گنہگار اپنی پیشانیوں سے پہچانے جائیں گے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

گزشتہ آیتوں کے تتبع میں کہ جوقیامت کے بعض حوادث کوبیان کرتی تھیں یہ آیتیں بھی اسی طرح اس بحث کوجاری رکھتے ہوئے قیامت کے منظر کی کچھ خصوصیات اورحساب وکتاب کی کیفیّت اورعذاب وسزا کے بیان پر مبنی ہیں ،پروردگار ِ عالم پہلے فر ماتاہے: جس وقت کہ آسمان شگافتہ ہوکر پگھلے ہوئے روغن کی طرح گلگون ہو جائے توہولناک حوادث واقع ہوں گے جن کے تحمّل کی کسی میں طاقت نہیں ہوگی (فَِذَا انْشَقَّتِ السَّماء ُ فَکانَتْ وَرْدَةً کَالدِّہانِ )(١)۔
قیامت سے تعلق رکھنے والی تمام آیات سے ظاہر ہوتاہے کہ اس دن دنیا کاموجودہ نظام کُلی طورپر درہم و برہم ہوجائے گااور دنیامیں بہت ہی ہولناک حوادث رُونما ہوں گے ،ستارے ،سیّارے ،زمین ، آسمان سب تلپٹ ہوجائیں گے اور وہ مسائل کہ جن کا تصوّر آج ہمارے لیے مشکل ہے ،درپیش ہوں گے منجملہ ان مسائل کے کہ جو مذ کورہ بالا آ یات میں آئے ہیں یہ ہے کہ آسمانی کُرّے شق ہوجائیں گے اور سُرخرنگ کے روغن کی طرح پگھلی ہوئی شکل اختیار کرلیں گے وردة اور ورد کے معنی پھول ہیں اور چونکہ پھُول عام طورپر سُرخ رنگ کے ہوتے ہیں لہٰذا یہاں سُرخ رنگ پردلالت کرتاہے یہ لفظ سُرخ گھوڑوں کے لیے بھی آ یا ہے اور اس بنا پرکہ اس قسم کے گھوڑ ے مختلف موسموں میں اپنا رنگ بدل لیتے ہیں ،فصلِ بہار میںوہ زردی مائل ہوجاتے ہیں اورسردی کے موسم میں سُرخ رنگ کے اور زیادہ سردی پڑے توسیاہ رنگ کے ہوجاتے ہیں۔لہذا وہ تبدیلیاں جوقیامت کے دن آسمان میں واقع ہوں گے ، ان سے تشبیہ دی گئی ہے کہ کبھی آسمان آگ کے شعلوں کی طرح طرح سُرخ و سوزاں ،کبھی زور ،کبھی دھویں سے آلودہ سیاہ ہوگا دھان(بروزن کتاب)پگھلے ہوئے روغن کوکہتے ہیں کبھی اس تلچھٹ کے لیے آتاہے جوروغن میں تہہ نشیں ہوتی ہے اورعام طورپر اس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں ،ہوسکتا ہے کہ یہ تشبیہ اس وجہ سے ہوکہ آسمان کارنگ پگھلے ہوئے روغن کی شکل میں سُرخ نکل آ ئے گایاپھر اِس سے آسمانی کُرّوںکے پگھل جانے کی طرف اشارہ ہے یااس کے مختلف رنگوں کی طرف ،بعض مفسرین نے دھان کی سُرخ رنگ کے چمڑے سے بھی تفسیر کی ہے بہر صُورت یہ تمام تشبیہات اس ہولناک منظر کاصرف ایک ہیولا پیش کرسکتی ہیں کیونکہ وہ صورت حال دُنیا کے کسی واقعہ سے حقیقی مشابہت نہیں رکھتی اوروہ ایسے منظرہیں کہ جب تک کوئی انہیں دیکھ نہ لے سمجھ نہیں سکتا،چونکہ میدانِ قیامت میں یااس سے پہلے اِن ہولناک حوادث کے وقوع کی خبر دیتا مجرمین ومومنین کے لیے تنبیہ ہے ،لہٰذا الطافِ الہٰی میں سے ایک لُط ف ہے ۔اِسی بناپر ساتھ جُملے کی تکرار ہوتی ہے اورپروردگار عالم فرماتاہے: تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کاانکار کروگے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ)۔اس سے بعد کی آ یت میں قیامت کے حوادثِ تکوینی کی وجہ سے اس روز گنہگار انسان کے کی جوحالت ِ ہوگی اس کوپیش کرتے ہوئے مزید کہتاہے :اس دن جِنّ واِنس میں سے کسِی شخص سے بھی اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں کیاجائے گا (فَیَوْمَئِذٍ لا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہِ ِنْس وَ لا جَان)۔
سوال کیوں نہیں ہوگا ، اس لیے کہ چیزاس دن واضح اورآشکار ہوگی ،وہ یوم البروز ہے ،ہرانسان کے اعمال اس کے چہرہ سے ظاہر ہوں گے ،ہوسکتا ہے کہ کوئی یہ سوچے کہ یہ آ یت ان آیتوں سے متصادم ہے جوقیامت میں بندوں کے سوال کے مسئلہ پر تاکید کرتی ہیں مثلاً سورہ صافات کی آ یت ٢٤( وقفوھم انھم مسئو لون)!انہیں رد کو تاکہ ان سے سوال کیاجاسکے ۔اور سُورہ حجر کی آ یت ٩٢،٩٣ (فو ربک لنسئلنھم اجمعین عما کانوا مسئو یعملون ) تیرے پروردگار کی قسم ان سب سے سوال کریں گے اِن کاموں کے متعلق کہ جنہیں وہ انجام دیتے تھے لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے یہ مشکل حل ہوجاتی ہے اووہ یہ کہ قیامت ایک بہت طویل دن ہے اورانسان کومتعدد مواقف اورگزرگا ہوں میں سے گزرنا ہے اورہر منظر وموقف میں ایک مُدّت تک ٹھہرناہے ،بعض روایات کے مطابق پچاس مواقف میں،اِن میں سے بعض موقفوں میں بالکل سوال نہیں ہوگا بلکہ رخسار کارنگ اندرونی کیفیّت کاپتہ دے گا ، جیساکہ اس سے بعد والی آ یت میں آ ئے گا ،بعض مواقف میں اِنسان کے ،نہ پہ مہر لگادی جائے گی اوراس کے اعضائے بدن شہادت دینے کے لیے مستعد ہوجائیں گے(٢) ۔
اور بعض مواقف میں اِنسانوں سے نہایت باریک بینی کے ساتھ سوال ہوں گے (٣)۔
بعض دُوسرے مواقف میں انسان اپنے دفاع کے لیے لڑائی جھگڑاکرنے لگیں گے (٤)۔
خلاصہ یہ کہ ہرمنظر کے کچھ تقاضے ہیں اورہرمنظر دُوسرے منظرسے زیادہ خوفناک ہے پھراس کے تتبع میں سب کومخاطب کرتے ہوئے کہتاہے : تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کاانکار کروگے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔
جی ہاں !اس دن سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ مجرم اپنی علامتوں سے پہچانے جائیں گے (یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسیماہُمْ )(٥)۔
ایک گروہ ایساہوگا کہ جن کے چہرے نورانی اوردرخشاں ہوں گے جوان کے ایمان وعملِ صالح پردلالت کرتے ہوں گے ۔
دُوسراگروہ سیاہ ،تاریک اورقبیح چہروں والا ہوگا جوان کے کُفر اورگُنا ہ کی علامتیں ہیں جیساکہ سورہ عبس کی آیت ۔ ٣٨تا ٤١ میں ہمیں ملتاہے (وُجُوہ یَوْمَئِذٍ مُسْفِرَة،ضاحِکَة مُسْتَبْشِرَة،وَ وُجُوہ یَوْمَئِذٍ عَلَیْہا غَبَرَة،تَرْہَقُہا قَتَرَة)اس دن نورانی اور درخشاں چہرے بھی ہوں گے اور تاریک چہرے بھی کہ جنہیں خاص قسم کی سیاہی نے گھیر رکھاہوگا ۔اس کے بعد فرماتا ہے : اس کے بعد سرکے آگے کے بال اورپاؤں پکڑے جائیں گے اور انہیں دوزخ میں ڈال دیاجائے گا ۔
(فَیُؤْخَذُ بِالنَّواصی وَ الْأَقْدام) نواصی ناصیہکی جمع ہے جیساکہ راغب مفردات میں کہتاہے کہ ناصیہ اصل میں سرکے آگے کے بالوں کے معنی میں ہے ۔اس کامادّہ نصأ ( بروزن نصر)ہے جس کے معنی اتصال وپیو ستگی کے ہیں اور اخذ بہ ناصیہسر کے اگلے بالوں کے پکڑنے کے معنی میں ہے اورکبھی کسی چیز پرمکمّل قبضہ کے کنایہ کے طورپر بھی آتاہے َ اقدام جمع ہے قدم کی جس کے معنی پاؤں ہے ۔مُجرموں کے سروں کے اگلے بالوں اوران کے پاؤں کاپکڑنا ہوسکتاہے کہ حقیقی معانی کے اعتبار سے ہو کہ مامورین من اللہ ان دوچیزوں کوپکڑکرزمین سے اُٹھا کرنہایت ذلّت وخواری کے ساتھ دوزخ میں پھینک دیں گے ،یایہ مجرمین کے انتہائی ذلّت سے جہنّم کی طرف لے جائیں گے اوروہ منظر کیاہی درد ناک اوروحشت ناک ہوگا ۔
چونکہ معاد کے سلسلہ میں ان چیزوں کایاددلاناتنبیہ ہونے کی وجہ سے سب کے لیے ایک ایک نواز ش ہے ،لہٰذا سب کومخاطب کرکے مزید کہتا ہے: تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کاانکار کروگے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔اس کے بعد کی آ یت میں فر ماتاہے : یہ وہی دوزخ ہے کہ جس کامجرم ہمیشہ انکارکرتے ہیں (ہذِہِ جَہَنَّمُ الَّتی یُکَذِّبُ بِہَا الْمُجْرِمُون)چونکہ مخاطب محشر میں موجود ہوں گے اورقیامت میں ان سے یہ بات کہی جائے گی ،یامخاطب ذات پیغمبر ہے اور دُنیا میں اس سے کہاگیاہے اس لیے مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں ،لیکن آ یت میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جودوسرے معانی کوتقویت دیتے ہیں ،کیونکہ فعل مضارع یکذّب کااِستعمال اورجملہ غائب کامجرموں کے عنوان سے استفادہ اس چیز پردلالت کرتاہے کہ خُدا اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے کہتاہے کہ یہ اوصاف اس دودزخ کے ہیں جس کامجرمین ہمیشہ اِنکار کرتے ہیں ،یاپھر یہ کہ مخاطب تمام جنّ واِنس ہیں کہ جنہیں تنبیہ کرتاہے کہ وہ جہنم جس کامجرم اِنکارکرتے ہیں :اس قسم کے اوصاف کاحامل ہے کہ جنہیں تم سُن رہے ہو،لہٰذاخبرداررہو، تمہارا انجام تمہیں وہاں تک نہ لے جائے ، دوبارہ جہنم کی تصریح اوراس کے دردناک عذاب کے سلسلہ میں مزید کہتاہے :
مجرم دوزخ اورجلانے والے پانی کے درمیان آمدورفت رکھتے ہیں (یَطُوفُونَ بَیْنَہا وَ بَیْنَ حَمیمٍ آنٍ )۔اٰناور اٰنییہاں اس پانی کے معنوں میں ہے کہ جوکھولتا ہواہو اوراصل میں انا (بروزن رضا)کے مادّہ سے وقت کے معنی میں دیتاہے کیونکہ جلانے والا پانی اپنی آخری حد کوپہنچ چکاہے تواِس طرح ایک طرف توجہنم کے جلانے والے شعلوں کے درمیان چلیں گے اور پیاسے ہوں گے اورپانی کی تمنّا کریں گے دوسری طرف انہیں کھولتا ہوا پانی دیاجائے گا (یاان پرپھینکا جائے گا )اوریہ درد ناک سزا وعذاب ہے ۔
بعض آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوتاہے حمیم نامی جلانے والا چشمہ جہنم کے قریب ہے کہ پہلے دوزخیوں کوان میں لے جائیں گے اورپھر انہیں جہنم کی آگ میں پھینکیں گے ( یسحبوںفی الحمیم ثم فی النّار یسجرون)(مؤمن ، ٧١، ٧٢)(یطو فون بینھا وبین حمیم اٰن)کی تعبیرزیربحث آ یت میں انہی معنوں سے مناسبت رکھتی ہے ۔پھر اس شدید خطرہ سے بیدار کرنے کی حالت کواوراس تنبیہ کوجو بجائے خودایک لُطف ِپر وردگار ،بیان کرکے کہتاہے : تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کوجھٹلاؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔
١۔یہ کہ "" اذا "" اس جملہ میں شرطیہ ہے یافجائیہ یاظرفیہ کئی ایک احتمال ہیں لیکن بہتر وہی پہلا احتمال ہے اور شرط کی جزا محذوف ہے ۔ہو سکتاہے کہ تقدیر عبارت اس طرح ہے "" فَِذَا انْشَقَّتِ السَّماء ُ فَکانَتْ وَرْدَةً کَالدِّہانِ کان اھوال لا یطیقھا البیان""جب آسمان پھٹ کر پکھلے ہوئے تیل کی طرح ہوگا توایسے خوفناک ہوں گے کہ جوبیان نہیں ہوسکتے ۔
٢۔سورہ یٰسین ،٦٥۔
٣۔ مثلاً آ یت زیربحث اور دو وہ آیتیں جن کی طرف ہم نے اُوپر اشارہ کیاہے ۔
٤۔نحل ۔١١١۔
٥۔"" سیما"" اصل میں علامت ونشانی کے معنوں میں ہے اورہرقسم کی علامت کہ جوان کے چہرے یابدن کے دوسرے حصّہ میں ہواس پر حاوی سے لیکن چونکہ عام طورپر خوشحالی وبدحالی کی علامتیں چہرہ ہی پر نمایاں ہوتی ہیں لہٰذااس لفظ کے بیان سے چہرہ ہی سامنے آتاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma