشی کے برابر قرار دیاہے کہ جو آسمانوں پرحاکم ہیں قرآن ان آیتوں میں جہانِ ہستی اورعالم ِ انسانیّت کی ایک قابلِ توجہ اورعُمدہ تصویر پیش کرتاہے وہاں یہ بھی بتاتاہے کہ یہی جہاں نہیں دُوسراجہان بھی یوم الحساب ہے اور موازین کے نصب ہونے کادن ہے بلکہ وہاں کاحساب اوراس کی میزان تویہاں کے حساب اورمیزان سے کہیں زیادہ باریک ہے ۔اِسی بناپراسلامی روایات میں ہمیں یہ حکم دیاگیاہے کہ اس سے قبل کہ ہم سے حساب لیاجائے ہم خُود اپناحساب کریں اوراس سے پہلے کہ ہمارا وزن کیاجائے ہم اپنا وزن کرلیں۔(حاسبو اانفسکم قبل ان تحاسبوا ووزنوا قبل ان تؤ زنوا)۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma