جنّت کی بیویوں کا دُوسری مرتبہ تذکرہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23
اِن دونوں جنّتوں کی نعمتوں کی تشریح کوجاری رکھتے ہوئے کہ جن کاذکر سابقہ آیتوں میںہوا ہے ان آیتوں میں بھی ان نعمتوں کے ایک الگ اورحصّہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے: ان دونوں جنّتوں میں بھی عورتیں ہیں جواچھے اخلاق والی اورخوبصورت ہیں(فیہِنَّ خَیْرات حِسان)(١)۔
ایسی عورتیں کہ جن میں حُسنِ سیرت اور حُسن صورت دونوں ہیں ،اس لیے کہ خیر عام طورپر اچھی صفات اورمعنوی خوبصورتی کے لیے اِستعمال ہوتاہے کہ اورحُسن زیادہ ترخوبصورتی یعنی جمالِ ظاہر کے لیے آ تاہے ،ان روایتوںمیں کہ جواس آ یت کی تفسیر میں آ ئی ہیں ، جنت کی بیویوں کی بہت سی خُوبیاں گنوائی گئی ہیں جودُنیا کی عالی صفت عورتوں کی طرف بھی اشارہ ہوسکتاہے تاکہ وہ تمام عورتوں کے لیے نمونہ بنیں ،منجملہ دیگرخوبیوں کے ایک خُوبی یہ ہے کہ وہ خوش بیان ہیں ، ان میں پاکیزگی ہے ،وہ تکلیف نہیں پہنچاتیں ، غیروں کی طرف نہیں دیکھتیں وغیرہ وغیرہ ۔خلاصۂ کلام یہ کہ اُن میں جمال وکمال کی وہ تمام خُوبیاں موجود ہیں جوایک عُمدہ بیوی میں ہونی چاہئیں ،اورجو خُوبیاں تمام عورتوں میں ہوں وہ ان میں سے ہرایک میں ہیں ،اسی بناپر قرآن مجید مختصر اورپُر معنی الفاظ میں انہیں خیرات حسان قرار دیتاہے (٢)۔
اِس نعمت کے تذکرہ کے بعد پھراعادہ کرتاہے :تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کو جھٹلاؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ )۔اس کے بعد بہشت کی ان عورتوں کی تعریف وتوصیف کوجاری رکھتے ہوئے مزید کہتاہے : وہ ایسی حُوریں ہیں جوجنّت کے خیموں میں مستور ہیں(حُور مَقْصُورات فِی الْخِیام)۔حُورجمع ہے ،حورائ اوراعور کی ، اس کے معنی ہیں ایسی عورت جس کی آنکھ سیاہ ہو اوراس کا سفید صاف و شفاف رنگ ہو ، یہ لفظ بعض اوقات ان عورتوں کے لیے بھی بو لا گیاہے ،جن کاچہرہ بالکل گورا ہو مقصوراة کی تعبیر کی طرف اشارہ کرتے ہے کہ وہ صرف اپنے شوہروں سے تعلق رکھتی ہیں اوردوسروں سے بالکل پوشیدہ ہیں خیام خیمہ کی جمع ہے لیکن جیساکہ مسلم روایات میں مندرج ہے جنت کے خیمے دینا کے خیموں سے مشابہت نہیں رکھتے ۔
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض مفسّرین اوراربابِ لُغت کے نزدیک خیمہ صرفوہ نہیں ہے جوکپڑے سے بناہوا ہے جیساکہ ہم لوگوں میں مشہور ہے ،بلکہ لکڑی سے بنے ہوئے گھروں کوبھی خیمہ کہتے ہیں ،ہرمد دّر گھر کوخیمہ کہاجاتاہے،یہ بھی کہاگیا ہے کہ خیمہ ہراس گھرکوکہتے ہیں جواینٹ پتھر وغیرہ سے ، نہ بنا ہو۔
پھراس پُرمعنی سوال کی تکرار کرتے ہوئے کہتاہے : تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کو جھٹلاؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔اس کے بعد کی آ یت میں جنّت کی حُوروں کی تعریف کاایک اورپہلو ہے (لَمْ یَطْمِثْہُنَّ ِنْس قَبْلَہُمْ وَ لا جَانّ)(٣)۔
البتہ جیساکہ قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتاہے کہ وہ عورتیں اورمردجن کی اس دنیا میں شادی ہوئی ہے اگردونوں صاحبانِ ایمان اورجنّتی ہوئے تووہاں ایک دوسرے سے ملحق ہوں گے اورایک دوسرے کے ساتھ بہترین حالت اورکیفیّت میں زندگی بسرکریں گے (٤)۔

روایات سے یہاں تک معلوم ہوتاہے کہ ان عورتوں کامرتبہ جنّت کی حُوروں سے زیادہ ہوگا( ٥)۔اِن اعمالِ صالح اورعبادتوں کی بناپر جو دنیا میں انہوں نے انجام دیے ہیں۔ اس کے بعد پھرفرتاہے ۔ تم دونوں اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کو جھٹلاؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ )۔
جنّت کی عورتوں کی آخری توصیف جوان آیتوں میںہے وہ یہ ہے کہ کہ : اس بہشت کے رہنے والے اس حالت میں ہیں کہ تخت اورپلنگ پر یکیے لگائے ہوئے ہیں جن پرسبزرنگ کے پارچوں کابہترین فرش بچھا یاگیاہے ۔(مُتَّکِئینَ عَلی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَ عَبْقَرِیٍّ حِسان)۔ رفرفدراصل میں درختوں کے بڑے اورچوڑے پتوں کے معنی میں ہے اوراس کے بعدرنگ برنگ کے ان خوبصورت پارچوں پر بھی اس کااطلاق ہوتاہے ،جوباغات کے منظر سے مشابہت رکھتے ہیں(٦)

عبقری اصل میں ہربے نظیرشے کے لیے ہے یاایسی چیزجس کی نظیر مشکل سے ملتی ہے ،اسی لیے ایسے علماء اوردانشوروں کوبھی نادرا لوجود ہوں عباقرةکہتے ہیں ۔بعض مفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ لفظِ عبقرابتداء میں ایک نام تھا جسے عربوں نے پریوں کے شہر کے لیے منتخب کیا تھااور چونکہ یہ شہر ایساتھا کسے کس نے دیکھانہ تھااوراپنے ساتھ ایک نُدرت کاتصوّر رکھتاتھا لہٰذا وہ ہربے مثل چیز کو اس سے منسُوب کرتے ہیں اورعبقری کہتے ہیں ۔بعض کایہ قول ہے کہ عبقر ایک شہرہے جس میں ریشم کے بہتر ین پارچے تیّار کیے جاتے ہیں ( ٧)۔
بہرحال اس کی اصل عملی طورپر متروک ہوچکی ہے اورعبقری ایک مستقل لفظ کی شکل میں نا در الوجود یاعزیزالوجود کے معنوں میں استعمال ہوتاہے ،یاوجوداس کے کہ یہ مفرد ہے کہ کبھی کبھی جمع ہے کہ معنوں میں بھی آتاہے (مثلاً زیربحث آ یت ) حسان (جمع حسن (بروزن چمن ) کے معنی میں اورخوبصورت کے ہیں ،بہرحال یہ سب تعبیریں اس چیز کوبیان کرتی ہیں کہ جنّت کی تمام چیزیں ممتاز ہیں ۔اس کے پھل کھانے ، محل اورفرش ،فصّہ مختصر یہ کہ اس کی ہرشے اپنی نوع کے اعتبار سے بے مثل وبے نظیرہے بلکہ یہ کہاجاسکتاہے کہ یہ الفاظ بھی ان بے نظیر مفاہیم کواپنے اندر نہیں سمیٹ سکتے ، یہ ہمارے ذہن میں ان کاایک ہلکا سانقشہ بناتے ہیں ،اس کے بعد آخر ی مرتبہ اوراکتیسویں مرتبہ جِنّ واِنس کے تمام افراد سے سوال کرتاہے ،: تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلاؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔
تم معنوی نعمتوں کے منکر ہویا مادّی نعمتوں کے ؟اِس جہان کی نعمتوں کے منکر ہو یاجنّتوں کی نعمتوں کے منکر ہو؟وہ نعمتیں کہ جنہوں نے تمہارے وجود کااحاطہ کررکھاہے اورتم ان میں مستغرق ہواور کبھی غرور وغفلت کی بناپر ان سب کوفراموش کردیتے ہواوران سب نعمتون کو بخشنے والے اورآئندہ جس کی نعمتوں کے منتظر ہوتم اس کی کون سی نعمتوں کاانکار کرتے ہو، اس سورہ کی آخری آ یت میں فر ماتاہے : بابرکت اور زوال ناپذیر ہے تیرے پروردگار کانام کہ جوصاحبِ جلال واکرام ہے (تَبارَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلالِ وَ الِْکْرامِ )۔ تبارک برک (بروزن درک)کی اصل سے ہے اوراُونٹ کے سینے کے معنی میںہے ،اُونٹ جب کسِی جگہ بیٹھ جاتے ہیں تو اپناسینہ زمین کے ساتھ چمٹالیتے ہیں ،اس بناپر یہ لفظ ثابت قدم رہنے اورپائیدار ہونے کے معنی میں استعمال ہوتاہے ،نیز زوال ناآشنا ہونے کی صُورت میں چونکہ سرمائے سے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں ،اس لیے مفید چیزکو مبارک کہاجاتاہے ، اوران معانی کی سب سے زیادہ مستحق جوذات ہے وہ خدائے پاک ہے جوتمام برکتوں کاسرچشمہ ہے ۔اِس سورہ میں چونکہ پروردگار ِ عالم کی انواع واقسام کی نعمتوں کاذکر ہے ایسی نعمتیں جوزمین وآسمان میں نوعِ بشر کی خلقت اوردُنیا وآخرت سے تعلق رکھتی ہیں اورپروردگارِ عالم کے اوصاف ہیں،بالخصوص صفت ِ رحمانیت کہ جوان تمام برکتوں کامنشاہے ، بالفاظِ دیگرخداکے افعال کاسرچشمہ اس کی صفات ہیں ،اگرعالم ہستی کواس نے ایک نظام کے تحت پیدا کیاہے اور ہرچیزمیں ایک میزان رکھی ہے ،تویہ اس کی حکمت کاایک تقاضا ہے ،اوراگرقانون عدالت کوہرچیزمیں جاوری وساری کیاتو یہ اس کے علم وعدل کاتقاضاہے،اوراگروہ مجرموں کومختلف قسم کی سزائیں دیتاہے اوران پر عذاب نازل کرتاہے تواس کے منتقم ہونے کا یہی اقتضا ہے ،اوراگرصالحین کواس دنیامیں اوردوسری دُنیا میں انواع واقسام کی معنوی اورمادّی نعمتوں سے بہرہ ورفر ماتاہے ،تویہ اس کے فضل وکرم اوررحمت ِواسعہ کاایک تقاضاہے ،اس بناپراس کااسم اس کی صفات کی طرف اشارہ کرتاہے ، اس کی صفات عین ذات ہیں ۔ ذی الجلال والاکرام کے الفاظ اس کی تمام صفات جلال وجمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں (ذی الجلال سے صفاتِ سلبیہ کی طرف اورذی الاکرام سے صفاتِ ثبوتیہ کی طرف اشارہ ہے )پُرکشش بات یہ ہے کہ یہ سُورہ خدا کے نام یعنی لفظ رحمن سے شروع ہوا ہے اورذی الجلال والا کرام پرختم ہورہاہے ، اوریہ دونوں (آغازوانجام ) سُورہ کے تمام مضامین کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ۔
١۔"" فیھن""کی ضمیر جمع مؤ نث ہے ہوسکتاہے کہ یہ ان چاروں جنّتوں کی طرف پلٹ رہی ہو کہ جن کاگزشتہ آ یتوں میں تذکرہ ہے ،یہ بھی ہوسکتاہے کہ آخری دوجنّتوں کی طرف مختلف قسم کے محل اور باغات کی بناپر لوٹے اوریہ تفسیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس نے ان کے معاملے کوایک دوسرے سے علیحدہ کردیاہے ۔
٢۔" خیرات"" کے بارے میں بعض نے کہا ہے کہ "" خیّرہ"" (بروزن سیّدہ)کی جمع ہے جسے تخفیف کی بناپر "" خیرات"" پڑھاگیاہے ۔بعض مفسّرین اسے "" خیرہ ( بروزنِ حیرہ ) کی جمع سمجھتے ہیں ،بہرحال وہ وصفی معنی رکھتاہے نہ کہ افعال التفضیل کے معنی کیونکہ افعل التفضیل کی جمع نہ نہیں لائی جاتی ۔
٣۔""طمث"" کے معنی کے سلسلہ میں اسی سورہ کی آ یت ٥٦ کے ذیل میں کافی وضاحت ہوچکی ہے ۔
٤۔(رعد۔٢٣۔مومن ۔٨)۔
٥۔"" دُر المنثور"" صفحہ ٥١۔
٦۔بعض مفسرین نے یہاں نوشیرواں کے نگار ستان کے مشہور فرش کابطور مثال تذکرہ کیاہے ،وہی فرش تھا کہ جوحد سے زیادہ بیش قیمت تھااورایک باغ کے منظر کوپیش کرتاتھا۔
٧۔ تفسیر"" البوالفتوح رازی"" زیربحث آ یت کے ذیل میں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma