اگرقُدرت رکھتے ہوتو آسمانوں کی سرحدوں سے آگے نکل جاؤ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
جونعمتیں اَب تک اس سورہ میں پیش کی گئی ہیں وہ اسی دُنیا سے تعلق رکھتی تھیں لیکن زیربحث آیتوں میں قیامت کے حساب کتاب اورمعاد کی بعض دوسری ضرورتوں کے بارے میں گفتگوہے جومُجرموں کے لیے تہدید ہے اورمومنین کے لیے نہ صرف تربیّت ، آگاہی اور بیداری کاوسیلہ ہے بلکہ تشویق و حوصلہ افزائی کاذ ریعہ بھی ہے ،اسی بناپر یہ نعمت شمار ہوتی ہے ۔اس لیے ہرایک کے بیان کے بعد، اسی سوال کہ جو نعمتوں کے بارے میں ہے ،پروردگارِ عالم تکرار کرتاہے ۔پہلے فرماتاہے :
اے جنّ واِنس ہم عنقریب تمہاراحساب کریں گے (سَنَفْرُغُ لَکُمْ أَیُّہَ الثَّقَلان)(١)(٢)۔
جی ہاں ! اس دن خدا وند قادرِ جِنّ واِنس کے تمام اعمال، گفتار اورنیّتوں کانہایت باریک بینی ہے حساب کرے گا اوران کے لیے مناسب جزاوسزا تجویز کرے گا،خدا جس وقت کسی چیزمیں مصروف ہوتودوسری چیزوں سے غافل نہیں ہوتا اورہر آنِ واحد میں تمام کائنات پرعلمی احاطہ رکھتاہے اورکبھی بھی کوئی چیزاسے دوسری چیزسے غافل نہیں کرتی (لایشغلہ شأن عن شأن )لیکن اس کے باوجود سنفرغکے الفاظ جاذبِ توجہ ہیں کیونکہ گفتگو کی یہ صُورت ِ حال وہاں استعمال کی جاتی ہے جہاں ایک شخص اپنے تمام کام چھوڑ دیتاہے تاکہ پوری تن دھی اور ہوش وحواس سے اس کام کوانجام دے ،لیکن یہ چیز صرف مخلوقات کے بارے میں ہے ۔ کیونکہ وہ اپنی محدودیت کی بناپرجب ایک چیز کی طرف متوجہ ہوتی ہیں تودوسری چیزسے غافل ہوجاتی ہیں ۔خدا کے بارے میں اس تعبیر کااستعمال حساب وکتاب کی تحقیق وتفتیش کے معاملے میں تاکید کے علاوہ کچھ اورمعانی نہیں رکھتا ،ذرّہ برابر کوئی شے اس کے قلم اِنصاف کی زو سے نہیں بچے گی ۔ کِس قدر عجیب بات ہے کہ خداوند ِ بزرگ وعظیم اپنے حقیر بندوں کاحساب وکتاب اپنے ذمّہ لے اورکِس قدر وحشت ناک اور ہولناک ہے اس قسم کی جانچ پڑ تال اورمحاسبہ ۔
ثقلان کا مادّہ ثقل (بروزن کبر)ہے جس کے معنی بار سنگین کے ہیں یہ وز ن کے معنی میں بھی آتاہے ،باقی رہا ثقل (بروزن خبر) عام طورپر یہ لفظ مال ومتاع اورمسافر کے سامان کے لیے بولا جاتاہے ، جِنّ واِنس کے گروہ پراس کا اطلاق ان کی معنوی سنگینی کی بناپر ہے ،کیونکہ خدانے انہیں عقل وشعور اور علم وآگہی کے لحاظ سے مخصوص وزن اورقدر عطاکی ہے ۔جسمانی طورپر بھی مجموعی حیثیت سے قابلِ ملاحظہ سنگینی کے حامل ہیں ،اسی لیے سورہ زلزال کی آ یت ٢ میں ہم دیکھتے ہیں واخرجت الارض اثقالھا:جس کے ایک معنی قیامت کے دن انسانوں کاقبروں سے خروج ،لیکن بہرحال زیربحث آ یت کا یہ مفہوم زیادہ تر جنبۂ معنوی رکھتا ہے ۔خصوصاً ایسی صُورت میں جب کہ گروہ جن کے بارے میں یہ محسوس ہوتاہے کہ وہ کوئی خاص وزنی جسم نہیں رکھتے ، یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ان دوگروہوں کاذکر خصوصیّت کے ساتھ اس بناپر ہے کہ وہ عمدہ گروہ جوتکلیف شرعی سے مکلف ہیں یہی وہ دونوں ہیں، اس مفہوم کو بیان کرنے کے بعد دوبارہ اس سوال کی تکرار کرتاہے ! تم دونوں اپنے پروردگار کی کسِ کِس نعمت کو جھٹلا ؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔
گزشتہ آ یت کہ جو خدا کی طرف سے کیے جانے والے احتساب کے مسئلہ کوپیش کرتی ہے اس کے بعد پروردگار عالم ایک مرتبہ جِنّ واِنس کومخاطب کرتے ہوئے کہتاہے : تم چاہو کہ خدا کی طرف سے دی جانے والی سزاسے بچ سکو تواگرایسی قوّت رکھتے ہو تو آسمان اور زمین کی سرحدوں سین کل جاؤ اورخدا کے احاطۂ قدرت سے باہر ہو جاؤ لیکن تم اس کام پر ہرگز قادر نہیں ہو سوائے اس کے کہ خدائی قوّت وطاقت تمہیں حاصل ہو اور یہ خدائی قوّت تمہارے اختیار میں نہیں ہے (یا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الِْنْسِ ِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطارِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ فَانْفُذُوا لا تَنْفُذُونَ ِلاَّ بِسُلْطانٍ)۔اس طرح تم ہرگز خداکی عدا لت ، اِنصاف اوراس کے حکم سے صادر شدہ سزاؤں سے فرار کی قدرت وتوانائی نہیں رکھتے جہاں کہیں جاؤ گے خداکاملک ملے گا اورجہاں کہیںجا ؤگے خداکا ملک ملے گااورجہاں کہیں رہوگے وہ اس کی حکومت کامقام ہے ،جی ہاں!یہ ضعیف وناتواں مخلوق قدرت خداکے میدان سے بھاگ کرکہاں جاسکتی ہے ،حضرت امیرالمو منین علی علیہ السلام دعائے کمیل میں فر ماتے ہیں : ولا یمکن الفرار من حکومتک ۔ معشر عشر سے لیاگیاہے جس کے معنی دس ہیں ، چونکہ دس کا عدد ایک کامل عدد ہے اس لیے لفظ معشر ایک مکمّل جمعیّت کے لیے بولا جاتاہے کہ جومختلف صنفوں اورگروہوں سے تشکیل پائے اقطار قطر کی جمع ہے یہ کسِی چیزکے اطراف کے معنی میں ہے ۔ تنفذوا کامادہ نفوذ ہے جس کے معنی کسِی چیز کوٹکڑ ے کرنے کے بعداس کوعبور کرجانے کے ہیں اور من اقطار کے الفاظ اس طرف اشارہ ہیں کہ آسمانوں کے اطراف وجوانب کوچیز کران سے نکل جاؤ اوران کے باہر سفر کرو،ضمنی طورپر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ جِنّ کوجو مقدم کیاگیاہے ہوسکتا ہے کہ وہ اس بناپر کہ وہ آسمانوں کی سیرپر زیادہ آمادہ رہتے ہیں ۔
مذکورہ بالا آ یت ،قیامت کے ساتھ مربوط ہے یادنیا سے ،مفسّرین کااس میں اختلاف ہے ،چونکہ اس کے قبل وبعد کی آیتیں دارِ آخرت کی رودادسے متلق ہیں لہٰذا محسوس ہوتاہے کہ یہ آ یت بھی قیامت میں عدالت ِ الہٰی کے چنگل سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے متعلق ہے لیکن لا تَنْفُذُونَ ِلاَّ بِسُلْطان تم نہیں گزرسکتے مگر قوّت کے ساتھ کونظر میں رکھ کربعض مفسّرین اسے انسانی حوائی سفروں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ قرآن نے علمی وصنعتی تسلّط کواس کی شرط قرار دیاہے ۔ یہ احتمال بھی تجویز کیاگیا ہے کہ قیامت کی طرف بھی نظر ہے اوردُنیا کی طرف بھی یعنی تم نہ یہاں قدرت رکھتے ہوکہ قدرتِ الہٰی کے بغیر اطرافِ آسمان میں نفوذ کرجاؤ اور نہ آخرت میں ، البتہ دنیا میں محدُود وسیلہ اورذریعہ تمہارے اختیار میں ہے ۔لیکن وہاں توکوئی بھی ذریعہ یا وسیلہ نہ ہوگا ۔ بعض مفسّر ین نے اس کی ایک چوتھی تفسیر بھی کی ہے کہ آسمان کے اطراف میں نفوذ سے مراد فکری وعلمی نفوذ ہے کہ جواستد لال کی قوّت کی وجہ سے اِنسان کے لیے ممکن ہے ۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آ تی ہے ،بعض اخبار وروایات اس کی تائید بھی کرتے ہیں جومنابع اسلامی میں مندرج ہیں ۔منجملہ دیگر حدیثوں کے ایک حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ قیامت کے دن خداتمام بندوں کوایک ہی مقام پرجمع کرے گا اورآسمان ِ اوّل کے فرشتوں کوحکم دے گاکہ نیچے اُتر آؤ وہ فرشتے جورُوئے زمین پربسنے والے جنّ واِنس سے تعداد میں دوگنے ہیں نیچے اُتر آ ئیں گے ۔اس کے بعددوسرے آسمان کے فرشتے بھی کہ جواتنی ہی تعداد میں ہیں نیچے اُترآئیں گے ،اس طرح سات کے ساتھ آسمانوں کے فرشتے اُترآئیں گے اور سات پردودں کی مانند جنّ وانس کاچاروں طرف سے احاطہ کرلیں گے ۔ یہ وہ مقام ہے کہ منادی ندادے گاکہ اے جِنّ وانس کی جمعیّت اگر ہوسکتا ہو تو آسمانوں اور زمین کے اطراف سے نکل جاؤ قدرتِ الہٰی کے بغیر ہرگز نہیں نکل سکتے ،اور تم یہاں دیکھ رہے ہو کہ ان اطراف کوفرشتوں کے ساتھ عظیم گروہوں نے گھیر رکھاہے (اَب عدالے کے شکنجے سے نکلنے کی کوئی صُورت نہیں ہے (٣)۔
مختلف تفسیروں کے معانی کااجتماع بھی ممکن ہے ،یہاں پھردونوں گروہوں کوم مخاطب کرتے ہوئے کہتاہے : تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلا ؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ) یہ ٹھیک ہے کہ مذ کورہ بالا تہدید بظاہر سزا وعذابِ الہٰی کے سِلسلہ کی بات ہے لیکنک چونکہ اس کاذکر تمام اِنسانوں کے لیے تنبیہ ہے اوراصلاح وتربیّت کاسبب ہے ،لہٰذا قدرتی طورپر نعمت ہے بُنیاد ی طورپر حساب وکتاب کا وجود کسی بھی نظام میں ایک نعمت ہی ہے کیونکہ اس کی بناپر سب کاحساب کتاب ہوگا ۔
اس کے بعد والی جِنّ واِنس کے عدالت ِ الہٰی کے شکنجے سے فرار کے سلسلہ میں اور ان کے عدمِ اختیار کے بارے میں ،جوکچھ قبل کی آ یت میں آ یاتھا ، اس کی تاکید کرتے ہوئے مزید کہتی ہے : بغیر دُھویں کی آگ اور بہت ساتہہ بہ تہہ دُھواں تمہاری طرف بھیجے گا (اوراس طرح سے تمہیں ہرطرف سے گھیر لے گا کہ کوئی راہ فرار نہیں ہوگی )اس وقت تم کسی سے مدد طلب نہیں کرسکوگے ۔( یُرْسَلُ عَلَیْکُما شُواظ مِنْ نارٍ وَ نُحاس فَلا تَنْتَصِرانِ )ایک طرف تمہارا فرشتوں نے احاطہ کررکھاہے اوردُوسر ی طرف آگ کے گرم اور جلانے والے شعلوں اور تیرہ اور تاردَم گھو ٹنے والے دھویں نے اطرافِ محشر کوگھیر ا ہُوا ہے اور بھاگنے کے لیے کوئی راہ نہیں ہے شواظ راغب کی مفردات اور ابنِ منظور کی لسان العرب اوردُوسرے مفسرین کے مطابق بغیر دُھویں والی آگ کے شعلوں کے معنی میں ہے اور بعض نے آگ کے اِن شعلوں کواس کے معنی بتایا ہے کہ جوبظاہر خود آگ سے الگ ہوجائیں گے اورسبز رنگ کے ہوں گے ۔ بہرکیف اس تعبیر میں آگ کی شدّتِ حرارت کی طرف اشارہ ہے ۔
نحاس کے معنی دُھواں ہے (سُرخ شعلوں اوردُھویں سے پُر آگ) کہ جوتانبے کارنگ اختیار کرے گی ۔
بعض نیاس کے معنی یہ لکھے ہیں کہ وہ پگھلے ہوئے تا نبے کی طرح ہوگی ، یہ معنی بظاہر زیربحث آ یت سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ گفتگو ایسے موجود کے بارے میں ہے کہ جو قیامت میں اِنسان کااحاطہ کیے ہوئے ہواور اسے عدالت ِالہٰی سے فرار سے رو کے ۔
قیامت کی عدالت ِ انصاف کتنی عجیب سے ،اس وقت انسان جلانے والی آگ اور دم گھونٹنے والے دھویں اور منجانب اللہ مامور فرشتوں کے حِصار میں ہوگااوراس کے لیے اس عدالت کے حکم کے ماننے کے علاوہ کوئی جادئہ گریز نہیں ہوگا پھرایک مرتبہ فرماتاہے : اے گروہِ جِنّ واِنس تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلا ؤ گے فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان یہاں بھی اِن آ یات کو مبنی برنعمت کہنااسی استد لال کی بناپر ہے جواُوپر گزر چکاہے۔
١۔ توجہ کرنی چاہیئے کہ قرآن مجید کے قدیم رسم الخط میں چند موارد میں "" ایّھا "" ایہ کی صورت میں لکھا ہواہے کہ جوزیربحث آ یت اور دودوسری (سورہ نور کی آ یت ٣١ اور زخرف کی آ یت ٤٩ ) آیتوں میں ہے ،جب کہ دوسری آ یتوں میں ایھا کارسم الخط آخری کشیدہ الف کے ساتھ تحریر ہواہے ،یوں نظر آتاہے کہ یہ قدیم رسم الخط کے ضابط اور بنیاد پرتھا ۔
٢۔ باوجود یکہ "" الثقلان "" تثنیہ ہے لیکن لکم میں ضمیر جمع کی آ ئی ہے اس بناپر کہ دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے ۔
٣۔تفسیر صافی ،صفحہ ٥١٧،تفسیرمجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٠٥۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma