اِنسان کی خلقت ٹھیکری جیسی خاک سے ہوئی ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

خدانے گزشتہ نعمتوں کے ذکر کے بعد جن میں انسان کی خلقت بھی تھی اور،جسے بستہ شکل میں پیش کیاگیاتھا ،زیربحث آ یات میں پہلے انسان اور جنّ کی خلقت کے بارے میں تشریح کی ہے ،تشریح بھی ایسی کہ جواس کی قُدرتِ کاملہ کی نشان دہی بھی ہے اور سب کے لیے درس عبرت بھی ،پروردگار ِ عالم فرماتاہے :(انسان کوٹھیکری جیسے خشک شُدہ گار ے سے پیداکیا)(خَلَقَ الِْنْسانَ مِنْ صَلْصالٍ کَالْفَخَّار)۔
صلصال اصل میں (خشک جسم میں آواز کے آنے جانے ) کے معنی میں ہے ،اس کے بعداس خشک ہوجانے والی مٹی کی طرف اگراشارہ کریں اور وہ آواز دے تواُسے صلصال کہاجاتاہے۔برتن میں بچے ہوئے پانی کوبھی صلصلہ کہتے ہیں کیونکہ وہ ا،دھراُدھر حرکت دینے سے صدادیتاہے ،بعض مفسّرین کایہ قول ہے کہ صلصال کے معنی بدبُود ار کیچڑ(لجن) کے ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ مشہور ہیں ، فخّار کامادّہ فخر ہے اس کے معنی میں اس شخص کے ہیں جوبہت زیادہ فخر کرتاہو اور چونکہ اس قسم کے افراد اندرسے کھوکھلے ہوتے ہیں اورباتیں زیادہ بناتے ہیں اس لیے یہ لفظ کوزہ اورہراس قسم کی ٹھیکری کے لیے کہ جس میں سے زیادہ آواز نِکلتی ہے ،بولا جاتاہے ( ١)۔
قرآن میں درج مختلف آیتوں اوران مفاہیم سے جوانسان کی ابتدائے آفرینش کے موضوع سے تعلق رکھتے ہیں ،یہ اچھی طرح واضح ہوتاہے کہ انسان شروع میں خاک تھا۔(سورہ حج ۔٥) پھراس کی پانی کے ساتھ آمیزش ہوئی اوریہ کیچڑکی شکل اختیار کرگیا۔(انعام ۔٢) اورپھر لجن بدبُو دارکیچڑ ہوگیا۔(حجر۔ ٢٨) اس کے بعد چیک جانے کی صُورت اختیار کی (صافات۔١١)پھرمنجدشے کی شکل اختیار کی اور صَلْصالٍ کَالْفَخَّار بن گیا (آیہ زیربحث) ان مرحلوں نے بعد زمانے کے تقاضوں کے مطابق کِس قدر طول کھینچا اورانسان نے ہرمرحلہ میں کِس قدرتوقف کیااور یہ منتقل ہونے والے حالات کِن اسباب وعوامل کے نتیجے میں وجود میںآ ئے ،یہ ایسے مطالب ہیں کہ جو ہمارے علم ودانش سے پوشیدہ ہیں ۔
اس کوصرف خداہی جانتاہے اور بس ،جوکچھ مُسلّم ہے وہ یہ ہے کہ یہ مذ کورہ مفاہیم ایک ایسی حقیقت کوبیان کرتے ہیں جواِنسان کے تربیتی مسائل کے ساتھ نہایت اہم تعلق رکھتی ہے ،اوروہ یہ کہ انسان کااوّلین مادّہ بہت ہی بے قیمت وکم مقدار تھا اوریہ زمین کی حقیرترین شے سے تھالیکن خدانے اس قسم کے بے قیمت مادّہ سے ایسی بیش بہا مخلوق پیدا کی کہ جوگلستان ِ آفرینش کاگل سرسبدبن گیا۔
اِن تعبیرات ومفاہیم سے ضمنی طورپر اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اِنسان کی حقیقی قدرو قیمت کو وہی رُوح الہٰی اور نغمہ ربّانی کہ جوقرآن کی دوسری آیتوں ،مثلاً سُورہ حجر کی آ یہ ٢٥ ) میںآ یاہے ،تشکیل دیتاہے تاکہ انسان اس حقیقت کوپہچاننے کے بعداپنی راہ ارتقاء کواچھی طرح پالے اور یہ سمجھ لے کہ کس راستے پرچل کر اسے سفرِ حیات طے کرناہے تاکہ وہ بزم ہستی میں اپنی حقیقی قدروقیمت کوحاصل کرنے کے قابل ہوجائے ،اس کے بعد پروردگارِ عالم جنّات کی خلقت کوپیش کرتے ہوئے فرماتاہے: اورجِنّوں کوآگ کے مخلوط اورمتحرک شعلوں سے پیدا کیا(وَ خَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نار) مارج (بروزن مرض) سے بناہے جس کے معنی اختلاط و آمیزش کے ہیں، یہاں اس سے مُراد
آگ کے مختلف شعلوں کااختلاط وامتزاج ہے ،آگ کے معنی بھی ہیں( امرجت الدابة) میں نے جانور کوچراگاہ میں چھوڑدیا کیونکہ مرج کے ایک معنی چراگاہ کے بھی ہیں پھر ہمارے لیے یہ بات واضح نہیں ہے کہ جن کی خلقت اس رنگ برنگی آگ سے کس طرح ہوئی جب کہ اس کی دوسری خصوصیتیںصبح صادق یعنی قرآن مجید اوروحی الہٰی کے حوالے سے ہم پرثابت ہوئیں مجہولات کے مقابلے میں ہمارے معلومات کامحدُود ہوناہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم ان حقائق کا، اس کے بعد کہ وہ وحی الہٰی سے ثابت ہوجائیں ،اِنکار کریں یاانہیں نظرانداز کریں ۔خواہ ہماراعلم ان تک رسائی حاصل کرے یانہ کرے (انشاء اللہ جنّ کی خلقت اوراس کی خصوصیتوں کے بارے میں مزید تشریح سُورئہ جنّ کی تفسیرمیں درج کی گئی ) بہرحال زیادہ ترمخلوق جس سے ہمارا سروکار ہے وہ پانی مٹی ، ہوااور آگ ہے ،ہم انہیں چاہے قد ماء کی طرح عنصر اوربسیط سمجھیں یاموجودہ ماہرین کے نقطۂ نظر کے اعتبار سے مختلف الاجسام اجزاسے مرکب خیال کریں لیکن ہر صُورت میں اِنسان کی خلقت کامبداء مٹی اورپانی ہے جب کہ جنّ کامبداء خلقت ہو اورآگ ہے ،مبداء آفرینش کی یہ دورنگی ان دونوں مخلوقوں کے درمیان بہت سے اختلا فات کاسرچشمہ ہے ۔
پھران نعمتوںکے بعد کہ جوخلقت ِ انسان کی ابتداء میں تمہیں اس جملہ کی تکرار ہے کہ : بس تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کاانکار کرتے ہو (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ)اس کے بعد والی آ یت میں ایک اورنعمت کوپیش کرتے ہوئے فرماتاہے ۔ وہ دومشرقوں اوردومغربوں کا پروردگار ہے (رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْن)یہ درست ہے کہ سُورج سال کے ہرروز ایک نقطہ سے طلوع ہوکردوسرے نقطہ پرغروب ہوتاہے اوراس ترتیب کے اعتبار سے ایک مشرق اورایک مغرب ہی بنتی ہے لیکن سُورج کے حوالے سے زمین کے شمالی جھکاؤ اورجنوبی جھکاؤ کی حدِ اکثر کی طرف توجہ کرنے پرپتہ چلتاہے کہ فی الحقیقت دومشرق ہیں اور دو مگرب اورباقی ان دنوں کے دمیان کاحصّہ ہے (٢)۔
یہ نظام کہ جوحقیقت میں چار قسم کے بہت بابرکت موسموں کی خلقت کاسرچشمہ ہے ،حقیقت میں اِن آیتوں کی تکمیل وتائید ہے کہ جوپہلے آچکی ہیں ،اس مقام پر کہ جہاں چاند اور سُورج کی گردش کے متعلق گفتگو ہے اِسی طرح آسمانوں کی خلقت میں میزان کے وجود کی بات ہے مجموعی اعتبار سے وہ آیتیں زمین ، چانداور سُورج کی خلقت اورحرکت کے دقیق نظاموں کے بیان پرمشتمل ہیں ، ان میں ان نعمتوں اور برکتوں کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جوان وسائل سے انسان کوحاصل ہوتی ہیں ، بعض مفسّرین نے یہاں دومشرقوں اوردومغربوں کی تفسیرسُورج کے طلوع وغروب اور چاند کے طلوع وغروب کے اعتبار سے کی ہے اور اسے گزشتہ آ یت (الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبان) کے مطابق سمجھے ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب نظر آتے ہیں ،خصوصاً اس وجہ سے کہ بعض اِسلامی روایات میں بھی ان کی طرف اشارہ ہواہے ،منجملہ دیگر حدیثوں کے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ایک حدیث ہماری نظر کے سامنے آ تی ہے کہ آپ نے اس آ یت کی تفسیر میں فرمایا:
ان مشرق ولشتاء علی حدہ ومشرق الصیف علی حدہ ماتعرف ذالک من قرب الشمس وبعدھا۔
سردیوں کے آغاز کامشرق اور ہے اور گرمیوں کے آغاز کامشرق اورہے ،کیاتم دیکھتے نہیں ہوکہ سُورج ان دو موسموں میں قریب ودُورہوتا ہے گرمیوں کے موسم میں آسمان پرسُورج کے اُوپر آنے اورسر دیوں کے موسم میں اس کے نیچے چلے جانے کی طرف اشارہ ہے (٣)۔
جوکچھ ہم نے کہا ہے اس سے یہ نکتہ اچھی طرح واضح ہوگیاہے کہ بعض آیاتِ قرآنی میں یہ کیوں آ یاہے فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَ الْمَغارِبِ مشرقوں اورمغربوں کے پروردگار کی قسم (معارج ۔٤٠)کیونکہ اس میں پورے سال کے تمام مشرقوں اور مغربوں کی طرف اشارہ ہے ، جب کہ زیربحث آ یت میں صِرف اس کی انتہائی قوس صعودی ونزولی کی طرف اشارہ ہے ،بہرحال اس نعمت کے ذکر کے بعد پھر اس نے جنّ واِنس کومخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کا انکار کروگے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔
١۔ مفرادتِ راغب۔
٢۔اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ چونکہ زمین کامحوراس کی سطح مدار کی بہ نسبت جُھکا ہواہ اور تقریباً ٢٣ درجہ کا زاویہ بناتاہے اور زمین اس حالت میں سُورج کے گرد گردش کرتی ہے لہٰذا سورج کاطلوع وغروب ہمیشہ متغیّر نظر آتاہے اور ٢٣ درجہ ثم اعظم شمالی سے (گرمیوں کے شروع ہیں)٢٣ درجہ ثم اعظم جنوبی (سردیوں کے شروع میں) تک متغیّر رہتاہے کہ جس کے پہلے مداد کومدار راس السرطان اوردوسرے مدار کو مدار راس الجدی کہتے ہیں ،یہ ہیں سُورج کے دومشرق اور د ومغرب ،باقی جتنے مدار ہیں وہ ان دونوں مداروں کے درمیان ہیں۔
٣۔ تفسیر"" نورالثقلین"" جلد ٥،صفحہ ١٩٠۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma