سُورہ واقعہ کے مضامین اور فضیلت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 23

تاریخ القرآن میں ابن ِ ندیم سے منقول ہے کہ سُورہ واقعہ چوالیسواں سُورہ ہے جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہواہے(١) ۔
اس سے پہلے سُورہ طٰہٰ اوراس کے بعد سورہ شعرانازل ہوا۔ یہ سُورہ جیساکہ لے ولہجے سے واضح ہے اورمفسّرین نے بھی تصریح کی ہے ،مکّہ میں نازل ہوا ۔اگرچہ بعض نے یہ کہاہے کہ اس کی آ یت ٨١ ،٨٢ مدینہ میں نازل ہوئی ہیں لیکن اس کے ثبوت کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اورمذکورہ بالا آ یتوں میں اس دعویٰ کی کوئی علامت بھی نہیں ہے ۔ سُورئہ واقعہ کابنیاد ی موضوع ہے لیکن ، ایک لحاظ سے ،اس سُورہ ٔ واقعہ جیساکہ اس کے نام سے واضح ہے ،قیامت اوراس کی خصوصیات کے مضامین پرمشتمل ہے اور یہ مسئلہ اس سُورہ کی ٩٦ آیتوں کابنیادی موضوع ہے لیکن، ایک لحاظ سے ،اس سُورہ کے مضامین کوآٹھ حِصّوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔
١۔ ظہورِ قیامت کا آغاز اوراس سے ملحق سخت وحشت ناک حوادث۔
٢۔ اس دن اِنسانوں کی اصحاب الیمین ، اصحاب الشمال اورمقر بین میں تقسیم ۔
٣۔مقامات ِ مقربین کے بارے میں ایک تفصیلی بحث اورجنّت میں انواع واقسام کے ثواب اورسزائیں۔
٤۔ پہلے گروہ یعنی اصحاب الیمین کے بارے میں تفصیلی بحث اور انواع واقسام کی الہٰی نعمتیں ۔
٥۔ مسئلہ معاد کے سلسلہ میں مختلف دلائل کا بیان ، خدا کی قدرت اور انسان کی حقیر و ناچیز نطفہ سے خلقت ، نباتات میں تجلی حیات ، نزول بارش اور آگ کا روشن ہو ناکہ یہ سب توحید کی علامتوں کے ذیل میں آتا ہے ۔
٦۔اصحاب الشمال کے بارے میں قابل ِ توجہ بحث اوردوزخ میں ان کی درد ناک سزائیں۔
٧۔حالت ِ احتضار کی تصویرکشی اوراس دُنیا سے دُوسری دنیاکی طرف انتقال کہ جو قیامت کے مقد مات میں سے ہے ۔
٨۔مومنین کی جزا و ثواب اور کفّار کے عذاب پرایک اجمالی نظر ،آخر میں سُورہ پروردگار کے عظیم نام پرختم ہو جاتا ہے۔

١۔ تاریخ القرآن ابوعبداللہ زنجانی ،صفحہ ٥٩۔

اِس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت :

اِس سورہ کی تلاوت کے بارے میں اِسلامی کتابوں میں بہت سی روایات موجود ہیں ۔اِن حدیثوں میںسے ایک حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے :من قرأسورہ الوقعة کتب لیس من الغافلین۔جوشخص سورہ واقعہ کی تلاوت کرے گا تو اس کے بارے میں لکھاجائے گاکہ یہ غافلین میںسے نہیں ہے (1) ۔
اس سُورہ کی آیتیں اس قدر دل ہلادینے والی اور چونکادینے والی ہیں کہ ان کے پڑھنے کے بعد پھر انسان کے لیے غفلت کی گنجائش نہیں رہتی اسی بناپر پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک اورحدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جس وقت پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال ہواکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے چہرئہ مبارک پربڑھا پے کے آثار اس قدر جلد کیوں نمایاں ہوگئے توآپ علیہ السلام نے جواب فرمایا:شیبتنی ھود، والواقعة والمرسلات وعم یتسائلون،سورئہ ھود، واقعہ ،المرسلات اورعم یتسائلون نے مجھے بوڑھاکردیا (2)کیونکہ ان سُورتوں میں قیامت کے دل ہلادینے والے واقعات ہولناک حادثوں اورمجرموں کی سزاؤں کابیان ہے ۔اس طرح گزشتہ قوموں کے لرزہ براندام کردینے والے واقعات اوروہ مصیبتیں اوربلائیں ہیں کہ جوان پرنازل ہوئیں۔
امام جعفرصادق علیہ السلام کی ایک اورحدیث میں ہے کہ :من قرأ فی کل لیلة جمعة الواقعة احبہ اللہ وحببہ الی النّاس اجمعین ولم یرفی الدنیا بؤ ساً ابداً ولافقرأ ولا فاقة ولا افة من اٰفات الدنیا وکان من رفقاء امیر المؤ منین ۔ جوشخص ہرشب جمعہ سورہ واقعہ کی تلاوت کرے تو خدااس کودوست رکھتاہے اوراُسے لوگوں کامحبوب بنادیتاہے اوروہ دنیا میں ہرگز ناراضی اورتکلیف نہیں دیکھتا اورفقر وفاقہ وآفاتِ دُنیا میں سے کوئی آفت اس پر نہیں آئے گی اوروہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے رفقامیں شمار ہوگا ( 3) ۔
ایک اورحدیث میں ہے کہ عثمان ابن عفّان عبداللہ ابن ِ مسعود کی عیادت کے لیے گئے ،اس بیماری میں کہ جس میں عبداللہ ابن ِ مسعود کاانتقال ہوا تو انہوں نے ان سے پُوچھا کہ تم کِس بات پر پریشان ہو، اُنہوں نے کہاکہ اپنے گناہوں کی وجہ سے پریشان ہوں ،انہوں نے کہاتمہارا دل کیاچاہتا ہے ؟ عبداللہ ابنِ مسعود نے جواب میں کہا کہ اللہ کی رحمت ،عثمان نے کہا کہ اگرتمہارادل چاہے تومیں حکم دوں کہ تمہارا عطیہ بیت المال سے لے آئیں۔ انہوں نے کہاکہ اس کی جس وقت مجھے ضرورت تھی اس وقت تم نے وہ مجھے نہیں دیا۔آج جب کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے کہ تم مجھے دیتے ہو۔ حضرت عثمان کہتے لگے اگروہ رقم تمہاری بیٹیوں کے کام آئے تو بھی کوئی حرج نہیں۔اُنہوں نے کہاکہ میری لڑ کیوں کو بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں نے انہیں نصیحت کی ہے کہ سُورہ واقعہ پڑھا کریں ۔ میں نے رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سُنا ہے کہ :
من قرأ سورة الواقعة کل لیلة لم تصبہ فاقة ابداً ۔
جوشخص رات کوسُورہ واقعہ پڑھے تووہ کبھی بھی افلاس کاشکار نہیں ہوگا (4) ۔
اِسی بناپر سورئہ واقعہ کوایک روایت میں سورئہ غنی کے نام سے موسوم کیاگیاہے(5) ۔
1۔تفسیر "" مجمع البیان "" جلد ٩صفحہ ٢١٢، تفسیر "" برھان"" ،جلد ٤ صفحہ ٢٧٣۔
2۔ خصال صدوق باب الار بعہ ،حدیث ١٠۔
3۔ "" ثواب الاعمال "" مطابق نقل "" نورالثقلین "" جلد ٥ ،صفحہ ٢٠٣۔
4۔ مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢١٢۔
5۔ رُوح المعانی "" جلد ٢٧ صفحہ ١١١۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma