ہم سَب فانی ہیں اوربقاصِرف تیرے لیے ہے:

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

اپنی نعمت کو جاری رکھتے ہوئے ان آ یتوں میں مزید فرماتاہے: تمام وہ لوگ کہ جو زمین پرزندگی بسرکر رہے ہیںفنا ہوجائیں گے (کُلُّ مَنْ عَلَیْہا فان)۔ یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ مسئلہ فنااللہ کی نعمتوں میں کِس طرح شمار ہوسکتاہے ، ممکن ہے کہ اس اعتبار سے ہو کہ اس فناسے مُراد فنا ئے مطلق نہیں ہے بلکہ یہ عالم بقا کے لیے ایک دریچے کاکام دیتی ہے ۔ یہ ایک دالان اورگز رگاہ ہے کہ جس کوعبُور کرناسرائے ،تک پہنچنے کے لیے ضروری ولابدی ہے ۔دُنیا اپنی تمام نعمتوں کے باوجود مومن کے لیے زندان ہے اوراس دُنیا سے جاناتنگ وتاریک زندان سے نکلنے کے مترادف ہے ۔
یاپھر فنا کا ذکراس نقطۂ نظر سے کیا گیا ہے کہ گزشتہ نعمتوں کابیان، ممکن ہے کہ گروہ کے لیے اکل وشرب کی چیزوں ، لو لؤ ومرجان اور سواریوں میں ستغرق ہونے کاباعث بن جائے لہٰذا یا د دلاتاہے کہ یہ دنیا فانی ہے ۔کہیں ایسانہ ہو کہ ان چیزوں میں دل لگا بیٹھو اوراپنے ربّ کی راہ مین ان سے کوئی فائدہ نہ اُٹھاؤ ۔ یہ یاد دلانا بھی بجائے خودایک بہت بڑ ی نعمت ہے علیھا کی ضمیر زمین کی طرف لوٹتی ہے جس کی طرف گزشتہ آ یتوں میں بھی اشارہ ہوا ہے ،علاوہ ازیں قرائن سے بھی واضح ہے من علیھا سے مُراد (وہ لوگ کہ جوزمین پرہیں) جِنّ وانس ہیں،اگرچہ بعض مفسّرین نے اس احتمال کوتقویت دی ہے کہ یہ حیوانات اوردوسری چلنے والی مخلوق کے لیے بھی استعمال ہواہے لیکن من کے لفظ کے پیش نظر کہ جوہمیشہ ذوی العقول کے لیے اِستعمال ہواہے ۔پہلی تفسیرہی مناسب ہے ،یہ ٹھیک ہے کہ فنا کا مسئلہ جنّ واِنس تک ہی محدودنہیں ہے بلکہ قرآن کی تصریح کے مطابق تمام اہل آسمان وزمین بلکہ تمام موجوداتِ عالم فنا ہوجائیں گے (کل شی ء ھالک الّا وجھہ)(قصص ۔٨٨) لیکن چونکہ گفتگو ساکنانِ زمین سے تھی لہٰذا صِرف انہی کوپیش کردیاگیاہے۔ اس کے بعد والی آ یت میں مزید فرماتاہے : صرف تیرے پروردگار کی ذات ذوالجلال والاکرم باقی رہ جائے گی( وَ یَبْقی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلالِ وَ الِْکْرامِ)لغت کے اعتبار سے وجہ کے معنی چہرے کے لیے استعمال ہوتوپھر مراد اس کی ذات پاک ہی ہوتی ہے ۔مفسرّین نے وجہ ربّک کویہاں پروردگار کی صفات کے معنی میں لیاہے کہ جن کی وجہ سے انسان پر برکتیں اورنعمتیں نازل ہو تی ہیں ،مثلاً : علم ، قدرت ،رحمت اورمغفرت ،یہ احتمال بھی تجویز کیاگیاہے کہ اس سے مُراد وہ اعمال ہیں جو خدا کے لیے انجام دیے جاتے ہیں ۔تواس بناپر سب فنا ہو جا ئیں گے لیکن وہ اکیلی چیز یعنی وہ اعمال باقی رہ جائیں گے کہ جوخلوص نیّت سے اس کی رضا کے لیے انجام دیے گئے ہیں ۔لیکن پہلے معنی سب سے زیادہ مناسب ہیں ،باقی رہا ذو الجلال والا کرام کہ جو وجھہ کی صفت ہے ، اس سے خدا کی صفاتِ جلال وجمال کی طرف اشارہ ہے ذو الجلال ایسی صفات کی خبردیتاہے کہ جن سے خدا اجل و برتر ہے (صفاتِ سلبیہ ) اور اکرام صفتوں کی طرف اشارہ کرتاہے کہ جوکسِی چیز کے حُسن اورقدر و قیمت کوواضح کرتی ہیں اوروہ خدا کی صفاتِ ثبوتیہ ہیں ،مثلاً اس کاعلم ،قدرت اورحیات ،تواس بناپر اس مجموعہ کے معنی یہ ہوں گے کہ صرف خداکی وہ ذات پاک، کہ جوصفاتِ ثبوتیہ سے متصف اورصفاتِ سلبیہ سے مبّراومنزّہ ہے،اس عالم میں بر قرار رہے گی ۔
بعض مفسّرین خدا کے صاحب ِ اکرام کوصاحب ِ الطاف ونعمات ہونے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جن کے ذریعہ وہ اپنے اولیا ء کااکرام کرتاہے اورانہیں گرامی قدر بناتاہے ،مذکورہ بالاآ یتوں میں ان سب معانی کاجمع ہوناممکن ہے ،ایک حدیث میں منقول ہے کہ ایک شخص بارگاہِ پیغمبر میں نماز میں مصروف تھا ۔اس کے بعداس نے اس طرح دُعا کی : اللّٰھم انی اسئلک بان لک الحمد لاالہٰ الّا انت المنان بدیع السماوات والارض ذوالجلال والا کرام یاحتیّ یاقوم پیغمبر نے اپنے اصحاب وانصار سے کہا: جانتے ہو اس نے خُدا کو کس نام سے پکار ہے ؟انہوںنے کہا: خدااور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں ،توآپ نے فرمایا: والذی نفسی بید ہ لقد دعا اللہ باسمہ الاعظم الذ ی اذا دعی بہ اجاب واذاسئل بہ اعطی قسم ہے اس کی جس کے قبضئہ قدرت میں میری جان ہے اس نے خدا کواس کے اسمِ اعظم کے حوالے سے پُکاراہے جس وقت کوئی خداکو اس نام سے پُکار ے تووہ اس کی دُعاقبول کرتاہے اورجب اس کے ذ ریعے سے سوال کرے تووہ عطا فرماتاہے ( ١)۔
پروردگار ِ عالم پھرایک مرتبہ اپنی مخلوق کومخاطب کرکے فر ماتاہے : تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوتکذیب کروگے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّباِ)اس سے بعدوالی آ یت کانفسِ مضمون قبل کی آیتوں کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ فرماتاہے : وہ تمام کہ جو ایساکیوں نہ ہو حالانکہ وہ سب فناہونے والے ہیں اورخدا باقی ہے ۔ یہ نہیں کہ اس جہاں کے اختتام پرساری کائنات سوائے پروردگار کی پاک ذات کے راہِ فناطے کرے گی ،بلکہ اِس وقت بھی اُس کے مقابلے میں فانی ہیں اوران کی بقا اس کی بقا اورمشیت سے وابستہ ہے اگرایک ایک لمحے کے لیے وہ اپنالُطف وکرم کا ئنات سے اُٹھا لے توسب فناہو جائیں اِن حالات میں اس کے علاوہ کوئی ہے کہ جس سے اہل زمین اوراہل آسمان سوال کریں یسئلہ کی تعبیر فعل مضارع کی شکل میں اِس بات کی دلیل ہے کہ یہ سوال اور تقاضا دائمی ہے ۔سب کے سب زبانِ حال سے اس مبدأ فیاض سے ہمیشہ فیض کے طالب ہیں ،زندگی چاہتے ہیں اوراپنی ضرورتوں کا سوال کرتے ہیں اور یہ ممکن الوجود کی ذات کااقتضاد ہے کہ نہ صرف حدوث میں بلکہ اپنی بقا میں بھی وہ واجب الوجود کے ساتھ وابستہ ہے اس کے بعد مزید کہتاہے : خدا ہر روزایک نئی شان اورنئے کام میں ہے (کل یوم ھوفی شأن)۔ جی ہاں اس کی تخلیق دائم مستمر ہے ۔اور سوال کرنے والوں اورصاحبانِ حاجات کوجواب دینابھی اسی طرح ہے اوروہ ہرروز ایک نئی طرح ڈالتاہے ،ایک دن وہ کچھ قوموں کوطاقت وقدرت عطاکرتاہے ،دوسرے دن انہیں ذوال کاشکاربنا دیتاہے ،ایک روزصحت وسلامتی وجوانی عطافرماتاہے دوسرے دن ضعف وناتوانی ، ایک دن دل سے غم واندوہ دُور کرتاہے،دوسرے دن غم اندوہ کاسبب پیداکر دیتاہے ،خلاصہ یہ ہے کہ وہ ہرروز حکمت ونظام احسن کے مطابق کوئی نئی مخلوق، نیا موجوداور نیاحادثہ وجود میں لاتاہے ،اس حقیقت کی طرف اگرتوجہ کی جائے تووہ ہم پر واضح کردینے کے لیے کافی ہے کہ ایک توہماری حاجتیں دائمی طورپر اس کی ذاتِ پاک سے وابستہ ہیں ، دوسرے اس طرح ہمارے دل مایوسی کاشکار ہونے سے بچ جاتے ہیں، تیسرے یہ کہ یہ توجہ ہماری غفلت اورغر ور کوختم کرتی ہے جی ہاں اس کی ہر روزایک نئی شان ہے اوروہ ایک نئے کام میں مصروف ہے ،اگرچہ مفسّرین میں سے ہرایک نے ان وسیع معانی کے کسِی گوشہ کو آ یت کی تفسیر کے عنوان سے پیش کیاہے ۔ بعض نے صرف گناہوں کی بخشش ، غم واندوہ کودُور کر نے اوراقوام کی بلندی وزوال کوعنوان بنایاہے ۔بعض نے صِرف مسئلہ آفرینش ،روز، زندگی ، موت اورعزّت وذلّت کو، بعض نے صرف انسانوں کی خلقت اورموت کوعنوان کلام بنایا ہے اورکہا ہے کہ خدا کے پاس ہرروز تین لشکر ہیں، لشکر باپوں کے صلبوں سے ماؤں کے رحموں کی طرف کُوچ کرتاہے ، دُوسرا لشکر ماؤں کے رحموں سے دُنیامیں قدم رکھتا ہے ،اورتیسرا لشکردُنیا سے قبر کی طرف جاتاہے ،لیکن جیساکہ ہم نے کہا ہے ،آ یت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ اس دنیا کی ہرنئی تخلیق پیدائش اورانقلاب اپنے اندرتحول لیے ہوئے ہے ۔امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے ایک روایت منقول ہے کہ آپ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا : الحمد اللہ الذی لایموت ولا تنقضی عجائبہ لانہ کل یوم ھوفی شأ ن من احداث بدیع لم یکن حمدوستائش مخصوص ہے اس خداکے لیے کہ جو ہرگز نہیں مرتا ، اس کے عجائبات ،خلقت ختم نہیں ہوتے کیونکہ اس کی ہرروز ایک نئی شان ہوتی ہے اووہ ایک نیا موضوع پیداکرتاہے ،کہ جوپہلے ہرگز نہیں تھا (٢)۔
ایک اورحدیث ہے جورسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے :آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آ یت کی تفسیر میں فرمایا : من شأنہ ان یغفر ذنبا ویغر ج کرباً ویرفع قوماً ویضع اخرین ۔ اس کے کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ گناہ کوبخشتاہے ،رنج و تکلیف کوبرطرف کرتاہے ،ایک گروہ کوبلند کرتاہے اور دُوسرے کو گرادیتاہے ( ٣)۔
یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہاں یوم اس دن کے معنوں میں نہیں ہے کہ جورات کے مقابلہ میں ہے بلکہ طولانی دورپر حاوی ہے اور ساعت ولمحات پربھی ،اور اس کامفہوم یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ کی ہر زمانے میں ایک نئی شان ہے اوروہ ایک نیاکام کرتاہے بعض مفسّرین نے اس آ یت کے لیے ایک شانِ نزول بھی بیان کی ہے کہ یہ آ یت یہودیون کے قول کی تردید کے لیے نازل ہوئی ہے ۔ یہودیوں کانظر یہ یہ ہے کہ خدا ہفتہ کو کوئی کام نہیں کرتا، اس روزوہ تعطیل کرتاہے ،کوئی حکم اورفرمان جاری نہیں کرتا (٤)۔
قرآن کانظر یہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق اور تدبیر امور کا پروگرام ایک لمحے کے لیے بھی تعطیل کامتحمل نہیں ہوتا ، پروردگار ِ عالم پھراس نعمت مستقل اورتمام مخلوقات آسمان وزمین کی حاجتوں کی جواب دہی کے بعد فر ماتاہے : تم خدا کی کِس کِس نعمت کی تکذیب کرتے ہو (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ)۔
١۔ تفسیرروح المعانی ،جلد ٢٧ ،صفحہ ٩٥۔
٢۔ اصول کافی مطابق نقل تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ١٩٣۔
٣۔ مجمع البیان درذیل آ یات زیربحث ، یہ حدیث رُوح المعانی میں بھی صحیح بخاری سے نقل ہوئی ہے ۔
٤۔ مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٠٢۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma